کون؟

سبزیا ں توڑنے میں پھر ان کو ٹوکری میں احتیاظ سے رکھنے میں اس کو دو گھنٹے سے زیادہunknown-ghost-horror-story-who لگ گئے۔ شکر ہے‘‘ کچھ دن کا کام تو سمنیٹ گیا ۔ اس نے سوچا۔

’’ چلو بچو گھر چلیں‘‘ اس نے کھیت میں بھاگتی اپنی بچیّوں کو آواز لگائی ۔

’’ بس امیّ ‘‘ تھوڑی دیر اور ‘‘ ان کا ابھی تھوڑا کھیلنے کا ارادہ تھا ۔

’’ اف‘‘ اس نے ٹوکری زمین پر رکھ دی ۔تھکن سے اس کا برا حال تھا ۔

اس نے آس پاس نظر دوڑائی ۔ چند قدم کے فاصلے پر کسی نے درخت کے ساتھ چار پائی کھڑی کر کے لگائی ہوئی تھی ۔اس نے آہستہ سے چار پائی 

بچھائی چلو میں ذرا کمر سیدھی کرلوں ۔ چارپائی پر دراز ہوکر اس نے اپنی چادر اچھی طرح اوڑھ لی ۔

گاؤں کی اکلوتی مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ ’ ‘اف اتنی دیر ہوگئی مجھے پتہ بھی نہیں چلا ‘‘

ہر طرف اندھیرا پھیلنے لگاتھا ۔

’’ اسماء سیمات ‘‘ اس نے بچیوں کوآواز لگائی ۔

وہ تینوں اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ برآمد ہوگئیں۔

کتنی دیر ہوگئی مجھے اُٹھایا کیوں نہیں ؟ اب جلدی گھر چلو کھانا بھی تیار ہے ‘‘

بچیوں نے اپنی سہیلیوں کو الوداع کیا ۔ اس نے اپنی ٹوکری سر پر رکھی اورتینوں کھیتوں سے گزرتی اپنے گھر لو ٹ آئیں ۔

لوٹ کر وہ تیزی سے کھانا بنانے میں لگ گئی۔ 

’’صبح سبزیاں امیراں کے گھر پہنچا دوں گی ‘‘۔ اس نے پروگرام بنایا ۔

سبزیاں کاشت کرنا ، کچھ اپنے استعما ل کو رکھنا ، اور کچھ فروخت کردینا اس کا چھوٹا سا بزنس تھا ۔ اس کے اور اس کی بچیوں کے کچھ اخراجات 

پورے ہوجانے تھے۔ ویسے تو ان کے اخراجات نہ ہونے کے برابر تھے ۔

گاؤں کی انتہائی سادہ ، قناعت ، شکر دامن زندگی ۔

یہ دو کمروں اور صحن پر مشتمل چھوٹاسا گھر اس کا اپنا تھا ۔ اور گھر سے تھوڑا دور نہر کنارے چھوٹا سا زمیں کا حصّہ بھی اس کی ملکیت تھا ۔ 

جس پر اس نے مختلف سبزیاں کاشت کر چھو ڑی تھیں ۔

 اپنا تھوڑا بہت خرچاوہ کپڑے سلائی کر کے کر بھی پورا کرلیتی تھی۔ ویسے تو گاؤں میں سلوانے کا رجحان اتنا 

زیادہ نہ تھا ۔ عورتیں اپنے گنتی کے سال کے جوڑے خود ہی تیار کرلیتی مگر چند امیر ، بڑے گھر کی خواتین جن میں اس کی نند امیراں بھی 

شامل تھی۔ اپنے اور اپنے بچوں کے کپڑے اجرت دے کر سلوالیا کرتی تھیں۔ اس طرح جیسے سہتے ، اوکھے سوکھے اس کا اور اس کی بچیوں 

کا وقت گزر رہا تھا ۔ ورنہ افضل نے تو مہینوں سے خرچہ بھیجنا چھوڑ رکھا تھا ۔ ’’افضل ‘‘ اس نے کونے پہ دھرے فریم میں افضل کی تصویر پر نظر 

ڈالی, خوبصورت کم عمر افضل, اس کی شادی کی تصویر تھی ۔

.بائیس سالہ افضل اور سترہ سالہ نازمین

خوبصورت، حسین، گوری چٹی نازو۔

کھیتوں میں کام کر کے بھی اس کی مکھن جیسی رنگت ذرا نہ بدلی تھی۔ لمبے کالے بال کمر تک آتے تھے۔

صابر خدمت گذار ، مگر نہ جانے کیا بات ہوئ کہ نازمین کبھی افضل کے دل پر نہ چڑ سکی ۔ شاید افضل پر اپنے نام کا بہت زیادہ اثر تھا ۔

وہ خود کو نہ جانے کیا سمجھتا تھا ۔ ورنہ اس کے چھوٹے بھائی انور اور بہن امیراں تو بہت سیدھے لوگ تھے ۔ حالاکہ امیراں گاؤں کے سب 

سے امیر گھر میں بیاہی گئی تھی ۔ اس کے گھر میں ٹی وی ، فریج ، تک تھا ۔ اپنی بڑی بھابی نازمین کو سر پر بیٹھاتی اس کی بڑی عزت کرتی تھی۔ 

اس کا دیور انور ، افضل کی طرح انٹر پاس تھا ۔ وہ بھی گاؤں میں نوکری کرتا تھا ۔ اس کے بیوی بچّے اس کے ساتھ ہی رہتے تھے اور وہ ان سے 

بہت محبت کرتا تھا ۔ جیسے کہ ان کا حق تھا ۔ جیسے ہر بیوی ، بچّوں کا ہوتا ہے ۔

آٹا گوندھنے اور روٹی ڈالتے نازمین نہ جانے کیا سوچے گی۔

افضل اس کے سگے تایا کا بیٹا تھا ۔ وہ اس کی پیدائش کی منگ تھی ۔

اور 17کی ہوتے ہی اس کی شادی افضل سے کردی گئی۔

مگر شادی کے 10سالوں میں 3بیٹیاں تو ضرور ہوگئیں مگر افضل اس سے محبت نہ کرسکا ۔ بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ اس سے مزید دور ہوتا 

گیا ۔
ایک تو اس کو شہر کی لڑکیاں پسند تھیں۔ پڑھی لکھی ،ماڈرن ، اور پھر اس کو بیٹے کا بہت ارمان تھا ۔مگر سیدھی سادی نازو نہ تو اس کو بیٹا دے سکی نہ 

اس کے دل پر کبھی راج کر سکی ۔ 

جب تک نازو کے تایا زندہ تھے ۔ وہ اس کا باپ کی طرح خیال رکھتے تھے ۔ انہوں نے افضل کے اطوار چند سالوں میں ہی بھاپ لئے 

تھے ۔ اور تو کچھ ان کے اس کا بس میں نہ تھا انہوں نے گاؤں کے چند لوگوں کے سامنے یہ گھر اور نہراوالی زمین نازو کے نام کردی ۔ 

تایا کے گزرجانے کے بعد افضل کو جیسے چھٹی مل گئی ۔ وہ پہلے گاؤں کے قریب نوکری کرتا تھا ۔ اور ہر ہفتے گھر آجاتا تھا پھر اس نے کئی کئی دن 

آنا چھوڑ دیا ۔ مہینوں خرچہ نہ دیتا ، بچّوں سے یا ان کی ضرورتوں سے اس کو کوئی سروکا نہ تھا ۔ پھر اچانک اس نے گاؤں سے اتنی دور سندھ 

میں کسی شوگر میل میں نوکری کرلی ۔ سندھ کا وہ شہر ان کے گاؤں سے اتنا دور تھا کہ ٹرین سے آنے جانے میں 2دن اور 1رات لگ جاتے 

تھے ۔

اب وہ مہینوں شکل نہ دکھاتا۔ کبھی خرچے کے نام پر نازو کے ہاتھ پر مختصر رقم تھماتا اور بس۔

تھک ہار کر نازو ہمت کر کے اٹھی اس نے اپنی 

زمین پر سبزیاں کاشت کرنا شروع کیں۔ اپنی نند امیراں، اس کے بچوں اور چندعورتوں کے کپڑے سینا شروع کردیئے ۔ اس کا گزارا 

ہونے لگا چند اُڑتی اُڑتی خبریں افضل کے متعلق آنا شروع ہوئیں کہ اس نے شہر میں دوسری شادی کرلی ہے ۔

’’اف ‘‘ روٹی ڈال کے نازو نے اُٹھنے کی کوشش کی مگر ۔۔۔اس کا جسم جیسے پتھرکا ہوگیا ہو۔ اسماء ، سیما اس نے بمشکل آواز دی ۔

بچیاں بھاگی چلی آئیں ۔ کیا ہوا امّی؟
نازو کے کندھے اتنے بھاری ہوگئے تھے جیسے پر منوں بوجھ ڈال دیا ہو ۔

بچیاں اس کو تقریباً گھسیٹی کمرے میں لے گئی اور بستر پر لٹادیا ۔

اپنی حالت اس کی سمجھ سے باہر تھی ۔ یہ مجھے آج کیا ہوگیا ہے؟ اس نے سوچا ’’ اگر مجھے کچھ ہوگیاہو تو میری بیٹیو ں کو کون دیکھے گا ؟ اس خیال 

نے اس کی جان نکال دی۔

نہ جا نے کب، اس کو نیند نے آلیا۔

صبح اس کی صائمہ بیٹی اپنی پھوپو امیرا ں کو بلا لائی۔

’’کیا ہو ا بھابھی ؟ خیر تو ہے‘‘ امیراں پریشان ہوگئی ۔

’’ پتا نہیں ‘‘ نازو کی آنکھوں سے آنسوں باہر نکلے ۔

’’کل کھیت میں سبزیاں توڑنے میں دیر ہوگئی ۔ واپس آئی تو جسم اتنا بھاری ہوگیا کہ مجھے کیا بتاؤں ہلا تک نہیں جارہا ہے۔

’’ فکر نہ کر بھابھی ‘‘میں تجھے حکیم صاحب سے دوا لاکر لاتی ہوں اچھی ہوجائے گی ۔ گھبرانہیں ‘‘ امیراں اسے تسلی دے کر چلی گئی ۔

پھر وہ حکیم سے دوا لائی ، نازو کے کندھوں کی مالش بھی کی اور اس دن اس کے گھر کی ہانڈی ، روٹی بھی امیراں نے ہی کی ۔

آہستہ آہستہ ، دو ایک دن میں نازو کی طبیعت سنبھل گئی ۔

پھر ایک دن۔۔۔
وہ اس دن خو د کو بہت بہتر محسوس کررہی تھی۔ 

اچھی طرح نہا دھوکر کپڑے بدلے ، بالوں میں کنگھا کیا ۔

صحن میں شام اتر آئی تھی جاتی گرمیوں کے خوبصورت دن تھے۔

موسم بہت خوبصورت رہتا تھا۔ 

تینوں بچیاں سپارے پڑھنے گئی ہوئی تھیں۔ 

کہ ۔۔۔دروازے پر دستک ہوئی۔

’’ارے،‘‘اس کو حیرت ہوئی۔

’’آج اتنی جلدی واپس آگئیں۔‘‘

اس نے دروازہ کھولا مگر ۔۔۔بچیاں نہیں دروازے پر وہ کھڑا تھا۔

’’آپ!‘‘وہ حیران رہ گئی۔’’اتنے مہینوں کے بعد۔۔۔اچانک‘‘

’’اندر آنے کو نہیں کہو گی۔‘‘وہ مسکرایا اتنے پیار سے کہ اس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔

’’ارے ۔پوچھ کیوں رہے ہیں۔آئیں۔‘‘اس نے راستہ دیا۔ 

وہ اس کے پیچھے پیچھے اندر چل آیا۔

’’آپ کھانا کھائیں گے نکالوں؟‘‘اور کوئی بات نہیں سوجھی تو اس نے گھبرا کر پوچھا۔شادی کے دس سالوں میں کبھی اس نے اور افضل نے 

ایسے باتیں نہیں کی تھیں جیسے عام میاں بیوی اپنا دکھ سکھ کرتے ہیں۔صبح سے شام تک کی مصروفیات ایک دوسرے کو بتاتے ہیں۔ وغیرہ

افضل اس سے بہت کم بات کرتا تھا۔ صرف ضرورت کی۔ اس کو تو اکثر سمجھ ہی نہ آتا کہ وہ اس سے کیا باتیں کرے۔وہ آہستہ آہستہ اس کی
موجودگی سے گھبرانے لگتی۔ اس کا ہر وقت خراب موڈ ا س کو ڈرانے لگا تھا۔ وہ بچیوں سے بھی پیار سے بات نہ کرتا تھا۔بلکہ اکثر ان کو جھڑک 

دیتا۔ 

مگر آج وہ نہ جانے کیوں بہت خوش تھا۔ بات بے بات مسکرا رہا تھا۔ اس کو چھیڑ رہا تھا۔ 

’’یہ لال جوڑا کیوں پہنا ہے۔‘‘افضل نے بہت پیار سے پوچھا۔

’’تمہیں الہام تو نہیں ہوا تھا کہ میں آنے والا ہوں۔‘‘

وہ حیرت سے اس کو دیکھ کر رہ گئی۔ یہ وہی افضل ہے ۔ آج سورج کہیں اور سے تو نہیں نکلا؟

بچیاں گھر آئیں تو وہ بھی کچھ حیران اور کچھ خوش ہوگئیں۔

’’ابو جی آپ تو سویرے والی ٹرین سے آتے ہو نا؟‘‘

’’آج شام میں کیسے آئے؟‘‘انہوں نے پوچھا۔

’’اصل میں آج میں بس سے آیا ہوں نئی بس سروس شروع ہوئی ہے جلدی پہنچا دیتی ہے۔‘‘اس نے وضاحت دی۔
’’آپ کوئی سامان بھی نہیں لائے؟آپ کے کپڑے وغیرہ۔۔۔‘‘

’’میں اصل میں آفس کے ضروری کام سے قریب شہر میں آیا تھاتمہاری یاد آئی تو ملنے آگیا۔ افضل نے شرارت سے اس کے قریب ہوتے 

ہوئے کہا۔‘‘

اس رات افضل بہت دیر تک جاگتا رہا تھا۔ 

شادی کے بالکل شروع کے دنوں کے علاوہ نازو کو یاد نہیں پڑتا تھا کہ افضل نے کبھی اس سے اتنی دیر تک جاگ کر باتیں کی ہوں۔ وہ بھی 

’’پیار بھری‘‘باتیں۔ وہ جیسے کوئی خواب دیکھ رہی تھی ’’خوبصورت خواب‘‘۔دوسرے دن وہ دیر تک پڑی سوتی رہی۔

ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ پورا صحن دھوپ سے بھر جائے اور وہ سوتی رہ جائے۔ شاید کل پوری رات جاگنے کا اثر تھا۔

’’امی! صائمہ نے پکارا۔ابو جی کہاں ہیں امی؟‘‘

’’ہیں۔‘‘وہ حیران ہوگئی۔

’’کیا گھر میں نہیں ہیں ؟‘‘

’’نہیں تو وہ تو صبح سے نہیں ہیں کیا واپس چلے گئے۔‘‘

’’تو کیا افضل واپس چلا گیااس کو بتایا بھی نہیں۔شاید اس کو اٹھانا مناسب نہ سمجھا ہو۔‘‘وہ سوچ کر رہ گئی۔

’’اس رات‘‘نے کئی دن جیسے نازو کو نشے میں رکھا۔
مگر دن پر دن گزرتے گئے پر افضل نے کوئی رابطہ نہ کیا۔

پھر ایک دن اس کی طبیعت بگڑ گئی۔الٹی پر الٹی ، چکر پر چکر۔

’’اوہ!‘‘وہ بری طرح گھبرا گئی۔’’کیا پھر سے تم۔‘‘

تینوں بچیاں تھوڑی سمجھدار ہوگئی تھیں ۔اپنا کام خود کرنے لگی تھیں۔ایسے میں پھر چھوٹا بچہ؟

اور اب تو وہ کھیتوں میں کام کرتی تھی۔سلائیاں کر کے تھک جاتی۔اب کیسے وہ اتنی مشقت ٹھائے گی؟

وہ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی۔

’’مگر ایک پیارا سا خیال اس کے ذہن سے ٹکرایا۔‘‘

’’ہوسکتا ہے اس بار بیٹا ہوجائے؟‘‘

’’افضل کو کتنا ارمان ہے بیٹے کا اور اس کے بھی بڑھاپے کا سہارا بن جائے گا۔‘‘وہ مطمئن ہوگئی۔

وقت کا کیا ہے گزر ہی جائے گا۔جہاں تین بچیاں پیدا کی ہیں ایک اور سہی۔‘‘

مگر گزرتے دنوں سے ثابت کیا کہ یہ اتنا آسان نہ تھا۔

طبیعت تو اس کی تینوں بچیوں کی مرتبہ بھی بہت خراب رہی تھی۔پورے ۹ مہینے الٹیاں جان نہیں چھوڑ رہی تھی۔مگر اس مرتبہ تو جیسے جسم میں 

جان ہی نہ رہی تھی۔وہ تو جیسے اٹھنے تک سے محتاج ہوگئی تھی۔گھر کے کام تو جیسے تیسے بچیاں کر لیتی تھیں مگر سلائی اور پھر کھیت وہ بوکھلا گئی اوپر 
سے افضل کا کوئی پتا نہ تھا۔ اس رات کے بعد تو جیسے وہ بھول ہی گیا تھا کہ اس کے کوئی بیوی بچے بھی موجود ہیں۔ ” تو فکر نہ کر بھابھی” 

امیراں اس کو تسلی دیتی۔

میں تجھے شہر لے کر چلوں گی کسی بڑی ڈاکٹرنی سے دوا لے کر دوں گی۔ لگتا ہے اس بار تجھے اللہ بیٹا دے ہی دے گا۔’’بیٹا ‘‘وہ سب تکلیف 

بھول کر مسکرانے لگتی ؂۔امیراں اس کو شہر تو نہ لے جا سکی مگر با قائدگی سے ایک بڑی رقم اس کے ہاتھ میں دبا دیتی ۔

’’ہیں امیراں ، ایسے نہ کر ۔۔۔ ‘‘نازو شرمندہ ہوتی۔

لے بھابھی اس میں کیا ہے؟ مجھے نہیں پتا کہ میرا بھائی تجھے کتنا تنگ کرتا ہے۔ مہینوں خبر نہیں لیتا ۔ یہ تو میرا فرض ہے ۔ورنہ ابّا جی کو کیا منہ 

دکھاؤں گی۔’’امیراں آنکھوں میں آنسو بھر لاتی۔مجبوراََ نازو وہ مدد لے لیتی کیونکہ ان دنوں اس سے بلکل اوپر کے کام نہیں ہو رہے تھے۔ 

اس کا جسم بے حد بھاری ہو گیا تھا۔ وہ تو جیسے چلنے پھر نے سے بھی محتاج ہو گئی تھی۔‘‘

’’اس مرتبہ کہیں جڑواں تو نہیں ہیں؟‘‘

اس کے کہیں بڑے پیٹ کو دیکھ کر عورتیں تبصرہ کرتیں۔

گھسٹ گھسٹ کر آخر کار یہ وقت گزر ہی گیا اور وہ گھڑی آ ہی گئی۔

امیراں حسبِ پروگرام اس کے پاس ہی ٹہری ہوئی تھی۔

درد شروع ہو نے پر اسماء بھاگ کر خیرن دائی کو بلا لائی ۔
مگر ساری رات اور پھر آدھا دن کزر گیا۔ نازو درد سے نڈھال ہوتی رہی۔

دائی کوشش کر کے تھک گئی ۔مگر بے سود لگتا ہے شہر لے جانا پڑے گا۔ شاید آپریشن کرنا پڑے ۔

خیرن نے اطلاع دی ۔ درد سے تڑپتی نازو اور پریشان ہو گئی۔’’شہر تو یہاں سے بہت دور ہے۔اتنا خرچہ اور پھر پیچھے بچیاں اکیلے اتنے دن 

کیسے؟‘‘

’’یا اللہ تو مدد کر “نازو نے دل سے دعا دی۔ “اور پھر ‘‘

’’شکر ہے۔ ‘‘دائی خیرن کی فا تحانہ آواز سنائی دی۔

’’مبارک ہو ، بیٹا ہوا ہے۔‘‘

امیراں خوشی سے بے حال کمرے میں داخل ہوئی۔ 

مبارک ہو بھابھی ، میں نہ کہتی تھی ۔۔۔ اس نے بے حال پڑی نازو سے کہا۔

’’ہیں ‘‘ اس کی نظر بچے پر پڑی ’’ اتنا ، اتنا صحت مند۔‘‘وہ حیران رہ گئی حیران تو نازو بھی ہو رہی تھی۔

اتنا صحت مند بچہ اس نے تمام عمر میں پہلی بار دیکھا تھا۔

’’جب ہی تو اتنی مشکل ہوئی۔‘‘دائی خیرن نے بھی سوچا۔

’’اس کے تو وہ کپڑے بھی نہیں آئیں گے بھابھی، جو ہم نے تیار کیے ہیں۔‘‘امیراں نے تبصرہ کیا۔
بچے کے نہانے کے لئے گرم پانی تیار کیا گیا۔

امیراں اور خیرن نے احتیاط سے بچے کو گود میں لیا تو اس نے آنکھیں کھول لیں ۔چند گھنٹوں کے بچے کی آنکھوں میں نہ جانے کیا تھاکہ 

دونوں ’’سن‘‘رہ گئیں۔حیرت زدہ تو نازو بھی ہو رہی تھی۔

جب تک مسجد سے چاچا کرم دین کو بلوایا گیا تاکہ وہ بچے کے کان میں اذان دے دیں۔بچہ قد میں کچھ اور بڑا ہوچکا تھااور آدھی چارپائی 

گھیرے ہوئے تھا۔ 

چاچا کرم دین نے آکر پہلے نازو کو دعائیں دیں پھر’’بچے‘‘کو بلوایا۔

ایک دن کے بچے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹ گئیں۔انہوں نے خود پر کنٹرول کرتے ہوئے اذان دینا شروع کردی۔

اورجو بچہ پیدا ہونے کے بعد سے ایک مرتبہ بھی نہیں رویا تھا۔بھیانک آوازیں نکالنے لگاجیسے رو رہا ہو۔

شام کو مغرب کی نماز سے فارغ ہو تے ہی چاچا کرم دین نے پاس والے گاؤں کا رُخ کیا جہاں اُن کے ایک بزرگ رہتے تھے۔ ان کے 

دماغ میں ان کے اپنے بچپن کی سُنی ہوئی چند کہانیاں دوڑ رہی تھیں۔ جن سے گاؤں کی ایک عورت نے ’’جن‘‘کے بچے کو جنم دیا تھا۔

چاچا کرم دین کے بزرگ امام بخش ویسے تو بہت ضعیف ہو چکے تھے مگر ان کی یادداشت بالکل ٹھیک ٹھیک کام کرہی تھی۔

’’یہ بہت پرانی بات ہے۔پاکستان بننے سے بھی پہلے کی ۔میں اس وقت کوئی ۱۰،۱۱ سال کا ہوں گا۔‘‘امام بخش نے سوچتے ہوئے کہا۔

ہمارے گاؤں میں ایک عورت نے ایک بچے کو جنم دیا۔وہ قد میں عام بچوں سے بہت بڑا تھااور دن بدن وہ بہت بڑا ہوتا گیا۔آٹھ دس دن 
میں وہ دیوار تک پہنچ گیا۔اس نے اپنی ماں کو گلا دبا کر مار دیا تھا۔

’’کیا ۱۰ دن کے بچے نے؟‘‘چاچا کرم دین حیران رہ گئے۔

’’وہ بچہ نہیں تھا وہ بد روح تھا‘‘امام بخش نے جواب دیا۔

’’اگر اس کو ختم نہ کرتے تو وہ پورے گاؤں کو مار دیتا۔‘‘

’’ختم؟‘‘ ’’اس کو ختم کردیا تھا؟‘‘

’’ہاں اس کو دفن کردیا تھا۔‘‘اما بخش آج بھی لرز گئے۔ 

’’وہ ۱۰ روز کا بچہ کسی کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ وہ بلا تھا۔کوئی شیطان تھا۔‘‘

واپسی کا راستہ چاچا کرم دین نے سوچوں میں غرق طے کیا۔

’’نہیں نہیں ،ایسا نہیں ہے۔یہ بچہ کچھ زیادہ لمبا چوڑا ضرور ہے مگر انسان ہی ہے۔ضروری نہیں کہ میرا وہم سچ ہو۔‘‘انہوں نے کیسے خود کو تسلی 

دی۔

گاؤں واپس پہنچ کر انہوں نے سوچا کہ نازو کے گھر چکر لگاتے چلیں۔

چھوٹے سے گاؤں میں سب لوگ ایک دوسرے کے رشتے دار ہی ہوتے تھے۔قریب کے یا دور کے ۔سب کے دل ایک دوسرے سے 

جڑے ہوئے تھے۔ 
مگر۔۔۔ان کا وہم،وہم نہ تھا۔

تین دن کا بچہ چارپائی پر بیٹھا زور زور سے ہنس رہا تھا۔گھر کی عورتیں زور سے چیخ رہی تھیں۔

کرم دین کے اندر داخل ہوتے ہی بچے نے ہنسنا بند کر کے کرم دین کو گھورنا شروع کردیا۔پھر اتنی تیز مکروہ آواز نکالی جیسے ان کو وارن کر رہا 

ہو۔

’’نازو،امیراں بیٹی میری بات سنو۔‘‘

انہوں نے ساری تفصیل جو امام بخش سے سُنی ان دونوں کے آگے دہرا دی۔

’’یہ انسان نہیں ہے۔یہ کسی اور مخلوق کی اولاد ہے ۔اگر یہ زندہ رہا تو پورے گاؤں کو کھا جائے گا۔ ‘‘کرم دین نے کہا۔

’’دل بڑا کر نازو بیٹی، میں گاؤں والوں کو لے کر آتا ہوں۔اس کا زندہ رہنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘

’’کیا ؟ نازو کا دل ڈوب گیا ۔

’’ اس کا بچہ ‘‘ اس کو مار دیں گے۔

’’ مگر اس کی نظر بچے پر پڑی وہ تین دن کا چار پائی کے برابرکھڑا ہونے کی کوشش کررہا تھا ۔ اور اس کی کوشش میں انتہائی بھیانک آواز یں 

نکال رہا تھا ۔

نازو چیختی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی ۔
جب گاؤں کے مرد چاچا کرم کی ہمراہی میں ’’اللہ اکبر‘‘ پکارتے گھر میں داخل ہوئے تو کسی خوفناک صورتحال سے نپٹنے کی ضرورت نہ پیش 

آئی کیونکہ وہ بچہ پہلے ہی دنیا سے کو چ کرچکا تھا ۔ 

گاؤں والوں کا مشترکہ بیان تھا کہ گھر سے قبرستان تک پہنچنے تک بچہ قد اور وزن میں کئی گنا بڑا ہو چکا تھا ۔ نازو پر تو جیسے قیامت گزر گئی اتنا 

مشکل عرصہ اس نے کسی اچھی امید پر گزار دیا تھا ۔’’ مگر‘‘ 

حوصلہ کر بھابھی جو ہوا سو اچھے کے لئے ہوا اس کے دیور انور نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر تسلی دی ۔

اچھا ؟

نازو خالی آنکھوں سے اس کو دیکھ کر رہ گئی۔

’’اب کیا اچھا ہونا ہے؟‘‘

افضل کا اس رات کے بعد کوئی پتا نہ تھا ۔

’’انور‘‘۔۔۔ اس کو کچھ خیا ل آیا۔

’’ جی بھابھی حکم کر ۔‘‘

’’انور اپنے بھائی کا کوئی پتا کوئی فون نمبر مجھے دے میرے بھائی اس کو تو معلوم ہی نہیں کیا قیامت گزری ہے ہمارے پر ۔۔۔‘‘

’’ بھابی ‘‘ انور گڑبڑا گیا ۔

’’ فون نمبر چل میں پتا کرتا ہوں ‘‘
کیا بتاؤں بھابھی کو ‘‘؟ انور سوچ میں پڑا ہوا تھا ۔

کوئی آج کی بات نہیں ، دو ڈھائی سال پہلے اس نے افضل سے سخت لڑائی کے بعد ہر طرح کا رشتہ ختم کر لینے کی قسم کھائی تھی ۔

اِدھر اُدھر سے خبریں سننے کے بعد اس نے افضل سے خو د بات کرنے کا ارادہ کیا اس کی مل پہنچ گیا تھا ۔

مگر وہاں کی صورتحال ہوش اُڑا دینے والی تھی ۔

افضل اپنی دوسری بیوی اور بچے کے ساتھ اطمینان سے زندگی گزار رہا تھا ۔

انور کے پوچھنے سے اس نے حتمی انداز میں کہہ دیا تھا کہ وہ نازمین کے ساتھ با لکل خوش نہیں ہے ۔ اور وہ شادی صر ف اس کے بزرگوں کا 

فیصلہ تھا ۔ اس لئے اس نے اپنی پسند سے دوسری شادی کرلی ہے ۔ خدا نے اسے بیٹا بھی دے دیا اب نازمین یا اس کی بیٹیوں سے اس کا 

کوئی تعلق نہیں ۔

انور نے اس کو بہت سمجھایا کہ بے شک وہ دوسری شادی کرلے مگر نازو اور اس کی بیٹیوں کا خیا ل بھی رکھے ۔ وہ اس کی اولاد ہیں ۔

مگر افضل کسی صورت راضی نہ تھا۔

’’ تو نازمین کو بتا دے کہ میر اب اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ میرا انتظار نہ کرے ‘‘۔

’’ اگر تیرا بھابھی سے تعلق نہیں تو یاد رکھ میرا تجھ سے اب تعلق نہیں ۔ ‘‘

میرا تیرے ساتھ اب جینے مرنے کا ہر رشتہ ختم سمجھ ۔
انور غصے میں بھرا یہ کہہ کر چلا آیا تھا۔

اور اتنے عرصے میں اس کا افضل کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا ۔

جب اس کو اپنی بیوی کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ افضل پچھلے دنوں گاؤں اپنے گھر آیا تھا ۔ اور نازو امید سے ہوگئی تھی۔ تو اس کو بہت خوشی اور 

اطمینان ہوا تھا ۔

اللہ کرے بھائی سدھر جائے ۔ اس نے دل سے دعا کی ۔

’’اس لئے اس نے کسی کو افضل کی دوسری شادی کے بارے میں نہیں بتایا کہ کبھی صبح کا بھولاشام کو لوٹ آئے ۔‘‘
’’ مگر اب بھابھی کو کیا بتاؤں ‘‘؟ اس نے سوچا ۔

’’ نہیں ضروری ہے کہ افضل کے علم میں ہو کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی ببوی نے کتنی تکلیف اٹھائی ہے۔‘‘

اس نے اپنی ڈائری سے افضل کی مل کا فون نمبر کاغذ پر اتارا ۔ 

’’ لے بھابھی دے دے بھائی کو اطلاع ‘‘

نازو نے فون نمبر تھام لیا ۔۔

چند دن پہلے ہی امیراں کے گھر فون لگ گیا تھا ۔ 

پہلے تو گاؤں والوں کو فون کے سلسلے میں گاؤں سے باہر جانا پڑتا تھا ۔

’’لے بھابھی‘‘
امیراں نے اپنے شوہر سے سیکھے گئے طریقے کے مطابق فون نمبر ملاکر نازو کو دے دیا۔

’’کر لے بھائی سے بات آرام سے ، میں تیرے لئے چائے لاتی ہوں۔‘‘

وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ نازو نے فون تھام لیا۔اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

’’ہیلو۔‘‘

’’ہیلو!‘‘ رابط ملنے پر اس نے کہا۔’’جی مجھے افضل حسین سے بات کرنی ہے،افضل حسین اوورسیئر۔‘‘

’’افضل حسین‘‘؟دوسری طرف آواز میں شدید حیرانی آگئی۔

’’آپ کون بول رہی ہیں؟‘‘

’’جی میں۔۔۔‘‘

’’ان کی۔۔۔‘‘نہ جانے کیوں ’’بیوی ‘‘بولتے ہوئے نازو کو شرم آگئی۔

’’میں ان کے گھر سے بات کر رہی ہوں۔۔۔‘‘

’’اوہ ۔۔۔تو آپ کو ابھی تک اطلاع نہیں پہنچی؟‘‘ادھر سے پوچھا گیا۔

’’کیسی اطلاع؟‘‘نازو کو گھبراہٹ ہونے لگی۔’’دیکھیں جی افضل حسین صاحب کا تو کوئی ڈیڑھ سال پہلے انتقال ہوگیا تھااچانک۔۔۔‘‘

’’کیا۔۔۔؟‘‘نازو پر جیسے چھت آن گری۔
’’ان کا تو شاید ہارٹ فیل ہوگیا تھا بیٹھے بیٹھے ہی ختم ہوگئے تھے۔‘‘

’’ان کی مسز اپنے بھائی کے ساتھ ڈیڈ باڈی لے گئی تھیں۔‘‘

’’مگر کیا انہوں نے گاؤں اطلاع نہیں دی؟‘‘

’’مسز۔۔۔ڈیڈ باڈی۔۔۔؟‘‘نازو فون کان سے لگائے بیٹھی رہ گئی۔

دوسری طرف سے رابطہ کٹ چکا تھا۔

مگر جیسے کمرے کی ہر چیز صرف ان دو لفظوں کی گردان کر رہی تھیں۔

’’ان کی مسز۔۔۔‘‘

’’ان کی ڈیڈ باڈی۔۔۔‘‘

پھر اچانک اس کے کانوں میں آواز گونجی۔

’’ڈیڑھ سال پہلے اچانک انکا ہارٹ فیل ہوگیا۔‘‘

’’اگر ۔۔۔اگر ڈیڑھ سال پہلے افضل مرچکا ہے تو 10مہینے پہلے ’’اس رات‘‘وہ کون تھا؟

نازمین کو تیز تیز چکر آنے لگے۔

امیراں کے وسیع صحن میں لگے بے شمار درخت سر جوڑ جیسے آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔
’’وہ کون تھا؟‘‘اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا وہ ’’شیطان‘‘

نازمین نے کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر چکر کھا کر گر پڑی۔ 

Leave a Reply