آخری فرار

بریکنگ نیوز

پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو ہلاک ،جبکہ دوسرا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔ ڈاکو بہت سیakhri farar urdu horror story سنگین وارداتو ں میں ملّوث تھے اور بہت عرصے سے پولیس کو مطلوب تھے ۔ پولیس کی ٹیم مفرور ڈاکو کو تلاش کر رہی ہے ۔ لوگوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ اپنے گھروں کے دروازے بند رکھیں ۔ مبیّنہ طور پر ڈاکو کے پاس خطرناک اسلحہ موجود ہے “۔ 


شام کے سائے ہر طرف پھیل رہے تھے ۔ وہ علاقہ قدرے اونچائی پر تھا ۔ اس لئے موسم سے پہلے ہی ٹھنڈ پڑنے لگی تھی ۔ درختو ں کے درمیان بنی ہوئی وہ سڑک نہ جانے کہا ں سے چلتی آئی تھی اور کہاں تک جاتی تھی ۔ آس پاس اتنے درخت تھے کہ جنگل کا گمان ہوتا تھا ۔ سڑک پر سے بہت گاڑیاں گذرا کرتی تھی ۔ کاریں ،جیپیں ،بسیں اور ٹرک ۔ ۔ ۔ سنسان جگہ کی وجہ سے اکثرلوگ یہاں ٹہرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ علاقہ ویران تو ضرور تھا لیکن مسافروں کے کھانے پینے کے لیے ایک شاندار آپشن بہرحال موجود تھی ۔ ڈھلان کے ایک طرف درختوں کا جھنڈکچھ کم تھا ۔ وہیں علاقے کی مناسبت سے ایک ٹوٹی پھوٹی ویران عمارت موجود تھی ۔ جس کے باہر لگا پیلا بلب شام سے ہی روشن ہو جاتا تھا ۔ بلب کے نیچے سفید دیوار پر بڑا بڑا سرخ پینٹ کیا گیا تھا ۔

’’پرسکون سرائے ۔ ۔ کھانے اور قیام کا اعلی انتظا م موجود ہے‘‘

’’ پروپراءٹر : مینا آنٹی‘‘

عمارت کی حالت دیکھ کر اس دعوے پر یقین تو نہیں آتا تھا لیکن چمنی سے اٹھنے والے دھوئیں کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ کھانا بن تو ضرور رہا ہے ۔ مسافر کم کم ہی ٹہرتے تھے ۔ مگر مینا آنٹی کا کھانا سب کو پسند آتا تھا ۔ آنٹی بہترین کھانا بناتی تھی ۔ مگر لوگ کہتے تھے کھانے میں ایک عجیب سی بو ہوتی ہے نہ جانے کیوں ؟ خیر مینا آنٹی کو اس اِشو سے کوئی مطلب نہیں تھا ۔

عمارت کی حالت اندر سے بھی کم منحوس نہیں تھی ۔ ٹوٹا پھوٹا فرنیچر،اکھڑا ہوا فرش اور رنگ سے محروم گندی دیواریں ۔ ۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک بڑا لاءونج تھا ۔ جس میں چند کرسیاں اور دو ،تین ٹیبلیں رکھی ہوئی تھیں ۔ جن پر گندے برتن لڑھکے ہوئے تھے ۔ ایک برسوں پرانا بلیک اینڈ واءٹ ٹی وی اپنی قدیم چار ٹانگوں پر کھڑا تھا ۔ حیرت انگیز طور اس کی پکچر اور آواز کی کوالٹی شاندار تھی ۔ جو اس بات کا پکا ثبوت دے رہی تھی کہ پرانی چیزیں پائدار ہوتی ہیں ۔ ایک بڑی ساری کالی سیاہ بلی ٹی وی کے آگے دراز ،اتنی دلچسپی سے خبریں سن رہی تھی جیسے اسے ایک ایک لفظ سمجھ آ رہا ہو ۔

ایک اور کافی پرانے ماڈل کی چیز ،کچن میں کھانا پکانے میں مشغول تھی ۔ ایک بڑا سا برتن چولہے پر دھرا تھا جس میں بھرے پانی میں نہ جانے کیا ابل رہا تھا ۔ پانی سے نکلتا دھواں ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ جس میں گھری ،کھڑی وہ عورت فیئری ٹیلز کا کوئی ڈراءونا کردار معلوم ہو رہی تھی ۔

بکھرے الجھے بالوں کی وجہ سے اس کا دیوار پر بنا سایہ کسی چڑیل کا لگ رہا تھا ۔ لمبی طوطے جیسی ناک دور تک جا رہی تھی ۔

ٹی وی پر بار بار وہی نیوز بلیٹن دہرایا جا رہا تھا

’’ مفرور ڈاکو کا حلیہ یہ ہے ۔ ۔ عمر ستائیس اٹھائیس سال،رنگ سانولا ۔ شیو بڑھی ہوئی ہے ۔ سیاہ رنگ کی شرٹ اور جینز میں ملبوس ہے ۔ ڈاکو کے متعلق اطلاع دینے والے کو دس لاکھ انعام دیا جائے گا‘‘

 

عورت نے کھانے کو فائنل ٹچ دے کر چولہا بند کر دیا ۔

کچن کی کھڑکی باہر کھلتی تھی جس سے سڑک اور اس پر گذرنے والی گاڑیاں صاف نظر آتی تھیں ۔ عورت نے باہر جھانکا ۔ اس کے انداز میں مایوسی تھی ۔ ’’لگتا ہے آج بھی کوئی مسافر نہیں آئے گا ۔ اگر کل تک کوئی نہ آیا تو پھر؟گوشت کا کیا ہو گا؟‘‘

پچھلے کئی دنوں سے گوشت بلکل ختم ہو چکا تھا ۔ آنٹی کا پرانے ماڈل کا فرج بلکل خالی پڑا تھا ۔

ویسے ایسا تو اکژہی ہوتا تھا ۔ یا تو اتنے لوگ ایک ساتھ آ جاتے تھے کہ کھانا اور جگہ کم پڑ جاتی تھی اور کبھی کئی کئی دن کوئی جھانکتا بھی نہیں تھا ۔ آنٹی زیادہ لوگوں کے آنے سے کبھی پریشان نہیں ہوتی تھی ۔ اسے کھانا پکانے کا جنون تھا ۔ اور جب کوئی اکیلا ،تنہا مسافر سرائے میں رکنے آجا تا تو بس سمجھو آنٹی مینا کی لاٹری نکل آتی تھی ۔ ۔ کئی دنوں کے کھانے کا بندو بست ہو جاتا تھا ۔ ۔ ۔ آنٹی کے بھی ۔ ۔ اور مسافروں کے بھی ۔

سرائے کے اندرونی اور بیرونی ماحول کے برعکس یہاں کا کھانا سب کو بہت پسند آتا تھا ۔ آنٹی مینا بہترین کھانا بناتی تھی ۔ اور قیمت بھی بہت کم ،بلکل معمولی ۔ ۔ بس لوگوں کو صر ف ایک شکایت ہوتی تھی ۔ ۔ وہی کھانے میں ایک عجیب سی مہک ۔ ۔ مگر اس کا ذائقہ لاجواب ہوتا تھا ۔ کہیں کسی بھی ہوٹل میں مینا آنٹی کے ہاتھ جیسا کھانا ملنا بلکل نا ممکن تھا ۔ نہ جانے کیوں ؟

قدیم گھڑیال نے بارہ بجائے ۔ اس سناٹے میں تیز گھنٹی کی بارہ مرتبہ بجتی ہوئی منحوس آواز نے بڑا ڈراءو نا تاثر پیدا کر دیا ۔

آنٹی نے مایوس سانس لی ۔ ’’اب تو نا ممکن ہے کہ آج کوئی ٹہرنے آئے ۔ ‘‘اس نے خود سے کہا ۔

آنٹی چولہے پر چڑھے برتن کو دیکھ کر نہ جانے کیا سوچنے لگی ۔

اچانک ۔ ۔ اس کے دیوار پر بنے ڈراءونے سائے کے ساتھ ایک اور سایہ نمودار ہونے لگا ۔

اپنی دو رنگی آنکھوں سے گہری دلچسپی سے ٹی وی دیکھتی ہوئی بلی،زور سے غرّا کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی ۔

اپنی سوچوں میں ڈوبی آنٹی چونک گئی ۔ اس نے دروازے کی طرف دیکھا ۔

’’وہ ۔ ۔ مجھے رات کو رکنے کے لئے جگہ چاہئے ۔ ۔ ‘‘سامنے کھڑا اجنبی جانے کیوں گھبرایا ہوا لگ رہا تھا ۔

’’ہاں ہاں ۔ ۔ کیوں نہیں ۔ ‘‘مینا آنٹی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔

’’جگہ بھی ہے اور میرے ہاتھوں کا پکا لاجواب کھانا بھی ۔ ۔ آج تو سارے کمرے خالی ہیں ۔ تم کوئی بھی پسند کر سکتے ہو ۔ ‘‘

آنٹی نے اجنبی کی طرف غور سے دیکھا ۔ وہ ڈرے ہوئے انداز میں بلی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ جو اپنی اگلی ٹانگوں پر کھڑی اس طرح اسے گھور رہی تھی جیسے ابھی حملہ کر دے گی ۔

’’ارے ۔ ۔ ‘‘آنٹی اجنبی کو تسلی دینے والے انداز میں ہنسی ۔ ۔

’’یہ لیلی ہے،میری پالتو بلی ۔ یہ تمہیں کچھ نہیں کہے گی ۔ ابھی تھوڑی دیر میں تم سے مانوس ہو جائے گی ۔ ‘‘

مگر لیلی کا اجنبی سے مانوس ہونے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا ۔ اس کے انداز بہت جارحانہ لگ رہے تھے ۔ وہ اجنبی کو گھورے جا رہی تھی اور مسلسل غرّا رہی تھی ۔

’’بہت عجیب ہے تمہاری بلی ۔ ۔ ‘‘ اجنبی نے نا پسندیدگی سے بلی کو گھورا ۔

’’اس کی آنکھیں ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ہا ں ایک سبز ہے اور ایک براءون ۔ ۔ کتنی منفرد بات ہے نہ؟‘‘ آنٹی نے داد چاہی ۔

’’ہوں ۔ ۔ ‘‘اجنبی نے سرائے کا جائزہ لیتے ہوئے سر ہلایا ۔

’’تم ایسا کرو مسٹر ۔ ۔ ؟‘‘

’’گمان ۔ ۔ میرا نام گمان ہے ۔ ‘‘

’’کافی منفرد نام ہے ۔ ‘‘آنٹی نے لفظ گمان دہرایا ۔

’’تمہاری بلی کی آنکھوں کی طرح ۔ ‘‘اجنبی ہنسنے لگا ۔

آنٹی کو شاید اس کا مذاق پسند نہیں آیا ۔

’’تمہارے ساتھ کوئی سامان نہیں ہے ۔ ۔ کوئی بیگ وغیرہ؟‘‘اس نے روکھے انداز میں اجنبی سے پوچھا ۔

’’ نہیں ۔ ۔ میرے ساتھ کچھ بھی نہیں ہے ۔ ‘‘ نہ جانے کیوں اجنبی کا انداز بہت عجیب سا تھا ۔

’’او کے ۔ مسٹر گمان ! تم اُن تین کمروں میں سے کوئی بھی پسند کر لو ۔ جب تک میں تمہارے لئے کھانا نکالتی ہوں ۔ ‘‘آنٹی نے سامنے کی طرف اشارہ کیا ۔

گمان اس کے بتائے راستے پر چلا گیا ۔ اس کے اوجھل ہوتے ہی آنٹی کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ ۔

’’اف ۔ ۔ آج کتنے دن کے انتظار کے بعد کوئی تنہا مسافر آیا ہے ۔ شکر ہے ۔ ۔ کئی دن کے گوشت کا بندو بست ہو جائے گا ۔ ‘‘

آنٹی نے لیلی کی طرف دیکھا ۔ لیلی اس طرح غرائی جیسے پوری بات سمجھ گئی ہو ۔


کھانے کی میز پر آنٹی مینا نے اپنی طرف سے بڑا اہتمام کرنے کی کوشش کی تھی ۔ میز کے سینٹر میں رکھے ہوئے شمع دان میں موم بتیاں جل رہی تھیں ۔ بڑی سی ڈش میں کھانا سرو کیا گیا تھا ۔ گمان کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔ اس کے چہرے پر بڑے عجیب سے تاثرات تھے ۔

آنٹی مینا نے اس کی بڑھی ہوئی شیو کو غور سے دیکھا ۔ ’’مجھے اندازہ تھا کہ تم سب سے آخر والا کمرہ ہی پسند کرو گے ۔ ۔ تمہارے جیسے لوگ چھپتے ہی پھرتے ہیں ۔ ‘‘

’’ہوں ۔ ۔ ‘‘گمان نے اس کی طنزیہ بات پر کوئی سوال نہیں کیا ۔

’’کب تک چھپ سکو گے؟‘‘آنٹی کی مسکراہٹ بڑی مکار لگ رہی تھی ۔

’’کم از کم اس کالی شرٹ کو ہی بدل لو‘‘ ۔

’’ یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے ۔ ‘‘ گمان نے بے نیازی سے کہا ۔

’’ میرا مسئلہ بن بھی سکتا ہے ،آخر تم میری سرائے میں ٹہرے ہوئے ہو ۔ لیکن میں تو صرف تمہا رے آرام کا خیال رکھنا چاہتی ہوں ۔ تم جینز پہن کر کس طرح سو گے ۔ ‘‘آنٹی بضد تھی ۔

’’یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے ۔ جو زندگی کو کھیل سمجھ لیتے ہیں ،زندگی ان کو بہت دوڑاتی ہے ۔ بہت تھکاتی ہے ۔ پتھر بنا دیتی ہے مگر ۔ ۔ جیتنے نہیں دیتی ۔ میں بھی انسان سے پتھر بن چکا ہوں ۔ ۔ اور اب تو ۔ ۔ ‘‘گمان خلاءوں میں نہ جانے کیا ڈھونڈ رہا تھا ۔

’’ اب کیا؟‘‘ آنٹی نے سوال کیا ۔

’’ا ب تو کچھ نہیں ۔ ۔ شاید کچھ بھی نہیں ۔ ۔ ‘‘گمان نے ٹھنڈی سانس بھری ۔

’’کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے مسٹر گمان !شروع کرو ۔ ۔ آنٹی مینا کے ہاتھوں کا بنا بہترین کھانا تمہارا انتظار کر رہا ہے ۔ ‘‘آنٹی نے گمان کی طرف سلاد بڑھاتے ہوئے کہا ۔

’’ نہیں ۔ ۔ ‘‘گمان نے پلیٹ آگے دھکیل دی ۔ ’’ میں یہ کھانا نہیں کھا سکتا ۔ ‘‘

’’مگر کیوں ؟‘‘ ایک مرتبہ میرے ہاتھ کا کھانا کھا کر تودیکھو ۔ ۔ پوری دنیا میں ایسا ذائقہ نہیں ملے گا ۔ ‘‘ آنٹی نے اصرار کیا ۔

’’یقینا ایسا ہی ہو گا ۔ ۔ ‘‘ گمان نے اسے گھورا ۔

’’مگر میں ایک نوالہ بھی نہیں لے سکتا ۔ ‘‘

’’مگر کوئی وجہ؟‘‘

’’کیونکہ ۔ ۔ میں ۔ ۔ میں آدم خور نہیں ہوں ۔ ۔ ‘‘

آنٹی کے ہاتھ سے چمچہ گر گیا ۔

’’کیا بکواس ۔ ۔ ۔ ‘‘وہ ہکلائی ۔ ۔ مگر گمان کے سنگین چہرے پر نظر ڈال کر اس نے ڈرامہ کرنے کا ارادہ کینسل کر دیا ۔

’’تم کو کس طرح پتہ چل گیا؟‘‘

’’ہونہہ ۔ ۔ ۔ ‘‘ گمان نے طنز سے کہا ۔

’’ میں تم کو ایک نظر دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا ۔ ۔ کہ تم ایک چڑیل ہو ۔ ۔ آدم خور چڑیل ۔ ۔ ‘‘

’’کیا کہا چڑیل ۔ ۔ ‘‘آنٹی مینا غصے سے پاگل ہو گئی ۔

’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی؟‘‘

’’جس طرح تمہاری ہمت ہو جاتی ہے کسی بد قسمت تنہا مسافر کو قتل کرنے کی ۔ ۔ اس کے گوشت کا کھانا بنا تم بے چارے لوگوں کو کھلا تی ہو ۔ اور ہڈیاں اور سرآدھی رات کو جنگل میں دبا دیتی ہو ۔ ۔ اف اتنا بڑا جرم ۔ ۔ تم چڑیل نہیں ہو تو اور کیا ہو؟‘‘

’’تم کو یہ سب کچھ کیسے پتا چل گیا اور ۔ ۔ اتنی جلدی؟‘‘آنٹی گمان کی مفصّل معلومات پر اتنی حیران ہو گئی کہ اپنا دفاع کرنا بھی بھول گئی ۔

’’مجھے سب معلوم ہے ۔ ۔ کہو تو تمہارے قتل کئے ہوئے لوگوں کی تعداد بھی بتا دوں ۔ ‘‘گمان نے آرام سے کرسی سے ٹیک لگا لی ۔

آنٹی تھکے ہوئے انداز میں کرسی پر بیٹھ گئی ۔ تھوڑی دیر تک تو وہ بات کرنے کے قابل بھی نہیں رہی تھی ۔

دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھورتے رہے ۔

گمان کی آنکھوں میں نہ جانے کیا تھا کہ چند لمحوں بعد ہی آنٹی نے شکست تسلیم کر کے آنکھیں جھکا لیں ۔

’’مگر ۔ ۔ مگر مسٹر گمان! تم اپنے بارے میں کیا کہو گے؟‘‘آنٹی نے اپنا پتا کھیلا ۔

’’تمہارا کیا خیال ہے ۔ ۔ میں تم کو پہچان نہیں سکی؟تم بھی تو میری ہی راہ کے مسافر ہو ۔ تم وہی ڈاکو ہو نہ پولیس جس کے پیچھے ہے ۔ جس کے بارے میں بار بار ٹی وی پر اعلان کیا جا رہا ہے ۔ ۔ بولو ۔ ۔ جوا ب دو ۔ ۔ ‘‘

گمان بلکل خاموش بیٹھا تھا ۔

’’ہاں ۔ ۔ تم نے ٹھیک پہچانا ۔ ۔ میں وہی ڈاکو ہوں ۔ ۔ جس کی خبر ٹی وی پر چل رہی تھی ۔ ۔ ‘‘چند لمحوں بعد اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا ۔

’’ میں کچھ روز تمہاری سرائے میں ٹہروں گا ۔ ۔ اور تم کوئی چال نہیں چلو گی ۔ اور اگر تم نے پولیس کو انفارم کیا تو نقصان صرف تمہارا ہو گا ۔ ‘‘گمان اس کو وارن کر کے اپنے کمرے میں بند ہو گیا ۔

آنٹی بند دروازے کو گھورتی رہ گئی ۔


’’ کم بخت ۔ ۔ منحوس ۔ ۔ ڈاکو کہیں کا ۔ ‘‘غصے سے آنٹی مینا کا برا حال تھا ۔ ایک تو شکار ہاتھ سے نکل جانے کا دکھ تھا ،دوسرے راز کھل جانے کا سخت خوف ستا رہا تھا ۔

’’اگر اس نے کسی کو بتا دیا توکیا ہو گا ۔ ۔ مجھے تو سیدھے سیدھے پھانسی ہو جائے گی ۔ مجھے تو ان لوگوں کی تعداد بھی یاد نہیں ہے جن کو میں نے سچ مچ میں بھون ڈالا تھا ۔ ‘‘

وہ کمرے کے چکر کاٹتی سچ مچ میں بھوتنی لگ رہی تھی ۔

’’مگر اس مردود کو پتا کیسے چل گیا؟ میں تو سارے ثبوت مٹا دیتی ہوں ۔ ۔ ‘‘اس کو حیرت ہو رہی تھی ۔

’’شاید کوئی ایک آدھی ہڈی ٹیرس پر پڑی رہ گئی ہو گی ۔ ‘‘آنٹی نے کڑی ملائی ۔

’’ظاہر ہے اتنا بڑا ڈاکو ہے ۔ زمانے بھر کا چالاک ،گھاگ سمجھ گیا ہو گا کسی بات سے ۔ ۔ مگر اب کیا کروں ؟ ایک بات تو طے ہے اب اس کا زندہ رہنا سخت خطرناک ہے ۔ ۔ مجھے کچھ کرنا ہو گا ۔ کچھ بھی ۔ ۔ ۔ جلد ازجلد ۔ ‘‘

ٓآنٹی مینا کی چالاک ،ڈراءونی آنکھیں گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں ۔


’’آج پورا دن گذر جانے کے با وجود مفرور ڈاکو کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے ۔ پولیس ڈاکو کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے ۔ دوبارہ اعلان کیا جا رہا ہے ڈاکو بہت خطرناک ہے ۔ اپنے گھروں کی حفاظت کریں ۔ ڈاکو کے بارے میں اطلاع دینے والے کو دس لاکھ روپے انعام دیا جائے گا‘‘ ۔

ٹی وی پر پھر نیوز دہرائی جا رہی تھی ۔ لیلی ٹی وی کے آگے دراز تھی ۔ گمان کمرے سے نکلا ۔ ۔ لیلی نے اسے پلٹ کر دیکھا ۔ ۔ اور بری طرح غرانے لگی ۔

’’دیکھا ۔ ۔ میری لیلی کتنی چالاک ہے ۔ ۔ ‘‘آنٹی مسکرانے لگی ۔ ’’اس نے بھی تمہیں پہچان لیا ہے ۔ ‘‘

’’کیوں نہ ہو گی چالاک ۔ ۔ آخر بلی کس کی ہے ۔ ‘‘گمان نے رکھائی سے کہا ۔

’’ناشتے میں کیا لو گے؟‘‘ آنٹی نے موضوع بدلا ۔

’’کچھ نہیں ۔ ‘‘گمان کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔

’’ تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا ۔ ۔ ‘‘

’’یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے ۔ ‘‘

’’تم میری سرائے میں موجود ہو مسٹر گمان!میری روزی ہے یہ ۔ ‘‘

’’ہونہہ ۔ ۔ روزی ۔ ۔ تم اسے روزی کمانا کہتی ہو؟‘‘

’’اور تم ۔ ۔ تم خود کیا ہو؟‘‘ مینا آنٹی غصے سے پاگل ہو گئی ۔

’’تم کیسے پیسہ کماتے ہو؟ تمہارا کام کتنا پاک صاف ہے؟‘‘

’’ میں جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتا ہوں ۔ ۔ پیسہ کتنا بھی پیارا ہو جان سے پیارا تو نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ایک لمحے کی چوک کا مطلب ہوتا ہے کہ گولی سچ مچ میں دل میں سوراخ کر دے گی ۔ ‘‘گمان جانے کہاں کھو گیا تھا ۔

’’تو اس سے تمہارا کام جائز ہو جاتا ہے؟ہونہہ ۔ ۔ کسی پر انگلی اٹھانا بہت آسان ہے مسٹر گمان ۔ ۔ اس طرح تو میں بھی برسوں سے کڑی محنت کرتی آئی ہوں ۔ ۔ سخت گرمی میں ۔ ۔ چولہے کی جہنم جیسی آگ کے آگے کھڑے رہ رہ کر میں نے اپنا حسین چہرہ جھلسا لیاہے ۔ ‘‘

’’حسین چہرہ ۔ ؟‘‘ گما ن نے چونک کر آنٹی کو دیکھا ۔

’’تم اپنی بات کر رہی ہو؟‘‘

آنٹی مینا اس کا طنز سمجھ کر غصے سے آگ بگولہ ہو گئی ۔ ’’تو کیا لیلی کی بات کر رہی ہوں ؟‘‘

’’خیر میرے لئے حسن کا معیار کچھ اور ہے ۔ ‘‘گمان نے بے نیازی سے بات پلٹ دی اور دوبارہ کمرے میں بند ہو گیا ۔

آنٹی نے چمچہ زمین پر دے مارا ۔ اب بات آنٹی کی ذاتیات پر آ چکی تھی ۔ گمان نے اس کا کھلا مذاق اڑایا تھا ۔ ۔ اب اس کو مزہ چکھانا لازمی ہو گیا تھا ۔ ۔ مگر ۔ ۔ کیسے؟


سورج کی نارنجی کرنیں مدہم ہونے لگی تھیں ۔ دھوپ ڈھل چکی تھی ۔ کھڑکی سے باہر بڑا خوبصورت منظر دکھائی دے رہا تھا ۔ ڈھلان کے آس پاس سبزہ ہی سبزہ تھا ۔ اور نیچے کھائی میں ہلکا نیلا دریا بل کھاتا محسوس ہوتا تھا ۔ سفید اور نیلے بادل اتنے قریب نظر آ رہے تھے جیسے ذرا سا ہاتھ بڑھا کر ان کو چھوا جا سکتا ہو ۔

گمان کھڑکی سے ٹیک لگا کر کھڑا تو ضرور ہوا تھا مگر اس کو باہر والے منظر میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ وہ تو نہ جانے کہاں کھویا ہواتھا ۔ ۔ نہ جانے کیا کیا یاد کئے جا رہا تھا ۔ ۔ محتلف منظر تیزی سے اس کی آنکھو ں میں گذر رہے تھے ۔ اس کا بچپن ۔ ۔ یونی فارم پہنے وہ خوشی خوشی اسکول جا رہا ہے ۔ ۔ پھر ایک اور منظر ۔ ۔ اپنے دوست کا کلر باکس خاموشی سے اپنے بیگ میں چھپا کر رکھ رہا ہے ۔ ۔ پھر سولہ ،سترہ سال کی عمر میں کسی کے دروازے پر کھڑی ساءکل چراکر گھر لے آنا ۔ ۔ اور ایسے کئی واقعات ۔ ۔ ابو کے ڈانٹنے اور سزا دینے پر شرمندہ ہونے یا معافی مانگنے کے بجائے ایک رات خاموشی سے گھر سے بھاگ جانا ۔ ۔ وہ تو برسوں کامفرور تھا ۔ ۔

۔ ۔ اور پھر زندگی نے کتنے رنگ دکھائے ۔ ۔ کتنا دوڑایا ۔ ۔ اس کے جیسے کئی اور غلط سوچ اور غلط راہوں کے مسافر ہمسفر بن گئے ۔

زندگی کے کیلینڈرپر نہ جانے کتنی تاریخوں کے آگے ان گنت وارداتیں تحریر ہوتی چلی گئیں ۔ ۔

وہ لرز کر جیسے واپس آ گیا ۔ ۔ کیا پایا؟ جرم ۔ ۔ فرار ۔ ۔ خلش ۔ ۔ دھواں ۔ ۔ ۔


زمین پر رکھا بڑا سارا چولہا دہک رہا تھا ۔ ایک بہت بڑا ،کوئی باتھ ٹب کے سائز کا برتن چولہے پر رکھا ہوا تھا ۔ جس میں لبا لب پانی بھرا ہوا تھا ۔ پانی بری طرح ابل رہا تھا ۔ آنٹی مینا نے ہاتھ میں پکڑی بوتل پانی میں الٹ دی ۔ ۔ پانی میں زور دار چھناکہ ہوا ۔ آنٹی نے اطمینان بھری سانس لی ۔ ۔

آج آنٹی مینا بڑی کِٹ میں نظر آ رہی تھی ۔ ایک لمبا سنہری گاءون پہنے،جس پر بڑے بڑے کالے چیونٹے بنے ہوئے تھے ۔ اپنے قدرتی الجھے ہوئے بالوں کا بڑا سا جوڑا بنا رکھا تھا جوایسے لگ رہا تھا جیسے سر پر کوئی برتن الٹا رکھ لیا ہو ۔ گہری لال لپ اسٹک اور کاجل لگا کر آج اس کا گمان پر اپنے حسن کی دھاک بٹھانے کا پکا ارادہ تھا ۔ لیلی بھی بڑی چوکنی نظر آ رہی تھی ۔ ۔ ۔

’’ویسے تو میں پوری کوشش کروں گی کہ وہ یہ کافی پی لے ۔ ویسے کم بخت ہے بڑا چالاک ۔ ۔ اگر اس نے کافی پینے سے انکار کر دیا تو پھر ہم اپنے دوسرے منصوبے پر عمل کریں گے ۔ ‘‘آنٹی نے لیلی کو پروگرام سمجھایا ۔

لیلی نے ہلکے سے غرا کر شاید اثبات میں جواب دیا تھا ۔

کافی دیر کے انتظار کے بعد گمان کمرے سے برامد ہوا ۔ ۔ آج وہ پہلے سے زیادہ تھکا ہوا اور نڈھال لگ رہا تھا ۔ وہ کرسی پر جیسے گِرسا گیا ۔

’’اوہ گڈ مارننگ مسٹر گمان!‘‘آنٹی نے خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ۔ ’’کوئی چائے ،کافی ۔ ۔ ‘‘مسکرانے سے اس کے دانتوں پر بھی لگی ہوئی لال لپ اسٹک جھلک مارنے لگی ۔

گمان نے اس پر ایک نظر ڈالی ۔ ’’کیا قتل کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘

ٓآنٹی مینا بری طرح چونک گئی ۔ ۔ ’’ کیا مطلب ؟ تم ایک ہی بات کیوں کرتے ہو؟‘‘

’’ میں تو آپ کے جلووں کی تعریف کر رہا تھا ۔ آپ کیا سمجھ بیٹھیں ؟‘‘

’’اوہ ،شریر ۔ ۔ ‘‘آنٹی شرماتے ہوئے بہت ڈراءونی لگ رہی تھی ۔

’’ میں تو کھانے کا پوچھ رہی تھی ۔ تم بلکل بھوکے کس طرح رہ سکتے ہو‘‘

’’مجھے بھوک ہے ہی نہیں ۔ ۔ ‘‘ گمان نے صفائی سے انکار کر دیا ۔

’’تو پھر ایک کپ کافی ہی پی لو ۔ ۔ میری خاطر ۔ ۔ اس میں تو کوئی گوشت نہیں ہے ۔ ۔ ‘‘آنٹی نے اس کے آگے کپ رکھ دیا ۔

گمان نے کھوئے کھوئے انداز میں کپ اٹھا لیا ۔

’’ پی لے کم بخت ۔ ۔ اپنی زندگی کا آخری کپ پی لے ۔ ۔ ‘‘ آنٹی دل ہی دل میں بار بار دہرا رہی تھی ۔ جیسے کوئی خطرناک منتر پڑھ رہی ہو ۔

’’محسوس تو کر اس لطف کو ۔ ۔ جو آخری گھونٹ میں ہوتا ہے ۔ ۔ ذرا چکھ تو سہی یہ ذائقہ ۔ ۔ آخری مزہ‘‘

گمان نے کپ سے نظرہٹا کر آنٹی کو دیکھا اور مسکرانے لگا ۔ ۔ ایک پھیکی مسکراہٹ ۔

’’ تم نے کیا سوچ کر اپنی سرائے کا نام ’’پرسکون سرائے ‘‘ رکھا تھا؟ کیا اس لئے کہ تم مسافروں کو ابدی سکون کی نیند سلا دیتی ہو ۔ ‘‘

’’ میں سمجھی نہیں ۔ ۔ ‘‘آنٹی گڑبڑا سی گئی ۔

’’کچھ ملایا تو نہیں ہے اس میں ؟‘‘ گمان بات پلٹ کر کپ کو گھورنے لگا ۔

’’کیسی باتیں کر رہے ہو ۔ ۔ بھلا تم کو مار کر مجھے کیا حاصل ہو گا؟‘‘

’’ میں نے مارنے کا تو نام بھی نہیں لیا ۔ ۔ ‘‘ گمان مسلسل آنٹی کو گھور رہا تھا ۔

’’تم مجھ پر شک تو کر رہے ہو نہ ۔ ۔ ‘‘ آنٹی مینا نروس ہو رہی تھی ۔

’’ تو تم میر اشک دور کر دو ۔ ۔ ‘‘گمان نے دھیرے سے کہا ۔

’’کیسے؟‘‘

’’ ایک گھونٹ پی لو ۔ ۔ اس کپ میں سے ۔ ۔ ‘‘ گمان نے کپ آنٹی کے آگے رکھ دیا ۔

’’ تم میری بے عزتی کر رہے ہو ۔ ۔ ‘‘ آنٹی نے برا ماننے کی ایکٹنگ کی ۔

’’ میں معافی مانگ لوں گا ۔ ۔ تمہارے آگے ہاتھ جوڑ دوں گا ۔ ۔ مگر صرف ایک گھونٹ ۔ ۔ ‘‘

گمان نے کپ آنٹی کے لپ سٹک کے بھرے ہوئے منہ سے لگا دیا ۔

آنٹی نے جھٹکے سے کپ گرا دیا ۔ ۔ اس کے ٹکڑے بکھر گئے ۔

’’ہوں ۔ ۔ تو میرا شک غلط نہیں تھا ۔ ۔ ‘‘وہ بڑ بڑایا ۔

اچانک ۔ ۔ گھر کی ساری لائیٹیں جل گئیں ۔ کئی گھنٹوں سے گئی ہوئی بجلی واپس آ گئی تھی ۔ ٹی وی بھی دوبارہ آن ہو گیا ۔ نہ جانے کون سی قدیم فلم آ رہی تھی ۔ ایک بہت پراسرار دھن تیز آواز میں چلنے لگی ۔ ۔ ۔ ۔

گمان آہستہ آہستہ آنٹی کی طرف بڑھنے لگا ۔ ۔ آنٹی الٹے قدموں چلنے لگی ۔ ۔ لیلی انتہائی ایکٹو نظر آنے لگی ۔ اس کی دو رنگی آنکھیں چمک رہی تھیں ۔

آنٹی بہت مکاری سے سانپ جیسی چال چلتے ہوئے کھولتے ہوئے پانی کے برتن تک آ گئی تھی ۔ گرم پانی تیزاب کی ملاوٹ کے بعد اتنا خطرناک ہو گیا تھا کہ اس میں گرنے والا دوسرا سانس بھی نہ لے پاتا ۔ ۔ ۔

بس ذرا سا حوصلہ ،تھوڑی سی ہمت اور بس ۔ ۔ ۔ کھیل ختم ہو جاتا ۔ ۔ مگرآج کون جیتنے والا تھا؟

آنٹی مینا اس طرح کھڑی تھی کہ اس کے بلکل پیچھے کھولتا ہوا پانی تھا ۔ دھیرے دھیرے آگے بڑھتے ہوئے گمان کے پیچھے لیلی پنجے اٹھائے اشارے کی منتظر تھی ۔ آنٹی نے گمان کے بلکل نزدیک آنے کے بعد اچانک ہٹ جانا تھا ۔ ۔ لیلی نے گمان پر حملہ آور ہونا تھا ۔ اور دونوں نے مل کر گمان کو کھولتے پانی میں گرا دینا تھا اور بس ۔ ۔

ٹی وی پر بجتی بھیانک،پراسرار دھن اور تیز ہو گئی تھی ۔ ۔ اس کی آواز کان پھاڑنے لگی تھی ۔ ۔ اور پھر ۔ ۔ اچانک ۔ ۔

دھن اچانک بند ہو گئی ۔ ۔ ٹی وی پر خبروں کا ٹائم ہو گیا تھا ۔ ۔ بریکنگ نیوز چلنے لگی ۔ ۔

’’دو روز قبل پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈاکو ہلاک ہو گیا تھا جبکہ دوسرا فرا ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ پولیس مفرور ڈاکو کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔ ڈاکو دو دن سے جنگل میں روپوش تھا ۔ آج پولیس نے گھیراءو کر کے اس کو قبضے میں لے لیا ہے ۔ ڈاکو کے پاس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے ۔ ‘‘

آنٹی سکتے کی حالت میں خبر سن رہی تھی ۔ ۔ اس نے گمان پر نظر ڈالی ۔ وہ بھی ٹی وی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ ۔ اس کے چہرے پر بہت عجیب تاثرات تھے ۔

’’تم ۔ ۔ تم نے تو کہا تھا کہ تم وہی ڈاکو ہو ۔ ۔ ؟‘‘ آنٹی نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔

’’ میں نے سچ کہا تھا ۔ ۔ میں ڈاکو ہی ہوں ۔ ۔ ‘‘گمان کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ تھی ۔

’’ میں ڈاکو ہوں مگر وہ نہیں جو فرار ہوا تھا ۔ ۔ بلکہ وہ جو ۔ ۔ مقابلے میں مارا گیا تھا ۔ ۔ ‘‘ گمان کا چہرہ بلب کی روشنی میں زرد لگ رہا تھا ۔ ۔ اس کی آنکھیں بے حد ویران تھیں ۔

آنٹی گم صم کھڑی رہ گئی ۔ ۔ لیلی جو کافی دیر سے آنٹی کے اشارے کے انتظار میں تھی اس نے گمان پر چھلانگ لگا دی ۔ ۔ مگر یہ کیا ۔ ۔

بلی آرام سے گمان کے آر پار چلی گئی ۔ جس طرح کوئی خلا سے گذر جائے ۔ گمان اطمینان سے اپنی جگہ پر کھڑا رہا ۔ ۔ لیلی آنٹی مینا کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے کھولتے پانی میں جا گری ۔ ۔ ایک زور دار چھناکہ ہوا ۔ ۔ آنٹی مینا کی آخری چیخ بہت بھیانک تھی ۔

کھولتے پانی سے بری طرح دھواں نکلنے لگا ۔ ۔ آہستہ آہستہ مجسمے کی طرح کھڑے ہوئے گمان کا وجود بھی دھواں بننے لگا ۔ ۔ اور ہوا میں تحلیل ہونے لگا ۔ ۔ پوری سرائے جیسے دھویءں میں ڈوب گئی ۔ ۔

ٹی وی پر نیوز بلیٹن چل رہا تھا

’’گرفتار ہونے والے ڈاکونے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے ۔ اس نے بتایا ہے کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوجانے والا ڈاکو اس کا پرانا ساتھی تھا اور ان دونوں نے مل کر کئی سنگین وارداتیں کی تھیں ۔ ۔ ‘‘

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
Newest
Oldest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
zubia
zubia
8 months ago

Superb story with extremely unique idea and perfect end of evil deed.