عشق خانہ خراب

ishq khana kharab urdu horror storyسنتے آئے ہیں کہ جب کوئی نیک انسان اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو بارش برستی ہے ۔ نہ جانے کتنی سچائی ہے اس کہاوت میں ۔ ۔ ۔

روح تو رخصت ہوئی تھی آج کسی کی ۔ ۔ اور بارش بھی برس رہی تھی ۔ ۔ برس کہاں رہی تھی ڈرا رہی تھی ۔ ۔ اتنی تیز کہ لگ رہا تھا طوفان آنے والا ہے ۔

بلکہ آچکا ہے ۔ گہرا اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا تھا ۔ لوگ سرِشام سے ہی گھروں میں بند ہو چکے تھے ۔ سڑکیں بلکل سنسان پڑی تھیں ۔

بار بار کڑکتی چمکتی بجلی سے اندھیرا چند لمحوں کو دور ہوتا تو راستہ صاف نظر آنے لگتا تھا ۔ بادل بری طرح گرج رہے تھے جیسے سخت غصے میں ہوں ۔

10 Second Bedtime Ritual Triggers Massive Weight Loss Overnight

نہ جانے کتنی دیر سے ڈرائیوکرتے فرہاد نے آخر گاڑی قبرستان کے آگے روک دی ۔ ۔ حالانکہ راستہ اتنا لمبا تو نہیں تھا مگر ۔ ۔ اس کا ذہن تو کام ہی نہیں کر رہا تھا ۔ ۔ کدھر جانا ہے ؟کس سے ملنا ہے؟

اور یہ وقت اس کام کے لئے بھلا کوئی مناسب تھا؟اتنی رات گئے ،اس طوفانی برسات میں ۔ ۔ نہ تو کوئی آدمی نظر آرہا تھا نہ آدم زاد ۔ ۔

مگر وہ اور کیا کرتا ؟اور اب وہ کیا کرے گا؟تھک کر اس نے سر اسٹیئرنگ کے اوپر ٹکا دیا ۔

تین مہینوں سے جس گھڑی کے تصور سے اس کا دل لرز جاتا تھا وہ آگئی تھی ۔ ۔ اور آ کر گذر گئی تھی ۔ اس پر قیامت گذر گئی تھی اور وہ زندہ تھا مگر ۔ ۔ وہ چلی گئی تھی ۔ ۔ مرگئی تھی ۔

کیا کیا نہیں سوچا تھا ان دونوں نے ۔ ۔ کیسے کیسے خواب دیکھے تھے ۔ ۔ کہاں گھومنے جائیں گے ۔ ۔ اپنا گھر کیسے سیٹ کریں گے ۔ ۔

سارے خواب کب پورے ہوتے ہیں ؟لیکن اتنی بھیانک تعبیر بھی تو نہیں ہوتی نہ کسی کے خوابوں کی ۔

شادی کا جوڑا ،کمرے کا فرنیچر، ہنی مون کا ٹکٹ ۔ ۔ سب کچھ ان دونوں نے مل کر پسند کرنا تھا ۔ مگر اس کے نصیب میں تو کچھ بھی نہیں تھا ۔ ۔ بے چاری ۔ ۔

اورآج وہ اکیلا نکلا تھا کچھ پسند کرنے ۔ ۔ اس کا آخری ٹھکانہ ۔ ۔ کتنی عجیب بات ہے نہ؟

وہ اتنی دیر سے گاڑی قبرستان کے دروازے کے آگے روکے دیوانگی میں جانے کیا سوچے جا رہا تھا ۔

کیا کروں گا اندر جا کر؟کیسے طے کئے جاتے ہیں یہ معاملات؟

قبر بہت اچھی جگہ ہو ،درخت کے نیچے ہو تو بہت اچھا ہے،اور ۔ اور کیا ۔ ۔

اس کا دل پھٹنے والا ہو گیا ۔ ۔ صبح سے اس کی آنکھوں سے ایک آنسوبھی نہ ٹپک سکا تھا ۔ ۔ شدید صدمے نے اس کے دماغ کو ماءوف کر دیا تھا ۔

کہتے ہیں مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا مگر ۔ ۔ اگر اس کے بس میں ہوتا تو خدا کی قسم وہ خوشی خوشی کفن پہن کر اس کے ساتھ قبر میں لیٹ جاتا ۔

ایسی ہی تھی اس کی محبت ۔ ۔ شدید ۔ ۔ دل کاٹ کر رکھ دینے والی ۔

اب کیسے جیے گا وہ؟اور جی کر بھی کیا کرے گا؟

قبرستان کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔ اندر گھپ اندھیرا تھا ۔ بارش دیوانہ وار برس رہی تھی ۔ ۔ بجلی چمکنے سے اندر کا منظر تھوڑی دیر کے لئے واضح ہو جاتا تھا ۔ اتنا دل دہلا دینے کا منظر کہ ا گر کوئی چندلمحوں کو غور سے دیکھ لے تو لرز کر گناہوں سے توبہ کر لے ۔ مگر ۔ ۔ کب کرتا ہے کوئی سچی توبہ؟

قبرستان کا منظر کیا ۔ ۔ اب تو قبروں میں بیٹھ کر شیطان کے پجاری مکروہ ،ناقابلِ یقین گناہ کر تے ہیں ۔

وہ “بھی ایک قبر میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ۔ بے حد پرانی ٹوٹی قبر میں ۔ ۔”

آج بارش کی وجہ سے قبرستان میں نہ تو کوئی چوکیدار تھا نہ گورکن ۔ ۔ “اس”کو یہ موقع بڑے انتظار کے بعد نصیب ہوا تھا ۔ آج بڑا بہترین دن بلکہ رات تھی ۔ کئی مہینوں کے کشٹ اٹھا کر کئے جانے والے عمل کے بعد آج منزل قریب آتی نظر آرہی تھی ۔

“وہ”

کوئی نیا تھوڑی تھا ۔ برسوں سے اس شیطانی راہ کا مسافر تھا ۔ “اُس “کے علم نے اسے بتا دیا تھا کہ باہر گاڑی میں بیٹھا شخص کس تکلیف سے گذر رہا ہے ۔ اتنی اذیت سے کہ وہ اپنے من کی مراد پانے کے لئے کوئی بھی قیمت دے سکتا ہے ۔ ۔ بڑی سے بڑی قیمت ۔ ۔


پوچھا تھا چارہ گر نے کہ عمرِمرض ہے کیا

تیمار دار بولے کہ بچپن سے عشق ہے

قسم سے فرہاد کو بھی بچپن سے عشق تھا ۔ ۔ ۔ شدید عشق ۔ ۔

رومیلہ اس کی پھوپھو کی بیٹی تھی ۔ اکلوتی بیٹی ۔

Delicious, Easy-To-Make Smoothies For Rapid Weight Loss, Increased Energy, & Incredible Health!

بے چاری پھوپھو ۔ ۔ نہ جانے کس سیاہی سے اپنا نصیب لکھوا کر لائی تھیں ۔ ۔ شادی کے چند برسوں بعد ہی بیوہ ہو کر بھائی کے در پر آ پڑی تھیں ۔ ایک معصوم بچی کے ہمراہ ۔ فرہاد کی امی کی تو کسی سے نہیں بنتی تھی اس کے ابو تک سے نہیں تو پھوپھو سے کہاں بنتی؟ان کو پھوپھو کاوجود بلکل برداشت نہیں تھا ۔ حالانکہ پھوپھو نے آہستہ آہستہ پورے گھر کے کام کاج کا بوجھ اٹھا لیا تھا ۔

رومیلہ پھوپھو کے جینے کی واحد وجہ تھی ۔ (جو کہ آہستہ آہستہ فرہاد کے جینے کی وجہ بھی بن گئی)رومیلہ کی زندگی کی واحد خوش نصیبی سچی محبت تھی ۔

فرہاد کی والہانہ محبت امی سے پوشیدہ نہ رہ سکی ۔ اور ظاہر ہے ان کی طرف سے شدید ناپسندیدگی کا اظہار ہوا ۔ وہ تو بڑی مشکل سے پھوپھو کو اتنے سالوں سے اپنے گھر میں برداشت کر رہی تھیں کہاں اپنے ٹکڑوں پر پلنے والی رومیلہ کو وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی دلہن کے روپ میں ساری زندگی دیکھتیں ۔ اگر ان کو فرہاد کے ابو کا تھوڑا بہت خوف نہ ہوتا تو وہ اس موڑ پر تو دونوں ماں بیٹی کو دھکے دے کر اپنے گھر سے نکال دیتیں ۔ مگر فرہاد کے ابو کو اس رشتے اور اپنے بیٹے کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔

اس طرف سے ناکام ہو کر امی نے پینترا بدل لیا ۔ اور کڑی شرائط لگانی شروع کر دیں ۔ انہوں سے صاف صاف کہ دیا کہ یہ عشق عاشقی کے معاملات انسان کو بلکل نکما کر دیتے ہیں پہلے فرہاد اپنی تعلیم مکمل کر لے یعنی ان کی خواہش کے مطابق ڈاکٹربن کر دکھا دے تو پھر وہ رومیلہ کو بہو بنا کر لے آئیں گی ۔ یعنی گھر میں موجود رومیلہ کو فرہاد کی دلہن بنا دیں گی ۔

فرہاد پر شاید اپنے نام کا ضرورت سے زیادہ اثر تھا ۔ اور اس کو کون سی دودھ کی نہر کھودنی تھی ۔ ایک ڈاکٹر ہی تو بننا تھاتو دن رات محنت کر کے بن گیا ۔

مگر کہانی میں کئی ایک

twist

آتے گئے ۔ پھوپھو کو اچانک کینسر تشخیص ہو گیا ۔ اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا اور اس کی تکلیفوں سے نجات پا کر چلی گئیں ۔ رومیلہ صدمے سے بے حال تھی مگر فرہاد کی محبت نے اسے جینے اور انتظار کرنے کا حوصلہ دیئے رکھا ۔ پھوپھو کے دنیا سے چلے جانے کے چند سال بعد فرہاد کے ابو بھی بہن کے پیچھے چلے گئے ۔

امی کو کھل کھیلنے کا پورا موقع مل گیا ۔ وہ رومیلہ سے بہت بدسلوکی کرنے لگی تھیں ۔ ان کا اس بے آسرا ،معمولی لڑکی کو بہو بنانے کا بلکل ارادہ نہیں تھا ۔

نہ جانے فرہا د کو رومیلہ میں نظر کیا آتا ہے”؟ وہ اکثر حیران ہو کرسو چتیں ۔”

مگر یہ سوال کون سا نیا تھا؟ جب سے یہ دنیا بنی ہے ہزاروں مرتبہ دہرایا گیا ہے یہ سوال ۔ ۔ مجنوں کو لیلی میں کیا نظر آتا تھا؟بھلا کون دے سکا ہے جواب آج تک ۔ ۔

رومیلہ کے نصیب میں کچھ لکھا ہو یا نہ ہو سچی محبت ضرورلکھی ہوئی تھی ۔ بے حد سچی محبت ۔ ۔

فرہاد نے

MBBS

کر لیاپھر ہاءوس جاب بھی مکمل کر لی ۔ مگر امی پھر اپنی بات سے ہٹ گئیں ۔ اور باہر جا کر

FRCS

کرنے کی شرط لگا دی ۔ مگر اب فرہاد نے ضد پکڑ لی ۔ ۔ اس کو شادی کی اتنی جلدی ہو یا نہ ہو مگر اب اس سے امی اور نمرہ باجی کا رومیلہ سے دن بہ دن برا ہوتا سلوک برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ اس کی فطرت اور تربیت میں ماں اور بہن کے ساتھ بد تمیزی کرنا یا ان کے

against

جانا بلکل نہیں تھا ۔ اس لئے وہ چاہتا تھا کہ رومیلہ کو ہر تکلیف سے بچانے کا اور خوش رکھنے کا

قانونی

 حق مل جائے ۔

مگر جو تکلیف قسمت میں لکھ دی گئی ہو اس سے کون بچ سکتا ہے؟

رومیلہ اپنی ماں کی ہم شکل تو تھی ہی حیرت انگیز طور پراچانک اس کو اپنی ماں والی بیماری تشخیص ہو گئی ۔ کینسر ۔ ۔ اور بھی آخری اسٹیج پر ۔ ۔

فرہاد کو اپنے کانوں پر اور امی کو اپنی قسمت پر یقین نہیں آیا ۔ انہوں نے فرہاد کے سخت دکھ اور رومیلہ کی شدید تکلیف کو بلکل نظر انداز کر دیا ۔ ڈاکٹرز نے رومیلہ کی زندگی کی صرف چند ماہ کی گارنٹی دے دی اور امی نے نمرہ کی نند سے فرہاد کا رشتہ طے کر دیا ۔

ظاہر ہے فرہاد نے سخت احتجاج کیا مگر امی کے پاس ایک مشہور کہاوت موجود تھی کہ”مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا” ۔

!امی”

ابھی ملی زندہ ہے ۔ ۔ اگر اس کو بچانے کے لئے مجھے اپنی جان بھی دینا پڑی تو میں دے دوں گا ۔ ۔ اور اگر خدا نخواستہ وہ نہ رہی تو پھر میں کبھی شادی نہیں کروں گا ۔ ۔ کبھی بھی نہیں” ۔ ۔

فرہاد کہ لہجہ بلکل اٹل تھا ۔

امی نے غصے بھری نظر اس عاشقِ صادق پر ڈالی تھی اور دوسرے دن احتجاجاًاپنا سامان اٹھا کر نمرہ باجی کے گھر شفٹ ہو گئی تھیں ۔ نمرہ خود دل سے فرہاد کی شادی اپنی نند سے کروانا چاہتی تھی ۔ اس کو امی کا فیصلہ بہت پسند آیا ۔

مگر ۔ ۔ قسمت کا لکھا بھی اٹل تھا ۔ مِلی دنیا سے چلی گئی ۔ فرہاد نہ تو اسے بچاسکا،نہ ہی اپنی جان دے سکا ۔ ۔ ہاں اب وہ اس کو آخری گھر دینے چلا آیا تھا ۔ ۔ اس طوفانی بارش اور خوفناک رات میں ۔ ۔


گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکائے ،نہ جانے فرہادسو گیا تھا یا تھوڑی دیر کو بے ہوش ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔

“وہ”

