آدم زاد

وہ اپنی سہیلیوں کے ہمرا دور سے آتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ کالج یونیفارم میں ملبوس، کتابیں سینے سے لگائے، بیگ کاندھے پر لٹکائے، ہنستی مسکراتی،
وہ وزانہ چھٹی کے وقت اس راستے سے گزرتی، اور میں روز اس جگہ اس کا انتظار کرتا رہتا تھا۔
نہ جانے کیا نام ہے اس کا؟
مگر وہ اس قدر خوبصورت ہے کہ بس…

جب میں نے اس کو پہلی مرتبہ دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے علاقے میں ، میری قوم میں خوبصورت عورتوں کی کمی ہے، مگر دل جس پر آجائے۔

اور میرا دل اس پر پوری طرح آچکا تھا۔

باتیں کرتے کرتے اس نے اچانک میری جانب دیکھا۔
میں آڑ میں ہوگیا۔ حالانکہ میں جانتا تھا، میں جہاں ہوں وہ مجھ کو نہیں دیکھ پائے گی، مگر میں ہر گز نہیں چاہتا تھا کہ ابھی وہ مجھے دیکھے،

میرے بارے میں کچھ بھی جانے، مجھے مناسب وقت کا انتظار تھا۔


 

“امی”۔۔۔۔۔”امی”
کہاں ہیں آپ؟
صبا نے گھر میں داخل ہوتے ہی شور مچانا شروع کردیا۔
کوثر ہاتھ پونچھتی ہوئی کچن سے نکل آئیں۔
“آگئی میری بیٹی “
“جی ہاں اب جلدی سے کھانا نکالیں مجھے سخت بھوک لگی ہوئی ہے”
“امی رات کو میری دوست فرح کی سالگرہ ہے”
صبا نے کھانے کی میز پر اطلاع دی۔

“صبا میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا کہ تمہارے ابو تمہارا روز روز گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتے ہیں، ابھی دو دن پہلے تو تمہارا سارا گروپ شاپنگ کرنے نکلا ہو اتھا”
کوثر نے کہا۔

“کیا امی”۔۔۔۔صبا نے حسبِ معمول منہ بنالیا۔
“سب لڑکیاں ہی ہیں، ساتھ جائیں گے ساتھ آجائیں گے”۔
“میں کچھ نہیں جانتی “کوثر نے صفائی میں کہا۔
“اپنے ابو سے خود اجازت لے لینا۔ ان کو تمہارا نہ تو روز روز باہر جانا پسند ہے نہ اتنی رات کو گھرواپس آنا”

“ابو جی! میرے پیارے ابو جی”،صبا پیچھے سے آکر ان کے گلے سے لٹک گئی۔
اشفاق صاحب نے اخبار سے سراٹھا کر اس کو دیکھا۔

“جی کوئی نئی فرمائش؟”
“ابو جی پر لاڈ میں کام کے وقت ہی کہا جاتا ہے”

“اوہ میرے پیارے ابو! اصل میں آج میری دوست فرح ، وہی فرح یہاں آگے ہی تو رہتی ہے”صبا نے وضاحت کی۔
” آج اس کی Birthdayہے۔ ہم سب فرینڈز انوائٹیڈ ہیں۔
“ہوں۔۔۔یہ بات ہے”اشفاق صاحب گویا ہوئے۔

“جی تو آپ سے جانے کی پرمیشن چاہیے اور تھوڑے سے پیسے گفٹ کے لیے یعنی 1000روپے بس۔ صبا نے بات ختم کی۔
اشفاق صاحب کوثر پر تو خوب گرجتے برستے تھے مگر اکلوتی بیٹی کی ضد کے آگے ہار جاتے تھے، ایسا ہمیشہ ہی ہوتا تھا۔
“چلو ٹھیک ہے بیٹا”۔۔۔۔۔۔۔

مگر جلدی واپس آجانا، حالات بالکل ٹھیک نہیں ہیں۔
“خاص طور پر جوان لڑکیوں کے لیے، آخری جملہ انہوں نے اپنے دل میں کہا تھا۔

————————————————————————————————————————-
میں بے چینی سے شام کا انتظار کررہا تھا۔
میں نے صبح اس کی گفتگو سن لی تھی۔
آج اس کو دعوت پر جانا تھا۔
میں اس کی سج دھج دیکھنے کو بے قرار تھا۔

آج سے پہلے میں نے ہمیشہ اس کو کالج کے سفید یونیفارم میں ہی دیکھا تھا۔ نہ جانے رنگ اس پر کیسے لگتے ہوں گے۔؟
میں بے چینی سے شام کا منتظر تھا۔

—————————————————————————————————————————-

“صبا” کوثر اس کو آوازیں دیتی اندر آئیں۔
مگر ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی صبا کو دیکھ کر ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
یہ۔۔یہ۔۔یہ تم نے کیا پہنا ہوا ہے؟

سیاہ جھلملاتے ہوئے لباس میں ملبوس صبا ان کی طرف مڑی
“میکسی ہے مما جان اور کیا”وہ اٹھلائی۔

“یہ تم لائی کہاں سے ہو”

میکسی جو کہ انتہائی گہرے گلے والی تھی اس کی آستین غائب تھیں۔
” اس دن جو شاپنگ کے لئے گئے تھے تو وہیں سے لائی تھی”۔ صبا نے انتہائی بے نیازے سے بالوں میں برش پھیرتے ہوئے جواب دیا۔
“تم یہ بے ہودہ کپڑے پہن کر ہر گز گھر سے باہر نہیں نکلوگی”
“اگر تمہارے ابو نے دیکھ لیا تو۔۔۔۔”

please”امی۔۔

“ہر وقت ابو کا ڈراو نہ دیا کریں۔ اس نے ماں کی بات کاٹ دی۔
” اب آپ دونوں کے پرانے خیالات کی وجہ سے میں اپنے شوق بھی پورے نہ کروں”۔
“سب لڑکیاں ایسے ہی کپڑے پہن رہی ہیں۔۔۔۔۔”

صبا اپنی دوستوں کے ساتھ گھر سے نکل گئی۔
اور اس کی کسی دوست نے بھی اس طرح کے کپڑے نہیں پہنے تھے۔
سب عام شلوار قمیض میں ملبوس تھیں۔
کوثر ماتھے پر بل ڈالے اسے گھورتی رہ گئیں۔ مگر ان کے بس میں کچھ نہیں تھا۔

صبا ان کی اکلوتی اولاد تھی۔ لاڈ پیار نے اس کو بے حد بگاڑ دیا تھا اور یہ انہی کی بے جا حمایت تھی جس کی وجہ سے اشفاق بھی اس کو کچھ کہتے گھبراتے تھے۔

اپنی ساری جھلاہٹ وہ کوثر پر نکالا کرتے تھے۔

شکر ہے اس وقت وہ گھر پر نہیں تھے۔ ورنہ نہ جانے کیا ہوتا۔

“کاش صبا جلدی گھر آجائے” اور اشفاق کی نظر پڑنے سے پہلے کپڑے بدل لے۔ انہوں نے دل میں دعا کی

کوثر کی دعا آج قبول نہ ہوئی۔

صبا نہ صرف بہت دیر سے لوٹی بلکہ دروازہ بھی اشفاق صاحب نے ہی کھولا۔
صبا کو دیکھ کر مارے رنج کے وہ کچھ بول ہی نہ سکے۔

صبا کو تو کوئی لحاظ ہی نہ تھا۔
ابو جانی سوری میں لیٹ ہوگئی۔ بول کر وہ اٹھلاتی کمرے میں چلی گئی۔
کوثر دل میں ڈر رہی تھیں کہ نہ جانے کتنی جھاڑ پڑنے والی ہے۔
مگر خلافِ توقع اشفاق بالکل خاموش تھے۔
“کوثر!جتنی جلدی ہوسکے صبا کے لیے کوئی رشتہ تلاش کرو”۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے کے دوران انہوں نے کہا۔
“میں جلد از جلد اس کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں”۔۔۔۔۔
وہ تو اپنی بات کہہ کر آفس روانہ ہوگئے۔ مگر کوثر دیر تک سوچتی رہیں۔
ایسا نہیں تھا کہ حسین و کم عمر صبا کے لیے رشتوں کی کمی تھی۔
مگر وہ مڈل کلاس تھے۔
صبا جتنی حسین سے اس سے کہیں اونچے اس کے خیالات تھے۔
وہ اکثر اوقات ماں کو بتاتی رہتی تھی کہ وہ بہت امیر، پڑھے لکھے اور بے حد ہینڈ سم لڑکے سے شادی کرے گی۔
اور اگر لڑکے میں ان میں سے کوئی بھی ایک خوبی بھی کم ہوئی تو پھر وہ ہر گز حامی نہیں بھرے گی۔
کوثر جانتی تھیں کہ صبا ایسی ہی ہے۔
بے حد ضدی اور ہٹ دھرم۔
وہ آرام سے اپنے باپ کے سامنے بھی ڈٹ کر کھڑی ہوسکتی تھی۔
کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔کیسے ہوگا؟۔۔۔۔
کہاں سے آئے گا ایسا مکمل رشتہ؟
مختلف سوالوں نے اسے گھیر لیا۔

—————————————————————————————————————————

جب سے صبا کو اس دن تیار سیاہ لباس میں جھلماتے دیکھا تھا۔
میرا دل قابو میں نہیں تھا۔
میں نے اپنے گھر والوں سے اس کے لیے بات کی
ہمارے ہاں “باہر”رشتے نہیں کیے جاتے تھے۔
مگر میری ضد، میری محبت کے آگے سب ہار گئے۔
اور مجھے اجازت دے دی۔

اب میں شدت سے اس وقت کا انتظار کر رہا تھا جب میں اپنی محبت کو اصل میں پالوں، حاصل کرلوں۔

———————————————————————————————————————-
“صبا”۔۔۔دروازے کو دھاڑ سے کھول کر کوثر اندر داخل ہوئی۔
“تم کو کوئی احساس ہے”
“اف کیا ہے امی”؟ کیا پرابلم ہوگئی ہے اب”؟
وہ بد تمیزی سے گویا ہوئی۔
“پرابلم”؟
تم کو نہیں پتہ تمہارے ابو کی طبیعت کتنی خراب ہے؟
اور یہ ۔۔۔۔دونوں وقت مل رہے ہیں، مغرب کی اذانیں ہورہی ہیں۔ تم نے کتنی تیز گانے لگائے ہوئے ہیں۔
“اف امی، ابو کو بخار ہی تو ہے۔ ٹھیک ہوجائے گا، اس نے بے نیازی دکھائی”۔
“اور یہ آج آپ کو ملانی بننے کا خیال کیوں آگیا”۔
“صبا”۔۔۔۔کوثر کچھ بول ہی نہ سکیں۔
تم کس قدر بد تمیز ہوگئی ہو۔

“امی پلیز ، بور نہ کریں جائیں ابو کے پاس جاکر بیٹھیں ، وہ بیمار ہیں۔
بقول آپ کے، آخری جملہ صبا نے آہستہ سے کہا مگر کوثر نے سن لیا۔
“خدا ہی تمہیں ہدایت دے”کوثر کمرے سے نکل آئیں۔
صبا نے میوزک آہستہ نہیں کیا۔

“یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔کیا ہے؟”
کوثر کچھ بول ہی نہ سکیں۔
گہری سرخ ساڑھی میں ملبوس صبا، بال کھولے،
سرخ لپ اسٹک لگائے، پری لگ رہی تھی۔
“کیسی لگ رہی ہوں “؟ اس نے داد چاہی۔
“واہیات”۔ انہوں نے جل کر کہا۔
“سارا خاندان وہاں جمع ہوگا۔ کیا کہیں گے سب، ہمارا ایسا ماحول اور پھر اس طرح سارا پیٹ نظر آرہا ہے”۔
“مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے”۔ صبا نے ٹھنک کر کہا۔
“اگر ساڑھی نہیں باندھنے دیں گی تو میں جاؤں گی ، ہی نہیں۔
“نہ جاؤ، زیادہ بہتر ہے۔”کوثر نے جل کر کہا۔
“اس حلیے میں تمہیں لے جاکر باتیں سننے سے بہتر ہے کہ تم گھر پر ہی رہو۔
تمہارے ابو تو میری جان ہی نکال لیں گے، پہلے ہی وہ تمہاری حرکتوں پر کڑھتے رہتے ہیں۔

“امی ایک بات کہوں، مجھے لگنے لگا ہے آپ مجھ سے جلتی ہیں۔
میں اس قدر حسین ، لمبی، گوری، ہر کوئی کہنے لگا ہے کہ میں آپ دونوں کی اولاد نہیں لگتی ہوں، جبھی آپ بہانے سے مجھ کو تیار ہونے سے روکنے لگی ہیں، صبا مذاق ہر گز نہیں کر رہی تھیں۔
“کوثر آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھتی رہ گئی”۔
ان سے کوئی جواب تک نہ بن پڑا، صبا اس حد پر آچکی تھی۔ ان کو اندازہ نہیں تھا۔ اپنے شدید حسن کے احساس نے اس کو جیسے بانس پر چڑھا دیا تھا۔

کوثر اور اشفاق اس دن واقعی میں صبا کو گھر پر چھوڑ گئے۔
کوثر نے تو اس سے بات تک نہ کی، بس آہستگی سے دروازہ بند کرنے کا کہہ دیا۔
صبا جیسے غصے میں آگ بگولا ہورہی تھی۔ اس کے خوبصورت رخسار اس کی ساڑھی کے ہم رنگ ہورہے تھے۔
خاندان کی اس شادی کاوہ کب سے انتظار کر رہی تھی ۔

“آخر ایسا کیا ہے ان کپڑوں میں”؟

“ٹی وی پر ، فلموں میں تو ساری لڑکیاں اس طرح کے کپڑے پہنتی ہیں”۔
“ان کی مائیں تو ان کو کچھ نہیں کہتی ہیں”۔
“امی سچ میں مجھ سے جلنے لگی ہیں۔ کم عمر دماغ کی رسائی بس یہیں تک تھی۔
وہ پیر پٹختے ہوئے آئینے کے سامنے آکھڑی ہوئی۔

اپنے عکس پر نظر پڑتے ہیں جیسے اس کا سارا غصہ ہوا ہوگیا۔
لال سرخ ساڑھی ، سلیولیس بلاؤز جس میں سے آدھا پیٹ چمک رہا تھا، کالے گھنے با ل شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔
گہری سرخ لپ اسٹک، اس سے اپنے ہی اوپر سے نظر نہ ہٹائی گئی۔
“امی ، ابو کو تو رات دیر ہوجائے گی آتے آتے”، وہ سوچنے لگی۔
کیا کروں؟ چلو فرح کی طرف چلتی ہوں، آخر اتنی محنت سے تیار ہوئی ہوں، کسی سے تو داد وصول کروں”۔
ڈھیر سارا پرفیوم اپنے اوپر اسپرے کرکے وہ اسی حلیے میں باہر نکل آئی۔

—————————————————————————————————————————-
میری سانسوں نے کسی تیز ترین خوشبو کو محسوس کرلیا۔
اور میری آنکھیں پوری کھل گئیں۔
میں نے سامنے دیکھا۔ وہ ۔۔۔۔بالکل وہی۔۔۔۔اکیلی۔۔۔۔تنہا۔
اٹھلاکر چلتی۔۔۔
لمبے کھلے بال، کھلا آسمان، ستاروں تلے، تیز خوشبو، سرخ رنگ۔۔۔۔۔۔
یہ تمام چیزیں۔۔۔مجھے کتنی متوجہ کرتی ہیں۔
وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی، دیوانہ کر رہی تھی، بے بس کر رہی تھی۔
میں بے ساختہ اس کی طرف جھکا۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔

———————————————————————————————————————–

صبا کو نہ تو رات کے اندھیرے سے کوئی خوف محسوس ہورہا تھا ، نہ اپنے اکیلے پن سے ، جوانی ویسے ہی بہت بے خوف ہوتی ہے۔
“چند گلیوں کے پار ہی تو ہے فرح کا گھر” اس نے سوچا تھا ۔
امی ، ابو کے آنے سے پہلے ہی لوٹ آؤں گی۔
“اور اگر دیر ہو بھی گئی ، تو میری بلا سے آخری کیوں چھوڑ کر گئے مجھے”

بد تمیزی سے سوچتے ہوئے اچانک اس کی نظر راستے میں پڑتے پرانے برگد کے درخت پر پر گئی۔۔۔اور اس کے گلے سے بھیانک چیخ برآمد ہوئی۔۔۔۔
میں نے اس کو آرام سے چند لمحوں میں اوپر کھینچ لیا۔ اس کے ساتھ کوئی رکاوٹ کوئی حصار نہ تھا جو مجھے روک سکتا۔ پر اسرار، میں اس کو اپنے ساتھ لے آیا۔ اس درخت پر ، اس قدیم پر اسرار برگد کے درخت پر جہاں میرا گھر ہے۔ اس کی ہر شاخ پر کوئی نہ کوئی آباد ہے۔ میرے خاندان کا، میری قوم کا۔

“اب آپ سمجھے نہ۔۔۔۔میں کون ہوں؟”