فریب Faraib

Fraib urdu hindi horror storyکہتے ہیں وقت کو کبھی برا نہیں کہنا چاہیے ۔ مگر نہ جانے کیسا دور آ گیا ہے ۔  کتنی بھیانک خبریں سننے میں آنے لگی

ہیں ۔ ۔ کتنے پراسرار واقعات لوگوں کے ساتھ پیش آ جاتے ہیں کہ بس توبہ ۔ ۔ نہ

چاہتے ہوئے بھی منہ سے نکل جاتا ہے کہ” بہت برا وقت آ گیا ہے “۔

Faraib: Urdu Hindi Horror Story

فریب” ایک بلکل سچا واقعہ ہے ۔ اس کہانی کے کردار حقیقی ہیں ۔ بس میں نے”

ان کے نام تبدیل کر دئے ہیں ۔

آپ نے دیکھا ہو گاہر فلم اور ڈرامے کے شروع میں

disclaimer

دیا ہوتا ہے ۔ 

All the characters and events depicted are fictional, Any resemblance to a person living or dead is purely coincidental

لیکن میں یہ چاہتی ہوں کہ اگر آپ کو میری کہانی سے ملتے جلتے کردار اپنے آس پاس نظر آئیں تو آپ محتاط رہیں ۔

یہ واقعہ ہماری ایک جاننے والی خاتون کے ساتھ چند سال پہلے پیش آیا تھا ۔ ان خاتون کا نام ہم رابعہ فرض کر

لیتے ہیں ۔ رابعہ ایک بہت نیک اور ایماندار خاتون ہیں ۔ ان کے تین بچے ہیں ۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو ان میں

سے دو کی شادی ہو چکی تھی ۔ جبکہ چھوٹا بیٹا اسکول میں پڑھتا تھا ۔ رابعہ باجی کے شوہر بھی بہت نیک اور

سیدھے سادے ہیں ۔ مگر وہ بہت با اصول اور کھرے انسان ہیں ۔ نہ وہ غلط کام کرتے ہیں نہ غلط کام کرنے

والوں کو برداشت کرتے ہیں ۔ رابعہ باجی نے اپنے گھر میں ہی اپنا پارلر کھول رکھا تھا جو بہت اچھا چل رہا تھا ۔

رابعہ باجی کرائے کے گھر میں رہتی تھی اور جلد از جلد اپنا ذاتی گھر خریدنا چاہ رہی تھیں ،جس کے لئے وہ پارلر

میں دن رات محنت کر رہی تھیں ۔ انہوں نے کوئی ہیلپر بھی نہیں رکھی تھی ۔ اور خود ہی سارا دن گھر اور پارلر

کی ذمہ داری سنبھال رہی تھیں ۔ رابعہ باجی کے پڑوس میں ایک عورت رہتی تھی جس کا نام نسرین تھا ۔ وہ کوئی

چار،پانچ سال سے ان کی پڑوسن تھی اور اس کا رابعہ کے گھر آنا جانا تھا ۔ جس طرح ہر محلے میں خواتین مل کر

کمیٹی ڈال لیتی ہیں اسی طرح نسرین اور رابعہ باجی نے بھی کمیٹی ڈالی ہوئی تھی ۔ رابعہ باجی نے کافی بڑی کمیٹی

ڈالی ہوئی تھی کیوں کہ وہ اپنا گھر خریدنے کے لئے پیسے جمع کر رہی تھیں ۔ رابعہ باجی کی کمیٹی نکلی تو ان کے پاس

دس لاکھ روپے تھے ۔ ابھی وہ بینک میں رکھوانے جا ہی رہی تھیں کہ نسرین سخت گھبرائی ہوئی ان کے گھر آ گئی

اور ان کو بتایا کہ اس کے گھر چوری ہو گئی ہے ۔ اور اس کی بیٹی کا سارا زیور کوئی چرا کر لے گیا ہے ۔ نسرین

کے دو بچے تھے ۔ بیٹی بڑی تھی اور اس کی شادی ہونے والی تھی جبکہ بیٹا رابعہ باجی کے بیٹے کے اسکول میں

ہی پڑھتا تھا ۔

نسرین کی پریشانی دیکھ کر رابعہ نے دس لاکھ روپے اس کے حوالے کر دیے ۔ نسرین نے وعدہ کیا کہ وہ ڈیڑھ ،دو

مہینے میں وہ پیسے لوٹا دے گی ۔

مگر چند روز بعد تو رابعہ پر جیسے حیرت کا پہاڑ ٹوٹ گیا ۔ نسرین راتوں رات اپنی پوری فیملی کے ساتھ غائب ہو گئی

۔ وہ بھی کرائے کے گھر میں رہتے تھے ۔ اور اس کا شوہر بھی وہیں کہیں کام کرتا تھا ۔ وہ اتنی خاموشی سے فرار

ہوئے کہ کسی کو پتا تک نہیں چلا ۔ یہاں تک کہ اس نے کب اپنے بیٹے کو اسکول سے نکلوا لیا تھا کسی کو علم نہیں

ہوا ۔ رابعہ اتنی شاکڈ تھیں کہ بیمار پڑ گئیں ۔ دس لاکھ روپے ان کے لئے بہت بڑا اماءونٹ تھا ۔ ان کے خون

پسینے کی کمائی تھی ۔ سب سے زیادہ ڈر انہیں اس بات کا تھا کہ اگر ان کے شوہر کوان کی بے وقوفی پتہ چل گئی تو

وہ بہت ناراض ہوں گے ۔ رابعہ بے چاری اتنی کمزور ہو گئیں تھیں کہ پارلر بھی نہیں چلا پا رہی تھیں ۔ ایک دن

ان کی ایک کلائنٹ ان سے ملنے آئی ۔ اس کانام شمع تھا ۔ شمع رابعہ باجی کے شوہر کی کزن بھی تھی ۔ شمع رابعہ

کی حالت دیکھ کر حیران رہ گئی ۔ اس کے پوچھنے پر رابعہ نے پوری کہانی اسے سنا دی ۔ شمع نے غور سے ساری

تفصیل سنی اور پوچھا کہ ان کے پاس نسرین کی کوئی تصویر ہے؟؟ اتفاق سے رابعہ کے پاس کسی فنکشن کی نسرین

کی تصویر موجود تھی ۔ شمع نے کہا کہ وہ ایک بزرگ کو جانتی ہے وہ بہت پہنچے ہوئے ہیں اور ان کے پاس

مءوکل بھی موجود ہیں ۔ وہ ایسا عمل کرین گے کہ نسری جہاں بھی ہو گی اپنے پیروں پر چل کر ربعہ کے پاس

آئے گی اور ان کے پیسے لوٹا دے گی ۔

رابعہ کو شمع کی باتوں سے بڑا حوصلہ تو ملامگر ان کو اپنے شوہر کا خوف تھا کیوں کہ وہ ایسی باتوں اور پیروں فقیروں

کے سخت خلاف تھے ۔ شمع نے کہا کہ وہ بابا کو اس وقت رابعہ کے گھر لائے گی جب ان کے شوہر موجود نہیں

ہوں گے،اور ان کو علم نہیں ہو سکے گا ۔ قصہ مختصر ۔ ۔ ایک دن شمع ان ’’بزرگ ‘‘ کو رابعہ کے گھر لے آئی ۔

رابعہ حیران رہ گئیں ۔ سوائے لمبی کالی داڑھی کے ،ان حضرت میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی کہ ان کو

بزرگ کہا جائے ۔ گندے کپڑے ،کالا سیاہ رنگ،لال سرخ گھورتی اور جائزہ لیتی آنکھیں اور انتہائی مکروہ

مسکراہٹ ۔ ۔

خیر ۔ ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی رابعہ نے اس آدمی کو پورا واقعہ سنا دیا اور نسرین کی تصویر بھی دے دی ۔ شمع نے

کہا تھا کہ یہ بابا خلقِ خدا کی خدمت کرتا ہے اور ایک پیسہ بھی نہیں لیتا اور اس وقت بابا نے بھی پیسوں کا کوئی

تذکرہ نہیں کیا ۔ بابا نے رابعہ کے پورے گھر کا معائنہ کیا ۔ ۔ ہر کھڑکی اور دروازے پر نہ جانے کیا پڑھ کر

پھونکا،اور جاتے ہوئے گھر کے گیٹ پر ڈھیر سارا سرسوں کا تیل ڈال کر چلا گیا ۔

دوسرے دن سے رابعہ کی ذہنی حالت عجیب سی ہو گئی ۔ بیمار تو وہ پہلے ہی تھیں ،ان کا ذہن جیسے ماءوف ہو گیا

۔ وہ بابا انہیں ہر دوسرے دن فون کرتا اور پیسوں کا تقاضہ کرتا ۔ کبھی پانچ ہزار تو کبھی دس ہزار ۔ رابعہ کا ذہن

جیسے اس شخص نے ہپنا ٹائز کر دیا تھا ۔ وہ اس کی ہر فرمائش پوری کر رہی تھیں ۔ مگر ان کو اچھی طرح معلوم تھا

کہ ان کے ساتھ کچھ بہت غلط ہو رہا ہے ۔ رابعہ باجی کے بینک اکاءونٹ میں چند لاکھ موجود تھے جن کا علم شمع

کو تھا ۔ کیوں کہ شمع ان کے شوہر کی رشتہ دار تھی اور اس کا پارلر میں بھی ہمیشہ سے آنا جانا تھا ۔ رابعہ باجی بری

طرح اس شخص کے چنگل میں گھر گئی تھیں مگر ان کے اندر کسی کو کچھ بھی بتانے کی ہمت نہیں تھی ۔ رابعہ

باجی نے اس بابا کو اکثر رات کے وقت ان کے گھر کے آس پاس منڈلاتے اور پراسرار حرکتیں کرتے دیکھا تھا

۔ حیرت کی بات یہ تھی وہ صرف اس وقت فون کرتا اور دکھائی دیتا جب ان کے شوہر گھر پر نہیں ہوتے تھے ۔

پھر ایک دن رابعہ کی شادی شدہ بیٹی فریحہ ان کے پاس رہنے آ گئی ۔ وہ بہت ہی نیک اور عبادت گذار لڑکی ہے

۔ فریحہ اپنی امی کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی ۔ رابعہ تو نیم پاگل لگ رہی تھیں ۔ فریحہ کا معمول تھا کہ وہ فجر کی

نماز پڑھ کر سورہ بقرہ کی تلاوت اونچی آواز میں لگا دیا کرتی تھی ۔ رابعہ باجی کو تلاوت سن کر اپنے اندر بہت فرق

محسوس ہونے لگا ۔ ۔ ان کے ذہن سے جیسے باد ل چھٹنے لگے ۔ ۔ دھند صاف ہونے لگی ۔ ۔ لیکن اس کے

ساتھ ہی ڈراءونے خوابوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ ۔ شمع ان کو بہت خراب حلیے میں نظر آتی تھی ۔ ۔ بکھرے

بال،خون برساتی آنکھیں ۔ ۔ جیسے کوئی جادوگرنی ہو ۔ اور وہ ان کو دھمکیاں دیتی ۔ ۔ “مجھے بھگانا چاہتی ہے” ۔

۔ “میں ایسے نہیں جاءوں گی” ۔ ۔ “تجھے تباہ کرکے جاءوں گی “۔ ۔ 

رابعہ بری طرح خوفزدہ ہو گئیں تھیں ۔ ۔ پھر ایک دن رابعہ کو اس شیطان بابا کا فون آیا ۔ وہ بہت ناراض ہو رہا

تھا ۔ اور کہ رہا تھا ۔ ۔ “تم گھر میں جو تلاوت چلا رہی ہو وہ فوراً بند کردو،میرا عمل خرا ب ہو رہا ہے ۔ اگر تم

نے تلاوت بند نہیں کی تو تمہارے پیسے نہیں ملیں گے اور تمہارے ساتھ بہت برا ہو گا ۔ ۔ بہت برا” ۔ ۔

مگر رابعہ اس کی حقیقت سمجھ گئیں تھیں ۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو ساری بات بتا دی ۔ اور فریحہ نے بھی اپنے

ابو کو اعتماد میں لے کر سارا قصہ سنا دیا ۔ اور وعدہ لیا کہ وہ رابعہ پر غصہ نہیں کریں گے ۔ رابعہ کی حالت اتنی

خراب تھی کہ ظاہر ہے انہوں نے کیا غصہ کرنا تھا ۔ ۔ وہ تو دل سے چاہتے تھے کہ رابعہ ٹھیک ہو جائیں ۔ خیر

انہوں نے سب سے پہلے رابعہ کا موبائل نمبر تبدیل کیا تاکہ وہ بابا انہیں کال نہ کر سکے ۔ اور فریحہ نے سورہ بقرہ کی

تلاوت صبح شام کرنا شروع کر دی ،جس کی برکت سے رابعہ آہستہ آہستہ بلکل صحت مند ہو گئیں ۔ نسرین نے تو

پیسے واپس نہ دینے تھے نہ دئے ۔ مگر ۔ ۔ اس کہانی کا سب سے حیرت انگیز پہلو ابھی باقی ہے ۔ ۔

جیسا کہ شمع رابعہ کے شوہر کی کزن تھی اور وہ اس کو ہمیشہ سے جانتے تھے ۔ ۔ مگر شاید آپ کسی کو کبھی بھی نہیں

جان سکتے ۔ ۔

ایک دن ،بلکہ ایک رات ۔ ۔ اتفاقاًرابعہ کے شوہر شمع کے گھر بغیر اطلاع پہنچ گئے ۔ اس کے گھر میں اس وقت

ایک گندے حلیے،لمبی کالی داڑھی والا شخص موجود تھا ۔ ۔ اس کا حلیہ وہ ہی تھا جو کہ رابعہ نے بتایا تھا ۔ وہ اور

شمع ایک ساتھا ایک صوفے پر بیٹھے تھے ۔ ان کے پاس عجیب وغریب چیزیں رکھی تھیں ۔ ۔ جیسے بہت ساے

بال،انڈے کے چھلکے،ٹوٹی ہوئی چوڑیاں اور کپڑوں کے ٹکڑے ۔ ۔

یعنی شمع اور وہ شخص مل کر شیطانی عمل کرتے تھے ۔ شمع لوگوں کو گھیر گھار کر بابا سے ملواتی تھی ۔ اور وہ فریب

دے کر ان کو لوٹ لیا کرتے تھے ۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments