او میرے حسیں

کیاہوا،یہ آج دودھ کم کیوں ہے؟ ۔ ہوم ورک کرتے ہوئے امی کی آواز میرے کانوں میں پڑی ۔oh mere haseen

وہ باجی! آج پھر حویلی والوں نے سارا دودھ خرید لیا ۔ یہ تو میں صرف آپ لوگوں کے گھر دینے آگیا،ورنہ باقی لوگوں کو تو آج دودھ دیا ہی نہیں ۔ دودھ والے نے جواب دیا ۔

یہ کیا بات ہوئی ۔ ۔ مغرب کی نماز پڑھتی دادی نے تیزی سے سلام پھیرا ۔ حویلی والے تمہارے زیادہ سگے لگتے ہیں ۔ جو تم اپنے سالوں سے لگے ہوئے گاہکوں کو ہر دوسرے د ن تکلیف دیتے ہو ۔

اور اتنے دودھ کا وہ لوگ کرتے کیا ہیں ،آخر وہاں کون کون رہتا ہے؟نظر تو کوئی نہیں آتا ۔ ۔ دادی بڑبڑا رہی تھیں ۔

ارے اماں ہمیں کیا ،کوئی بھی رہتا ہو ۔ ویسے بھی ان سے محلے والوں کوکبھی کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی ۔ امی دروازہ بند کرتے ہوئے بولیں ۔

ہونہہ تکلیف،ضروری تھوڑٰ ی ہے صرف ستانے سے تکلیف ہوتی ہوہزار طریقے ہوتے ہیں دل جلانے کے ۔ ۔ ۔ دادی مسلسل بڑبڑا رہی تھیں ۔ امی نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپائی مگر میں نے محسوس کر لیا ۔

حویلی والوں کا ذکر ہو تودادی کا تلملا جانا لازمی تھا ،یہ کوئی آج کی بات نہیں تھی برسوں سے یہ سلسلہ چلا آ رہا تھا ۔

مجھے بچہ سمجھ کر میرے گھر والے اکثر ایسی باتیں میرے سامنے دہرا لیتے تھے جو کہ کافی متنازعہ ہو سکتی تھیں ۔ میری عمر اس وقت بارہ تیرہ تھی مگرمیرا ذہن میری عمر سے کہیں آگے تھا ۔ دادی جان کی حویلی والوں سے یکطرفہ دشمنی ہمیشہ سے تھی ۔ کم از کم میری عمر سے کہیں پہلے سے — اور اس کی وجہ — میرے مرحوم دادا جان کی شدید حسن پرستی اور عشق مزاجی تھی ۔

امی اور ابو اکثر کوڈ ورڈز میں اور کبھی صاف صاف آپس میں یہ تذکرہ نکال لیتے تھے کہ دادا جان اور دادی میں کبھی لڑائی جھگڑا ہوتا تو اس کا

back ground

صرف کوئی خاتون ہی ہوتی تھی

دادا جان ساری عمر عشق پیشہ ہی رہے کبھی جذباتی تو کبھی عملی طور پر ۔ حالانکہ دادی اپنی جوانی میں کافی پر کشش ہوا کرتی تھیں ان کا حال ان کے شاندار ماضی کی صاف عکاسی کرتا تھامگر دادا جان کی آتش شوق کبھی سرد نہ ہو سکی،ان کے بڑھاپے تک میں نہیں ۔ شکر ہے میرے ابو میں ان کے یہ

Genes

منتقل نہیں ہوئے ورنہ جانے کیا ہوتا؟

دادی بھی جذبہ رقابت میں اتنی ہی ثابت قدم رہیں ۔ جتنی خواتین پر دادا حضور کا دل آتا گیا دادی ان سے تمام عمر کی دشمنی پالتی رہیں ۔ اب کسی بیچاری خاتون کو تو علم تک نہ ہوتاکہ ان کی غائبانہ تعریف پردادی دن رات مصلے پر بیٹھ کر ان کو بد دعائیں دئے جاتیں ۔ حویلی سے تو دادی کو اتنی پرخاش تھی کہ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ کسی ظالم حکمران کی طرح اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتں ۔

سنا تھا کہ دادا جان نے کسی زمانے میں اس حویلی کی کسی انتہائی حسین عورت کی ایک جھلک دیکھ لی،اور بس لگے دن رات حویلی کے چکر کاٹنے ۔ ویسے تو اس طرح کے سینکڑوں جھٹکوں کا دادی نے سامنا کیا تھا مگر اس مرتبہ بات مختلف تھی ۔ دادا تو جیسے دیوانے ہو گئے تھے ۔ بس نہیں چلتا تھا کہ کیا کر بیٹھیں ۔ دن رات اس عورت کی ایک جھلک دیکھنے کو تپتی دو پہروں اورسرد راتوں میں حویلی کے گرد منڈلاتے رہتے تھے ۔ اس قدر بے قرار ہو گئے تھے کہ اپنی بہن یعنی ابو کی پھپو کی منتیں کرتے تھے ان کا رشتہ اس عورت کے لئے لے جائیں ورنہ وہ زہر کھا لیں گے ۔

دادی نے نہ جانے اس وقت یہ سب کیسے برداشت کر لیا ۔ شاید میرے ابو اور میری پھپو کی وجہ سے جو اس وقت تقریباً اسی عمر کی تھے جو اب میری اور چھوٹی بہن امبر کی ہو گی ۔

پھر نہ جانے کیا ہوا،کیسے ہوا دادا نے اپنی ضد اور حویلی کے پھیرے لگانے چھوڑ دئیے ۔ مگر ان کے ذہن اور دل سے وہ عورت کبھی نہ نکل سکی ۔ اپنی آخری عمر تک اس کے تذکرے پر وہ شاہ رخ خان کی طرح سچ مچ ہکلانے لگتے تھے ۔

برس ہا برس گذر گئے ۔ دادا جی دنیا چھوڑکر چلے گئے ،اپنی رنگیں مزاجی کے کئی نشانوں کے ساتھ ۔ میرے ابو جوان ہوئے، میں اور امبر پیدا ہوئے اور ۔ ۔ ۔ حویلی پر وقت نے بہت ساری گرد چھوڑ دی ۔

___________________________

رانی کے بابا! میں نے ان لوگوں کو ہاں کہلوا دی ہے ۔ دو ایک دن میں وہ رانی کو دیکھنے آئیں گے ۔ رانی کی ماں نے چولہے میں لکڑیاں سلگاتے ہوئے رانی کے باپ کو اطلاع دی جو آلتی پالتی مارے بیٹھا نہ جانے کن سوچوں میں گم تھا ۔

 میں نے تجھے منع کیا تھا نہ کہ لڑکے والو ں کو رانی کو دیکھنے نہ دینا ۔ رانی کا باپ سنتے ہی بھڑک گیا ۔

ایسا کبھی ہوا ہے;؟رانی کی ماں بھی غصے میں آ گئی بھلا لڑکی کو دیکھے بھالے بغیر بھی کوئی بیاہ کر لے جاتا ہے ۔

اپنی لڑکی کی صورت دیکھی ہے تو نے؟ کوئی من بھر سونے کے ساتھ بھی اس کو مشکل سے ہی اپنائے گا ،اور یہاں تو ۔ ۔ ۔ کیل بھی نہیں ہے دینے کو ۔ ۔ ۔ ۔

تو کیا رانی صرف میری لڑکی ہے؟یا میں نے اپنی ہاتھوں سے اس کی شکل بنائی ہے ۔ ۔ رانی کی ماں نے غصے سے چمٹا ز میں پر دے مارا ۔

تو نے ہی جنا ہے اسے نہ جانے کیا کھا کر،جتنی منحوس خود ہے اتنی میری زندگی کر دی ہے ۔ رانی کا باپ روز کا قائدہ دہرانے لگا ۔

ہاں مجھ سے شادی سے پہلے تو تو بڑا راجکمار تھا نہ ۔ ۔ جنموں کا سپیرا ہے ۔ چل پیدا میں نے کیا ہے تو بیاہنا تو تیری ذمہ داری ہے ۔ کیل نہیں ہے جہیز کے نام پر تو ڈوب مر جا کر ۔ ۔ ۔  رانی کی ماں حسا ب برابر کرنے لگی ۔

کوٹھری نما کمرے میں پڑی رانی کے کانوں میں یہ مذاکرات با آسانی جا رہے تھے ۔

کئی سالوں سے ایسا ہی ہو رہا تھا ۔ جب سے رانی پندرہ کی ہوئی تھی تب سے لڑکے والے اسے دیکھنے آ رہے تھے مگر بیس سال کی ہونے کے با وجود کہیں بات نہ بنی تھی ۔ وجہ ۔ ۔ ۔ ۔ وجہ رانی کی صورت تھی ۔ ۔ ۔ گہری سانولی رنگت ۔ ۔

رنگت تو ان کے تمام ناطے والوں کی سانولی ہی تھی ۔ مرد یا تو سپیرے تھے یا چھوٹے موٹے مزدور ۔ سورج دیوتا سے ان کی دن بھر آنکھ مچولی چلتی تھی،رنگ مزید تپ جاتا تھا ۔ عورتیں سبزی اگاتی، توڑتی اپنے کھلے صحنوں میں کام کرتی تھیں ۔ تیرہ چودہ کی ہوتے ہی بیاہ ہو جاتا ڈھیروں بچے ہوتے اور سب رنگ روپ چند سالوں میں نہ جانے کب بے وفائی کر جاتا ۔

مگر رانی کی تو شان ہی نرالی تھی ۔ وہ شام رنگ نہیں بلکہ شب رنگ لے کر پیدا ہوئی تھی ۔ ناک نقشہ گذارے سے بھی کم تھا مگر ۔ ۔ ۔ ایک چیز سب پر بازی لے گئی تھی ۔ ۔

رانی کا پتا نسلوں سے سپیرا تھا ۔ نہ جانے کن کن جنگلوں میں رات دن بھٹکتا اور انتہائی نایاب سانپ پکڑتا اورپھر ان کو اپنی سوئی ہوئی قسمت کے مطابق انتہائی کم داموں میں بیچ دیتا ۔ سانپوں میں زندگی گذار گذار کر اس کا مزاج انتہائی زہریلا ہو گیا تھا اور زبان ہر وقت ڈسنے کو تیار رہتی تھی ۔

اس کا باپ دادا اور شاید ان کے باپ دادا بھی سپیرے تھے ۔

رانی کے پتا کو سانپوں کی اتنی اقسام یاد تھیں کہ کیا کسی کو اپنی محبوب کے نقش و نگار ازبر ہوتے ہوں گے ۔

رانی اس کی سب سے بڑی بیٹی تھی ۔ اور اپنی باتوں کے بر عکس اس کے دل میں رانی کی بڑی محبت تھی ۔ وہ دل سے چاہتا تھا کہ رانی کا بیاہ ہو جائے اور وہ اپنے سسرال چلی جائے مگر ۔ ۔ ۔ ۔

جب رانی جنم لینے والی تھی تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دور گھنے جنگلوں میں بھٹک رہا تھا،کسی قیمتی نایاب سانپ کی تلاش میں ۔ ۔ سانپ ملا ۔ ۔ کالا سیاہ،بھیانک کوئی گز بھر لمبے پھن والا ۔ وہ کوشش کے با وجود اسے نہ پکڑ سکا ۔ مگر اپنی جان بچانے کے لیئے اسے سانپ کو مارنا پڑا ۔ بڑا جان لیوا مقابلہ ہوا تھا مگر رانی کا باپ جیت گیا ۔ سانپ کو ختم تو کر دیا تھا مگر گھبراہٹ میں ایک غلطی کر بیٹھا ۔ اپنے باپ دادا کی زندگی بھر کی سکھائی ایک نصیحت بھول گیا جب بھی سانپ کو مارو اس کا سر کچل دو خاص کر اس کی آنکھیں  ۔

مگر وہ مقتول سانپ اس قدر بھیانک اور دبنگ تھا کہ رانی کا باپ شاید زندگی میں پہلی مرتبہ خوفزدہ ہو گیا اور سر پر پاوٗں رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ گھر پہنچ کر بھی کئی راتیں سو نہ سکا ہر سر سراہٹ پر اس کو لگتا شاید سانپ کی ناگن بدلہ لینے آ پہنچی ہے ۔

ناگن خود بہ نفسِ نفیس تو کبھی نہ آئی مگر ۔ ۔ ۔ ۔

جب رانی پیدا ہوئی تو ۔ ۔ پیدائشی طور پر اس کے گہرے سانولے چہرے پر ایک عجیب و غریب

birth markتھا

اس کے داہنے گال پر تھوڑی تک ایک شبیہ تھی ۔ ۔ ۔ ایک سانپ کی شبیہ ۔ ۔ ۔

___________________________________

اسکول سے واپس گھر جاتے ہوئے میرے ذہن میں ایک خیال لہرایا ۔ ۔ ۔ ۔

اور میں نے فوراً اس پر عمل بھی کر دیا ۔

برسوں سے ذہن میں پکتی

curiosity

اب ابل کر باہر گرنے لگی تھی

حویلی میں برسوں پہلے رہا کرتی ایک حسین و جمیل عورت جس کی ایک جھلک نے بیوی بچوں والے میرے دادا کو بے قرار کر دیا تھا ۔ جس میں نہ کوئی آتا تھا،نہ کوئی جاتا تھا مگر اس کے ان دیکھے مکین بیس بیس کلو دودھ خریدا کرتے تھے ۔

مجھے اور امبر کو اسکول کے علاوہ اکیلے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ اور حویلی کا تو نام لینا بھی ہمارے گھر میں گناہ سمجھا جاتا تھا ۔ کل امی اور دادی کے درمیان ہونے والی گفتگو سن کر میرے دل میں ایک شدید جستجو نے جنم لیا ۔ ۔ ۔

اس وقت مجھے پرسرار کہانیاں بہت پسند تھیں ۔ بچپن تو اکثر بے خوف ہوتا ہے ۔ امبر روز میرے ساتھ اسکول جاتی تھی مگر کل رات اس کو تیز بخار ہو گیا تو آج میں اکیلا تھا ۔ او ر میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا پکا ارادہ کر لیا ۔

کوئی پندرہ بیس منٹ چلنے کے بعد میں حویلی کے سامنے کھڑا تھا ۔ حویلی دوسرے گھروں سے ہٹ کر بنی ہوئی تھی،بلکل الگ تھلگ ۔ وہ بلکل شاندار نہیں تھی بلکہ اس کو حویلی کے بجائے کسی حویلی کا کھنڈر کہنا زیادہ مناسب تھا ۔ بہت پرانی عمارت ۔ ۔ ہاں اس کا رقبہ بہت زیادہ تھا ۔ اجاڑ لان دور تک پھیلا ہوا تھا ۔ میں گھاس پر چلتا عمارت کے قریب آگیا ۔ قدیم انداز کا گھر ۔ ۔ تنگ سیڑھیاں ،بے حد تنگ بالکونیاں جن کے آگے بھدی ریلنگ لگی ہوئی تھی ۔ مجھے حویلی نے قطعاً مرعوب نہیں کیا ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

لیکن مجھے مسحور کر دیا ۔ ۔ میں دیر تک کھڑا بند دروازے کو تکتا رہا ۔

کئی مرتبہ کوشش کی کہ دستک دے کر دیکھوں ۔ ۔ کوں کھولے گا دروازہ؟

کیا وہ خاتون جن پر دادا ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ تو اب بہت بوڑھی ہو گئی ہوں گی ۔ ۔ اور کیا پتہ دنیا میں ہوں بھی یا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔

اور پھر میں نے ایک فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔

______________________________________

کوئی اور سمجھتا یا نہیں ،رانی کے باپ نے اس پر ایک نظر ڈال کر یہ بات جان لی تھی کے رانی کے چہرے پر بنی وہ سانپ کی شبیہ بے وجہ نہیں ہو سکتی ۔ رانی کے پتا نے اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی تھی ۔ اس کی اگلی پچھلی کئی نسلوں میں کوئی چند لفظ بھی نہیں پڑھ سکا تھا ۔ مگر اس کو ایک یقین سا تھا،اس کا وجدان کہ رہا تھا کہ رانی کوئی عام لڑکی نہیں ،سانپ نے ہو سکتا ہے اپنی جھلک رانی کے چہرے پر چھوڑ کر اس سے انتقام لیا ہو مگر ۔ ۔ ۔ جو سانپ اس قدر دراز دست ہو کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ میں موجود بچی کے چہرے کو اپنا آئینہ بنا لے اس کا انتقام صرف یہاں تک محدود نہیں ہو گا ۔ آنے والا وقت نہ جانے کون سی گھٹنا ساتھ لانے والا تھا رانی کے ساتھ کون سی طلسم ہوشربا جڑنے جا رہی تھی وہ نہیں جان پا رہا تھا ۔ ہاں لیکن اس کے کہیں بہت اندر کوئی اس کو دہلا رہا تھا

warn

کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جب تک رانی کم عمر تھی اس کے پتا نے مجبوراً اس کی طرف سے آنکھیں بند کیے رکھیں ۔ مگر جب رانی کی دونوں چھوٹی بہنیں بھی اپنے سسرال چلی گئیں تو وہ انجانی شرمندگی سے اس کی طرف نظر نہ اٹھا پاتا تھا ۔ رانی کی سب سہیلیاں اپنے گھروں کی ہو گئی تھیں ۔

رانی کا چہرہ مزید کمھلا گیا تھا ۔ وہ آئینے میں شکل دیکھتی تو خود کو ہی نہ دیکھ پاتی ۔ بھلا مجھ سے کوئی کیوں بیاہ کرے گا؟مجھے تو خود سے ڈر لگتا ہے ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر جاتے ۔

رانی کا باپ اپنی مردانہ فطرت اور اپنی جہالت سے مجبور تھا ۔ وہ سب جانتے بوجھتے بھی رانی کی ماں سے رات دن جھگڑتا ۔ اپنی فرسٹریشن نکالنے کا اس کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ تھا ۔

تو باہر نکلی تھی نہ ۔ ۔ سیر سپاٹے کو جب رانی تیرے پیٹ میں تھی ۔ ۔ چاند گرہن تھا اس رات کو ،کتنا روکا تھا میری ماں نے تجھ کو ۔ ۔ اب بھگت نتیجہ ۔ ۔ وہ ٹھاٹھ سے سارا الزام رانی کی ماں پر دھر ڈالتا ۔ اور وہ غریب چونکہ اصل وجہ سے لاعلم تھی،شرمندگی سے سر ڈال دیتی ۔

لڑکے والے آئے ،رانی کے دیدار کا شرف حاصل کیا اور الٹے پیروں واپس لوٹ گئے ۔ ۔ کانوں کو ہاتھ لگاتے ۔ ۔ نہ بابا نہ ۔ ۔ کون چلتی پھرتی ناگن کو اپنے گھر لے کر جائے ۔  لڑکے کی ماں نے اسی وقت نہ کہلوا بھیجی ۔

رانی اس رات پل بھر نہ سو سکی ۔ سو تو اس کا باپ بھی نہ سکا تھا

رشتہ نہ ہو سکنا الگ بات ہے مگر ۔ ۔ ۔ اس طرح کے دل میں چھید کرنے والے جملے سن سن کر وہ تھک گئی تھی ۔

______________________________________

مجھے نہیں کرنا بیاہ،رانی نے خود سے فیصلہ کیا ۔ اب جھانک کر بھی دیکھے کوئی اس گھر میں ،ہونہہ!; میں خود تھوکتی ہوں سب پر ۔ ۔ ۔ مگر پوری زندگی اس طرح اکیلے کیسے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی تو ہو باتیں کرنے والا پیاری پیاری ۔ ۔ ۔ کہانیاں قصے سنانے والا ۔ ۔ ۔ دل بہلانے والا اور اور ۔ ۔ ۔ تعریف کرنے والا ۔ ۔ وہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھی ۔

شاید پورے چاند کی رات آنے والی تھی پورے گھر بلکہ پوری بستی میں اداس سناٹا تھا ۔ لوگ اپنے گھروں میں بند بے خبر سو رہے تھے ۔

مگر رانی کب سے اپنے پلنگ پر پڑی چاند کو تک رہی تھی ۔ کتنا سندر ہے ،کتناگورا ۔ ۔ ۔ چاند پر بھی تو داغ ہے مگراس کے حسیں چہرے پر توداغ بھی سجتا ہے جیسے ۔ ۔ ۔ کسی گوری چٹی لڑکی کے گال پر کالا تل ۔ ۔ ۔

دروازہ بجا تو وہ بری طرح چونک گئی ۔ ۔ ۔ ۔ کون ہے؟ ۔

________________________________

میں بڑی تیزی سے اپنے گھر کی طرف چل بلکہ دوڑ پڑا تھا ۔ نہ جانے کیوں حویلی کا جائزہ لیتے لیتے ایک عجیب خوف کی لہر میرے اندر دوڑ گئی ۔

نہیں نہیں میں کبھی ادھر نہیں آوٗں گا ۔ ۔ کیا پتا یہاں کوئی بچوں کو کھا جانے والا بھوت رہتا ہو ۔ امی کی سنائی کئی کہانیاں میرے زہن میں گھوم رہی تھیں ۔ جب اپنے گھر کے سامنے پہنچا میری سانس میں سانس آگئی ۔

مگر چند دن کے بعد ۔ ۔ ۔ جےسے مجھے کچھ ہونے لگا،جیسے مجھے کوئی پکارنے لگا ۔ ۔ ۔ حویلی مجھے اپنی طرف کھینچنے لگی تھی اور اس آواز میں روز بروز شدت آنے لگی تھی ۔ ۔ ۔ سوتے جاگتے مجھے حویلی،اس کا بند دروازہ ،اس کا اجاڑ لان پکارنے لگا—

 آوٗ۔ ۔ صرف ایک مرتبہ آوٗ تو سہی ۔ ۔ اندرآوٗ۔ ۔ اندر آکر تو دیکھو ۔ ۔ ۔ کون ہے اندر ۔ ۔ ۔ ۔

اور پھر ایک دن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

____________________________________

ارے بابا ۔ ۔  دروازے پر رانی کا باپ تھا ۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے جنگل گیا ہوا تھا سانپ کا شکارکرنے ۔

بابا روٹی لاوں تیرے لیئے؟’

نہیں نہیں تیری ماں کہاں ہے;؟بابا کچھ عجیب سے موڈ میں لگ رہا تھا ۔

ماں سو رہی ہے اندر ۔ ۔ ۔
__________________________________
تم سچ کہ رہے ہو رانی کے بابا؟رانی کی ماں کی آواز میں سخت حیرت اتر آئی تھی ۔

ارے ہاں ہاں ۔ ۔ یہ سانپ انمول ہے ،کئی صدیوں میں پیدا ہوتا ہے ۔ ۔ اور پھر صدیوں جیتا ہے ۔ اگر اس کی صحیح قیمت لگ گئی تو سمجھ وارے نیارے ہو جائیں گے ۔ ۔ اور پھر میں رانی کا بیاہ کر دوں گا گھر بھر کر دہیج دوں گا لڑکے والوں کو منہ مانگا ۔ ۔ اس کے باپ کی آواز میں ایسا جوش تھا جو رانی نے پہلی مرتبہ سنا تھا ۔

یہ سانپ دیوتا ہے اس میں مدھو وش ہوتا ہے ۔ اگر یہ کسی مرد کو کاٹے تو اس کا کاٹا پانی نہیں مانگتا لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ اگر یہ کسی عورت کو ڈس لے تو ۔ ۔ ۔ وہ عورت دنیا کی سب سے سندرعورت بن جاتی ہے ۔ وہ صدیوں زندہ رہتی ہے اور ہمیشہ جوان رہتی ہے

رانی دروازے سے کان لگائے دم سادھے یہ الف لیلی سن رہی تھی ۔

اگر اس سانپ کے اچھے دام لگ گئے چڑیا گھر ولوں نے اسے خرید لیا تو نیا پار لگ جائے گی ۔ رانی کے باپ کی آواز میں عجیب آس اتر آئی تھی ۔

کیا واقعی اس سانپ کی کاٹی عورت مرتی نہیں صدیاں جیتی ہے وہ بھی حسین صورت والی بن کر ۔ ۔ ۔ رانی کی ماں نے تمام زندگی سانپوں میں گذارنے کے با وجود زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا سنا تھا ۔

ارے ہا ں ہاں بابا بلکل ایسا ہی ہے مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

رانی کے پتا نے آگے کون سی رام کتھا سنائی رانی کو بلکل پتہ نہیں چلا ۔ ۔ اس کی سوئی تو بس یہاں اٹک گئی تھی

اس سانپ کی کاٹی ہوئی عورت دنیا کی سب سے خوبصورت عورت بن جاتی ہے ۔

اس کی نظریں بابا کے ہاتھ میں پکڑی پٹاری پر گڑی ہوئی تھیں ۔

__________________________________

میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے میرے کانوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں آج پھر حویلی کے سامنے کھڑا تھا ۔ ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میرے قدم مجھ کو جیسے یہاں گھسیٹ لائے تھے ۔ ۔ ۔

میں نے بڑی ہمت کر کے دروازے پر دستک دی

ٹھک ۔ ۔ ۔ ٹھک ۔ ۔ ۔ ٹھک ۔

کافی دیر انتظار کے بعد بھی کسی نے دروازہ نہیں کھولا ۔

شکر ہے ۔  میں نے سکھ کا سانس لیا اور واپسی کے لیئے پلٹا ۔

مگر عین اسی وقت ۔ ۔ ۔

اوہ ۔ ۔ اوہ ۔ ۔  میں جےسے سانس لینا بھول گیا ۔ ۔

آجاوٗ ۔ ۔ وہ مسکرا رہی تھی اندر آجاوٗ

_____________________________________

رانی کی ماں ! میں شہر جا رہا ہوں سانپ کا سودا کرنے،دیر سے لوٹوں گا ۔ تو اس کمرے میں کسی کو مت جانے دینا ۔

رانی کے کانوں میں اپنے باپ کی آواز پڑی ۔ اس کا دل دھڑکنے لگا تیز ۔ ۔ ۔ تیز ۔ ۔ ۔

صبح سے دو پہر ہو گئی رانی کا باپ واپس نہ لوٹا رانی بے قرار صحن کے چکر کاٹتی رہی ۔ ماں تو جےسے خود سانپ بن کر کمرے کا پہرہ دے رہی تھی ۔

کیا کروں ؟ نہ جانے کتنی مرتبہ رانی نے خود سے یہ سوال کیا ۔

اور پھر ۔ ۔ ۔ ۔ قسمت کا لکھا وہ صفحہ خود بہ خود کھل گیا ۔ جس کے کھلنے کا وقت آج لکھ دیا گیا تھا ۔

رانی! میں ندی پر نہانے جا رہی ہوں ۔ ابھی واپس آ جاوٗں گی ۔ تو اس کمرے کا خاص خیال رکھنا ،کوئی آ جائے تو اندر نہ جانے دینا ۔

ہاں ہاں ماں ! تو فکر نہ کر ۔ ۔ ۔ ۔ رانی نے بے تاب ہو کر کہا ۔

کانپتے ہاتھوں سے رانی نے پٹاری پرسے کپڑا ہٹا دیا ۔ وہ گم صم ہاتھوں میں پٹاری تھامے کتنی دیر کھڑی رہی ۔ ۔ ۔ پٹاری کے اندر کی لرزش صاف محسوس ہو رہی تھی ۔ ۔ جےسے اندر کوئی چیز رینگ رہی ہو ۔ ۔ ۔ ہل رہی ہو ۔ ۔ ۔ آہستہ ۔ ۔ آہستہ ۔ ۔

اس نے پٹاری کا ڈھکن ہٹا دیا ۔

سسس ۔ ۔ ۔ سس ۔ ۔ ۔ اندر موجود چیز ایک جھٹکے سے پھنکار کر اس کے سامنے آگئی ۔ ۔ ۔ ۔

ایک گہرے سنہری ۔ ۔ سونے جیسے سانپ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں ۔

اف ۔ ۔ ۔ اس نے آہستہ سے سانپ کو پکڑ لیا ۔ ۔ ۔ ۔

دونوں مقابل ایک دوسرے کو تکتے رہے گھورتے رہے ۔ ۔

رانی نے آہستہ سے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی ۔ ۔ ۔

سانپ نے کسمسا کر ۔ ۔ ایک دم عین اسی جگہ جہاں پہلے سے ہی سانپ کی شبیہ بنی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ رانی کے چہرے پر ڈس لیا ۔ ۔ ۔

_________________________________________

میں گم صم بیٹھا اس کو تک رہا تھا ۔ اُس کم عمری اور نادانی میں بھی اس حسین چہرے سے نظر ہٹانا ناممکن لگ رہا تھا ۔

کیا نام ہے تمہارا ۔ ۔ ؟اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔

ہوں ۔ ۔ میں تھوڑی دیر کو اپنا نام بھی بھول گیا ۔

اشعر ۔ ۔

بڑا اچھا نام ہے ۔ ۔ دودھ پیو گے تم ۔ ۔ ;؟

نہیں ۔ ۔  میں نے ناک چڑھا کر کہا ۔ ۔ دودھ مجھے گندا لگتا ہے ۔ میں گھر میں بھی دودھ نہیں پیتا ،امی بہت ڈانتی ہیں اس بات پر ۔

اچھا ۔ ۔ اچھا ۔ ۔ مگر کیا کریں میرے گھر میں تو دودھ کے علاوہ کچھ اور کھانے کو ہوتا ہی نہیں ہے ۔ اس نے کہا

اوہ ۔ مجھے حیرانی ہوئی جب ہی ۔ ۔ ۔ جب ہی تو آپ اتنی گوری ہیں ۔

وہ زور سے ہنسنے لگی اس کے موتیوں جیسے دانت چمکنے لگے ، میں پھر کھو گیا ۔

ارے آنٹی ! وہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ میرے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔

کمرے کے دروازے پر کوئی چیز رینگ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ سانپ ۔ ۔ ایک باریک سنہرا سانپ ۔ ۔

ارے ڈر و نہیں ۔ ۔ ۔ اس نے اطمینان سے سانپ کو اٹھا لیا جیسے کوئی کھلونا ہو

یہ تو میرا دوست ہے،یوں سمجھو میرا بیٹا ہی جیسے تم اپنی امی کے بیٹے ہو ۔

اورواقعی مجھے اس سانپ سے کوئی خوف نہ محسوس ہوا جیسے وہ کوئی چھوٹا ساکیڑا مکوڑا ہو ۔ میں اطمینان سے بیٹھا اس سے باتیں کرتا رہا ۔

کافی دیر کے بعد میں جیسے نیند سے جاگ گیااچھا آنٹی ! میں اب چلتا ہوں امی انتظار کر رہی ہوں گی ۔

اچھا اشعر! اس کے لہجے میں اداسی آگئی — پھر کب آوٗ گے؟ اس نے بے تابی سے پوچھا

جلدی آوٗں گا ۔

ضرور آنا میں روز انتظار کروں گی ۔

ارے آنٹی دروازے پر پہنچ کر مجھے خیال آیا ۔

 میں نے آپ کا نام تو پوچھا ہی نہیں ۔

میرا نام ۔ ۔ ۔  اس کے حسین ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔

رانی ۔ ۔ ۔

___________________________________

بس کر دے رانی کی ماں ۔ ۔ ۔ رانی کے باپ نے رو رو کر ہلکان ہوتی رانی کی ماں کو ایک مرتبہ پھر تسلی د ی ۔

کاش میں رانی چھوڑ کر ندی پرنہ جاتی،مجھے کیا خبر تھی میں بلی کو دودھ کا رکھوالا بنا رہی تھی ۔ ۔

تیرا کوئی دوش نہیں ۔ ۔ یہ نہ ہوتا تو کچھ اور ہو جاتا رانی کا باپ خلاوٗں میں جانے کیا تلاش رہا تھا ۔

رانی یہ ہونی اپنی جنم کنڈلی میں لکھوا کر لائی تھی ۔

نہ جانے میری بچی کہاں ہو گی ،کس حال میں ہو گی ۔ ۔ ;؟ رانی کی ماں صبح سے تڑپ رہی تھی ۔

وہ سکھی ہو گی ،جب تک جیے گی سکھی رہے گی ۔ ۔ ۔ رانی کے باپ نے کھوکھلی آواز میں جیسے خود کو تسلی دی ۔

اسے اب ۔ ۔ ۔ بھول جا ،وہ واپس کبھی نہیں پلٹے گی ۔ پلٹ ہی نہیں سکتی ،وہ اب نا انسان ہے نہ مکمل سانپ ۔ ۔ لیکن اب وہ اپنا باقی جیون سانپوں کے ساتھ ہی بتائے گی ۔ ۔ ۔ صرف سانپوں کے ساتھ ۔ ۔ ۔

_______________________________________

ارے اشعر ۔ ۔ میرے چھوٹے سے دوست ۔ وہ مجھ کو دیکھ کر بہت خوش ہو گئی ۔

بڑے دنوں بعد آئے ہو ۔ ۔؟

جی آنٹی !دل تو روز کرتا تھا ،مگر باہر نکلنے کی اجازت مشکل سے ملتی ہے ۔ میری نظریں اس کے چہرے کا طواف کرنے لگیں ۔

کیادیکھ رہے ہو ۔ ۔ ;؟وہ سمجھتے بوجھتے ہوئے شرارت سے مسکرانے لگی ۔

کچھ نہیں ۔  میں جھجھک گیا ۔ آپ پر یہ سا ڑھی بہت اچھی لگتی ہے ۔

میں نے اس کی سنہری بارڈر والی سیاہ ساڑھی کا پلو تھام لیا ۔

آج ا اپ اتنی تیار کیوں ہیں ؟کہیں جا رہی ہیں کیا؟

 میں ؟نہیں تو ۔ ۔ میں تو کہیں جاتی ہی نہیں ۔ ۔

ارے آنٹی اتنا دودھ؟ میز پر پڑا بڑا سا برتن دودھ سے لبا لب بھرا ہوا تھا ۔

آج آپ کیا نیاز دلوائیں گی ۔

ارے نہیں ۔ ۔ وہ بے ساختہ ہنسنے لگی ۔ ۔

آج پورن ماشی کی رات ہے ۔ آج میرے گھر مہمان آئیں گے۔

وہ کیا ہوتا ہے؟ میں نے حیرت سے پوچھا ۔ اس قسم کی رات میرے لیے نئی تھی ۔

آج پورے چاند کی رات ہے ۔

تھوڑی دیر میں اس کے گھر میں مختلف سائز اور رنگت والے مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی ۔

نہ جانے کہاں اور کن کن کونوں سے اتنے سانپ برامد ہونے لگے کہ گننا مشکل تھا ۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ مجھے ان سے قطعاً خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا نہ ہی انہوں نے مجھ پر کسی ا لتفات کی نظر ڈالی آرام سے دودھ کے برتن کے پاس جمع ہوئے اور با جماعت دعوت اڑانے لگے ۔

میں اور وہ صوفے پر بیٹھے دلچسپی سے سانپوں کو دیکھتے رہے ۔

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے ۔ وہ چند دیئے اٹھا کر لے آئی ۔ جھلملاتے شعلوں کے پیچھے اس کے حسین چہرے نے آج رات کے مکمل چاند کو پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔

آنٹی ! آپ کے گھر لائٹ نہیں ہے کیا؟ ۔ اس کو کمرے کے مختلف حصوں میں دیئے رکھتے دیکھ کر میں نے پوچھا ۔

ہاں ۔ ۔ وہ چونک پڑی نہیں میرے گھر میں بجلی نہیں ہے مجھے ضرورت نہیں میں اور میرے دوست اندھیرے میں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔  یہ دیئے تو میں تمہارے لیئے لائی ہوں ۔ وہ سانپوں کو دیکھتے ہوئے بولی ۔

چند لمحوں میں ہی برتن خالی ہو گیا ۔ اور تمام سانپ واپس نہ جانے کہاں روپوش ہو گئے ۔

آنٹی ۔ ۔  میں جیسے ٹرانس سے باہر آگیا ۔ یہ اتنے سارے سانپ ۔ ۔ ۔

کچھ مت پوچھو اشعر ۔ ۔ اس کے لہجے میں کرب اتر آیا ۔

تم نہیں سمجھو گے،بس وعدہ کرو کبھی کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کرو گے ۔ اور ہاں نہ کبھی یہاں آنا چھوڑو گے  ۔ اس نے التجا کی

مدتوں کے بعد کسی انسان کو محسوس کیا ہے ،اس سے باتیں کی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ تو جیون پھنکارتے اور رینگتے ہوئے ہی بیت گیا ۔

 میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتاوٗں گا آنٹی ۔ ۔ ۔ promise ۔

__________________________________

ارے وہ کیا ہے؟ ڈیوٹی سے واپس گھر جاتے ہوئے جمیل چوکیدار کی نظر ایک سرسراتی ہوئی چیز پر ٹہر گئی ۔

ارے ۔ ۔ ۔ ارے ۔ ۔ اس نے جلدی سے لاٹھی مضبوطی سے پکڑ لی ۔ یہ تو سانپ ہے ۔ ۔

جمیل کے پہلے ہی وار نے سانپ کا کام تمام کر دیا ۔ مگر اس نے حفظِ ما تقدم کے طور پرڈنڈے مار مار کر سانپ کو کچل دیا ۔

گہرا سنہری ۔ سونے جیسا سانپ اتنا آسان حدف بلکل بھی نہیں تھا ۔

مگر ایک تو بےچارہ بہت بوڑھا ہو چکا تھا کوئی ڈیڑھ سو سال ۔ ۔ اور پھر آج بہت جلدی میں تھا ۔ ۔ آج اپنے وقتِ مقررہ سے لیٹ ہو گیا تھا تھوڑی ہی دیر میں صبح ہو جاتی اور پورن ماشی ختم ہو جاتی ۔ ۔ وہ کہیں پہنچنے کی دھن میں مگن تھا ۔ ۔ ۔ اس لیے جمیل چوکیدار کا نشانہ خطا نہ ہو سکا اور سانپ بے چارہ مارگیا ۔ ۔ ورنہ وہ وعدہ خلاف ہر گز نہ تھا ۔ ۔ ۔ ۔

_________________________________

مجھے اس سے کئے ہوئے وعدے کو زیادہ دنوں تک نہیں نبھانا پڑا ۔

اگلے ہی دن دل کے ہاتھوں بری طرح مجبور ہو کر ۔ ۔ ۔ ۔ میں بہانے بناتا ،گھومتا گھامتا حویلی کی طرف چل نکلا مگر وہاں پہنچ کر بری طرح چونک گیا ۔

ہمیشہ کی طرح آج حویلی کا اجاڑ لان سنسان نہیں پڑا تھا ۔ بلکہ وہاں لوگوں کا ہجوم تھا ۔ ۔ ۔ لوگ با آوازِ بلند نہ جانے کیا تبصرے کر رہے تھے ۔ میں نے اپنے دودھ والے کی پرجوش آواز پہچان لی ۔

جی ۔ ۔ جی ویسے تو سالوں سے ایک ہاتھ ہی باہر نکلتا تھا دودھ لینے اور پیسے دینے کے لیئے ۔ ۔ ۔ مگر جب آج میں یہاں پہنچا تو دروازہ چوپٹ کھلا تھا ۔ ۔ میں نے بڑی دیر آوازیں لگائیں مگرکوئی جواب نہ آیا ۔ تو میں ڈرتے ڈرتے اندر چلا گیا ۔ ۔ تو سامنے ہی ۔ ۔ ۔

میں نے دودھ والے کی پوری بات ہی نہیں سنی ۔ ۔ نہ جانے کیوں میرا دل دھڑکنے لگا ۔ ۔ میں جلدی سے اندر داخل ہو گیا ۔

اوہ ۔ ۔ ۔ میرے منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی ۔

سیاہ ساڑھی ۔ ۔ سنہری پلو والی سیاہ ساڑھی میں ملبوس کوئی وجود فرش پر بے سدھ پڑا تھا ۔ ۔ ۔ یقیناً مردہ ۔ ۔

لیکن یہ ۔ ۔ ۔ وہ تو نہیں ۔ ۔ وہ تو کوئی انتہائی مکروہ صورت ،بوڑھی عورت کی لاش تھی ۔ ۔ ۔ میں اس کے اور قریب پہنچ گیا ۔

یہ کیا ہے؟ اس عورت کے سیاہ چہرے پر مزید گہرا ایک نشان تھا ۔ ۔ عجیب سا ۔ ۔ ۔ سانپ جیسا ۔ ۔

گھر میں تو اور کوئی بھی نہیں ہے ۔ ۔ لوگوں کی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں ۔

شاید یہ عورت گھر میں اکیلی رہتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلکل اکیلی ۔ ۔ ۔
_______________________________

کوئی صدیوں پرانا قصہ،کوئی بزرگوں سے سینہ بہ سینہ چلی آئی روایت ۔ ۔ ہو سکتا ہے محض آدھی سچ ہو اور آدھی من گھڑت ۔

  کوئی گہرا برسوں پر محیط عقیدہ— mythثابت ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ایک خیال،ایک تحقیق جو کافی عرصے سے گردش کر رہی ہے وہ یہ کہ آواز کبھی ختم نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ صدیوں پہلے بولے گئے الفاظ کبھی نہیں مرتے بلکہ اس دنیا میں ہی کہیں نہ کہیں موجود ہوتے ہیں ،اس کائنات میں گردش کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔

اگر تو یہ ریسرچ سچ ثابت ہو جاتی اور رانی کے ماں باپ کی برسوں پہلے ہونے والی وہ گفتگو جو رانی نہ سن پائی تھی

reverse

کی جا سکتی تو کیا سامنے آتا

رانی نے اپنے باپ کی بات صرف وہاں تک سنی جہاں تک اس سانپ کی کاٹی عورت کے سندر بن جانے کا تذکرہ تھا ۔ اس کے آگے کیا کہا گیا اس کی سماعت نہ سن پائی ۔ ۔

اس کے کان اس کی قسمت کے لکھے نے بند کر دیئے تھے ۔ ۔ ۔

رانی کی ماں جس عورت کو یہ سانپ دیوتا ڈس لے وہ دنیا کی سب سے سندر عورت بن جاتی ہے ۔ وہ عورت صدیاں جیتی ہے مگر اس کی ایک شرط ہے ہر سال اسی تاریخ کو سانپ اس کو ڈسنے آتا ہے چاہے دنیا کے کسی کونے میں ہی ہو ۔

اور جو کبھی سانپ نہ آسکے تو؟ ۔ رانی کی ماں کی ڈری ہوئی آواز گونجی ۔

تو وہ رات اس عورت کے جیون کی آخری رات ہو گی ۔ ۔ ۔ لیکن وہ سانپ ضرور آتا ہے چاہے اس کو کتنی کٹھنائی سے گذرنا پڑے ،ڈسے بغیر نہ عورت کو چین پڑتا ہے نہ سانپ کو ۔ ۔ ۔ یہ ڈنک اصل میں سانپ دیوتا کا سندور ہوتا ہے ۔ ایک بار کاٹنے کے بعد پھر وہ کسی مرد کو اس عورت کے قریب پھٹکنے بھی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ دھن ،دولت پہننا اوڑھنا اس کو سب ملتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ نہیں ملتا تو شوہر کا سکھ بچوں کی خوشی ۔ ۔ ۔ سانپ پھر کسی مرد کو اسے چھونے بھی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔

ہائے رام ۔ ۔ ۔ رانی کی ماں نے دل پر ہاتھ رکھ لیا ۔

تو ایسی صورت کا کیا فائدہ کہ پھیروں کے بنا ہی ودھواوٗں جیسی عمر بتانی پڑ جائے ۔ ۔ ۔؟

ایسا ہی ہے رانی کی ماں ۔ ۔ ۔ کبھی کبھی جیون ،جیون نہیں رہتا پہیلی بن جاتا ہے ۔ ۔

رانی کا جیون بھی شاید ایک پہیلی تھا ۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
6 Comments
Newest
Oldest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Kaya
3 months ago

Shi baat hai zahiri hussn to isi zindagi me khatam hohata ha kam ata hai to androoni hussn..

Zubia
Zubia
1 year ago

very unique idea and extremely interesting.

Sajjad
Sajjad
1 year ago

Nicely narrated. Ideas of your most of the stories are too good. This one is perfect to release in weekly episodes instead of short ending , readers would love it