تھوڑی دیر باہر کھڑا جائزہ لیتا رہا ۔ “اُس “کے ہونٹوں پر پھیلی پراسرارمسکراہٹ گہری ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ وہ

کسی ایسے شکاری کی طرح فرہاد کا جائزہ لے رہا تھا جس کو پکا یقین ہو کہ نشانہ خطا نہیں ہو سکتا ۔

اس نے آہستہ سے شیشے پر دستک دی ۔ فرہاد چونک کر اٹھ گیا ۔

“کیا بات ہے؟کون ہو تم؟”

“سونے کے لئے نہ تو یہ جگہ مناسب ہے نہ یہ وقت ۔ ۔ “اُس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

“تم سے مطلب؟تمہارے باپ کی سڑک ہے؟”آخرکو فرہاد شدید فرسٹریٹ تھا ۔

“سڑک تو تیرے باپ کی بھی نہیں ہے بابو ۔ ۔ بہت دکھی لگ رہا ہے کون مر گیا ہے؟”

” میں نے کہا نہ تم سے مطلب؟دفع ہو جاءو ۔ ۔ “فرہا د بری طرح چڑ گیا ۔

“تیرا مطلب اگر آج کوئی پورا کر سکتا ہے تو وہ میں ہوں بابو ۔ ۔ آزما کر دیکھ ۔ “وہ سنجیدہ ہو گیا ۔

“تم چاہتے کیا ہو؟”فرہاد کو اس کا اندازچونکا رہا تھا ۔

“یہ جگہ ان باتوں کے لئے بھی مناسب نہیں ہے بابو” اس کی مسکراہٹ لوٹ آئی ۔ “میرے ساتھ چلو ۔ ۔ تمہاری ہر تمنا پوری ہو سکتی ہے ۔ ۔ بس تھوڑی سی ہمت” ۔ ۔ “


کس قدر پراسرار تھا اس شخص کا گھر ۔ ۔ اگر اس کو گھر کہا جائے تو ۔ اس قبرستان میں بھی اتنا ڈر نہیں لگ رہا تھا جتنا اس مختصرکباڑ خانے میں لگ رہا تھا ۔ ہر طرف نیم اندھیرا تھا صرف ایک لالٹین دیوار پر لٹکی جل رہی تھی ۔ زمین پر گندی سی دری بچھی ہوئی تھی جس پر فرہاد اور وہ شخص بیٹھ گئے ۔ کئی بلیاں آزادانہ اِدھر اُدھر پھر رہی تھیں ۔ زمین پرگندے برتن پڑے تھے ۔ درو دیوار پر وحشت اور نحوست برس رہی تھی ۔

فرہاد کا کئی گھنٹوں سے سُن ذہن آہستہ آہستہ کام کرنے لگا تھا ۔ ۔ ۔

اس مختصر کوٹھری کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی نظر ایک کونے پر پڑ گئی ۔ اس کا دل زور سے دھڑک اٹھا ۔ ۔ ایک بھیانک ،بدشکل مورتی میز پر سجی تھی جس کے آس پاس بے شمار باسی پھول بکھرے ہوئے تھے ۔ ۔

فرہاد نے گھبرا کر دوبارہ اس شخص پر نظر ڈالی “کون ہو تم؟اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟”

“کہاں زندگی گزاری ہے تو نے بابو،تجھے ابھی تک اندازہ نہیں ہوا میں کون ہوں ؟”اس کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ تھی ۔

“کیا ساری عمر عشق میں ہی بتا دی ہے؟”

فرہاد کو جیسے جھٹکا لگا “تم ۔ ۔ ۔ تم کیسے جانتے ہو؟”

” میں بہت کچھ جانتا ہوں ،اور جو نہیں جانتا وہ تو بتا دے ۔ ۔ “اس نے فرہاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں ۔

فرہاد کو لگنے لگا اس شخص کی آنکھوں میں ناقابلِ بیان کشش ہے ۔ وہ جیسے ٹرانس میں آنے لگا ۔ ۔ اس کا معمول بن گیا ۔

“آج رومیلہ مر گئی ۔ ۔ میری مِلی چلی گئی ۔ ۔ ہمیشہ کے لئے مجھے چھوڑ گئی ۔ ۔ “فرہاد کی خشک آنکھیں گیلی ہونے لگیں ۔

“اب میں کیا کروں گا ۔ ۔ میں زندہ رہ کر کیا کروں گا ۔ ۔ “

شروع سے کہانی سناتے سناتے،اس موڑ پر آ کر آخر کار وہ زور زور سے رونے لگا ۔


کیا قیمت دے سکتا ہے اپنی محبوبہ کی زندگی کی؟

“کیا مطلب ؟”فرہا د کو جیسے جھٹکا لگا ۔ وہ اپنی آنسوءوں سے بھری آنکھوں سے اس شخص کو گھورنے لگا ۔

“کیا کر سکتا ہے تو اپنی ۔ ۔ کیا نام ہے اس کا؟ ہاں مِلی کو واپس لانے کے لئے ۔ ۔ “

“کیا پاگل ہو تم ؟مِلی مر چکی ہے ،گھنٹوں گذر چکے اس کو دنیا سے گئے ہوئے ۔ “فرہاد بری طرح جھنجلا گیا ۔

“بابو!تو پہلے بازی تو لگا ،پتے بعد میں کھیلنا ۔ ” وہ اپنی بات پر اڑا ہوا تھا ۔

“میری سمجھ میں تمہاری بکواس نہیں آرہی ہے ۔ بہر حال ۔ ۔ میں اپنی جان دے سکتا ہوں ملی کے لئے ۔ ۔ “فرہاد بحث سے تھک گیا ۔

“ہوں ۔ ۔ تیری ملی تجھے واپس مل سکتی ہے ۔ ۔ وہ دوبارہ جی اٹھے گی ۔ ۔ مگر ۔ ۔ تجھے جان دینی نہیں ہے ۔ ۔ جان لینی ہے ۔ ۔ بول منظور ۔ ۔ ؟”

بادل بہت زورسے گرجے ۔ ۔ بہت تیز دھماکہ ہوا تھا ۔ شاید کہیں بجلی گری تھی ۔ ۔


دیوار پر لگے وال کلاک نے دو بجائے ۔ ۔

فرہاد نے اپنے سامنے رکھی فائل بند کر دی ۔ کتنی ہی دیر سے وہ بلا وجہ صفحے الٹ رہا تھا ۔ وہ اپنے کمرے سے نکل آیا ۔

بارہ بجے

visiting hours

ختم ہو چکے تھے ۔ اس وقت ہاسپٹل میں حسبِ معمول خاموشی تھی ۔ ۔ بلکل خاموشی ۔

تمام مریض اپنے اپنے بیڈز پرسو رہے تھے ۔ ڈیوٹی پرموجود نرسیں اس وقت اسٹاف روم میں موجود تھیں ۔ رات کے وقت ان کو ہر دو گھنٹے کے بعد پورے ہاسپٹل کا راءونڈ لینا ہوتا تھا ۔

فرہاد دبے پاءوں چلتا ہوا ۔ ۔ سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا آیا ۔ جہاں ہاسپٹل کا

morgue

سرد خانہ )تھا ۔ ۔ اس نے آڑ میں ہو کر نظر ڈالی ۔ گارڈ کی کرسی خالی پڑی تھی ۔ اس نے سکون کا سانس لیا ۔)

