بےوفا

میں بلکل بے حِس و حرکت بیٹھا اپنے سامنے رکھے ہوئے کافی کے مگ گُھورے جا رہا تھا۔betrayed-traiter
’’مسٹر طارق‘‘
میں نے چونک کر سامنے بیٹھے شخص کو کھوئی کھوئی نگاہوں سے دیکھا
یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی آپ کا اس قدر دیوانہ ہو۔ آپ کی ایک ایک ادا اسے اس ازبر ہو۔ آپ کے روزانہ تبدیل کِیے جانے والے لِباس کا رنگ تک اسے پتہ ہو اور آپ اسے جانتے ہی نہ ہوں کہ وہ کون ہے اور کس طرح آ پ کی ہر خبر رکھتا ہے۔ آپ شاید مجھ سے بھی بہت کچھ چُھپا رہے ہیں ۔

نہیں ڈاکٹرنہیں ۔ میں نے بے بسی سے کہا۔ ’’یقین کیجیے میں کچھ نہیں چُھپا رہا آپ سے ۔

میں واقعی نہیں جانتا کہ وہ خط مجھے کون لکھتایا لکھتی ہے جنھوں نے میری زندگی اجیرن کر دی ہے۔ میری بے انتہا محبت کرنے والی بیوی مجھ پر شک کرنے لگی ہے میرے اور اس کے درمیانایک دراڑ سی آگئی ہے وہ پاگل ہوتی جا رہی ہے۔ ۔۔ نفسیاتی مریضہ لگنے لگی ہے۔

۔۔۔غصہ کرتی ہے روتی رہتی ہے ۔۔۔وہ چاہتی ہے میں ہر وقت اس کی نظروں کے سامنے رہنے لگوں جو ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے میں آپ سے یہ مسئلہ ڈِس کس کرنے آیا ہوں مجھے ڈر ہے وہ خود کو کوئی نقصان نہ پہنچالے۔

میری گفتگو کے دوران ڈاکٹر میز پر رکھا ہوا پیپر ویٹ گُھماتا رہا۔

ہوں…اسٹرینج…ویری اسٹرینج

ٹھیک ہے مسٹر طارق ۔ آپ کل شام اپنی مسز کو میرے پاس لے آئیے یہ مسئلہ ان کے سامنے ڈِسکس کرنا بہت ضروری ہے۔
ڈاکٹر کل شام تو میں اسلام آباد جا رہا ہوں۔ ایک ضروری میٹنگ ہے..

آپ مجھے

Next Week

کی اپائنٹ منٹ دے دیں۔
جیسا آپ مناسب سمجھیں۔ میرے ریسئپنٹ سے مل کر اپائنٹ منٹ لے لیں
’’تھنک یو ڈاکٹر۔۔‘‘
میں وہاں سے اُٹھ گیا۔۔۔۔

ٹھیک چار دن بعد گھر کا پھر وہی منظر تھا۔ جب میں اسلام آباد سے لوٹا۔
ٍابھی ناشتے کی میز پر چائے کا کپ اُٹھاکر منہ سے ہی لگایا تھا۔
کہ کوئی چیز زور سے میرے آگے آ کر گری
میں اُچھل گیا۔
’’جینی ، یہ کیا بدتمیزی ہے‘‘ وہ کڑے تیوروں مجھے گھوررہی تھی۔
’’بے وفائی کے جواب میں اتنی بدتمیزی تو چلتی ہے۔‘‘
اس نے وہ لِفافہ جو ابھی میرے سامنے پھینکا تھا میرے آگے لہرایا۔
’’اوہ نو

۔ میں نے اپنا سر پکڑ لیا۔ Not Again
زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ میں بے وقوف نہیں ہوں ۔
وہ پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی۔
’’وہ بے وقوف ہر گز نہیں تھی۔ مگر بے وفا میں بھی نہیں ۔

لیکن خط ۔۔۔۔۔

میں نے لفافہ اُٹھا لیا

بہت نفیس ٹائپ کیا ہوا۔ وہی لفافہ اس کے اندر بلکل ویسا ہی خط وہی لیٹر پیڈ خوشبو میں بسا، صفہ پر جا بجا ہونٹ پرنٹ تھے۔ ۔
اور وہی ایک سا مضمون، جی ہاں مجھ سے محبت کا اظہار

آپ بہت ہنیڈسم ہیں، بہت اچھی ڈریسنگ کرتے ہیں ، بہت اچھی خوشبو لگاتے ہیں، اورمیں آپ کو بہت بہت پسند کرتی ہوں۔۔۔وغیرہ وغیرہ

اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو یقیناًاس سچویشن سے بہت مزہ لیتا، مگر میری زندگی میں آنے والے یہ خط عذاب بن کر آتے تھے۔ جینی میری بیوی کم از کم 2 دن اپنا مُوڈ سخت خراب رکھتی۔
ٹہریے میں آپ کو شروع سے بتاتا ہوں۔
میرا نام طارق احمد ہے۔ میں ایک ایڈورڈائزنگ ایجنسی میں کام کرتا ہوں۔

جینی میری پیاری بہت عزیز بیوی ہے۔ ہماری

ہے۔ Love Marriage 
شادی کے شرع کے سال بہت خوشگوار گزرے مگر گزشتہ 2 سالوں سے جینی کا رویّہ بہت بدل گیاتھا۔ اس کے اندر میں بہت شدت پسندی آتی جا رہی تھی۔ شاید اس کی وجہ ابھی تک اولاد کا نہ ہونا تھا۔
جینی کو اولاد کی بہت خواہش تھی۔ جس کا وہ اکثرزکر بھی کرتی تھی۔ میں چونکہ اپنا کیریر بنانے میں دن رات مصروف تھا اس لئے فی الحال اس طرف میرا اتنا دھیان نہیں تھا۔
مگر جینی.. وہ تو جیسے دن بہ دن گُھل رہی تھی آفس سے آنے کے بعد وہ چند لمحے میری توجّہ کسی اور طرف برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ سونے پر سُہاگہ یہ خط۔
جی ہاں، رہی سہی کسر ان خطوط نے پوری کر دی تھی۔ چند ماہ سے بار بار آنے والے ان خطوط سے جینی کو جیسے دیوانہ کر دیا تھا۔ وہ مجھے مکمل طور پر کسی عورت کے چکّر میں پڑا ہوا سمجھنے لگی تھی۔
میں اسے بار بار یقین دِلاتا۔
دیکھو یار میں ایک ایسی جگہ کام کرتا ہوں جہاں بہت لڑکیاں کام بھی کرتی ہیں، آتی جاتی ہیں ..ہو سکتا ہے کسی نے مزاق کیا ہو۔
مزاق، تم دُنیا کے انوکھے آدمی نہیں ہو جو لڑکیوں کے بیچ میں کام کرتا ہے۔ وہ تلملاتی .. آخر تم ہی کیوں؟ جب کہ سب کو معلوم ہے تم شادی شُدہ ہو۔

مگر آج کے اس خط نے میری سوچوں کا رُخ تھوڑاتبدیل کر دیا۔ خط کا مضمون تقریباََ وہی تھا۔

’’مجھے آپ سے محبت ہے، میں آپ کے آفس میں کام کرتی ہوں۔
آپ کل آفس نہیں آئے میں انتظار کرتی رہی، پلیز آئندہ ایسا نہ کیجئے گا۔ دن نہیں گُزرتا آپ کو دیکھے بغیر ۔‘‘
فقط آپ کی۔۔۔۔۔

اس نے خب میں کبھی اپنا نام نہیں ظاہر کیا تھا صرف لِکھا ہوا تھا کہ میں آپ کے آفس میں کام کرتی ہوں۔
’’کون ہو سکتی ہے؟‘‘ میرے آفس میں تو 5 لڑکیاں کام کرتی تھیں۔ ’’ کہیں ایسا تو نہیں کوئی مجھے بے وقوف بنا رہا ہو۔‘‘
جینی سچ ہی تو کہتی ہے مجھ سے کسی کو کیا دل چسپی ہو سکتی ہے۔
’’ ہو سکتا ہے کوئی ان خطوط کے زریعے میرے اور جینی کے بیچ دراڑ ڈالنا چاہ رہا ہو۔‘‘
’’مگر یہ خط ‘‘ ایک ایک لفظ محبت میں ڈُوبا ہوا۔ بعض دفعہ تو میرے لباس کی تفصیل تک بیان کی ہوتی تھی۔
’’اور خوشبو۔‘‘ میں نے بے دھیانی میں خط اُٹھا کر ناک سے لگا لیا۔ اسی وقت جینی کمرے میں داخل ہوئی۔
خط کی اُوڑ سے ہماری آنکھیں ٹکرائیں۔
’’اوہ‘‘ اس نے لمبی آواز نکالی۔
’’میری غیر حاضری میں محبوبہ کے خط کو چوما جا رہا ہے۔‘‘
میرے دِماغ کا فیوز اُڑ گیا۔ ’’ تمہارا دِماغ خراب ہے۔‘‘
’’’بھاڑ میں جائیں یہ خط، بھاڑ میں جاؤ تم۔‘‘
میں نے خط کے ٹُکڑے کر کے میز پر پھینکےور چائے پئے بغیر باہر نکل آیا۔
باہر نکلتے ہوئے میری نظر جینی پر پڑی، وہ خاموش بیٹھی خط کے ٹکڑوں کو گھور رہی تھی۔ اس کے چہرے پر گہرا ملال تھا۔
میرے دل کو کچھ ہوا۔
’’ نہیں ‘‘ میں نے فیصلہ کیا ’’مجھے کچھ کرنا ہوگا۔‘‘
’’اپنے کام سے لمبی چھٹی لے کر پہلے جینی کی سائکاٹرسٹ سے سے کاوئنسلنگ اور پھر کسی ہِل اسٹیشن پر اس کے ساتھ ٹائم گُزارنا ہے۔
’’ورنہ جینی توشاید پاگل ہو جائے گی۔
مگر اس پروگرام پر عمل نہ ہو سکا۔اس پہلے وہ ہو گیاجس کا میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
میں آفس سے نکل ہی رہا تھالہ ایک کال آئی۔
’’آپ کے لئے ایک بُری خبر ہے مسٹر طارق۔‘‘
’’آپ کی مسز نے چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی ہے۔‘‘
میں گھر پہنچا تو گھر کے آگے لوگوں کی بِھیڑجمع تھی۔ تفتیشی افسر نے ابتدئی کاروائی کے بعد ایک خط میرے آگے لہرایا۔
’’یہ خط آپ کی بیوی نے خود کشی سے قبل لکھا ہے مگر اس میں وجہ بیان نہیں کی۔‘‘
میں نے خب تھام لیا۔
مجھے معاف کردینا طاری میں جا رہی ہوں‘‘
’’تمہاری جینی‘‘
میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
’’کیوں؟ مگر کیوں جینی کس غلطی سے سزا تم نے دی ہے مجھ کوبھی اور خود کو بھی۔‘‘
میں نےخط آنکھوں سے لگا لیا۔

مگر۔۔۔۔یہ کیا۔

..یہ خوشبو

میری آنکھیں پوری کھل گییں.. خط تو بلا شبہ جینی کا ہی تھامگر لیٹر ہیڈ، وہی بلکل وہی جا بجاپرنٹ ہونٹوں والا۔‘‘ تو کیا جینی وہ خط۔۔۔
فرق صرف یہ تھا وہ خط ٹائپ ہوتے تھے۔ ۔۔۔۔
ایک خیال میرے دماغ میں لہرایا۔ میں پاگلوں کی طرح جینی کی الماری کی طرف بڑھا۔ اور ۔۔۔۔

…جی ہاں

اس کے کپڑوں کے پیچھے وہ لیٹر ہیڈ جس پر وہ انجان خطوط آتیتھے ۔ پیپر اسپرے کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments