دستک

دستک کی آواز کتنی گہرائی رکھتی ہے اپنے اندر ۔ ۔ ۔ کتنے راز چھپے ہوتے ہیں اس آواز میں ۔ ۔ نہ جانے کون ہو گا دروازے پر ؟کوئی من چاہا dastak-urdu-horror-story-hindi-scaryمہمان،کوئی رستہ بھولا مسافر،کوئی پڑوسی ۔ ۔ ۔ کتنی خوشیاں چھپی ہوتی ہیں دستک کی آواز میں ۔ ۔ ۔ اسکول سے واپس آیا بچہ،تھکا ہارا شوہر ۔ ۔ کبھی کبھی یہ آواز سخت بیزار کن بھی ثابت ہوتی ہے ۔ ۔ بار بار چھت پر آئی پتنگ یا گیند مانگتے بچے،یاکوئی بے وقت ستانے والا ڈھیٹ فقیر ۔ ۔ ۔

مگر ۔ ۔ یہ ایک بلکل محتلف دستک کی کہانی ہے ۔ یہ صرف دستک نہیں ہوتی بلکہ ۔ ۔ موت کے فرشتے کی آہٹ ہوتی ہے ۔ ۔ کیسی ہو سکتی ہے موت کے فرشتے کی آہٹ؟اف ۔ ۔ ڈراءونی ۔ ۔ بھیانک ۔ ۔ انتہائی جان لیوا ۔ ۔ اور سب سے بڑا ستم یہ کہ موت کی آہٹ تو سنائی دے جائے مگر یہ نا معلوم ہو کہ یہ آواز کس کے لئے ہے؟ ۔ ۔ کون کھنچا چلا جائے گا اس خونی پکار پر؟ ۔ ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ۔ ۔


اس سرسبز ،حسین گاءوں کے لوگ ہمیشہ سے ہی اپنے روٹین کے بڑے پابند ہیں ۔ رات کو اندھیرا ہوتے ہی گہری نیند سو جاتے ہیں ۔ اور صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ بیدار ہو جاتے ہیں ۔

سارا دن کھیتوں اور باغات میں سخت محنت کرنے کی وجہ سے نیند بھی بڑی گہری اور میٹھی آتی ہے ۔ چاہے پھر بادل گرجیں ،گلیوں میں کتے بھونکیں ،دور گذرنے والی ریل گاڑی کی کان پھاڑ دینے والی سیٹی کی آواز سنائی دے ۔ ۔ کسی کی آنکھ نہیں کھلتی ۔

ہاں مگر ۔ ۔ سال میں ایک رات ۔ ۔ ایک اندھیری ،سرد،بھیانک رات ضرور آتی ہے جب ۔ ۔ ایک ایک کر کے ۔ ۔ گاءوں کے لوگوں کی آنکھ کھل جاتی ہے ۔ ۔ اور وہ خوف سے کانپنے لگتے ہیں ۔ ۔ رگوں میں اتر جانے والا خوف ۔ ۔

پچھلے پچیس سالوں سے ہر سال یہ رات ایک مرتبہ ضرور آتی ہے ۔ جب سخت سردی پڑتی ہے ۔ ۔ کہرا پھیلتا ہے ۔ ۔ رات میں بارش ہوتی ہے ۔ ۔ جب دو دو کمبل اوڑھ کر بھی ہاتھ پیر برف بنے ہوتے ہیں ۔ ۔ تب ۔ ۔ اچانک ۔ ۔ آدھی رات کے بعد گاءوں کی گلیوں میں ۔ ۔ کچی پکی سڑکوں پر ۔ ۔ ایک آواز ابھرتی ہے ۔ ۔ ٹھک ٹھک ٹھک ۔ ۔ ۔ ۔ لکڑی کی آواز ۔ ۔ جیسے کوئی لکڑی کے سہارے چل رہا ہو ۔ ۔ دیر تک لکڑی کی آواز مختلف گلیوں میں گونجتی ہے ۔ ۔ آہستہ آہستہ ۔ ۔ ۔ رفتہ رفتہ لکڑی کی آواز اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ کان پھاڑنے لگتی ہے ۔ ۔ اس کی ہولناک دھمک سے ۔ ۔ گہری نیند سوئے گاءوں کے لوگ جاگنے لگتے ہیں ۔ ۔ اورتھر تھر کانپنے لگتے ہیں ۔ ۔ سردی سے نہیں ،خوف سے ۔ ۔ اور پھر ۔ ۔ ۔ کسی ایک گھر کے دروازے پر دستک ہوتی ہے ۔ ۔ بار بار ۔ ۔ ٹھک ٹھک ۔ ۔ شاید اسی لکڑی سے ۔ ۔

پھر ایک آواز گونجتی ہے ۔ ۔ ایک بوڑھی،مکروہ ،کانپتی ہوئی آواز ۔ ۔ ’’بھوک لگ رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کھانا دو‘‘ ۔ ۔

کیسی ہوتی ہو گی موت کے فرشتے کی آواز؟شاید کوئی نہیں بتا سکتا ۔ لیکن وہ خونی آواز جس کسی نے بھی سنی ،اس کو یقین ہو گیا کہ موت کے فرشتے کی آواز بلکل ایسی ہی ہوتی ہو گی ۔ ۔

اور واقعی جس جس گھر کے دروازے پر وہ دستک ہوتی تھوڑی دیر میں اس گھر کی کسی فرد کی موت واقع ہو جاتی ۔ ۔ اچانک ۔ ۔ یا تو چھت سے گر کر ۔ ۔ یا سانپ کے کاٹنے سے ۔ ۔ یا پھر ویسے ہی ۔ ۔ نہ جانے کیوں ۔ ۔

پچیس سالوں میں پچیس لوگ اس خونی دستک کا شکار بن چکے تھے ۔ اور نہ جانے یہ سلسلہ کب تک چلنا تھا؟جو ان پچیس میں پیدا ہوئے تھے یا پچیس سال پہلے نا سمجھ تھے وہ تو اس

curse

کی وجہ سے لا علم تھے ۔ ۔ مگر ۔ ۔ مگر جو لوگ اس وقت سمجھ دار تھے ان کو خوب اندازہ تھا کہ یہ ایک سزا ہے طویل سزا ۔ ۔ ۔ شاید کبھی نہ ختم ہونے والی ۔ ۔ ۔


چڑیل،جن، بھوت،بدروح کتنی بھیانک مخلوق ہوتی ہے ۔ ۔ کتنا جان نکال لینے والا خوف محسوس ہوتا ہے ان ناموں سے ۔ ۔ مگر ایک چیز سب سے زیادہ خوف ناک ہوتی ہے ۔ ۔ پتہ ہے کیا؟ ’’بھوک‘‘ ۔ ۔

کہتے ہیں سب سے بری موت وہ ہوتی ہے جو بھوک کی وجہ سے ہو ۔ اس میں جان فوراً نہیں نکلتی بلکہ آہستہ آہستہ نکلتی ہے ۔ ۔ اذیت دے دے کر ۔ ۔ جسم کے ایک ایک عضو سے ۔ ۔ اتنا تڑپا کر کہ لگتا ہے موت ایک بار نہیں بار بار آرہی ہو ۔ ۔ اف ۔ ۔ خدا کبھی کسی کو ایسی موت نہ نصیب کرے ۔

اُس گاءوں کے لوگ بڑے پیارے تھے ۔ ۔ محنتی،جفا کش ۔ ۔ مرد کھیتوں اور باغوں میں کام کرتے تھے ۔ تو عورتیں گھرو ں میں اپنی مرغیاں ،بکریاں ،بھینسیں پالتیں ۔ ان کا دودھ بیچتیں ۔ اور کچھ اپنے گھر میں اپنے اور بچوں کے لئے رکھ لیتیں ۔

پھلوں کی بہتات تھی ۔ صاف وشفاف جھرنے کاپانی،کھلی فضا اور خالص خوراک سب گاءوں والوں کے چہروں سے جھلکتی تھی ۔

مگر گورے ،خوبصورت لوگوں میں ایک بات مشترک تھی ۔ ۔ ۔ ہمیشہ سے ہی ۔ ۔ سب کے دل بہت تنگ تھے ۔ جی ہاں سب کے ۔ ۔ نہ جانے کیوں ؟

اگر کوئی روٹی کا ٹکڑا،کوئی دودھ کا کپ،کوئی بچا کھچا پھل اگر موجود ہے تو کل کام آجائے گا ۔ ۔ ہماری محنت کی روٹی پر صرف ہمارا حق ہے ۔ ۔ کوئی بھوکا ہے تو ہوا کرے ۔ ۔ ہماری بلا سے ۔ ۔ ۔ مشترکہ سوچ ۔ ۔ ۔


گل جانہ بی بی بے چاری کے صرف نام میں ہی گل تھا ۔ باقی تو پوری زندگی کانٹوں سے بھری پڑی تھی ۔ جب پیدا ہوئی تو ماں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا ۔ تین چاندجیسے خوبصورت بچوں کے بعد یہ اتنی کالی رات جیسی چوتھی بیٹی ۔ ۔ ۔ خیر ۔ ۔ خود پر کنٹرول کرتے ہوئے کسی امید کے تحت اس نے بچی کا نام ’’گل جانہ‘‘رکھ دیا ۔ کہتے ہیں نہ کہ نام کا انسان کی زندگی پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔ شاید گل جانہ کی ماں نے بھی یہ ہی سوچا ہو گا ۔ مگر گل جانہ نے اس کہاوت کو بلکل غلط ثابت کر دیا ۔ شکل سے بھی اور اپنی قسمت سے بھی ۔ چند سال کی ہی تھی جب سہیلیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے پیر میں شیشہ گھس گیا ۔ اتنا گہرا زخم لگا کہ سالوں گذر گئے مگر زخم نہ بھرا ۔ ایک تو برس ہا برس پہلے پھر گاءوں کی زندگی کیا خاک علاج ہونا تھا ۔ چند گھریلوٹوٹکوں کے بعد گھر والوں نے مایوس ہو کر اس کے حال پر چھوڑ دیا ۔ ۔ اور گل جانہ بے چاری زندگی بھر کے لئے معذور ہو گئی ۔ خیر شیشے کا اتنا قصور بھی نہیں تھا ۔ گل جانہ کی تقدیر میں ہی زخم رقم تھے ۔ کچے،رِستے ہوئے، بہتے زخم ۔ نہ تو کبھی اس کے دل کے زخم بھر سکے ،نہ ہی پیر کا ۔ ۔ ۔ بلکہ وہ اس قدر بگڑ گیاکہ آہستہ آہستہ پوری ٹانگ میں پھیل گیا ۔ گل جانہ کو چلنے کے لیئے لکڑی کا سہارا لینا پڑا ۔ کھٹ کھٹ کھٹ ۔ ۔ ۔ کی آواز گل جانہ کی آمد کا اعلان بن جاتی ۔ کالی ،بد شکل ایک پیر سے معذور گل جانہ ۔ ۔ ۔


کئی مہینوں سے پڑتی سخت سردی آج تو سخت ترین ہو گئی تھی ۔ صبح سے بار بار ہلکی پھوار بھی پڑ رہی تھی ۔ اپنے گرم محفوظ گھروں میں ہیٹر جلائے،یا آتش دان کے پاس بیٹھ کر کافی پینے والوں کو تو یہ موسم بڑاحسین اور رومینٹک لگتا ہو گا ۔ مگر گاءوں والوں کے لئے تو باقائدہ آزمائش بن جاتا تھا ۔ گھر میں بند رہنا بھی نا ممکن تھا ۔ روٹی کہاں سے کھاتے؟زیادہ سے زیادہ ایک دو دن کے بعد کام پر جانا نا گزیر تھا ۔

نور خان نے سارا دن سیب کے باغ میں مزدوری کی ۔ گھر لوٹتے ہوئے اس کی جیب میں مز دوری کے تھوڑے پیسے اور ہاتھ میں سیبوں سے بھرا تھیلا تھا ۔ کام کرتے ہوئے تو سردی کا احساس اتنا نہیں تھا،مگر اب توراستہ کاٹنا دشوار لگ رہا تھا ۔ شام کا اندھیرا گہرا ہو رہا تھا ۔ ہر طرف سردی کا مخصوص سناٹا پھیلا ہوا تھا ۔ اس قدر دھند تھی کہ چند قدموں کے پار دیکھنا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔ خیر ۔ ۔ یہ راستے اس کے اتنے جانے پہچانے تھے کہ وہ آنکھیں بند کر کے بھی گھر پہنچ سکتا تھا ۔

’’ارے‘‘ ۔ ۔ اس کو سخت حیرت ہوئی ۔ ’’تم کون ہو؟‘‘

راستے میں سڑک کے بیچوں بیچ ۔ ۔ کوئی گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا ۔ ۔ ۔ کوئی بچہ ۔ ۔

بچے نے آہستہ آہستہ سر اٹھایا ۔ ۔ پھول جیسا چہرہ،سیب کی طرح لال گال اور ۔ ۔ ویران آنکھیں ۔ ۔ ۔

وہ چند لمحے اپنی ویران آنکھوں سے نور خان کو گھورتا رہا ۔ ۔ پھر اس کے منہ سے بڑی مشکل سے ۔ ۔ اٹک کر چند الفاظ نکلے ۔ ۔

’’بھوک ۔ ۔ بھوک لگی ہے ۔ ۔ کھانا دو ۔ ۔ ‘‘

نور خان نے بے ساختہ اپنے سیبوں سے بھرے تھیلے کو چھوا ۔

’’نہیں ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ‘‘دوسرے ہی لمحے اس نے ارادہ بدل لیا ۔

’’اگر کل کام پر نہ جا سکا تو؟بچے پھل ہی کھا لیں گے ۔ ۔ ‘‘اس نے جلدی سے تھیلا پیچھے کر لیا ۔

’’کہیں اور سے مانگو ۔ ۔ ‘‘بچے کو مفت مشورہ دیتے ہوئے وہ اپنے راستے پر چل دیا ۔ ۔ تیز تیز ۔ ۔

اس سنسان ،ویران جگہ پر اتنا چھوٹا ،اکیلا بچہ کیا کر رہا تھا؟اس کے سیدھے سادے دماغ نے سوچنے کی زحمت نہیں کی ۔ وہ تو جلدی سے ’’اپنے ‘‘بچوں کے در میان پہنچ جانا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ مگر ۔ ۔ وہ نہیں جانتا تھا ۔ ۔ اب وہ اکیلا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ کوئی اور بھی چل رہا تھا تھا ۔ ۔ بے آواز ۔ ۔ نظر نہ آنے والا ۔ ۔ ۔


نور خان کا بھرا پرا خاندان تھا ۔ ماں باپ،بیوی اور تین بچے ۔ ۔ ۔ ماں باپ بلکل صحت مند تھے ۔ جسمانی طور پر بھی اور ذہنی طور پر بھی ۔ ۔ ۔ ان علاقوں میں رہنے والوں کی صحت بہترین ہوتی ہے اور عمر طویل ۔

حسب ِ معمول رات کا کھانا کھا کر تمام خاندان کمروں میں بند ہو گیا ۔ سردی سے جنگ کرتے ہوئے سب نے بستر میں گھس کر نیند سے پناہ مانگ لی ۔ نہ جانے کیا وقت تھا؟مگر ۔ ۔ آدھی رات گذر چکی تھی ۔ ۔ رات سرد تھی،اندھیری تھی،اور ۔ ۔ اور ہیبت ناک تھی ۔ گرتی پھوار شاید تھم گئی تھی ۔ ۔ ۔ دور سے آتی ٹرین کی آواز نے سناٹے کو چند لمحوں کو توڑ دیا ۔ مگر ۔ ۔ ماحول کو مزید ڈراءونا کر دیا ۔ اچانک ۔ ۔ ۔ پتھروں سے بنے راستوں پر ۔ ۔ ایک آواز گونجنے لگی ۔ ۔ ٹھک ۔ ٹھک ۔ ٹھک ۔ ۔ ۔ جیسے کوئی لکڑی کے سہارے چل رہا ہو ۔

رفتہ رفتہ ۔ ۔ آہستہ آہستہ ۔ ۔ آواز تیز ہوتی گئی ۔ ۔ اتنی تیز کہ کان پھاڑنے لگی ۔ ۔ گاءوں کے لوگوں کی آنکھ کھلنے لگی ۔ ۔ اور دل دھڑکنے لگے ۔ ۔ شدید خوف سے ۔ ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے لکڑی کی آواز نہیں آرہی ہو طبلِ جنگ بج رہا ہو ۔ ۔ ۔ موت کا بلاوہ آرہا ہو ۔ ۔ کس کو؟ ؟ ؟

دیر تک آواز مختلف گلیوں میں گونجتی رہی ۔ لوگوں کی سانس سینوں میں گھٹتی رہی ۔ ۔ پھر ۔ ۔ ایک دروازے پرزور سے دستک ہوئی ۔ ۔ بہت زور سے ۔ ۔ گھر والوں پر سکتہ طاری ہو گیا ۔ ۔ ۔ دل خوف سے پھٹنے والے ہو گئے ۔ ۔ سوائے ۔ ۔ نور خان کے ۔

’’کون ہے؟‘‘اس نے زور سے پوچھا ۔ ۔

’’بھوک ۔ ۔ بھوک لگی ہے ۔ ۔ کھانا دو‘‘ ۔ ۔ ایک مکروہ،بھیانک آواز سنائی دی ۔ ۔

نور خان جیسے نیند میں چلتاہوا دروازے کی طرف بڑھنے لگا ۔

’’او نورے!رک جا بیٹا،رک جا ۔ ۔ ‘‘اس کے باپ نے گھبرا کر اسے روکنا چاہا ۔ مگر نور خان تو جیسے ٹرانس میں آ چکا تھا ۔

وہ جھومتا،جھامتا اپنے بستر سے نکل کر دروازے پر پہنچ چکا تھا ۔ اور اپنے گھر والوں کی چیخ و پکار سے بے نیاز دروازہ کھول چکا تھا ۔

مگر ۔ ۔ دروازہ کھلتے ہی اس کی مد ہوشی یکلخت ختم ہو گئی ۔ وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگا ۔ ۔ پلٹ کر واپس گھر میں جانے لگا ۔ ۔ مگر شدید ٹھوکر کھا کر گر پڑا صحن میں پڑی اینٹوں سے اس کے ماتھے پر اتنی تیز چوٹ لگی کہ خون کا فوارہ ابلنے لگا ۔ ۔

دروازے پر کھڑی مخلوق نے اطمینان سے یہ سارا نظارہ دیکھا ۔ اور ۔ ۔ پھر واپس مڑ گئی ۔ ۔ ٹھک ٹھک ٹھک ۔ ۔ اس کی لکڑی کی آواز آہستہ آہستہ بلکل مدہم ہو گئی ۔ ۔ ۔

’’بابا!‘‘ نور خان کی بیوی نے زور زور سے روتے ہوئے نور خان کے باپ کو آواز دی ۔ جو سکتے کے عالم میں کھڑا کاکھڑا رہ گیا تھا ۔

’’بابا !آپ کسی کو بلاءو ،نور خان کو اسپتال لے کر چلو ۔ ‘‘

’’نہیں زرینہ ۔ ۔ !نور خان اب اس دنیا میں نہیں ہے ۔ ۔ ‘‘نورے کے باپ کی آوازجیسے کہیں دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی ۔

’’گل جانہ اس کو اپنے ساتھ لے جا چکی ہے ۔ ۔ ۔ وہ جب کسی کا دروازہ بجاتی ہے تو اس کو ساتھ لے کر ہی جاتی ہے ۔ ۔ کبھی اکیلی واپس نہیں جاتی ۔ ۔ کبھی بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘


اس گاءوں کے لوگ بہت خوبصورت تھے ۔ ۔ ہمیشہ سے ۔ ۔ مگر پتھر دل ۔ ۔ ہمیشہ سے ۔ ۔

گل جانہ غریب کی زندگی میں کانٹے ہی کانٹے تھے ۔ اس کی دونوں خوبصورت بہنوں اور بھائی کی شادی ہو گئی ۔ ۔ ۔ سب اپنی زندگیوں میں مگن ہو گئے ۔ گل جانہ جب تک چھوٹی اور نا سمجھ تھی اس کو اندازہ نہیں ہوا کوئی اس کوپسند نہیں کرتا ۔ مگر وہ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی اس کو احساس ہوتا گیا کہ سب اس کو جیسے اچھوت سمجھتے ہیں ۔ جب تک ماں باپ کا سایہ سر پر تھادھوپ اتنی کڑی نہیں تھی مگر جب وہ دونوں دنیا چھوڑ گئے تو جیسے سورج سوا نیزے پر آگیا ۔ سب سے بڑا مسئلہ،بھیانک مسئلہ تھا ’’روٹی‘‘ دو وقت کی روٹی ۔ ۔ ۔ گل جانہ اپنے محلے کی عورتوں کے گھر کام کاج میں ان کی مدد کرنے لگی ۔ جس کے بدلے میں اس کو کھانا مل جاتا تھا ۔ مگر اپنی ٹانگ کے زخم کی وجہ سے وہ زیادہ محنت نہیں کر پاتی تھی ۔ اس نے تو اپنی معذوری کے ساتھ بنا مزاحمت سمجھوتہ کر لیا تھا ۔ مگر نہ جانے عورتوں کو کیا پرابلم تھی؟کہ وہ اس سے نفرت کھانے لگی تھیں ۔ اور پیر گھسیٹ کر چلنے کی وجہ سے اس کو ایک مخصوص برے نام سے پکارنے لگی تھیں ۔ آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا ۔ جیسے وہ بھی لکڑی ٹیک کر چل رہا ہو ۔ گل جانہ کے پیر کا زخم پوری ٹانگ پر پھیل گیا تھا ۔ وہ بے چاری کھڑے ہونے تک سے محتاج ہو گئی تھی کام کیا خاک کرتی ۔ ۔ وقت ،درد اور بھوک نے گل جانہ پر بہت برے اثرات چھوڑے تھے ۔ وہ باقائدہ ڈراءونی لگنے لگی تھی ۔ اس کا رنگ تو ٹھیک ٹھاک کالا تھا مگر بال نہ جانے کیوں اتنے سفید تھے جیسے چاندی کے بنے ہوئے ہوں ۔ سردی میں تو اس کے پیر کا درد دوگنا ہو جاتا تھا ۔ اس سے چلا پھرا بلکل نہیں جاتا تھا مگر ۔ ۔ بھوک ۔ ۔ شدید بھوک ،شدید درد کو ہرا دیتی اور وہ کھڑی ہو جاتی ۔ اور لکڑی گھسیٹتی ہوئی کسی نہ کسی گھر کا دروازہ بجا دیتی ۔ ٹھک ٹھک ٹھک ۔ ۔ ’’بھوک لگی ہے ۔ ۔ کھانا دے دو ۔ ۔ ‘‘

گل جانہ کی دونوں بہنیں اتفاقاًبہت دور بیاہی ہوئی تھیں ۔ ورنہ شایدیہ کہانی نہ بنتی ۔ بھائی اس کا سگا تھا مگر بھابھی غیر اور بد لحاظ ۔ اس کو گل گانہ سے چڑ تھی اور اس کی لاٹھی کی آواز سے نفرت ۔ وہ سخت وہمی بھی تھی ۔ اس کو خوف آتا تھا کہ کہیں اس کی پھول جیسی بچیوں پر ان کی منحوس پھوپھی کا سایہ نہ پڑ جائے ۔ گل جانہ بے چاری محلے کے غیر لوگوں سے کھانا مانگ لیتی تھی مگر اپنے سگے بھائی کا دروازہ بجاتے ہوئے اس کو خوف آنے لگا تھا ۔ بھابھی کی گھورتی آنکھیں اس کو اندر سے مار ڈالتی تھیں ۔


پھر ۔ ۔ برسوں پہلے ایک سال شدید سردی پڑی ۔ شاید سردی نے کئی ریکارڈ توڑ ڈالے تھے ۔ ویسے اگر بے رحمی کا مقابلہ کرایا جائے تو شاید انسان جانوروں کے ریکارڈ توڑ ڈالے ۔ خیر ۔ ۔ شدید سردی اور سرد راتوں سے منسلک بارش،کہر وغیرہ ۔ ۔ وغیرہ ان تمام لوازمات کے ساتھ ایک بھیانک ،اندھیری رات کا ذکر ہے ۔ ۔ ۔ گل جانہ اپنی کوٹھری میں تنہا ،بیمار،بھوکی پڑی تھی ۔ اس کو دو دن سے تیز بخار تھا اور ٹانگ میں جان لیوا درد ہو رہا تھا ۔ کسی کو اس کی فکر نہیں تھی ۔ نہ کسی کو اتنی توفیق ہوئی کہ سوچے ایک معذور،بوڑھی عورت کس حال میں ہے ۔ گل جانہ کو سردی اور بیماری سے بڑھ کر ایک احساس ستا رہا تھا ۔ بھوک کا احساس،بلکل خالی پیٹ ہونے کا احساس ۔ ۔ ۔

وہ ہمت کر کے اٹھی ۔ اپنی زندگی بھر کی وفادار ساتھی اپنی لاٹھی کو پکڑا اور باہر نکل گئی ۔

نہ جانے اس نے کتنے دروازوں پر دستک دی ۔ ۔ کچھ حساب نہیں ہے ۔ گاءوں والے تو بے خبر سوتے رہے ۔ صبح جب گل جانہ کے بھائی کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے دروازے کے آگے گری ہوئی تھی ۔ اور ہر تکلیف سے بہت ،بہت دور جا چکی تھی ۔ نہ جانے اس نے اپنے بھائی کا دروازہ بجایا بھی تھا یا بھابھی کے ڈر سے ہمت نہیں ہوئی تھی ۔ ۔ کوئی نہیں بتا سکتا ۔

ہاں لیکن ۔ ۔ یہ سب کو اچھی طرح یاد ہے ۔ ۔ حفظ ہے کہ پورے پچیس سالوں سے ۔ ۔ ہر سال ایک خوفناک سرد رات کو کسی گھر کے دروازے پر دستک ہوتی ہے ۔ ۔ گھر کا کوئی ایک فرد سب کے روکنے ۔ پکڑنے کے باوجودجیسے نشے میں ،نیند میں جھومتا ہوادروازے پر پہنچ جاتا ہے اور دروازہ کھول دیتا ہے ۔ اور ۔ اور دروازہ کھلتے ہی جیسے ہوش میں آجاتا ہے ۔ اور پاگلوں کی طرح چیختا ہے ۔ ۔ بری طرح ۔ ۔ کیوں کہ ۔ ۔ دروازے پر وہ کھڑی ہوتی ہے ۔ ۔ کون؟گل جانہ ۔ ۔ ۔ ۔

کیا مرنے کے بعد بھی انسان بوڑھا ہوتا ہے؟گل جانہ تو ہورہی تھی ۔ ۔ ہر سال وہ مزید بوڑھی لگتی ۔ ۔ مزید مکروہ ۔ ۔ اس کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی جاتی ۔ ۔ اپنی مخصوص لکڑی سے ٹیک لگائے وہ اطمینان سے کھڑی ہوتی ہے ۔ چند لمحے دروازہ کھولنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ مسکراتی رہتی ہے بھیانک مسکراہٹ ۔ ۔ اور پھر ۔ ۔ پلٹ کر گلیوں میں کھٹ کھٹ کرتی گم ہو جاتی ہے ۔ ۔

ایسا لگتا ہے دروازہ کھول دینے والا بھی شاید تھوڑی ہی دیر میں اس کے پیچھے چلا جاتا ہو گا ۔ ۔ جیسے چوہے

pied piper

کے پیچھے چلے جاتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔


وہ گاءوں بہت خوبصورت تھا ۔ سر سبز،درختوں سے گھرا ہوا،جھرنوں سے سجا،بادلوں سے ڈھکا ہوا ۔ ۔ ۔ اس قدر حسین تھاکہ وہاں بسنے والے اسے جنت کاٹکڑا کہتے،اور وہاں سے کہیں اور جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ وہ لوگ شاید صدیوں سے نسل در نسل وہیں آباد تھے ۔ ان کو اپنے وطن سے اتنی محبت تھی کہ وہاں پڑنے والی شدید سردی،مشقت اور کم آمدنی والی زندگی ۔ ۔ ۔ اور پچیس سالوں سے ہر سال ایک بھینٹ مانگنے والا خوف بھی ان کو کبھی گاءوں چھوڑنے پر آمادہ نہ کر سکا ۔

پچیس سالوں میں کون کون دستک کی صدا کا شکار بن چکا تھا ۔ ۔ ۔ نور خان،دریا خان ،ستارہ بی بی،پری گل ۔ ۔ اور ہاں ۔ ۔ سب سے پہلا اوراہم نام تو رہ ہی گیا ۔ ۔ شمع ۔ ۔ گل جانہ کی بھابھی ۔ ۔


آنکھ دھوکا ہے ۔ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی،کسی بدصورت چہرے کے پیچھے حسین دل چھپا ہو سکتا ہے ۔ خوبصورت ،بھولی بھالی صورتیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاسکتی ہیں ۔ دنیا بھید بھاءو ہے ۔ کیا ہو سکتا ہے گہرے سمندر وں کی تہ میں ؟اوپر بہت اوپر آسمانوں پر؟

کچھ راز ایسے ہوتے جو کبھی نہیں کھلتے ۔ ہاں لیکن قدرت نا انصاف نہیں ہوتی ۔ کسی کے ساتھ کی گئی زیادتی معاف نہیں کی جاتی ۔ ہر ظلم کی پکڑ ہوتی ہے ۔ کبھی شداد کو اپنی ہی بنائی ہوئی جنت میں قدم تک رکھنا نصیب نہیں ہوتا،تو کبھی دنیا میں نا مراد رہنے کا عظیم اجر مل جاتا ہے ۔ ۔ ۔

یہ کون سی جگہ تھی؟اُس گاءوں سے بھی کہیں بڑھ کر حسین ۔ ۔ ۔ اتنی کہ کوئی زبان اس کا نقشہ بیان نہیں کر سکتی ۔ کرسٹل جیسے پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں تیرتی ہوئی جل پریاں لگ رہی تھیں ۔ مخمل جیسی گہری سبز گھاس،شہد کی نہریں ۔ ۔ اگر وہ گاءوں جنت کا ٹکڑا تھا تو شاید یہ جگہ سچ مچ جنت کی طرح تھی ۔ ۔ ۔

نہ جانے کون سا وقت ہو گا؟گہرے بادلوں سے ڈھکے ہونے کی وجہ سے اندازہ نہیں ہو رہا تھا ۔ مگر ۔ ۔ ماحول میں بے حد سکون تھا ۔ ایک عجیب سی خوشی کا ترنگ کا احساس تھا ۔ ۔وہ احساس جو بلکل نوجوانی میں بے وجہ بھی ہوا کرتا ہے ۔

نہر کے کنارے درختوں کے تلے ایک وسیع دسترخوان لگا ہوا تھا ۔ ۔ جس پر بے شمار،رنگ برنگے کھانے سجے ہوئے تھے ۔ دسترخوان پر پورے پچیس لوگ بیٹھے تھے ۔ کھانا کھا رہے تھے ۔ کوئی ان کے خالی ہوتے برتن بار بار بھر دیتا ۔ ۔ ان کو بہت پیار سے،خوشدلی سے کھانا کھلا رہا تھا ۔ ۔ تواضع کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ کون؟ایک عورت ۔ ۔ ۔ ۔

وہ عورت بہت خوبصورت تھی،بلکل صحت مند تھی اور وہ گل جانہ تھی ۔ ۔

This Post Has 2 Comments

  1. Ali

    Keep up the amazing work

    1. Story Teller

      Thank You Ali.
      Keep reading our stories, We will be adding new horror stories very soon.

Leave a Reply