اس وقت گارڈ چھپ کر کمرے میں جا کر سو جاتا تھا ۔ بھلا لاشوں نے بھاگ کر کہاں جانا تھا؟

فرہاد تیزی سے

morgue

کے اندر آ گیا ۔ چند بد قسمت لاوارث لاشیں بیڈز پر موجود تھیں ۔ ۔ ان سے نظریں چراتا وہ سب سے کونے کے بیڈ تک پہنچ گیا ۔ ۔ آہستہ سے اس نے لاش کے چہرے سے سفید چادر ہٹا دی ۔ ۔

رومیلہ” ۔ ۔ اس کے ہونٹ کپکپا گئے ۔”

مِلی “۔ ۔ میری جان ۔ ۔ میں تمہیں واپس لاءوں گا ۔ ۔ ہر قیمت پر لاءوں گا ۔ ۔ “


کسی زندگی کی کیا قیمت ہو سکتی ہے؟اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لئے دام لگانا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے ۔ زن اور زمین خا ک و خون مانگتے رہے ہیں ۔ ۔ حسین چہروں نے بارہا ہزاروں جانوں کا نذرانہ وصول کیا ہے ۔ مگر ۔ ۔ اس کہانی میں سودا بہت ہی انوکھا تھا ۔ چہرہ بے شک حسین تھا مگر دنیا سے رخصت ہو چکا تھا ۔ ۔ اور اس کو واپس بلانے کے لئے تین زندگیوں کو دنیا کے پار بھیجنا تھا ۔ ۔

محبت مگرمردہ ۔ ۔ اور واپسی کی قیمت تین زندگیاں ۔ ۔

فرہا د بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا ۔ ۔ اس کے کانوں میں ایک آواز گونج رہی تھی ۔

اگر تجھے اپنی ملی واپس چاہیے ۔ ۔ جیتی جاگتی ،ہنستی مسکراتی ۔ ۔ تو تجھے تین انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنا      پڑے گا ۔ ۔ تین انسانوں کا قتل ہے تیری محبت کی قیمت ۔ ۔ جیسے جیسے ان لوگوں کی جان نکلتی جائے گی رومیلہ کی روح واپس پلٹتی جائے گی ۔ اور جیسے ہی تو آخری انسان کا خون کر دے گا تیری محبوبہ اٹھ بیٹھے گی “۔ 

مجھے ۔ ۔ منظور ہے “۔  فرہاد کے منہ سے نکلا تھا ۔”

پھر اس رات فرہاد نے ملی کے لئے قبر نہیں خریدی بلکہ اس کو اپنے اسپتال کے سرد خانے میں منتقل کردیا ۔ ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے یہ مراحل طے کرنا اس کے لئے بلکل آسان تھا ۔ مگر ۔ ۔ اب آگے کے مراحل اتنے آسان نہیں تھے ۔ بہت مشکل ۔ ۔ بہت پیچیدہ تھے ۔

مگر عشق نے کبھی ہار مانی ہے؟


اماوس کی ر ا ت پلٹ کرآگئی تھی ۔

ایک جانا پہچانا خوف ۔ ۔ جیسے اسکول کا پہلادن ۔ ۔ نوکری کے لئے پہلا انٹرویو ۔ ۔ اور ۔ ۔ آج پہلا قتل ۔ ۔

اپنا پہلا شکار فرہاد نے بہت دنوں سے نظر میں رکھا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ سرکاری اسپتال ہونے کی وجہ سے بہت سے لاوارث مریض بھی یہاں زیرِ علاج تھے ۔ ان میں سے ایک خاتون نسیمہ بیگم کی حالت بہت بگڑ چکی تھی ۔ وہ کافی دنوں سے اسپتال میں تھیں اور ان سے کبھی کوئی ملنے نہیں آتا تھا ۔

فرہاد کو بے چینی سے مقررہ تاریخ کا انتظار تھا ۔ ۔ یعنی چاند کی آخری تاریخ کا ۔ ۔

جیسے ہی گھڑی نے دو بجائے فرہاد اٹھ کھڑا ہوا ۔

اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے انجکشن نکال لیا ۔ ۔ اس کے سرد چہرے پر بلب کی روشنی سیدھی پڑ رہی تھی ۔ ۔ اس نے سرنج میں انجکشن کو بھر لیا ۔ اس کا ذہن بلکل خالی تھی ۔ ۔ وہ کیا کر رہا تھا ۔ ۔ کون سا گناہ کرنے جا رہا تھا ۔ ۔ وہ کچھ نہیں سوچ رہا تھا ۔

وزیٹنگ آورز ختم ہو چکے تھے ۔ ڈیوٹی پر موجود اسٹاف پر سستی اور نیند کا غلبہ طاری تھا ۔

فرہاد نے دبے پاءوں گراءونڈ فلور کا ایک راءونڈ لگایا اور پھرسیڑھیاں چڑھ کر فرسٹ فلور پر آگیا ۔ جہاں جنرل وارڈ کے کونے کے ایک بستر پر نسیمہ بیگم گہری نیند سو رہی تھیں ۔ وارڈ تقریباً خالی تھا ۔ نسیمہ کے علاوہ دو اور مریض بھی موجود تھے،مگر گہری نیند سو رہے تھے ۔ ان کو سونا ہی تھا ۔ آج ان کی دوا میں نیند کی دوا کا بڑا ڈوز شامل کردینا فرہاد کے لیے بلکل آسان تھا ۔

فرہاد کو ہاتھ میں پکڑی سرنج کو نسیمہ کے بازو میں گھسانے میں چند سیکنڈ لگے ہوں گے ۔ پہلے سے ہی موت کی آخری سیڑھیوں پر کھڑی نسیمہ تھوڑی سی دیر میں آسمان پرپہنچ گئی ۔ بنا کسی مزاحمت کے ۔ ۔


نہ جانے کون سا پہر تھا رات کا ۔ ۔ چاند کی آخری تاریخ کی وجہ سے راستے بلکل تاریک ہو رہے تھے ۔ ماحول پر مخصوص وحشت چھائی ہوئی تھی ۔ بلیاں نہ جانے کیوں مکروہ آوازیں نکال رہی تھیں ۔ ۔ جیسے بین کر رہی ہوں ۔ ۔

اپنے ڈراءونے گھر کے کونے میں رکھی مورتی کے آگے عجیب سا آسن باندھے ۔ ۔ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہوئے جیون داس نے اچانک آنکھیں کھول دیں ۔ ۔ ایک بہت تیز دھماکہ ہوا تھا ۔ ۔ ایک اذیت میں ڈوبی چیخ گونجی تھی ۔ ۔ کسی عورت کی چیخ ۔ ۔

جیون داس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی ۔ ۔

“ارے واہ بابو ۔ ۔ کمال کر دیا ۔ ۔ “


ٓفرہاد کے انتہائی بے دردی سے انجکشن ٹھونسنے کی وجہ سے بے چاری عمر رسیدہ ،کمزور نسیمہ کے بازو سے بھی چند قطرے خون کے نکل ہی آئے تھے ۔ فرہاد نے احتیاط سے وہ خون اپنی انگلی پر جمع کر لیا ۔ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر وہ سرد خانے کی طرف جا رہا تھا ۔

جس طرح کسی ڈرامے کے اینڈ پر انتہائی گناہگار لوگ ایکسیڈینٹ یا فالج کا شکار ہو کر گناہوں سے توبہ کر لیتے ہیں اور بلکل بدل جاتے ہیں اسی طرح صاف ستھری زندگی گذارتا ہوا فرہاد شیطان کے گھیرے میں پھنسا کسی چالاک سیریل کلر کی طرح کامیاب چالیں چل رہا تھا ۔

سرد خانے کے آگے رکھی گارڈ کی کرسی حسبِ معمول خالی پڑی تھی ۔

رومیلہ کی لاش کے پاس پہنچ کر فرہاد نے اس کے چہرے سے سفید چادر ہٹا دی ۔ ۔ اور ۔ ۔ انگلی پر لگے خون سے اس کے سرد ماتھے پر تلک لگا دیا ۔


انور صاحب کی عمر تو اتنی نہیں ہو گی مگر بے چارے بہت کمزور تھے ۔ ٹاءفائیڈبگڑجانے کی وجہ سے ہاسپیٹل میں ایڈمٹ کرنا پڑا تھا ۔ ان کی بیگم وفات پا چکی تھیں ۔ دو کم عمر معصوم سی بیٹیاں دن بھر ان کے ساتھ رہتی تھیں مگر رات کو وہ زبردستی ان کو گھر بھیج دیتے تھے ۔

بے چاری لڑکیاں بے چینی سے اپنے پیارے ابو کے صحت مند ہونے کی دعائیں اور ان کے گھر آنے کا انتظار کر رہی تھیں ۔ ۔ ۔ اور فرہاد چاند کی آخری تاریخ کا ۔ ۔ ۔

وقت تو کبھی رکتاہی نہیں اورچاند کی آخری تاریخ بھی آخر آہی گئی ۔ ۔

وہی روٹین ،وہی ڈیوٹی پر موجود اسٹاف اور ۔ ۔ وہی فرہاد کا جنون ۔ ۔ جیون دا س سے ایگریمنٹ کر لینے کے بعد فرہاد نے اپنی ڈیوٹی مستقل ناءٹ شفٹ میں لگوا لی تھی ۔ قتل کرنے کا مزہ تو رات ہی میں ہے ۔ ۔

بلب کی روشنی سیدھی فرہاد کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔ ۔ اس نے اپنے ہاتھوں پر ربر کے موٹے دستانے چڑھالئے اور آہستہ سے کمرے سے نکل آیا ۔

انور صاحب پرائیویٹ روم میں ایڈمٹ تھے ۔ نرس انہیں دوا کھلا چکی تھی اور وہ بے خبر سو رہے تھے ۔ فرہاد ان کے قریب کھڑا چند لمحے انہیں دیکھتا رہا ۔ شاید اس کی نگاہوں کی تپش سے انور صاحب کی آنکھ کھل گئی ۔ ۔ جانے پہچانے،مہربان ڈاکٹر فرہاد کو اپنے پاس کھڑا دیکھ کر انور صاحب کے ہونٹوں پر کمزور سی مسکراہٹ بکھر گئی ۔

“ڈاکٹر صاحب”

نہ جانے وہ کیا کہنے لگے تھے کہ فرہاد کے مضبوط ہاتھ نے ان کا منہ سختی سے بند کر دیا ۔ ۔ ہمیشہ کے لئے ۔ ۔


محبت تو محبت ہوتی ہے ۔ ۔ کون مقابلہ کر سکتا ہے کہ کس کی محبت میں زیادہ طاقت ،زیادہ دیوانگی ہے؟ کیا انور صاحب کی معصوم بچیوں کو اپنے باپ سے محبت نہیں تھی جن کے سوا پوری دنیا میں میں ان کا اور کوئی سہارا نہیں تھا ۔ ۔ نسیمہ بیگم کا دنیا میں کوئی نہیں تھا مگر خدا تو تھا ۔ ۔ اور خدا تو ستر ماءوں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔

کس نے حق دیا تھا فرہاد کو؟؟کہ وہ اپنی محبت کو پانے کے لئے لاشیں گراتا پھرے ۔ ۔ خدا کے کاموں میں دخل اندازی کرتا پھرے ۔ ۔ اور کون کرسکتا ہے خدا کے کاموں میں دخل اندازی ؟کون کھڑا ہونے کی تاب لا سکتا ہے اس کے فیصلوں کے سامنے؟

نہیں ۔ ۔ کوئی نہیں ۔ ۔


آج پھر فرہاد رومیلہ کی لاش کے پاس کھڑا اس کے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا ۔ ۔ دو قتل ہو گئے مگر ملی تو ویسی ہی بے جان تھی ۔ ۔ بلکہ اس کا چہرہ تو گواہی دے رہا تھا کہ اس کو دنیا سے گئے وقت گذر چکا ہے ۔ ۔ مِلی کے ہونٹوں پر گہری نیلاہٹ نمودار ہو گئی تھی ۔

مِلی ۔ ۔ مِلی ۔ ۔ آنکھیں کھولو” ۔ ۔ فرہاد نے بے ساختہ پکارا ۔ ۔”

آپ یہا ں کیا کر رہے ہیں” ؟ بلکل خاموش کمرے میں ایک آواز گونجی ۔”

فرہاد بری طرح چونک گیا ۔


فرہادنے مڑ کر دیکھا ۔

سر! آپ اس وقت مورگ میں” ۔ ۔ ؟ سسٹرنور ین حیران ہو کر پوچھ رہی تھی ۔”

فرہا د کو خود کو کنٹرول کرنے میں چند سیکنڈ لگے ۔

جی ۔ ۔ یہ گارڈ کہاں ہے؟ میں اس کو چیک کرنے آیا تھا” ۔  اس نے اپنا لہجہ سخت کرلیا ۔”

 

“سر۔۔ وہ”

نورین ایک دم گھبرا گئی ۔ ۔اس کی بہت مرتبہ رپورٹ ہو چکی ہے وہ رات کو کمرے میں جا کر سو جاتا ہے ۔ 

آپ کی ڈیوٹی اس وقت کہاں ہوتی ہے؟ فرہاد نے پوچھا ۔

“سر میں راءونڈ لے رہی تھی ،مورگ کا دروازہ کھلا دیکھا تو یہاں آگئی ۔ “

فرہا د کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ اس نے اندرآکر دروازہ بند نہیں کیا تھا ۔

 میں بھی دروازہ کھلا دیکھ کر اندر آ گیا تھا ۔ ۔ خیر”

every thing is ok

آپ جائیں راءونڈ لیں” ۔ ۔


پھر وہی پراسرار،خوفناک کمرہ تھا ۔ ۔ آج اس کی نحوست اور بدبو میں اور اضافہ لگ رہا تھا ۔

جیون داس کی شکل بھی مزید مکروہ لگ رہی تھی ۔

تم نے تو کہا تھا کہ جیسے جیسے میں لوگوں کو قتل کروں گا رومیلہ میں جان آتی جائے گی ،مگر اس میں تو کوئی فرق

نہیں آرہا ہے بلکہ اس کی لاش خراب ہونے والی ہے” ۔ فرہاد اسے گھور رہا تھا ۔

جیون داس کو فرہاد کے غصے سے کوئی فرق نہیں پڑا ۔

بلکل کہا تھا اور ایسا ہی ہو گا ۔ ۔ مگر بابو میں نے یہ تھوڑی کہا تھا کہ تو صرف پہلے سے قبر میں پیر لٹکائے ہوئے”

لوگوں کو قتل کر ۔ ۔ بابو اب آخری بھینٹ جوان خون کی چڑھا بلکل جوان خون کی” ۔ ۔ ۔

جوان ۔ ۔ میں جوان انسان کہاں سے لے آءوں مار ڈالنے کے لئے؟ تم نے مجھے کوئی عادی قاتل سمجھ لیا “

ہے؟”فرہاد کا غصہ بڑھ رہا تھا ۔

بابو! یہ تو تجھے سودا طے کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا ۔ اس وقت تو پوری دنیا کو ہلانے کے لئے تیار تھا ۔ ۔ کیا 

دو مہینوں میں میں محبت کا بھوت اتر گیا ہے”؟جیون داس خود بھی کسی بھوت سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔

بکواس مت کرو” ۔ ۔طعنہ فرہاد کی برداشت سے بہت زیادہ تھا ۔”

تُو سمجھ کیا رہا ہے بابو! میں خود کم کشٹ اٹھا رہا ہوں ؟اس وقت سے ایک رات بھی آنکھ نہیں لگی ہے میری ۔ سخت دشوار عمل کر رہا ہوں دیوی کے آگے ۔ ۔ اب اگر تو نے ذرا بھی چوک کی،معمولی غلطی بھی ہوئی تو سارا کھیل الٹ جائے گا ۔ ۔ قیامت آ جائے گی “۔ ۔ 

جیون داس کی خون کی طرح سرخ آنکھیں گواہی دے رہی تھیں کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا ہے،جانے کب سے مسلسل جاگ رہا ہے ۔ ۔

“ٹھیک ہے ۔ ۔ لیکن اگر تیسرے قتل کے بعد بھی رومیلہ زندہ نہ ہوئی تو میں ایک چوتھا قتل بھی کروں گا ۔ ۔ اور وہ قتل تمہارا ہو گا ۔ ۔ “

“ہا ہا ہا ۔ ۔ ۔ ” جیون دا س کا قہقہہ بلکل نیچرل تھا ۔


ہا ہا ہا” ۔ ۔ جیون داس ابھی بھی ہنس رہا تھا ۔ ۔ مگر وجہ کچھ اورتھی ۔ ۔”

بابو ۔ ۔ رومیلہ جاگے گی ۔ ۔ ضرور جاگے گی ۔ ۔ تو آخری قتل تو کر ۔ ۔ کسی جوان انسان کا ۔ ۔ میری دیوی کو جوان خون کی بھینٹ چاہئے ۔ ۔ گرم خون کی ۔ ۔

ملی دوبارہ زندہ ضرور ہو گی ۔ ۔ مگر ۔ ۔ وہ تیری نہیں ہو گی وہ میری ہو گی ۔ ۔ میرے لئے کام کرے گی ۔ ۔ ہر وہ کام جس کا میں اسے حکم دوں گا ۔ ۔ بابو ۔ ۔ تُو تو بس ایک مہرہ ہے ۔ ۔ میں اس دنیا پر حکومت کروں گا ۔ ۔ میں صرف نام کا جیون نہیں رہوں گا میں سچ مچ مردوں کو جیون دیا کروں گا ۔ ۔ “

اس مخصوص ٹوٹی ہوئی قبر میں بیٹھ کر کر جیون داس ایک گھناءونا ،کالاعمل کر رہا تھا ۔ اُس عمل کو عین اس وقت مکمل ہونا تھا جس وقت فرہاد آخری قتل کر ڈالتا ۔ جیون داس کی دیوی کو من مانگی بھینٹ مل جاتی ۔ ۔ اور جیون داس کو بے حساب شیطانی طاقتیں حاصل ہو جاتیں ۔ ۔ اور وہ ہر شیطانی عمل پر قادر ہو جاتا ۔

وہ قبر میں بیٹھا آنے والے حسین وقت کے تصور سے ہنسے جا رہا تھا ۔ ۔ اور چشمِ تصور سے ساری قبروں سے مردوں کو زندہ ہو کر نکلتے  دیکھ رہا تھا ۔ ۔


سسٹر نورین نے فرہاد کی تلاش کو فل اسٹاپ لگا دیا تھا ۔ وہ کسی گاءوں سے آئی تھی اور اسپتال کے ہاسٹل میں رہتی تھا ۔ اور بلکل نوجوان تھی ۔ ۔ جیون داس کی ہدایت کے عین مطابق ۔ ۔ ۔

فرہاد نے اپنے گھر کا دروازہ کھولا ۔ ۔ نورین جھجکتی ہوئی اندر آگئی ۔ ۔

سانولی سلونی،کم عمری کی خوبصورتی لئے نورین اس وقت بڑی پیاری لگ رہی تھی ۔

فرہاد نے سر سے پیر تک ا س کا جائزہ لیا ۔ ۔

نورین نے اس کے جائزے کا کچھ اورمطلب سمجھ لیا اور شرما گئی ۔

ویسے اگر سوچا جائے تو کچھ مسئلہ ہی نہ ہو ۔ ۔ کبھی نہ ہو ۔ ۔ رومیلہ بھی ایک لڑکی تھی،اور نورین بھی ۔ ۔ رومیلہ کب کی مر چکی تھی اور نورین سانس لیتی فرہاد کے سامنے تھی ۔ کسی قتل کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ ۔ نورین دل و جان سے فرہاد کی جیون ساتھی بن کر اس کے ساتھ جیون بلکہ سات جنم بتِانے کو تیار تھی ۔ فرہاد کو اشارے کی ضرورت بھی نہ پڑتی اور نورین اس خوبصورت ڈاکٹر کی تمام عمر سیوا کرتی رہتی ۔ مگر ۔ ۔ ۔

ہر کوئی ” تُو نہیں اور سہی ” کی کہاوت پر عمل تھوڑی کرتا ہے ۔ ۔ کم از کم فرہا د تو ہر گز نہیں ۔ ۔

نہ جانے کتنے خواب سجا لئے تھے نورین نے اپنی آنکھوں میں ، کل رات سے لے کر اس وقت تک ۔ ۔

جب فرہا د نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی ،تاکہ باقی معاملات طے کئے جا سکیں ۔ ۔ آخر ایسی باتیں ہاسپٹل میں تھوڑی کی جا سکتی تھیں ۔ ۔

اور ملاقات کو انتہائی خفیہ رکھنے کی تاکید کی تھی ۔ ۔ کسی کو کانوں کان علم نہ ہو ۔ ۔

چوبیس گھنٹوں میں کیا کیا نہیں سوچ لیا تھا بے چاری نے ۔ ۔ منگنی کی انگوٹھی کا ڈیزائن،شادی کے جوڑے کا رنگ،اور شاید اپنے ہونے والے بچوں کے نام ۔ ۔ اسے تو اپنی خوش قسمتی پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا ۔ ۔

مگر اس بڑی غلط فہمی سے بھی ایک بہت بڑا شاک اسے آج لگنا تھا ۔ ۔

فرہاد اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر چائے بنانے چلا گیا ۔ ۔ نورین نے تھوڑی دیر تو انتظار کیا پھر کچھ رومینٹک ہو کر اس نے فرہاد کے سا تھ مل کر چائے بنانے کا ارادہ کر لیا ۔ ۔

جس طرح ہینڈ سم ڈریکولا کی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اچانک نوکیلے ،لمبے دانت نمودار ہو جاتے ہیں ،سرنج میں انجکشن بھرتا فرہاد اتنا ہی اجنبی اور ڈراءونا لگ رہا تھا ۔

زہر کا انجکشن پہچاننے میں نورین کو بلکل دیر نہیں لگی ۔ ۔ آخر کو نرس تھی ۔

نسیمہ اور انور جیسے ادھیڑ عمر ،کمزور، سوئے ہوئے لوگوں کو مارنا بلکل مختلف اور آسان تھا ۔ ۔ مگر نورین نے اسے ٹھیک ٹھاک

tough time

دیا ۔ ۔

کتنی ہی دیر وہ دونوں آگے پیچھے بھاگتے ہوئے چوہے بلی کا کھیل کھیلتے رہے ۔

آخر نورین بے چاری ٹھوکر کھا کر گر پڑی ۔ ۔ فرہاد بری طرح ہانپ رہا تھا ۔ ۔

کانپتے ہوئے ہاتھوں سے وہ انجکشن لگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ ۔ اور نورین اپنی زندگی بچانے کی ۔ ۔

نورین بری طرح مزاحمت کر رہی تھی ۔ ۔ مگرفرہاد نے آخر کار انجکشن نورین کے بازو میں گھسا ہی دیا ۔ ۔

مگر ۔ ۔ فرہاد بے چارہ ۔ ۔ کوئی “قتل ایکسپرٹ ” تھوڑی نہ تھا ۔ ۔ وہ بری طرح گھبرایا ہوا تھا ۔ ۔ اور قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ ۔


آ ج پھرطوفانی بارش برس رہی تھی ۔ ۔

فرہاد نے نورین کوبڑی مشکل سے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا ۔

مسلسل ٹینشن سے فرہاد کی حالت تباہ ہو رہی تھی ۔ اس کے اعصاب جواب دے چکے تھے ۔ قدرت کے نظام کے خلاف جانا آسان بات نہیں ہوتی ہے ۔ ۔

راستے میں ،پہلے سے سوچے ہوئے ایک ویران جگہ پر پڑے کچرے کے ڈھیر پر اس نے نورین کودھکیل دیا ۔ اور دوبارہ گاڑی میں آکر بیٹھ گیا ۔

فرہاد کو چند قدم آگے کا راستہ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ ۔

کچھ بارش کی وجہ سے ۔ ۔ اور کچھ مسلسل بہنے والے آنسوءوں کی وجہ سے ۔ ۔


نورین کے ماں باپ بہت غریب تھے ۔ ایک چھوٹے سے گاءوں سے ان کا تعلق تھا ۔ نورین کے دو چھوٹے بہن بھائی گاءوں کے اسکول میں پڑھ رہے تھے ۔ اور وہ نرسنگ کا کورس کر کے ادھر نوکری کر رہی تھی ۔ ۔ اور اپنی پوری تنخوہ اپنے گھر والوں کو بھیج رہی تھی ۔ ۔ اس کے گھر والوں کو اس سے بہت امیدیں تھیں ۔ ۔ اور اس کی بہت ضرورت تھی ۔

اور اس وقت وہ کچرے کے ڈھیر پر بے سدھ پڑی تھی ۔ اس کے اوپر بارش برسے جا رہی تھی ۔ ۔

جب انسان جنم لیتا ہے تو اس کی مٹھیاں بند ہوتی ہیں ۔ ۔ مضبوطی سے ۔ ۔

نورین کی مٹھی مضبوطی سے بند تھی ۔ ۔ اس میں ایک انجکشن تھا ۔ ۔ زہر کا انجکشن ۔ ۔

فرہاد گھبراہٹ اور نورین کی شدید مزاحمت کی وجہ سے سرنج میں پورا انجکشن نہیں بھر سکا تھا ۔ نورین نے اس سے پہلے ہی انجکشن چھین لیا تھا ۔ جتنا زہر اس کے جسم میں گیا تھا وہ کسی انسان کو مارنے کے لئے ناکافی تھا ۔


جیون داس کے جیون میں آج کی رات بہت اہم تھی ۔ ۔ بہت زیادہ اہم ۔ ۔

آج فرہاد کو آخری قتل کرنا تھا ۔ ۔ اور جیون کو دیوی کے آگے آخری بھینٹ چڑھانی تھی ۔ ۔

اور پھر اس کو لازوال شیطانی طاقت حاصل ہو جاتی ۔ ۔

وہ دیوی کی خوفناک مورتی کے آگے آسن مارے ،آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا ۔ ۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا ۔ جیون کے آس پاس انسانی ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں جو وہ پرانی لاوارث قبروں سے جمع کرتا تھا ۔

آج دیوی کی مورتی کے ساتھ ایک انسانی کھوپڑی بھی سجائی گئی تھی ۔

جیون اپنی شیطانی پوجا میں پوری طرح کھویا ہوا تھا ۔ ۔ کہیں کوئی کوتاہی نہ ہو جائے ۔ ۔ عمل ادھورا نہ رہ جائے ۔

مگر یہ کیا ہوا ؟ بادل بہت زور سے گرجے تھے ۔ ۔ ایک زور دارکان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا ۔ ۔

جیون نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں ۔ ۔

اچانک کہیں سنکھ بجنے لگا ۔ ۔ مکروہ آواز میں ڈھول پیٹا جانے لگا ۔ ۔ کہیں سے شہنائی کی انتہائی منحوس آوازجیسے بین کرنے لگی ۔ ۔

جیون ساری سچویشن سمجھ چکا تھا ۔ ۔

شما کر دے دیوی ۔ ۔ شما” ۔ ۔  اس نے دیوی کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے ۔”

مگر دیوی نے اس کی منت سماجت اوربرسوں کی پوجا کو بلکل نظر انداز کر دیا ۔ ۔

بند کمرے میں انتہائی تیز دھماکے کے ساتھ بجلی جیون داس کے عین اوپر گر ی تھی ۔ ۔

بے چارے جیو ن کی لاش ۔ ۔ بغیر چتا کے ہی بری طرح جل کر راکھ ہو گئی ۔ ۔


کچرے کے ڈھیر پر پڑی نورین کے اوپر مسلسل بارش برس رہی تھی ۔ ۔

بجلی تیز چمکی ۔ ۔ نورین نے آنکھیں کھول دیں ۔ ۔ وہ زندہ تھی ۔ ۔۔ ۔


فرہاد نے ہاسپٹل کے آگے گاڑی روک دی ۔ اس کا ذہن کچھ بھی سوچ سمجھ نہیں رہا تھا ۔ ۔ ایک روبوٹ کی طرح چلتا ہوا وہ سرد خانے میں داخل ہو گیا ۔ اس نے جیون داس کی ہدایت کے مطابق مِلی کی لاش کو تلک لگایا ۔

سرد خانے میں گہری خاموشی تھی ۔ ۔ وال کلاک کی ٹک ٹک ماحول کو مزید ڈراءونا بنا رہی تھی ۔ ۔

مِلی کا مردہ وجود اُسی طرح بے حرکت تھا ۔ ۔ فرہاد امید بھری نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا ۔ ۔

اب شاید اس وجود میں حرکت ہو ۔ ۔ شاید اب وہ اپنی خوبصورت آنکھیں کھول کر فرہاد کو دیکھے ۔ ۔ اور محبت سے مسکرا دے ۔ اس کی مسکراہٹ کے لئے وہ تڑپ رہا تھا ۔ ۔

مگر ۔ ۔ نہیں کچھ بھی نہیں ۔ ۔ آج بھی نہیں ۔ ۔

فرہاد کی آنکھیں شدید غم سے سرخ ہونے لگیں ۔ اس کو لگنے لگا وہ کسی پہاڑ سے نیچے گر رہا ہو ۔ ۔ مگر آہستہ آہستہ ۔ ۔

تو کیا ۔ ۔ مِِلی اب بھی نہیں جاگے گی”؟تیسرے قتل کے بعد بھی نہیں ۔ ۔ “

ایک خیال سے اس کا دل درد سے پھٹنے لگا ۔ ۔ “تو کیا مجھے دو سری مرتبہ اس اذیت سے گذرنا پڑے گا” ۔ ۔ ؟ میں نے تو پھر امید باندھ لی تھی کہ رومیلہ زندہ ہو جائے گی ۔ ۔ کیا مجھے دوسری بار اس کے مرنے کی تکلیف کو سہنا پڑے گا؟ نہیں ۔ ۔ 

اس کے قدموں سے جیسے جان نکل گئی ۔ ۔ وہ گھٹنوں کے بل رومیلہ کے بیڈ کے پاس بیٹھ گیا ۔ ۔

مِلی ۔ ۔ اب تو آنکھیں کھول دو ۔ ۔ میں نے تمہاری محبت میں کیا کچھ نہیں کیا” ۔ ۔ وہ سسکنے لگا ۔”

کتنا بڑا گناہگار بن گیا میں تمہارے لئے ۔ ۔ کتنی جانیں وار دیں میں نے تم پر ۔ ۔ ہر حد سے گذر گیا ۔ ۔ اتنی محبت تو اگر کسی پتھر سے کی جاتی تو وہ بھی بول پڑتا ۔ ۔ تم ۔ ۔ تم آج بھی خاموش ہو ۔ ۔ بولو مِلی ۔ ۔ خدا کے لئے ۔ ۔ میں تمہاری آواز سننے کو ترس رہا ہوں ۔ ۔

وہ پاگلوں کی طرح بولتے بولتے بری طرح تھک گیا ۔ اس نے اپنا سر رومیلہ کے بیڈ سے ٹکا دیا ۔ ۔ اس کے اعصاب جواب دے گئے تھے ۔ اس میں ہلنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی ۔

باہر بارش دیوانہ وار برس رہی تھی ۔

کہ اچانک ۔ ۔ ایک دھماکہ ہوا ۔ ۔ کمرے کی ہر چیز ہلنے لگی جیسے زلزلہ آگیا ہو ۔ ۔

فرہاد کا دل اتنی تیز دھڑکا جیسے پھٹ جائے گا ۔

رومیلہ کے اوپر سے سفید چادر ہٹ گئی ۔ ۔ اوروہ کسی مشین کی طرح اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ ۔

مِلی ۔ ۔ وہی تھی ۔ ۔ شاید وہی تھی ۔ ۔ کسی روبوٹ کی طرح اکڑ کر بیٹھی فرہاد کو اپنی سرد آنکھوں سے گھور رہی تھی ۔ ۔

کئی مہینوں سے ،اس لمحے کے شدید انتظار میں مبتلا فرہاد کی آنسوءوں سے بھری ہوئی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔

یہ کیسا وصل تھا ۔ ۔ ؟لاحاصل ۔ ۔ نامراد ۔ ۔

کافی دیر تک فرہاد کی آنکھوں میں اپنی سفاک ،اجنبی آنکھیں ڈالے رکھنے کے بعد 

اُس نے روبوٹ کی طرح اپنا سیدھا ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا ۔ ۔

فرہاد کسی ٹرانس میں آئے ہوئے انسان کی طرح اس کے سامنے بلکل بے بس بیٹھا تھا ۔

مِلی نے اس کی گردن پکڑ لی ۔ ۔ اس کی گرفت بے حدسخت تھی ۔ ۔ بلکل غیر انسانی ۔ ۔

صرف چند منٹوں میں فرہاد کی جان نکل گئی ۔ ۔ اور مِلی نے ایک جھٹکے سے اسے نیچے پھینک دیا ۔ ۔

فرہاد کی محروم ،بے جان آنکھیں ابھی بھی کھلی تھیں ۔ ۔


کہتے ہیں ادھوراعلم نقصان دہ ہوتا ہے ۔ اور ادھوراعمل ۔ ۔ اور وہ بھی شیطانی عمل ۔ ۔

خدا کے کاموں کو اپنے ہاتھ میں لینا ۔ ۔ اس کے فیصلوں کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہو جانا ۔ ۔ شیطان کا کام رہا ہے ہمیشہ سے ۔ ۔ پیدا کرنے والی اور موت دینے والی ذات صرف خد اتعالی کی ہے ۔ ۔ انسان کی کیا اوقات کہ وہ دوبارہ زندہ کرنے کا دعوی کرتا پھرے ۔ اور اگر ۔ ۔ کوئی ایسا کرنے کا دعوی کرتا ہے تو وہ یقینا شیطان کا پجاری ہوتا ہے ۔ وہ اپنے کالے علم سے کسی مردے کے جسم میں کسی بھٹکتی بدروح کو توڈال سکتا ہے ۔ ۔ دوبارہ زندہ ہر گز نہیں کر سکتا ۔ ۔

فرہاد کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی تھی کہ

 مر کر کوئی کبھی دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا ۔ ۔

رات بہت تاریک تھی ۔ ۔ بارش بری طرح برس رہی تھی ۔ ۔ راستے بلکل سنسان تھے ۔ ۔

اُن سنسان راستوں پر کوئی چلتا چلا جا رہا تھا ۔ ۔ ایک وجود ۔ سفید کفن میں لپٹا ہوا وجود ۔ ۔ اس کا صرف چہرہ کھلا تھا ۔ ۔ کبھی ہو گا یہ چہرہ خوبصورت،حسین ۔ ۔ لوگوں کو نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا ہو گا ۔ ۔ مگر اب ۔ ۔ تو وہ صرف خوف میں مبتلا کر سکتا تھا ۔ ۔ جان لیوا خوف میں ۔ ۔

اس چہرے پربے حد سفاکی تھی ۔ ۔ ایک پتھریلا عزم تھا ۔ ۔ جیسے دنیا کو مزہ چکھانے کا پکا پکا ارادہ کیا ہوا ہو ۔ 


فرہاد کے عشق نے دو معصوم لوگوں کی جان لے لی۔جیون داس کے جنون نے خود جیون داس کا ہی کام تمام کر دیا۔۔ 

اب ملی کی بدروح کو  کتنے سروں کی قربانی سے چین آپاۓ گا-یہ کوئی نہی جانتا تھا۔

Delicious, Easy-To-Make Smoothies For Rapid Weight Loss, Increased Energy, & Incredible Health!
5 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments