خیرات

اچھی طرح نہا دھونے کے بعد تقریباً نیا جوڑ ا پہنا پالش کئے ہوئے جوتے پیروں میں ڈالے ۔

برش اٹھا کر تیزی سے بالوں میں پھیرا ۔ آئینے میں غور سے اپنے عکس پر نظر ڈالی ۔ مگر خود کو دیکھتے ہی مجھے جیسے ایک دھچکا سا لگا ۔ویسے خود کو تو 

روز انہ ہی آئینے میں دیکھتا ہوں مگر آج ۔۔۔۔

شاید میں انجانے میں 12-13 سال پہلے والے ’’ رمیز ‘‘ کو آئینے میں ڈھونڈنے چلا تھا ۔

12-13

سال کچھ اتنا بڑا عرصہ تو نہیں ہوتا ۔

پلک جھپکتے ہی گزر جاتا ہے۔ مگر کچھ لوگوں پر بہت گہرے اثرا ت چھوڑ جاتا ہے۔جو یہ وقت مشکل سے گزرتے ہیں ۔

 ان میں سے ایک میں بھی ہوں ۔’ ’رمیزاحمد‘‘۔

چالیسسالہ رمیز احمد ۔’ ’ایک ہیڈ کلرک ‘‘۔ میری شادی کو دس سال ہوئے ہیں ۔ میری دو بہت پیاری بیٹیاں ہیں ۔ کرن اور اَمل ۔

میری بیوی بہت اچھی ہے ۔ بہت مخلص بہت پیار کرنے والی ۔ 

میری تنخواہ میری عمر کے بالکل برابر ہے۔ یعنی 40 ہزار …گھر کا کرایا ، مختلف بل ، گروسری ، بچیوں کی فیس ’’ اف‘‘۔۔۔۔۔ 

میرے طبقے کے لوگ اندازہ کرسکتے ہیں کہ میں کس قسم کی زندگی گزار رہا ہوں گا۔

زندگی بڑی

smoothly

گزر رہی ہے ۔مگر اس کم تنخواہ میں زندگی کی گاڑی کو گھسیٹنے کے تما م

اثرات میرے چہرے پر نمودار ہوگئے ہیں ۔

13

سال پہلے والے کم عمر ، خوش شکل ، رمیز کو پہچاننے میں تھوڑی مشکل ہوگی ۔

 مگر ؟ کس کو مشکل ہوگی ؟

جس کو ملنے یا جس کو

visit

کرنے میں جارہا ہوں وہ تو آنکھیں کھولنے تک کے قابل نہیں ہے۔

 وہ ۔۔۔۔ وہ کون؟ 

 شمائلہ‘‘ ۔۔۔۔‘‘

میری منگیتر ، میرا مطلب ہے میری

Ex

منگیتر……… آج بھی صرف اس کا نام سوچنے سے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ 

حالانکہ اس کو آخری بار ملے ہوئے بھی 12سال گزر چکے ہیں ۔

پورے 12 سال ۔

جب وہ مجھے اور میری منگنی کی انگوٹھی کو ٹھکراکر ایک بہت امیر شخص کی دلہن بن کہ میری زندگی سے چلی گئی تھی۔

مگر وہ میرے دل سے کبھی نہ جاسکی ۔

 شکر ہے کہ دل پر کسی کا اختیا ر نہیں ہے ۔ نہ خود کا نہ کسی اور کا ورنہ تو لوگ کسی غریب کے پاس اس کی زندگی کی اچھی یادیں تک نہ رہنے دیتے وہ بھی 
واپس لے جاتے ……..‘‘منگنی کی انگوٹھی کی طرح ‘‘۔

ہاں تو شمائلہ نے امیرکبیر سلمان کا انتخاب کرلیا اور میری شادی فرح سے کردی گئی ۔ مگر یہاں قسمت نے میرا ساتھ دیا ۔ اور شمائلہ بری 

طرح ہارگئی ۔فرح اچھی بہت ھی اچھی بیوی ثابت ہوئی ۔ شاید شمائلہ سے بھی اچھی ۔ مگر سلمان بہت برا انسان ثابت ہوا۔ 

سننے میں آتا ہے کہ وہ شمائلہ کو بہت ستاتا اس پر بے حد ظلم کرتا تھا ۔ یہاں تک کے ان دونوں کی طلاق ہوگئی ۔ اور وہ چند سالوں بعد ہی اپنے 

والد کے گھر واپسی لوٹ آئی ۔ ان ہی والد کے گھر جنہوں نے ہماری منگنی تڑاونے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ خیروہ بھی اپنی جگہ درست تھے 

۔انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ میں کبھی زندگی میں زیادہ آگے نہ بڑھ سکوں گا ۔

تو جیسے ہی ان کو کڑوڑ پتی سلمان کا رشتہ ہاتھ لگا انہوں نے جھٹ شمائلہ کا ہاتھ مجھ سے چھڑا کرا س کے حوالے کردیا ۔ اتنی جلد بازی دکھائی 

کہ اچھی طرح چھان بین تک نہیں کی ۔ااور انجام بد ہوا ۔

ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی ہم دونوں میں کبھی ٹکراو نہ ہوا ۔

نہ ہی میں نےکبھی کوشش کی ۔ کیونکہ آج بھی شمائلہ سے محبت کرنے کے باوجود میں فرح سے بے وفائی نہیں کرسکتا تھا ۔

مگر کل رات کو آنے والی ایک فون کال نے مجھے بے حد ڈسٹرب کردیا ۔

’’ ڈسٹرب‘‘ تو ایک بہت چھوٹا لفظ ہے ۔

’’ شمائلہ میری پہلی محبت ، میرا ایک وقت کا شدید جنون ’’ برین ہیمبرج‘‘

کا شکار ہوکر

I.C.U

میں

پڑی تھی  

نہ جانے کیسے میں نے باقی رات گزاری ، صبح آفس سے چھٹی کی اور ہاسپٹل پہنچنے کی تیاری کرنے لگا ۔
نہ جانے کیوں ایک انتہائی عجیب و غریب سا احساس مجھے ہونے لگا ۔

جیسے کہ میں موت کے دہانے پر پڑی شمائلہ سے نہیں بلکہ 12 سال پہلے والی منگیتر سے ملنے جارہاہوں۔

اسی حسین جمیل شمائلہ سے ۔

میں تھوڑی دیر کو بالکل بھول گیا کہ میں 40 سالہ زمیز ہوں ،

میرے سر کے بال آگے سے سے کافی کم ہوچکے ہیں اور چہرے پر رگڑ رگڑ کے شیو کرنے کے باوجود داڑھی کے سفید بال گواہی دے رہے 

ہیں ۔ کہ درمیان میں ایک لمبا عرصہ آکر گزر چکا ہے ۔

شاید میں مزید ابھی آئینہ دیکھتے ہوئے گزرے زمانے کو یاد کرتا رہتا۔ کہ ڈور بیل کی آواز نے مجھے چونکا دیا ۔

’’ کون ہے باہر بیٹا‘‘؟ میں نے اپنی بڑی بیٹی کرن سے پوچھا ’’ ابّو جی ‘‘ کوئی مانگنے والا ہے ‘‘ ۔ اس نے باہر سے ہی جواب دیا ۔

’’ اچھا یہ لو بیٹا میں نے اپنی جیب سے 10 روپے نکالے ۔ ’’ دے دو اسے ‘‘ 

’’ نہیں ابّو جی وہ کہ رہا ہے کہ کوئی پرانا سوئیٹر دو بہت سردی ہورہی ہے ۔‘‘

’’ اچھا ۔۔۔ میں نے چند لمحے غور کیا ۔

’’ دیکھو امی سے بولو میرا گرے سوئیٹر دے دیں دے ۔ پچھلے سال والا ‘‘

’’کمال کرتے ہیں آپ رمیز‘‘ فرح اندر آئی ۔
’’ کل دو سوئیٹر تو ہیں آپ کے پاس ڈھنگ کے ، اگر گرے والا اس کو دے دوں تو آپ آفس کیا پہن کر جائیں گے‘‘ ؟

’’اللہ مالک ہے فرح‘‘ دروازے پر آئے سوالی کو واپس نہ لوٹا یا کرو ۔‘‘

وہ منہ میں بڑبڑاتی کمرے سے نکل گئی تا ہم اس نے سوئیٹر مانگنے والے کو دے دیا ۔

وہ ایسی ہی تھی ’’ نیک ‘‘ ’’صابر‘‘ میری کسی بھی بات کو کبھی ردنہیں کرتی تھی۔

مگر ’’ شمائلہ ‘‘ ۔۔۔

رات سے اس وقت کا عرصہ میں نے پرانی یادوں میں کھوئے ہوئے طے کیا تھا ۔مگر ہاسپیٹل کے اندر پہنچتے ہی جیسے میرے دل کی دنیا بدل گئی 

۔ ’’ اگر شمائلہ کو کچھ ہوگیا ‘‘؟ اگر وہ اس دنیا میں نہ رہی ؟‘‘

بے شک ہم ساتھ نہیں ہیں ، مگر وہ اس دنیا میں تو ہے ۔ میرے لئے یہ احساس کافی ہے کہ وہ اس شہر میں ہے ، اسی زمین پر سانس لے 

رہی ہے۔ ’’ سانس ‘‘ ۔۔۔۔ کب تک ‘‘؟

I.C.U

کے سامنے بنچ پر بیٹھے انکل وقار ( شمائلہ کے والد ) مجھے دیکھتے ہی میری طرف لپک

ے اور مجھے گلے سے لگا لیا ۔

مجھے ان سے اس شدید ردِ عمل کی امید نہیں تھی ۔

 بیٹا ، بیٹا رمیز ۔۔۔۔ ان کی آواز بھراگئی ۔

ہم دنوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔

مجھ سے تو کچھ بولا ہی نہیں گیا۔

 بیٹا ، میری بچی بس چند گھنٹو ں کی مہمان ہے ۔

اس کو

ventilator

پر شفٹ کردیا گیا ہے ۔

 مگر انکل ، کیوں ؟ ڈاکڑ زکیا کہ رہیں؟

 ڈاکڑز کہ رہیں کہ ہماری مرضی ہے کہ جتنے دن انتظا ر کرنا چاہیں

ventilator

پر رکھیں ۔ مگر بچنے کے چانسز چند پر سنٹ بھی نہیں ہیں  

انہوں نے آنسوں پونچھتے ہوئے بتایا ۔

 بے شک صرف ایک پرسنٹ چانس ہو انکل مگر آپ

ventilater

نہ ہٹوائیں ۔۔۔ میں نے التجا کی 

 یہ آسان نہیں بیٹا ۔ انہوں نے مجھ سے آنکھیں چرا لیں ۔

 ایک دن کے اخراجات ایک لاکھ سے بھی اوپر ہیں ۔ میری گنجائش سے بالکل باہر ۔ صرف آج کی رات اورہے ہمارے پاس تم دعا کرو۔ 

’’ اوہ‘‘ ۔۔۔۔ میرا دل ڈوبنے لگا ۔

گلاس وال کے پار… ہاسٹل کے بیڈ پر بے سدھ پڑی شمائلہ کو دیکھ کرمجھے اتنی شدید تکلیف ہوئی جتنی منگنی ٹوٹنے کے وقت بھی نہیں ہوئی تھی۔ 

ڈھیروں نلکیاں اس کے خوبصورت چہرے پر لگی ہوئی تھیں ۔ 

بے چاری …. پہلے محبت کی بازی ہار گئی پھر شادی کی اور اب زندگی کی بازی ہارنے چلی تھی اتنی جلدی۔ 

میں زیادہ دیر اس منظر کی تاب نہ لاسکا اور انکل وقار کو حوصلہ دیتے ہوئے ہاسٹل سے باہر نکل آیا ۔

’’ حوصلہ‘‘

یہ لفط بولنا کتنا آسان ہے ۔ مگر ۔۔۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا میرے روٹ کی بس نکل گئی ، میں پیدل گھر گئی طرف چلنے لگا ۔ سردی 

شدید تھی ۔ مگر مجھے جیسے کوئی احساس نہ تھا ۔

انکل کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔

’’ صرف آج رات ۔۔۔۔ صبح

ventilater

ہٹادیں گے ۔۔۔۔ْ

ایک د ن کا خرچہ ایک لاکھ ۔۔۔۔

 اوہ ۔۔۔میری آنکھوں سے بے اختیار آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔

’’ ہاں تو جناب میرے لئے کیا کرسکتے ہیں ؟‘‘

برسوں پہلے کا ایک منظر میری آنکھوں میں گھوم گیا ۔

حسین و جمیل شمائلہ نے اٹھلا کر مجھ سے پوچھا تھا ۔

 میں ، تمھارے لئے آسمان سے تارے توڑ کر لا سکتا ہوں ۔

میں نے دل کی گہرائی سے جواب دیا تھا ۔

 میں تمھیں اپنی ساری زندگی دے سکتا ہوں ، مانگ کر تو دیکھو ۔۔۔۔

میں نے اس کا ہاتھ تھام کر وعدہ کیا تھا ۔

 میں تمھیں ایک رات کی زندگی بھی نہیں دے سکتا ۔ میں چلتے ہوئے اپنے آنسو صاف کئے ۔

ایک رات مزید 

ventilator

پر

 رکھنے کا مطلب ہے ۔ ایک لاکھ روپے…. میری تو ۲ مہینے کی تنخواہ بھی

ایک لاکھ روپے نہیں بنتی ۔

 کیا برسوں کی محبت کا اتنا حق بھی نہیں کہ صرف چند سانسیں خرید کر اس کو دے سکوں… میرا دل مسلسل مجھ سے سوال کررہا تھا ۔

قریب کی مسجد سے عشاء کی اذان کی آواز گونجی تو میں اپنے خیالوں سے نکل آیا ۔ وضو کر کے مسجد میں نمازکے لئے کھڑے ہونے تک میرا 

رواں رواں اللہ سے یہ ہی دُعا کرہا تھا ۔ میں نے دعاکے لیئے نمازختم ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا ۔

بلکہ وتر پڑھتے ہی سجدے میں گر گیا۔ 

 تو شمائلہ کو زندگی دے دے اللہ پاک ۔۔۔

 یا اللہ ، یا اللہ تو میری دعا سن لے ۔ پروردگار ، تو تو ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ میاں ۔۔۔ میں گڑگڑا رہا تھا ۔

میری باقی زندگی ۔۔۔

میں اپنی پوری زندگی اسے دینے کی دعا کرنے ہی لگا تھا کہ

 میری آنکھوں کے آگے میری بچیوں کے پھول جیسے چہرے آگئے ۔

نہیں نہیں ۔۔۔ میں گڑ بڑا گیا ۔

میرے چند سال ۔۔۔۔چند لمحے سوچنے کے بعد میں جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گیا ۔

 میرا مطلب ہے 5سال ، ہاں اللہ میاں تو شمائلہ کو میری زندگی کے باقی سالوں میں سے 5 سال عطا کر دے اللہ پاک ۔

’’آمین ثم آمین ۔۔۔

——————————————————————————————————–

…. Doctor

Patient

نے

Move

کیا ہے 

نرس کی پر جوش آواز گونجی ۔۔۔۔

تھوڑی دیر پہلے کی بے سدھ پڑی شمائلہ نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں ۔

———————————————————————————————————-

اوپر بہت اوپر آسمانوں پر ۔۔۔

انسانوں کی سوچ ، عقل سے بہت پرے 

دو فرشتے مجھ گفتگو تھے۔

 اس لڑکی کا وقت تو ختم ہوچکا تھا ۔ اس کو تو آج دنیا سے اٹھ جانا تھانہ ؟

ایک نے دوسرے سے سوال کیا 

 ہاں مگر حکم آیا تھا… اس لیٰےاس کی عمر میں 5سال بڑھادیئے گئے ۔۔۔ پہلے نے جواب دیا ۔۔۔

’’ اچھا مگر کیوںَ ۔‘‘

اس لئے کسی نے دل سے دعاکی تھی ۔ اپنی عمر کے 5سال اس کو دا ن کردیئے ۔۔۔

اچھا توگویا دعا قبول ہوگئی۔۔۔

 ہاں مگر ایک بات سمجھ نہیں آئی ؟ فرشتے نے دوسرے سے پوچھا ۔

 خداوندتعالی کے خزانے میں عمر کے سالوں کی کمی تو نہیں ؟ تو اس بندے کے عمر کے 5سال اس لڑکی کو کیوں دیئے گئے؟

 یہ تو معلوم نہیں ۔ خدا کے بھید خدا ہی جانے ، ہمارا کام تو حکم کی تعمیل ہے ۔ دوسرے نے جواب دیا ۔

’’ بے شک ، بے شک ‘‘

—————————————————————————————————
 
دوسرے دن انکل وقار کی خوشی سے کانپتی ہوئی آواز سے میری جیسے جان میں جان آگئی ۔

 ہیلو ، ہاں بیٹا رمیز ، مبارک ہو ۔۔۔

’’ شمائلہ کو ہوش آگیا ہے بیٹا ۔۔‘‘ معجزہ ہوگیا ہے ‘‘ 

 ڈاکڑز تک حیران ہیں اب وہ بالکل ٹھیک ہے ۔۔۔ 

…. میں ایک مرتبہ پھر سجدے میں گرگیا ۔ سجدہ شکر میں

وقت کا پہیا پھر چلنے لگا ۔ پہلے سے بھی تیز 

ان چند دنون بعد میں پھر جیسے پرانی یادوں سے باہر نکل آیا ۔

اپنے گھر ، اپنی بچیوں میں ، اپنی بیوی کے ساتھ پھر سے مگن ہوگیا ۔

برس ہا برس گزرگئے ۔ اس دن کے بعد انکل وقار یا شمائلہ سے پھر کبھی میری ملاقات نہیں ہوئی ۔

جب کبھی اس کا نام ذہن میں گونجتا تو دل میں ہوک سے اٹھتی ۔

مگر اب جیسے دل کو عجیب سکون تھا ۔ ایک ٹہراو ۔ جیسے ۔۔۔ جیسے میں نے حق محبت ادا کردیا ہو ۔ بے شک ہم مل نہ سکے ۔

مگر میں نے بے وفائی نہیں کی۔
————————————————- 

25

سال بعد ۔۔۔۔

 بہت دور آسمانوں پر ۔۔۔

انسانوں کی عقل ان کی پہنچ سے بہت پرے ۔۔۔

2

فرشتے محوِ گفتگو ہیں ۔

 اس بندے رمیز احمد کی زندگی کی آج رات آخری ہے ۔ حکم آیا ہے کل اس کو زمین سے اٹھا لیا جائے گا ۔۔۔

 مگر کیوں ؟ دوسرے فرشتے کی آواز میں حیرت اتر آئی ۔

 رمیز احمد کی زندگی کے پورے 5سال باقی ہیں ۔‘‘

نہیں‘‘ ۔ پہلے نے جواب دیا ۔ ’’

رمیز احمد نے 25سال پہلے اپنی زندگی کے 5 سال کسی کو خیرات کردیئے تھے ۔ اللہ تعالی نے اس کی دُعا قبول کرلی تھی۔

’’ اوہ‘‘

مگر اللہ کے یہاں سالوں کی کمی تو نہیں وہ ویسے ہی اس لڑکی کی زندگی 5سال بڑھا دیتا اس نے رمیز کے 5 سال کم کیوں کیئے؟‘‘

پہلے فرشتے نے سوال کیا ۔

 خدا کے بھید خدا ہی جانے ۔ ہما را کام تو حکم کو پورا کرنا ہے۔

دوسرے نے جواب دیا ۔

 بے شک خدا کے یہاں سالوں کی کمی تو نہیں ہے…۔ کہیں سے تیسرے فرشتے کی آواز سنائی دی ۔

مگر خدا نے رمیز احمد کی مکمل دُعا قبول کر کے اس پر اتنا بڑا احسان کردیا جس کو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔

دونو ں فرشتے غور سے تیسرے فرشتے کی باتیں سننے لگے۔

رمیز احمد کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا کہ اس کی عمر کے آخری 5سال مکمل اپاہج ہوکر سخت مشکل میں گزرنے ہیں ۔ اس کے عمر کے یہ 5سال 

اس لڑکی کو دے دیئے گئے ۔ اور رمیز احمد مکمل چلتے ہاتھ پیروں کے ساتھ مرجائے گا بغیر کسی تکلیف کے۔

 خدا کے بھید خدا ہی جانے۔ 

 

This Post Has 4 Comments

  1. Khalid

    Great story.

    1. Story Teller

      Thanks a lot.

  2. Story Teller

    Thanks a bunch!

  3. Zubia

    Just read “Kherat”. Is is an excellent story . After reading this , my faith on” pray” has increased multiple times. well done.

Leave a Reply