پکار

جنوری 1947 کی ایک شدید یخ بستہ صبح ۔azan pukar
فجر ویلے ۔ حی علی الفلاح کی آواز پر حسبِ معمول کوثر کی آنکھیں پٹ سے کھل گئیں ۔ ’’ابھی اٹھتی ہوں‘‘ ۔ 

اس نے کروٹ بدل کر تکیہ منہ پر رکھ لیا ۔


شدید ترین سردی میں اتنے سویرے بستر سے نکلنے کا تصور ہی سوہان روح تھا ۔ مگر ’’الصلوۃ خیر من نوم‘‘کے کلمات نے اسے بستر سے نکلنے پر 
حسبِ معمول مجبور کردیا ۔ وہ جلدی جلدی دوپٹہ سر پر لپیٹی باہر نکلی ۔

برآمدے کے دروازے کی کنڈی کھول کر باہر صحن میں نکل آئی ۔

مسجد سے اذان کی آواز ابھی جاری تھی اور یہ آواز کسی اور کی نہیں اسی کے ابا جی کی تھی ۔ اس کے ابا محلے کی مسجد کے موذن تھے ۔ وہ گھنٹہ بھر پہلے ہی وضو کر 
کے مسجد روانہ ہو چکے تھے ۔

کوثر نے جلدی جلدی آستینیں چڑھائیں اور صحن میں رکھے لکڑی کے پیٹرھے پر بیٹھ کر وضو کرنے لگی ۔

ٹھنڈے یخ پانی نے جیسے اس کے ہاتھ پاؤں جما دئیے ۔ 

قدرے پرے رکھی لکڑی کی چوکی پر تہہ کر کے رکھی جائے نماز کو اس نے سیدھا کیا اور اس پر نماز پڑھنے لگی ۔

سردی سے اس کے باقاعدہ دانت بج رہے تھے ۔ 

اسٹور میں ۔ ۔ گندم کی بوری کی آڑ میں کئی گھنٹوں سے چھپا وجودکب سے اس کا جائزہ لے رہا تھا ۔ اس نے اپنا چہرہ سیاہ ڈھاٹے میں چھپایا ہوا تھا ۔ 

ہاتھ میں تیز دھار کا خنجر تھا ۔ اس نے ایک مرتبہ پھر انگلی سے خنجر کی دھار کے تیزی کا اندازہ کیا ۔ 

کوثر نے نماز پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ۔ جائے نما زتہہ کر کے اس نے دوبارہ اپنے کمرے کا رخ کیا ۔

امی اور دادی کے کمرے کا دروازہ ابھی بند تھا ۔ اسٹور کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کو ایک عجیب احساس ہوا ۔ اس نے آہستہ سے اسٹور میں جھانکا ۔

ایک لمبا چوڑ ا وجود تمام چہرہ سیاہ ڈھاٹے میں چھپائے ۔ کوثر کا دل خوف سے پھٹنے والا ہوگیا ۔ قریب تھا کہ اس کے منہ سے چیخ نکل جاتی کہ خنجر بردار نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔

ایک ہاتھ سے مضبوطی سے کوثر کا منہ بند کئے اس نے دوسرے ہاتھ سے خنجر بلند کیا ۔ مگر پھر نہ جانے کیا سوچ کر ۔ نہیں نہیں ۔ کچھ محسوس کر کے اس نے خنجر ہاتھ سے گرا دیا ۔ 


گھنٹے بعد جب کانپتی ہوئی کوثر اپنے کمرے میں واپس لوٹی تو اس کی 19 سالہ دنیا اندھیر ہوگئی تھی ۔ نقاب پوش کب کا فرار ہوچکا تھا ۔ کوثر اپنی چیخوں کو روکنے کے لئے اپنا دوپٹہ منہ میں گھسائے دے رہی تھی ۔ 


صبح امی اور دادی اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئیں ۔ اس کو تیز بخار چڑھ گیا اور اس کی حالت غیر ہورہی تھی ۔ 

پھر صبح ٹھنڈے پانی سے وضو کر لیا ہوگا‘‘ ۔ اس کی دادی بڑ بڑارہی تھیں ۔” 

کتنی مرتبہ کہا ہے کہ پانی گرم کرلیا کر ۔ مگر اس لڑکی کی سستی ۔ 

“کاش ،کاش میں اس صبح نماز کے لئے نہ اٹھی ہوتی‘‘

کوثر کی آنکھوں سے آ نسو گرنے لگے ۔  

“کاش اس صبح اذان کی آواز میرے کانوں میں نہ گونجی ہوتی‘‘

 وہ نہ جانے کیا سوچے جاتی ۔ 

دن پر دن گزرتے گئے ۔ کوثر کی حالت قدرے سنبھل گئی ۔ مگر اس صبح کے بعد وہ فجر کے لئے نہ اٹھی ۔

اذان پر آنکھ تو حسبِ معمول کھل جاتی مگر وہ اپنے بستر پر پڑی کانپتی رہتی ۔ 

کوثر کی حالت تو بہتر ہو رہی تھی مگر ملک کے حالات شدید بگڑ رہے تھے اور کوثر کے ماں باپ اور دادی بے حد خوفزدہ ۔ ایک تو مسلمان پھر مسجد کے موَذن ، بے حد غریب اور پھر یہ علاقہ ۔ یہاں ہندوَں اور سکھوں کی اکثریت تھی ۔ جو گنتی کے مسلمان گھرانے تھے ۔ وہ سخت خوفزدہ تھے ۔ 

جن گھروں میں جوان لڑکیاں تھیں ان کا خوف تو کئی گنا زیادہ تھا ۔ کئی نے اپنی کم عمر لڑکیوں کی بنا دیکھے بھالے شادیاں کر دیں تھیں ۔ 


کوثر کی ماں بھی کوثر کی جلد از جلد شادی کردیناچاہتی تھی مگر یہ اتنا آسان نہیں تھا ۔ کیونکہ کوثر بے حد بد شکل تھی ۔ ایک تو سانولی رنگت پھر اس پر بچپن میں نکل آنے والی چیچک نے سارا چہرہ بھر دیا تھا ۔ 

لوگ ان کی شرافت کے قصے سُن کر ان کے گھر رشتہ لے تو آتے مگر کوثر کو دیکھ کر الٹے پاؤں لوٹ جاتے ۔ کوثر کی سب سہیلیاں اپنے گھروں کی ہوگئی تھیں اور اب تو چند مہینوں سے ملک کے حالات بگڑتے چلے جارہے تھے ۔ ہر دوسرے دن کسی مسلمان گھر میں قتل ِ عام کی خبر سننے کو مل جاتی تھی ۔ عورتوں نے تو گھر سے نکلنا ختم کردیا تھا ۔ 

کوثر اور اس کا شریف ،مختصر گھرانہ بھی بے حد خوفزدہ تھا ۔ مرد کے نام پر گھر

…میں صرف کمزور موَ ذن صاحب تھے اور تین خواتین

ویسے تو کوثر کی ماں کو خدا کی ذات کے بعد کوثر کی بد صورتی پر پورا بھروسہ تھاکہ اس پر کوئی دوسری نظر تک نہیں ڈالے گا اور اس رات والے واقعے کے بعد (جو کہ کوثر کی ماں کے علم میں نہ تھا)یہ بات سچ ہی ثابت ہوگئی تھی ۔ 

…14 August, 1947

آگئی …بٹوارہ ہوا ان کا علاقہ انڈیا میں شامل کر لیا گیا ۔ کوثر کی ماں ،باپ ،دادی کو چُن چُن کر قتل کر لیا گیا ۔ وہ نہ جانے کیسے جان بچانے میں کامیاب ہوگئی اور مسلمانوں کے قافلے میں شامل ہوکر پاکستان پہنچ گئی ۔ 

زخموں سے چور دل، تھکا ٹوٹا جسم اور ویران آنکھیں لے کر کئی مہینوں تک تو اس کو سمجھ نہ آسکی کہ یہ ہوا کیا ہے

..کون سی قیامت گزر گئی یا ابھی گزرنا باقی ہے 

مگر پھر آہستہ آہستہ ، جیسے تیسے ، حسبِ دستور جسم کے زخم بھرنے لگے اور دل کے بھی ۔ بھوک بھی لگنے لگی اور نیند بھی آنے لگی ۔

شروع میں تو آدھی رات کے بعد ڈراوَنے خوابوں والی ۔ ۔ ۔ پھر بھرپور ۔ ۔ ۔ 

کسی اسکول کی عمارت تھی جس کو بے سہارا مہاجر لڑکیوں اور عورتوں کا کیمپ بنایا گیا تھا ۔ کوثر جس عورت کی کہانی سنتی اس کو لگتا سب سے زیادہ تکلیف اس نے اٹھائی ہے مگر اگلی کی کہانی اس سے کہیں بڑھ کر اذیت ناک ہوتی ۔

کئی لڑکیاں کنواری تھیں ، کئی کے ساتھ ان کے بچے ۔ سب اپنو ں سے بچھڑی ہوئی تھیں ۔ کئی کے اپنے گُم شدہ تھے ۔ کوثر اس اعتبار سے بالکل مطمئن تھی ۔ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا ۔ کوئی گُم شدہ نہیں تھا ۔ ابا، اماں ،دادی سب خوش تھے ۔ اچھی جگہ تھے ۔ کوثر کو اکثر خواب میں نظر آتے تھے ۔ 

مہینوں پر مہینے گزر گئے ۔ کئی خوش نصیب عورتوں کے بچھڑ ے رشتہ دار ان کو آکر لے گئے ۔ کئی لڑکیوں کے کیمپ میں ہی رشتہ آگئے اور وہ چند کپڑوں میں رخصت ہوگئی ۔ 

بہت سے لوگ کوثر کا رشتہ بھی لے کر آئے ۔ مگر انتہائی نیک دل، بے لوث ہونے کے باوجود کوثر کا چہرہ دیکھ کر چپ چاپ لوٹ گئے یا کیمپ کی 

کسی اور خوبصورت لڑکی کو بیاہ کے لے گئے ۔ کوثر کے لئے یہ صورت حال نئی نہیں تھی ۔ وہ اس اذیت سے کئی مرتبہ گزر چکی تھی ۔ ’’میری شادی نہیں ہوسکتی‘‘ ۔ اس نے خود کو سمجھا لیا تھا ۔ 

مگر پھر ایک دن کیمپ کی کرتا دھرتا باجی نسیمہ نے اس کو اپنے کمرے میں بلوایا ۔ 

جی باجی, کوثر ان کے قریب جا کر بیٹھ گئی ۔ 

کیسی ہو کوثر.. فرشتہ صفت نسیمہ نے پیار سے کوثر کے گہرے سانولے چہرے پر نظر ڈالی ۔ 

ٹھیک ہو ں باجی‘‘ ۔ کوثر کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ دوڑ گئی ۔” 

کتنی عمر ہوگئی ہماری بیٹی کی ; نسیمہ نے پیار سے پوچھا ۔ 

جی ۔ کوئی ۔ ۔ ۔ 21سال ‘‘ ۔ کوثر نے انگلیوں پر حساب لگایا ۔ 

تو کیا خیال ہے اب تم کو اپنے گھر کا نہ کردیا جائے

…”مگر‘‘

کوثر کی آنکھوں میں کئی منظر گھوم گئے جب کئی رشتہ لانے والے اس کودیکھ کر واپس لوٹ گئے تھے ۔ 

اب ایسا نہیں ہوگا‘‘ ۔ نسیمہ باجی اس کا سوال بنا سنے بھانپ گئیں ۔” 

انہوں نے تم کو دیکھ کر پسند کیا ہے ۔ 

جب 14 اگست کو ہم نے پاکستان کی سالگرہ کا جشن منایا تھا اور بہت سے لوگ جمع ہوئے تھے ۔ تب تم کسی کو اتنی اچھی لگیں کہ انہوں نے تمہارا رشتہ بھیج دیا ۔ 

کوثر بے ہوش ہونے والی ہوگئی ۔

اپنی 21سالہ زندگی میں وہ کسی کو اچھی لگی تھی ۔ 
ابا، اماں اور دادی کے علاوہ اور ہاں باجی نسیمہ کے علاوہ ۔ 

 میں نے اچھی طرح چھان بین کرالی ہے ۔ بہت اچھا لڑکا ہے ۔ پیسے والا ہے ۔

بس تمہاری ہاں کا انتظار ہے ۔ 

کوثر نے کچھ شرم اور کچھ حیرت سے نظریں جھکا لیں ۔ 

کیمپ کے عقب میں بنے بڑے سے میدان میں شادی کا پنڈال سجا ہوا تھا ۔ ویسے تو کیمپ میں کئی مرتبہ شادی کی تقریب ہوچکی تھی ۔ مگر آج تو جیسے رنگ ہی الگ تھا  کیونکہ آج شادی کا سارا انتظام کوثر کے ہونے والے بے حد امیر دولہا کی طرف سے کیا گیا تھا ۔

مہمانوں کے بیٹھنے کا شاندار انتظام اور ان کی ضیافت کے لئے بہترین کھانے اور کوثر کا جوڑا اور زیور جو دیکھتا کوثر کی قسمت پر رشک کرنے لگتا اور سب سے 
قابل ِ رشک چیز تو ایسی تھی کہ لڑکیاں درحقیقت ہاتھ کاٹنے والی ہو گئیں ۔ جی ہاں بے حد خوبرو نوجوان، عالیشان کوثر کا دولہا ۔ 

کسی مرد پر دوسری نظر نہ ڈالنے کے شرعی اصول پر سختی سے کاربند باجی نسیمہ کی پہلی نظر اس قدر طویل ہوگئی کہ احساس ہونے پر انہوں نے گھبرا کر 
دولہا سے نظر ہٹا لی اور زیرِ لب ماشاء اللہ کئی بار دہرایا ۔ 

کوثر قیمتی سرخ جوڑے میں اس قدر معمولی لگ رہی تھی کہ ’’میک اپ‘‘کرنے والی نے تھک کر ٹھنڈ ی سانس بھری ۔ 

نکاح ہوا ،چھوارے بٹے ،رخصتی کا شور ہوا ۔ 

کوثر رخصت ہو کر اپنے سسرال پہنچ گئی ۔ اپنے سجے سجائے کمرے میں بیٹھ کر اپنے مہندی لگے سانولے ہاتھوں کو دیکھتی نہ جانے کیا کیا سوچے جا رہی تھی ۔ اس کا بچپن، نوجونی، سہیلیاں اور پھر ۔ پھر وہ خوفناک صبح ۔ ۔ ۔ 

دروازہ آہستہ سے کھلا ۔ کوثر کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔ کوئی اندر آ کر عین اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔ 

السلام و علیکم ۔ ۔ ۔ 

اتنی خوبصورت آواز شاید اس نے پہلی مرتبہ سُنی ۔ بے ساختہ اس نے آنکھیں اٹھالیں ۔ 

اُف ۔ ۔ ۔ یہ چہرا ۔ ۔ ۔ مسکراتا ہوا ۔ 

گورا، نورانی، پاک آنکھیں ، سیاہ چھوٹی سی داڑھی اورماتھے پر گہرا سجدے کا نشان 

بہتر ہوگا کہ سب سے پہلے میں آپ سے اپنا تعارف کرادوں..۔ وہ بہت پیار سے گویا ہوا 
میرا نام عمر ہے،”عمر فاروق‘‘ ۔ 

..مگر یہ میرا پیدائش کا نام نہیں ہے 

میرا پیدائش کا نام امر ہے ۔ ’’امر سنگھ‘‘ ۔ 

کوثر نے دوبارہ گھبرا کر نگاہیں اٹھائیں ۔ 

گھبرائیں نہیں ‘‘ ۔ وہ جیسے اس کا سوال سمجھ گیا ۔” 

 ..میں اب مسلمان ہوں ۔ پکا سچا مسلمان، جیسے آپ ہیں  



’’ میں ۔ ۔ ۔ میں آپ کو ایک کہانی ، بلکہ ایک واقعہ سناتا ہوں”

 عمر نے کھنکھار کر گلہ صاف کیا ۔ 

ڈھائی سال پہلے مجھے ایک مشن سونپا گیا ۔ 

اپنے محلے کے ایک گھر کے تمام مسلمان لوگوں کو قتل کرنے کا مشن۔ 

 میں رات بھر اس گھر میں چھپا رہا ایک تیز دھار خنجر کے ساتھ ۔

پھر نیم اندھیرے میں ایک بزرگ کمرے سے نکلے ۔ تیزی سے انہوں نے آستین چڑھائیں اور ٹھنڈے پانی سے وضو کیا ۔ شدید ترین سردی میں اور گھر سے نکل گئے ۔ اذان دینے” ۔” 

’’ میں کوشش کے باوجود انہیں قتل کرنے کی ہمت نہ کرسکا ۔ ‘‘ 

پھر اذان ہوئی اور ایک لڑکی ،نوجون لڑکی کمرے سے نکلی ،سخت سردی میں آستین چڑھائی ،یخ ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے خدا کے حضور کھڑی ہوگئی ۔ کوثر کو لگا اس کا دل پسلیاں پھاڑ کر باہر آجائے گا ۔ 

 میں اس لڑکی کو قتل تو نہ کر سکا ۔ مگر شیطان کے بہکاوے میں آگیا اور اس کے ساتھ ۔ ۔ ۔ 

کوثر کی آنکھیں جھک گئیں ۔ اس کے آنسو گرنے لگے ۔ 

پھر نہ جانے کیا ہوا ۔ میرے دل کی دنیا بدل گئی میں نے گناہوں سے توبہ کرلی ۔ مسلمان دشمن لوگوں کا گروہ چھوڑ دیا ۔

اس لئے کہ میں خود مسلمان ہوگیا ۔ میں نے اسلام قبول کر لیا ۔ ا مر سے عمر بن گیا ۔ نام میں تو بس پیش کا فرق ہے مگر میری تمام زندگی زیر سے زبر ہوگئی ۔

کلمہ پڑھتے ہی مجھے سمجھ آنے لگاکہ یہ کیا راز ہے ۔ اذان کی آواز میں کون سا سحر چھپا ہے کہ مسلمان ،دن ہو کہ رات گھر ہو کہ میدان.. دیوانہ وار آستین چڑھاتے وضو کر تے ہیں اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ۔

یہ کون سی پکار ہے جو کہ خدا کی طرف سے ہوتی ہے اور بندہ ہاتھ باندھ کر اس 
کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے ۔ 

 میں نے ۔ عمر نے کوثر کی طرف پیار بھری نظر ڈالی ۔ 

خدا سے اپنے اُس گناہ کی بہت معافی مانگی ۔ 

 میں نے خدا سے عرض کی کہ اگر اس نے میری توبہ قبول کی تو تم مجھے نظر آجاوَ.. میں نے تم کو بہت ڈھونڈا ۔ پھر مسلمان ہوکر میں پاکستان آگیا خالی ہاتھ آیا تھا مگر خدا نے اتنی برکت دی کہ مٹی کو ہاتھ لگاتا تو سونا بن جاتی ۔ 

اور آخر کار تم مل گئیں ۔ یعنی میری توبہ اور میری دعا خدا نے سُن لی ۔ 

..خدا نے تو معاف کردیا اب تم، تم مجھے معاف کروگی

عمر نے کوثر کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے ۔ 


کوثر نے اپنے آنسووَں میں بھیگے سانولے ہاتھ عمر کے جڑے ہوئے سفید ہاتھوں کے اوپر رکھ دئیے ۔ 

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
4 Comments
Newest
Oldest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Sajjad
Sajjad
1 year ago

This one is best among all

zubia
zubia
1 year ago

Excellent story with happy ending, having optimistic approach. Optimism helps us see new opportunities, learn from hard situations, and keep moving in life.