پیاری عذرا



 اگست7

،پیاری عذرا

،میری پیاری دوست،میری ساتھی اور میری اکلوتی عزیز بہن عذرا

،اسلام وعلیکم

آج کئی مہینوں کے بعد تم سے مخاطب ہوں،خط میں “مخاطب” لکھنا کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے مگر مجھ کو تو خط لکھتے ہوئے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے میں تم سے تمہارے سامنے بیٹھ کراپنے دل کی تمام باتیں کر رہی ہوں جس طرح کہ بچپن سے کرتی آئی ہوں۔
اورویسے بھی اب دنیا میں تم ہی میرا واحد رشتہ ہو۔ماں باپ تو کب کے ساتھ چھوڑ گئے اور اب۔۔۔۔۔۔عرفان بھی۔۔۔۔۔۔۔
یہاں تک لکھ کر۔۔۔۔۔۔عرفان کے نام پر پہنچ کر صبا نے قلم ہاتھ سے رکھ دیا۔
اس کی آنکھیں آنسوؤں نے دھندلا دی تھیں۔
خط پر گرتے اس کے آنسوؤں نے کئی الفاظ مٹا دیئے۔
اس نے خط اور قلم سایئڈ ٹیبل پر رکھ دیئے اور بستر پر لیٹ کر چھت کو گھورنے لگی۔


وہ اور عذرا اپنے والدین کی دو ہی اولادیں تھیں۔عذرا اس سے چند سال بڑی تھی۔ان دونوں میں بے حد دوستی تھی اتنی کہ ایک دوسرے کے ہوتے ہوئے ان کو کبھی کسی اور سہیلی کی ضرورت تک محسوس نہ ہوئی۔وہ متوسط طبقے کے لوگ تھے اور اٹھارہ سال کی ہوتے ہی عذرا کی شادی طے کر دی گئی وہ بیاہ کر دوسرے شہر چلی گئی۔


صبا کو اس کے جانے کے بعد اس کی کمی بے حد گراں گزرتی وہ کالج تو جاتی تھی مگر گھر آنے کے بعد گھر اس کو کاٹ کھانے کو دوڑتا۔گھر میں ابا اور امی تو ضرور تھے مگر وہ جو ایک ایک لمحے کی روداد عذرا کے گوش وگذار کرتی تھی وہ سلسلہ تو ختم ہو گیا تھا عذرا کا سسرال دوسرے شہر میں تھا وہ میکے بہت کم کم آتی،ویسے بھی شادی اور پھر بچوں کی پیدائش کے بعد اس کو تو اتنا وقت نہ ملتا کہ وہ صبا کو اتنا زیادہ یاد کر سکتی مگر صبا کو تو جیسے عذرا کے جانے نے بے قرار کر دیا تھا۔اس مسئلے کا کسی قدر حل اس نے نکال لیا۔فون پر تو اتنی لمبی باتیں نہ ہو سکتی تھیں،امی ابابھی عذرا سے باتیں کرنے کے منتظر ہوتے تھے،آدھے سے زیادہ ٹائم وہ فون لئے رکھتے۔


وہ عذرا کو خط لکھنے لگی۔لمبے لمبے خط، جس میں اس کی صبح اٹھنے سے لے کرسونے تک کی تمام مصروفیات ہوتی تھیں۔
وہ کتنے بجے سو کر اٹھی،ناشتے میں کیا کھایا،آج کونسے کپڑے پہنے،گھر میں کون آیا کون گیا وغیرہ وغیرہ۔
عذرا ااس کے خط غور سے پڑھتی بھی تھی یا نہیں،جواب اتنی تفصیل سے دیتی یا نہیں رفتہ رفتہ صبا کو اس بات سے بھی کوئی مطلب نہ رہا۔
بس اس کو تو جیسے نشہ سا ہو گیا تھا لکھنے اور لکھتے ہی چلے جانے کا۔
اس طرح کئی سال گذر گئے۔عذرا کے کئی بچے ہو گئے وہ مکمل طور پر اپنے شوہر اور بچوں میں گم ہو گئی۔اپنی اکلوتی چھوٹی بہن سے اس کی دل چسپی برائے نام رہ گئی۔مگر صبا نے اس کو خط لکھنا نا چھوڑا۔کیا معلوم اب عذرا اس کے خط تفصیل سے پڑھتی بھی تھی یا نہیں۔۔۔۔۔۔
ایسے ہی ایک دن صبا کے لئے عرفان کا رشتہ آ گیا۔عرفان ایک خوبصورت پڑھا لکھا لڑکا تھا۔کوئی خاص کام تو کرتا نہیں تھا مگر دنیا میں بلکل اکیلا تھا۔صبا کے والدین کو اس کی یہ خوبی بہت پسند آئی،کیونکہ ان کا کوئی بیٹا تو تھا نہیں بجائے اس کے کہ صبا شادی ہو کر ان کو اکیلا کر کے چلی جاتی عرفان شادی کے بعد ان کے ساتھ رہنے لگا تھا۔زندگی پھر اسی ڈگر پر چلنے لگی۔
صبا نے لیٹے لیٹے گردن موڑکر سائڈٹیبل پر رکھی عرفان کی تصویر پر نظر ڈالی،اس کی آنکھیں پھر آنسوؤں سے بھر گئیں۔
چند مہینے ہوئے عرفان اس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے ماں باپ دنیا چھوڑ گئے اور پھر کچھ سالوں بعد عرفان۔۔۔۔۔ حالانکہ اس کی عمر کچھ اتنی زیادہ نہ تھی۔۔۔۔ بمشکل 45یا 48
سال۔۔۔۔۔وہ بیس سالوں سے ساتھ تھے۔بیس سال پہلے ان کی شادی ہوئی تھی،مگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو سکی۔
صبا کو بچوں کا بے حد شوق تھا۔مگر عرفان نے کبھی کسی خاص خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا۔
نہ جانے کیوں بیس سالوں میں صبا کو کبھی اس کا رویہ سمجھ نہ آسکا۔
عجیب پرسرار انداز رہا اس کا ہمیشہ۔۔۔۔۔
خاص کر آخر کے سات آٹھ سالوں میں۔راتوں کو اکثر دیر سے گھر آنا،اکثر کھانا کھانے سے انکار کر دینا
اور فون پر لمبی لمبی باتیں کرنا۔آہستہ اہستہ،چپکے چپکے۔۔۔۔۔
صبا کو اکثر شک ہوتا کہ کہیں کسی دوسری عورت کا معاملہ تو نہیں ہے۔مگر وہ کبھی عرفان سے اس متعلق بات کرنے کی ہمت نہ کر سکی۔
کیونکہ عرفان بہت بد مزاج ثابت ہوا تھا۔کافی سخت گیر اور بدتمیز،جب تک صبا کے والدین حیات تھے تب تک تو اس نے کچھ بھرم قائم رکھا مگر جب وہ دنیا چھوڑ گئے خاص کر صبا کے والد پھر تو اس نے وہ رنگ دکھائے کہ بس۔
مگر اس کی تمام بد تمیزی کے با وجود صبا اس کو برداشت کرنے پر مجبور رہی کیونکہ ایک تو وہ اکیلی تھی
بلکل لے دے کر ایک بڑی بہن تھی مگر بہت دور اور پھر اپنے ہی گھر بار میں بری طرح الجھی ہوئی تھی۔
اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اولاد سے محروم تھی اور اس کی وجہ صبا تھی۔مختلف ٹیسٹوں سے یہ بات ثابت تھی کہ صبا اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ تھی۔شاید یہ ہی وجہ تھی کہ عرفان کا رویہ دن بدن اس سے خراب ہی ہوتا گیا۔اور آخر کے دنوں میں تو ان کے درمیان بات چیت تک نہ ہونے کے برابررہ گئی تھی۔عرفان شادی کے بعد شروع میں جو تھوڑا بہت کاروبار کرتا تھا آہستہ اس نے وہ بھی چھوڑ دیا۔صبا کے ہاتھ پر تو اس نے بیس سالوں میں شاید ہی کچھ رکھا ہو۔وہ بہت ہی سست تھا۔وہ تو یہ دو منزلہ مکان صبا کے نام تھا۔دراصل نام تو دونوں بہنوں کے تھا مگر چونکہ عذرا اپنے گھر میں بہت خوش تھی اور اس کا شوہر بھی بہت مالدار اور اچھا انسان تھا اسلیئے اس نے صبا کے حالات اور عرفان کا رویہ دیکھتے ہوئے اپنے حق سے دست بردار ہو کر اپنا حصہ بھی صبا کے نام لگا دیا تھا۔تو اس طرح اس گھر کے ایک حصے میں وہ اور عرفان رہائش پذیر تھے جب کے اوپر کی منزل کرائے پر اٹھائی ہوئی تھی جس کے کرائے سے اس کا اور عرفان کا آرام سے گزارہ ہو رہا تھا۔مگر پھر ایک دن اچانک عرفان یہ دنیا چھوڑ گیا۔اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔صبا کی تو دنیا اندھیر ہو گئی۔عرفان کے جانے کے بعد اس کو احساس ہواکے وہ جیسا بھی تھا کم سے کم موجود تو تھا۔بے شک ان کے درمیان بات چیت نہ ہوتی تھی مگر اس کے گھر میں ہونے کے احساس سے اس کو بے خوف نیند تو آ جاتی تھی۔
نیند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ جانے کیا کچھ سوچتے،یاد کرتے آخر کاراس کو نیند نے آلیااور وہ بے خبر سو گئی۔
صبح وہ دیر تک پڑی سوتی رہی۔جلدی اٹھ کر بھی اس نے کیا کرنا تھا۔
سارا گھر اس کو کاٹ کھانے کو دوڑتا،کوئی تنہائی سی تنہائی تھی۔۔۔۔۔۔۔
گھر کے مختلف کام نپٹاتے اس کو تھوڑی ہی دیر لگی۔اس کو اچانک اس ادھورے خط کا خیال آیا تو وہ جلدی سے قلم اٹھا کر ادھورا خط لے کر بیٹھ گئی۔جلدی جلدی رات کے لکھے پر نظر دوڑائی۔۔۔۔۔۔
میری پیاری دوست،میری ساتھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں باپ تو کب کے ساتھ چھوڑ گئے اور اب عرفان۔۔۔۔۔۔
یہاں تک کے اپنے لکھے پر پہنچ کر وہ بری طرح چونک گئی۔
اس نے نیلے بال پوائنٹ سے خط لکھا تھا۔ابھی بھی وہی پین تھامے مزید لکھنے کا ارادہ کر کے بیٹھی تھی مگر۔۔”عرفان” کے آگے تیز سرخ لکھائی سے عجیب و غریب تحریر لکھی تھی۔۔۔


!عرفان کا یہ ہی انجام ہونا تھا کاش یہ کام میرے ہاتھ سے انجام پاتا


صباسکتے کے عالم میں خط تھامے بیٹھی رہ گئی۔اس نے دوبارہ سہ بارہ اس تحریر کو پڑھا۔۔۔
کون آخر کون؟گھر میں تو اس کے علاوہ کوئی تھا ہی نہیں،اور پھر یہ تحریر انسانی تو نہیں لگ رہی تھی۔خوف کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی اس نے خط کے ٹکڑے کر کے پھینک دئے۔

——————————————————————————

20-اگست

,پیاری عذرا
میری پیاری جان سے عزیز بہن بعد سلام کے عرض ہے کہ اب میں بلکل ٹھیک ہوں پچھلے دنوں جس طرح تم نے پل پل میرا ساتھ دیا دن رات فون پر میری خیریت دریافت کرتی رہیں ایسا لگتا تھا جیسے تم مجھ سے کوسوں دور نہیں بلکہ میرے پاس ہو۔اب میں رات کوبلکل خوفزدہ نہیں ہوتی۔نیند تو بے شک مشکل سے ہی آتی ہے مگر آ جاتی ہے۔تم درست کہتی تھیں وہ تحریر میری غلط فہمی ہی تھی مسلسل تنہائی نے مجھے ذہنی طور پر الجھا دیا۔مگر یہ اکیلا پن تو اب میری قسمت ہے کاش خدا نے مجھے اولاد دی ہوتی تو یہ اکیلا پن نہ ہوتا۔

..تمہاری بہن صبا


خط مکمل کر کے اس نے کاغذ تہ کیا اور اپنے سایڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔صبح پوسٹ کر دوں گی۔یہ سوچ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں مگر نیند کوسوں دور تھی حسبِ معمول۔۔۔
صبا تمہارا یوں تنہا رہنا بلکل مناسب نہیں“عذرا کی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔
یہ پرسرار تحریر محض ذہنی اختراع ہے،تم فورا میرے پاس چلی آؤ اس طرح ڈر ڈر کر تو تم سچ مچ پاگل ہو جاؤ گی۔
صبا نے کروٹ بدل لی۔عذرا اس کے لئے سچ مچ پریشان تھی مگر صبا کسی صورت اس کے گھر شفٹ نہیں ہونا چاہتی تھی عذرا کے گھر میں عذرا اور اس کے شوہر کے علاوہ اس کے تین نوجوان بچے،ساس اور ایک عدد دیور بھی موجود تھے۔صبا سالو ں بعد اس کے گھر جا کر بھی چند دنوں میں اکتا جاتی تھی۔کافی دیر انہی سوچوں میں گم رہنے کے بعد نہ جانے کب نیند نے اسے آلیا۔
صبح اپنے معمول کے کام نپٹنانے کے بعد اس کو خط کا خیال آیا۔
لفافے میں ڈالنے سے پہلے کچھ سوچ کر اس نے خط کھولا اور اس پر نظر دوڑانے لگی۔مگر۔۔۔
یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔وہ بری طرح ڈر گئی۔۔۔۔۔۔
وہی سرخ لکھائی۔۔۔وہی بڑے بڑے بھیانک حروف۔۔اس کی لکھی آخری لائن کے بعد۔۔۔
جہاں صبا نے خط ختم کیا تھا ”خدا نے مجھ کو اولاد دی ہوتی تو آج یہ اکیلا پن نہ ہوتا“
اس کے آگے لکھا تھا


!خدا نے اولاد دی ہے


خوف سے صبا کا دل بیٹھنے لگا خط اس کے ہاتھ میں بری طرح لرز رہا تھا۔
نہیں۔۔یہ ٹھیک نہیں۔۔۔یہ وہم نہیں ہو سکتا۔۔وہ پاگلوں کی طرح بڑبڑانے لگی۔
کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔۔۔بہت بھیانک۔۔

 



سیڑھاں چڑھ کر وہ اوپر کی منزل پر چلی آئی جہاں اس کے کرائے دار رہتے تھے،سمعیہ سے اس کی اچھی خاصی دوستی تھی۔مگر وہ زیادہ اس کے گھر نہ جاتی تھی کیونکہ عرفان خود بے شک گھر سے باہر رہتا تھا مگر وہ صبا کا کہیں آنا جانا بلکل پسند نہیں کرتا تھا بلکہ گھر میں اگر کوئی ملنے والی آجاتی تو بھی اس کا منہ بن جاتا تھا۔اس لئے رفتہ رفتہ صبا نے کہیں آنا جانا بلکل کم کر دیا تھا۔
سمعیہ اس کو دیکھ کر خوش ہو گئی،بہت دیر سمعیہ کے پاس بیٹھ کر سچ مچ اس کا دھیان بٹ گیا۔
کئی دن گزر گئے۔ان عجیب و غریب تحریروں سے صبا کا دھیان ہٹ گیا۔بلکہ اس نے کوشش کر کے ان سے اپنا دھیان ہٹا لیا۔
مگر پھر ایک دن۔۔۔۔۔
صبح سے تیز بارش ہو رہی تھی بجلی بار بار آجا رہی تھی۔دن تو جیسے تیسے گذر گیامگر رات ہوتے ہی اس کا دل بری طرح گھبرانے لگا۔
اوپر سے سمعیہ بھی اپنے میکے گئی ہوئی تھی۔صبا نے ٹی وی لگا لیامگر اچانک۔۔بجلی چلی گئی۔
اوہ میرے خدا۔۔۔۔اب کیا کروں؟اس کو عذرا کا خیال آیا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ پرسرار تحریریں یاد آگئیں۔
نہیں۔۔نہیں”۔۔۔۔اس نے خط لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔بادل زور زور سے گرج رہے تھے۔”
بجلی زور سے کڑکی تو اس کی نظر فریم میں سجی اپنی اور عرفان کی تصویر پر نظر جم گئی۔اس نے بڑھ کر تصویر اٹھا لی۔
اس کی آنکھیں آنسووئں سے بھر گئیں۔”کہاں چلے گئے ہو تم”؟ وہ عرفان کی تصویر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔
نہ جانے کیسے تھوڑی دیر کو وہ سب کچھ بھول گئی۔سب کچھ۔۔۔۔
بجلی بہت زور سے کڑکی تو جیسے وہ دنیا میں واپس لوٹ آئی۔اور پھر اچانک۔۔۔۔۔اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔۔۔۔
اس کے ہاتھ میں پکڑی تصویر پر گہرے سرخ رنگ کے چھینٹے آکر گرے عین بجلی کی آواز کے ساتھ۔۔۔


کک کون ہے”۔۔۔۔صبا نے چاروں طرف نظر دوڑائی”


چارجنگ لائٹ کی مدہم روشنی میں کمرہ بہت پرسرار بلکہ بھیانک لگ رہا تھا۔۔۔


ہمت کر کے اس نے دوبارہ پکارا”کون ہے”؟آخر کون ہو تم؟


اچانک۔۔۔۔۔ایک سسکی کمرے میں گونج گئی۔آ ہ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔


صبا کو لگا خوف سے اس کا دل پھٹ جائے گا۔کمرے کی ہلکی آسمانی دیوار جو اس وقت ملگجے اندھیرے میں ڈراؤنی لگ رہی تھی،اس پر آہستہ آہستہ الفاظ ابھرنے لگے۔۔۔۔


صبا نے اپنی چیخیں روکنے کو دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لئے۔۔۔

“ایک ساز” 

_____________________________


صباکیا ہوا ہے تمہیں”—سمعیہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئی”کیا طبیعت خراب ہے“؟”

کچھ نہیں“صبا نے اس سے آنکھیں چرا لیں “آؤ اندر تو آؤ”۔


سمعیہ جیسے سانس روکے وہ ساری کہانی سن رہی تھی۔کئی جگہ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
یہ تم کتنی خوفناک باتیں کر رہی ہو صبا۔سمیعہ کے منہ سے نکلا۔


“اب تم بھی ان کو میرا وہم مت کہ دینا،اس کا ایک ایک لفظ بلکل سچ ہے”صبا نے روکھے پن سے کہا


تو پھر اب تم نے کیا سوچا ہے؟


سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تو جیسے ختم ہو گئی ہے۔صبا نے جواب دیا


بہرحال یہ طے ہے کہ اب میں مزید اس گھر میں نہیں رہ سکتی۔نہیں تو میں ڈر ڈر کر مر جاؤں گی،کسی رات میرا بھی عرفان کی طرح ہارٹ فیل ہو جائے گا“۔

عرفان کے نام اوراس کے ہارٹ فیل کے ذکر پر جیسے ایک لہر دوڑ گئی۔اس نے اور سمیعہ نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا۔


صبا! یہ سارے واقعات عرفان بھائی کی ڈیتھ کے بعد شروع ہوئے ہیں نہ؟اس سے پہلے کبھی۔۔۔۔۔۔۔
آں۔۔۔ہاں۔نہیں کبھی نہیں۔۔۔میں اسی گھر میں پیدا ہوئی پلی بڑھی،یہیں شادی ہوئی۔کبھی کسی

para normal

حرکت کو محسوس نہیں کیا—صبا نے کھوئے کھوئے انداز مین جواب دیا۔


صبا کہیں ان واقعات کے ساتھ عرفان بھائی کا کوئی تعلق تو نہیں جڑا ہوا؟
____________________________


عرفان۔۔۔۔۔ہاں وہ عرفان ہی تھا۔اس کا شوہر۔۔۔


کتنا پریشان لگ رہا تھا۔۔۔۔اس کا چہرہ جیسے۔۔جیسے نچڑ گیا تھا۔رنگ بری طرح زرد ہوگیا تھا۔اتنا زرد تو وہ اس وقت بھی نہیں لگ رہا تھا جب اسے دفنانے لے کر جا رہے تھے۔اس کی آنکھیں۔۔۔اف اس کی آنکھیں ویران کھنڈر لگ رہی تھیں۔


نہ جانے وہ کہاں تھا،کہاں بھٹک رہا تھا۔کتنی ویران اور ڈراؤنی جگہ تھی۔


اچانک اس کی آنکھیں صبا کی آنکھوں سے ٹکرائیں۔۔اوران میں ایک التجا ابھر آئی۔۔اس نے جیسے تڑپ کر کچھ کہنا چاہا۔۔۔مگر۔۔۔عین اسی وقت۔۔۔۔


ہاہ ۔۔۔۔صبا اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔اس کے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔


یہ خواب۔۔اس قدر الجھا ہوا۔۔۔ آج دوسری مرتبہ وہ یہ خواب دیکھ رہی تھی۔وہ واقعات کیا کم تھے جو یہ خواب اس کا سکون تباہ کرنے آ گئے تھے۔اس نے تکئے سے ٹیک لگا لی۔پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اس نے گھڑی پر نظر ڈالی

ساڑھے تین”۔ہاہ۔۔۔۔۔صبا ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔”

 میں اس کہانی کا کوئی لازمی کردار ہوں ۔ اس نے خود کلامی کی ’’اس کا انجام شاید میرے ہی ذریعے سے ہونا ہے‘‘ ۔ 

_____________________________ 

عرفان کا یہ ہی انجام ہونا تھا کاش یہ کام میرے ہاتھ سے انجام پاتا‘‘ ۔” 

?صبا ان واقعات کے ساتھ عرفان بھائی کا کوئی تعلق تو نہیں جڑا 

اسی طرح کے کئی جملے اس کے کانوں میں گونجتے رہتے تھے ۔ سوچ سوچ کراس کا سر پھٹنے والا ہو جاتا ۔ کوئی سرا ہاتھ میں آ کر نہیں دے رہا تھا ۔ صبا یہیں تھی اپنے گھر ، میں ابھی اسے یہیں رہنا تھا چاہے وہ کتنی بھی خوفزدہ ہو ،چاہے خوف سے اس کی جان ہی نہ نکل جائے ،ا سے اس کہانی کو اس کے انجام تک پہنچانا تھا ۔ عذرا کے گھر جانے کا ارادہ اس نے ملتوی کر دیا تھا ۔ کیونکہ وہاں جانا فضول تھا 

جس چیز نے اس کو منتخب کیا تھا وہ عذرا کے گھر بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی ۔ سمعیہ بھی اس کی ہم خیال ہو گئی تھی ۔ 

صبا کو سب سے زیادہ اس خیال نے کرب میں مبتلا کر رکھا تھا کہ عرفان کی روح بے چین ہے ۔ اس میں شک شبہے کی گنجائش ہی نہیں تھی ۔ بار بار ایک جیسے تواترسے آتے ہوئے خوابوں سے اس کو یقین ہو چکا تھا کہ عرفان مرنے کے بعد تکلیف میں ہے شاید اس کی روح کو عذاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اف صبا کے دل کو سخت تکلیف پہنچ گئی ۔ 

کیا کروں?میرے خدا ۔ ۔ ۔ ۔ 

___________________________________ 

اس نے الماری کے سارے کپڑے نکال کر زمین پر ڈھیر کر دیے ۔ 

درازیں کھول کر ان کا سارا سامان نیچے الٹ دیا ۔ مختلف پین،کارڈز،گھڑیاں ،رسیدیں اور جانے کیا کیا الا بلا ۔  

عرفان کے انتقال کے چند مہینے بعد جب اس کے اوسان بحال ہوئے تھے تب بھی اس نے گھر کی تمام الماریاں صفائی کی نیت سے دوبارہ سیٹ کی تھیں ۔ اور کوئی ’’مشکوک‘‘ چیز برامد نہیں ہوئی تھی ۔ مگر آج اس پر جیسے دیوانگی طاری تھی ۔ 

آخرکوئی نشان کوئی ثبوت تو ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس سے کوئی سرا ہاتھ آ جائے ۔ 

وہ  ایک ایک کپڑا جھاڑ کر رکھنے لگی ۔ کتابوں کا ایک ایک صفحہ چھان مارا مگر ۔ ۔ ۔ ۔ 

’’کیا کروں ?‘‘وہ تھک کر زمین پر بیٹھ گئی ۔ 

اچانک ۔ ۔ ۔ ٹھک سے کوئی چیز جیسے اڑ کر اس کے سامنے آ گری ۔ 

صبا بے اختیار اچھل گئی’’میرے خدا ‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے منہ سے نکل گیا ۔ 

اس بند اسٹور میں ہوا کاتو نام و نشان ہی نہیں تھا ۔ ایسے میں الماری کے اوپر رکھی بلکہ شاید پھینکی گئی کسی چیز کا اچانک نیچے آ کر گرنا اتفاق بلکل بھی نہیں تھا ۔ 

صبا نے لرزتے ہاتھوں سے ڈبہ اٹھا لیا ۔ 

گتے کا بنا ہوا وہ چھوٹا سا کسی گھڑی کا خالی ڈبہ تھا ۔ 

صبا بڑی مشکل سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔ 

شکریہ” اس نے با آوازِبلند کہا اور باہر نکل گئی ۔” 

______________________________ 

تقریبا آدھی سے زیادہ رات گذر چکی تھی ۔ ۔ 

صبا صوفے پر پڑی ایک ٹک چھت کو گھور رہی تھی ۔ ۔ ۔ 


تو یہ” وجہ” تھی عرفان کے آخری سالوں کے رویے کی–صبا نے اپنے آپ سے سوال کیا ۔

 یہ وجہ تھی ۔ ۔ ۔ جو وہ پوری پوری رات گھر سے باہر رہتا تھا،فون پر لمبی لمبی باتیں کرتا تھا،اس سے مزید دور ہو گیا تھا 

صبا کی آ نکھوں کے کنارے بھیگ گیے ۔ 

اس کے دل کو شدید چوٹ پہنچی تھی ۔ 

صبح کا منظر اس کی آنکھوں میں گھوم گیا 

اس نے کانپتے ہاتھوں اوردھڑکتے دل کے ساتھ ڈبے کا ڈھکن ہٹاےا تھا ۔ اس کا دل گواہی دے رہا تھا کہ کوئی گہرا راز کھلنے کو ہے 

مگرکیا ? ۔ ۔  

ڈبے کے اندرایک مڑا تڑا کاغذ بری طرح ٹھونسا گیا تھا صبا نے اس کو کھینچ کر باہر نکالا تو اس کے ساتھ ایک تصویر بھی نیچے گر گئی ۔ 

صبا نے جھک کرتصویر اٹھا لی توقع کے عین مطابق وہ ایک لڑکی کی تصویر تھی ۔ 

اس نے آہستہ آہستہ کاغذ کو سیدھا کیا ۔ ۔ ۔ وہ ایک دستاویز تھی ۔ ۔ ایک نکاح نامہ ۔ ۔ ۔ 

عرفان کی دوسری شادی کا نکاح نامہ ۔ ۔ ۔ ۔ 

وہ گم صم بیٹھی اس پر نظریں دوڑاتی رہی ۔ نکاح نامے پر سات سال قبل کی تاریخ تھی ۔ 

حیرت انگیز طور پر شادی کے خانے میں عرفان نے لکھوایا تھا کہ یہ اس کی دوسری شادی ہے ۔ یعنی وہ لڑکی جانتی تھی کہ عرفان کی پہلی بیوی موجود ہے ۔ اور صبا عرفان کے ساتھ بیس سال گذارنے کے بعد بھی،اس کی موت کے بعد اس حقیقت سے واقف ہوئی تھی کہ عرفان کی زندگی میں کوئی اور عورت بھی موجود ہے ۔ 

نہ جانے کیوں عرفان کے ساتھ رہتے ہوئے صبا کو کبھی یہ احساس نہ ہو سکا کہ اس کو عرفان سے محبت ہے ۔ ۔ ۔ شدید محبت ۔ ۔ 

عرفان کے تلخ رویے نے اس کو کبھی یہ اعتراف ہی نہ کرنے دیا ۔ اپنے آپ سے بھی نہیں ۔ ۔ 

مگر شاید یہ رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے ۔ صبا نے اپنے آپ سے کہا ۔

انسان اپنے جیون ساتھی پر سب سے زیادہ حق سمجھنے لگتا ہے ،شاید اسے اپنی جاگیر ۔ ۔ ۔ ۔  

صبا نے تصویر پر دوبارہ نظر ڈالی ۔ وہ ایک بے حد حسین لڑکی کی تصویر تھی ۔ ۔ 

صبا خود بھی بہت پیاری تھی اس عمر میں بھی غضب ڈھاتی تھی ۔ مگر یہ تصویر والی لڑکی ۔ ۔ ۔ صبا نے آج تک اتنا حسین چہرہ نہیں دیکھا تھا 

گورا رنگ ،سبز آنکھیں وہ مسکرا رہی تھی اس کے گالوں میں گہرے ڈمپل پر رہے تھے ۔ 

شاید اس کے حسن کی وجہ سے عرفان نے مجھ سے بے وفائی کی تھی‘‘ ۔ صبا نے خود کو جیسے تسلی د ی ۔ 

’’مگر کیا کسی بھی عورت کے حسن کی وجہ سے بے وفائی جائز ہو سکتی ہے?‘‘ صبا نے خود سے سوال کیا ۔ 

وہ ایک جھٹکے سے صوفے پراٹھ کر بیٹھ گئی ۔ 

کون ہو تم? اس نے چیخ کر پکارا ۔ ۔ 

?عرفان مر چکا ہے ۔ ۔ اس نے دو شادیاں کی ہوں یا دس ۔ ۔ ۔ میرا اس بات سے کیا تعلق ہے

?مجھے اذیت دے کر تمہیں کیا ملا 

جواب دو ۔ ۔ ۔ صبا ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی مگر آج کوی جواب نہیں آیا ۔ 

_________________________________ 

آجاو سمیعہ‘‘صبا نے دروازہ کھول کر سمیعہ کو راستہ دیا ۔’’ 

تم نے چیک کیا ?کچھ پتہ چلا?سمیعہ نے جوشیلے انداز میں سوال کیا ۔ 

اس اندھیری راہ کے سفر میں سمیعہ ہر قدم پر اس کے ساتھ تھی ۔ 

صبا کے پژمردہ چہرے پر نظر پڑتے ہی اس کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا ۔ 

?کیا ہوا ہے صبا ?خیرتو ہے 

“کچھ نہیں “

صبا کے الفاظ اس کے حلق میں اٹک گئے ۔ وہ سمیعہ کے کندھے سے سر ٹکا کر رونے لگی ۔ 

تو یہ بات ہے‘‘ ۔ صبا کے منہ سے پوری تفصیل جاننے کے بعد اس کے منہ سے نکلا ۔” 

سچ بتاوں ،مجھے کسی ایسی ہی بات کا شک تھا ۔ ۔ ۔ یہ مرد بھی نہ سارے ایک ہی جیسے ۔ ۔ ۔ باتوں کے درمیان میں اس نے ڈبہ کھول لیا ۔ 

یہ ۔ ۔ ۔ یہ لڑکی ۔ ? ۔ یہ تو ۔ ۔ ۔ ‘‘تصویر پر نظر ڈالتے ہی وہ بری طرح اچھل گئی ۔ 

تم جانتی ہو اسے?صبا کو جھٹکا لگا ۔ 

’’اچھی طرح‘‘ 

یہ میرے ساتھ کالج میں ہوتی تھی،جونئیر تھی کافی ۔ مگر اس کی خوبصورتی کی وجہ سے یہ مجھے یاد ہے آج تک ۔ 

اوہ‘‘ صبا کے منہ سے اتنا ہی نکل سکا ۔” 

ہاں غریب تھی بے چاری بہت،سنتے تھے اس کی ماں اس کو سلائیاں کر کے پال رہی تھیں  ۔ 

سمیعہ پر کڑی مل جانے پر جوش سوار ہو گیا تھا ۔ وہ بولے چلی جا رہی ۔ 

وہ ایک ہی بیٹی تھی اپنی ماں کی ۔ ۔ شاید ۔ ۔ اس کے ابو کا انتقال ہو گیا تھا اس کے بچپن ہی میں  ۔ 

صبا میں نے اس کا گھر بھی دیکھا تھا ایک بار ،میرے ذہن میں ہے ۔ چلو اس کے گھر چلتے ہیں ۔ 

?”رہنے دو”صبا بھڑک گئی “کیا کرنا ہے وہاں جاکر”

’’مگر کیوں نہیں ?ابھی سارا بھید تو باقی ہے صرف ایک سرا ہی ہاتھ آیا ہے‘‘سمعیہ بضد رہی ۔ 

لیکن وہاں جا کر کریں گے کیا?کیا بتاوں گی اس عورت کو کہ میں تمہارے شوہر کی پہلی بیوی ہوں اور مجھے ایک نادیدہ مخلوق تنگ کر رہی ہے ۔ صبا نے بےزاری سے کہا 

اسی نادیدہ مخلوق سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ ڈھونڈنا ہے شاید اس کے گھر جا کچھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  

?نہیں سمیعہ !میرا دل نہی مانتا میں اس عورت کا سامنا نہیں کر سکتی ۔ ۔ ۔ ۔ کیا نام ہے اس کا 

’’رباب‘‘ 

سمیعہ اور صبا کے منہ سے ایک ساتھ نکلا ۔ دونوں کسی خیال کے تحت بری طرح چونک گئیں ۔ 

?صبا ! رباب ایک ساز کا نام بھی ہوتا ہے نہ 

ہاں ‘‘ سوچ میں ڈوبی صبا کے منہ سے نکلا ۔’’ 

اور اس بدروح نے تمہیں یہ بتایا تھا نہ کہ وہ ایک ساز ہے ۔ ۔ 
تو اس کا مطلب ہے رباب بھی اس دنیا میں نہیں رہی ،بلکہ شاید تم کو تنگ بھی اس کی ہی روح ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘سمیعہ کڑیاں ملا رہی تھی ۔ ۔ 

چلو سمیعہ‘‘صبا کھڑی ہو گئی اس کے گھر چلتے ہیں ۔ ۔ ۔ تم کو راستہ یاد ہے نہ?۔ ۔ ۔ ‘‘ 

___________________________________ 

کافی دیر تنگ گلیوں میں بھٹک کر دونوں آخر کار منزل ِمقصود تک پہنچ گئیں ۔ ایک مختصر سا گھر جس پر غربت اور بدحالی جیسے ٹپک رہی تھی ۔ کافی دیر دستک دینے کے بعد ایک درمیانی عمر کی خاتون نے دروازہ کھول دیا ۔ 

?ہاں بھئی!کس سے ملنا ہے 

جی ہم ۔ ۔ وہ ۔ ۔ رباب کی ۔ ۔ دوست ۔ ۔ میرا مطلب ہے کالج کی ۔ ۔ وہ ہے یہاں ? یہیں رہتی تھی نہ بہت پہلے? ۔ ۔ ۔ ۔ 

سمیعہ نے اٹکتے ہوئے کہا ۔ حالانکہ وہ سارے راستے ذہن میں ترتیب دیتی آئی تھی کہ کیا کہنا ہے ۔ 

صبا کے تو پورے راستے سے ہونٹ جیسے سل گئے تھے ۔ وہ نہ جانے کہاں کھوئی ہوئی تھی ۔ 

چشمے کی اوٹ سے وہ عورت ان دونوں کو نہ جانے کیوں گھور رہی تھی ۔ 

’’دفع ہو گئی ہے وہ بہت سال پہلے ،نہ جانے کہاں ۔ ۔ ‘‘ 

سمعیہ کی بے ربط تقریر کے جواب میں یہ جملہ اگل کر وہ دروازہ بند کرنے لگی ۔ 

ارے ۔ ۔ ارے ۔ ۔ ایک منٹ آنٹی یہ کیا کہ رہی ہیں آپ ۔ ۔ ?‘‘صبا اور سمعیہ بری طرح بوکھلا گئیں ۔ 

جو تم نے سنا وہی کہ رہی ہوں ۔ اور اگر تم اس بےغیرت کی سہیلیاں ہوتو تم بھی فوراً یہاں سے دفع ہو جاو ۔وہ دوبارہ دروازہ بند کرنے لگی ۔ 

آنٹی پلیز!‘‘ ۔ اتنی دیر میں پہلی مرتبہ صبا کے منہ سے نکلا ۔ “ھمیں اندر آنے دیں صرف دس منٹ کے لئے “۔ ہماری چند باتوں کے جواب دے دیں ،پھر ہم ۔ ۔ ۔ دفع ہو جاینگے ہمیشہ کے لئے ۔ صبا کے لہجے میں اتنا کر ب تھا کہ وہ خشک مزاج عورت ٹھٹھک گئی ۔ 

’’ٹھیک ہے ۔ مگر صرف دس منٹ ۔ ‘‘ 

مختصر کمرے کے ایک کونے میں ایک چارپائی پڑی ہوئی تھی ۔ وہ دونوں اس پر بیٹھ گئیں ۔ ایک کونے میں دو تین پرانے اسٹائل کے لوہے کے صندوق ایک دوسرے کے اوپر دھرے ہوئے تھے جن پر کپڑا ڈالا ہوا تھا ۔ صبا اور سمیعہ کا جائزہ چند سیکنڈ میں ہی مکمل ہو گیا ۔ 

یہاں کرائے پر رہتی تھی دونوں ماں بیٹیاں سالہا سال سے،ماں بے چاری تو بہت شریف اور سادہ تھی ۔ مگر رباب اف خدا کی پناہ‘‘اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے ۔ 

بے چاری ماں نے رات رات بھر سلائیاں کر کے بیٹی کو جوان کیا ۔ پڑھایا،لکھایا،جوان ہوئی تو قیامت کی حسین نکلی اور پھر کیا قیامت مچائی اس نے ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘وہ عورت اس قدر ناگوار انداز میں سب بتا رہی تھی جیسے کل کی بات ہو ۔ 

اتنی منت سماجت کی ماں نے کہا اگر نوکری کرنا ہے تو کسی اسکول میں کر لے ،مگر نہ بابا ۔ ۔ اسکول کی نوکری میں وہ رنگ رلیاں کہاں منائی جا سکتی ہیں ۔ نہ جانے کس آفس میں کچھ مہینے نوکری کی اورنہ جانے کس کو پکڑ لائی کہ میراشوہر ہے ۔ لو بھلا ایسے کیا راستے میں پڑے مل جاتے ہیں کیا شوہر? ۔ اس نے منہ بگاڑ کر کہا ۔ 

صبا گھبرا کر دوسری طرف دیکھنے لگی ۔ 

کیا ایسے ہوتی ہیں شادیاں ?نہ ماں شریک ہوئی نہ ہی کوئی محلے دار،سب کو یقیں تھا جھوٹ بول رہی ہے ۔ اور پھرایک دن ۔ ۔ ۔ توبہ توبہ ۔ ۔ ‘‘ اس نے اپنے گال پیٹے ’’پاوں بھی بھاری ہو گیا‘‘ ۔ 

صبا کا دل اچھل کرحلق میں آگیا ۔ ۔ ۔ ۔ 

کوئی اور اعتراض اٹھاتا یا نہیں میں تو یہ کھلی بے حیائی برداشت نہیں کر سکتی تھی، میں نے تو دن رات دباو ڈالنا شروع کر دیا تھا کہ یا تو شوہر کو ساتھ رکھو یا یہ مکان خالی کر دو—وہ سانس لینے کو رکی ۔ صبا اور سمیعہ منہ کھولے یہ رام کتھا سن رہی تھیں ۔ 

بھلا ایسا کہیں دیکھا ہے کہ شوہر صرف کبھی کبھار رات کی تاریکی میں ملنے آئے اور منہ ا ندھیرے واپس چلا جائے ۔ 

جب میں نے زیادہ ہی شور مچایا تو ایک دن ایسی غائب ہوئی کہ آج تک نہیں لوٹی ۔ ۔ ۔ ماں غریب راہ تک تک کر مر گئی ۔ ۔ ۔ 

اوہ ‘‘صبا اور سمیعہ کے منہ سے ایک ساتھ نکلا ۔’’ 

ہاں ۔ ۔ ‘‘پہلی مرتبہ دجال نما عورت کے لہجے میں نرمی آگئی ۔’’ 
آخر کے دنوں میں توسخت بیمار پڑ گئی تھی ۔ کام کاج کیا خاک کرتی ہر وقت بیٹی کو یاد کرکے آنسو بہاتی تھی میں نے تو ایک ڈیڑھ سال سے کرایہ بھی نہیں لیا تھا ۔ دو وقت کا کھانا بھی میں ہی دے جاتی تھی ۔ کفن دفن تک محلے والوں نے مل کر کیا تھا ۔ خدا دشمن کو بھی ایسی اولاد نہ دے ۔ ۔ 

کب ۔ ۔ کب ہوا رباب کی والدہ کا انتقال ۔ ۔ ?سمیعہ نے پوچھا ۔ 

ابھی دو ڈھائی مہینے پہلے،ارے ہاں سات اگست کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگست کی سات تاریخ کوبے چاری ہر غم سے چھٹکارا پا گئی،خدا اس کی مغفرت فرمائے ۔ 

آمین‘‘ صرف سمیعہ کے منہ سے نکلا ’’

صبا تو خلاوں میں نہ جانے کیا تک رہی تھی ۔ “ایک دن اس کا پاوں بھاری ہو گیا” ۔ ۔  

سات ۔ ۔ سات اگست کو رباب کی ماں کا انتقال ہو گیا ۔ ۔ اس کے کانوں میں کوئی مسلسل یہ دو جملے دہرا رہا تھا ۔ 

_______________________________________

صبا تم کو اچھی طرح یاد ہے وہ سات اگست کی تاریخ ہی تھی?” سمیعہ نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے پوچھا” ۔ 

آں ۔ ۔ ہاں ۔ ۔” بلکل پکا” ۔ صبا نے کسی خیال سے چونک کر جواب دیا ۔ 

تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اتنے دنوں سے جو نادیدہ مخلوق تمہیں ستا رہی ہے وہ رباب نہیں ۔ ۔ 

سمیعہ کی آواز پر جوش ہو گئی ۔ ’’بلکہ وہ اس کی امی کی روح ہے ۔ سات اگست کو ان کا انتقال ہوا اورسات اگست کی رات کو انہوں نے تمہارے خط میں وہ لائن لکھی تھی ۔

ہاں ،لیکن پھر رباب?وہ کہاں ہے اس نے اپنی ماں سے اتنے عرصے سے رابطہ کیوں نہیں کیا?جبکہ اس عورت کے مطابق وہ تو ماں بھی بننے والی تھی ۔ صبا کے انداز میں الجھن تھی ۔ 

اگر ہم تمام معاملات پر دوبارہ نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ عرفان بھائی نے رباب سے اپنے تعلقات ختم کر لئے تھے اور رباب ان کا آج بھی انتظار کر رہی ہے ۔ اس کو تو معلوم ہی نہیں ہو گا کہ عرفان بھائی کا  انتقال ہو چکا ہے ۔ سمیعہ نے کہا 

لیکن رباب کی ماں سے تو خود رباب کا برسوں سے کوئی رابطہ نہہں تھا تو اس کی روح مرنے کے بعد مجھ

?  کو کیوں ستا رہی ہے


ہوں ۔ ۔ سمیعہ نے آہستہ سے کہا”ابھی بھی کوئی راز ہے “۔ جس پر پردہ پڑا ہوا ہے ۔ جو اٹھنا باقی ہے ۔ 

ہوں ۔ ۔صبا نے جواب دیا ۔ اس کے آگے پڑا چائے کا کپ کب کا ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔ 

____________________________________ 

صبا‘‘ اس آواز کو وہ لاکھوں میں پہچان سکتی تھی ۔’’

?عرفان کہاں ہو تم? “کیوں بھٹک رہے ہو “۔  

صبا سو رہی تھی،خوا ب دیکھ رہی تھی ۔ مگر اس گہری نیند میں اس کو اچھی طرح معلوم تھا،یاد تھا کہ عرفان مر چکا ہے ۔ اور یہ محض خواب نہیں ہے اس کی روح نے صبا سے رابطہ کیا ہے ۔ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے ۔ ۔

?مگر کیا 

?عرفان خدا کے لئے آج بتاو تم کس مشکل میں ہو ?تم کو کیوں عذاب دیا جا رہا ہے 

عرفان نے اپنی ویران آنکھیں صبا پر گاڑ دیں ۔ کتنا کر ب تھا اس کے چہرے پر ۔ 

’’صبا مجھے معاف کر دو ۔ ۔ ‘‘ اس کے خشک ہونٹوں سے بمشکل نکلا ۔ ۔ 

وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ اس کی دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔ 

’’ میں نے تمہیں معاف کر دیا عرفان ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے معاف کیا ۔ ۔ ‘‘وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی ۔ 

_________________________________ 

صبا نے میز پرپین اور لیٹر پیڈ رکھ دیا ۔ 

سارے گھر کی لائیٹیں پہلے سے آف تھیں ۔ صرف صبا کا کمرہ روشن تھا ۔ سمیعہ کو جب اس نے رات والا خواب سنایا تو دونوں پھر الجھ گئی تھیں ۔ 

’’سمجھ نہیں آرہا ہے صبا عرفان بھائی اتنی مشکل میں کیوں ہیں ۔ دوسری شادی اتنا بڑا گناہ تو نہیں ہے ۔ ‘‘ 

’’سمیعہ جب میں اس طرح کا خواب دیکھتی ہوں سمجھو آدھی مر جاتی ہوں ۔ میرے بس میں نہیں کہ میں کس طرح عرفان کی مشکل حل کر دوں اس کو نجات دلا دوں ۔ ‘‘ 

’’صبا آج ہم خود اس روح کو بلاتے ہیں ۔ ‘‘ 

’’کیا ۔ ۔ ۔ ‘‘صبا اچھل گئی ۔ 

ہاں صبا اور کیا کریں ?ان سوالوں کا جواب صرف وہ ہی دے سکتی ہے ۔ اس گورکھ دھندے کو اسکے ذریعے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔ 

مگر کیسے?

?وہ آئے گی ہمارے بلانے پر 

’’کوشش کرتے ہیں ۔ ‘‘ 

اس وقت رات کے گیارہ بجے وہ دونوں دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس مہم کا آغاز کر رہی تھیں ۔ 

’’اس نے ہمیشہ لکھ کر بات کی ہے ۔ ہم پین اور پیپر سامنے رکھ دیتے ہیں ۔ ‘‘انہوں نے پروگرام سیٹ کیا ۔ 

صبا نے بیڈ روم کی لاءٹ آف کر کے لیمپ آن کر دیا ۔ زرد روشنی میں کمرہ ایک دم خوفناک لگنے لگا ۔ 

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔ ’’چلو شروع کرتے ہیں ۔ ‘‘ 

’’آنٹی ۔ ۔ ‘‘صبا نے بڑی مشکل سے آواز نکالی ۔ 

دیکھئے ہم سمجھ گئے ہیں آپ کون ہیں ۔ ۔ آپ رباب کی ۔ ۔ امی ہیں ۔ مگر آنٹی آپ اب کیا چاہتی ہیں ? میں نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا ،مجھ کو تو عرفان اور رباب کی شادی کا علم تک نہیں تھا ۔ 

اور پھر اب تو عرفان بھی مر چکا ہے ۔ سخت تکلیف میں ہے ۔  

صبا کی آوازبھرا گئی ۔ 

?پلیز آنٹی بتائیں آپ کیا چاہتی ہیں ۔ آپ کے غصے کی وجہ کیا ہے 

دونوں کی نظریں پیپر پر جمی ہوئی تھیں ۔ ۔ ۔ مگر ہر طرف خاموشی کا راج تھا ۔ ۔ 

صبا نے کئی بار پکارا ۔ ۔ مگر ۔ ۔ ۔ 

اچانک ۔ ۔ ۔ کال بیل زور سے بجنے لگی ۔ ۔ ۔ مسلسل ۔ ۔ ۔ 

دونوں بری طرح اچھل گئیں ۔ 

_____________________________________ 

?کک ۔ ۔ ۔ کون ہے?صبا نے بمشکل پوچھا 

سمیعہ اس کے پیچھے کھڑی تھی ۔ ۔ 

’’آنٹی مما کو بلا دیں ۔ ‘‘دروازے پر سمیعہ کا دس سالہ بیٹا روحان تھا ۔ 

’’مما ۔ ‘‘سمیعہ پر اس کی نظر پڑی ۔ 

’’مما !جلدی گھر چلیں ابو بلا رہے ہیں وہ بہت ناراض ہو رہے ہیں کہ رہے ہیں کہ فوراً اوپر آو ۔ ‘‘ 

’’جاوسمیعہ‘‘صبا نے ٹھنڈی سانس بھری ۔ 

’’لیکن ۔ ۔ ابھی تو ۔ ۔ ‘‘سمیعہ تذبذب کا شکار تھی ۔ 

’’تم جاو سمیعہ!رشتے بہت اہم ہوتے ہیں ۔ کسی بھی دوسری چیز سے بڑھ کر ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ 

’’یہ میرے دل سے پوچھو ۔ ۔ ۔ ‘‘آخری جملہ صبا نے اپنے دل میں کہا تھا ۔ 

___________________________________ 

سمیعہ کو رخصت کرنے کے بعد صبا نے دروازہ بند کر دیا ۔ 

کھلے صحن میں خاموشی کا راج تھا ۔ ہوا تقریباً بند تھی ۔ سردیاں شروع ہونے کو تھیں اس لیئے فضا میں عجیب سی افسردگی تھی،ایک ویرانی ۔ ۔ ۔ ۔ کم سے کم صبا کو تو ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا ۔ واپس گھر میں

?داخل ہونے سے اس کا جیسے وحشت ہونے لگی ۔ دل چاہنے لگا کہیں بھاگ جائے ۔ ۔ ۔ مگر کہاں  

’’ میں عذرا کے پاس چلی جوں گی ۔ بے شک چند مہینے کے لئے ۔ میں اس ماحول میں مزید نہیں رہ سکتی‘‘صبا نے فیصلہ کیا ۔ 

مگر ۔ ۔ کیسے?جب تک اس’’ گھمبیرتا‘‘سے پردہ نہیں ہٹ جاتا میں کہاں جا سکتی ہوں ۔ عرفان کی وہ حالت بار بار مجھے ڈرائے گی چاہے میں دنیا کے کسی کونے میں بھی چلی جاوں ۔ اس کے وجدان نے اسے بتا دیا ۔ 

وہ بوجھل قدموں سے گھر میں داخل ہو گئی ۔ اہستہ اہستہ چلتی اپنے کمرے میں آ گئی ۔ نہ جانے کیوں۔ 

کمرے میں  داخل ہوتے ہی اس کے جسم کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔ ایک غیر معمولی احساس اسے ستانے لگا ۔ جس ہستی کو پکار پکار کر وہ اور سمیعہ تھک گئیں تھیں شاید وہ آ گئی تھی ۔ ۔ ۔ 

پورے گھر میں گھپ اندھیرا تھا ۔ صرف صبا کے کمرے میں لیمپ کی ملگجی روشنی پھیلی تھی ۔ اور وہ اکیلی تھی ۔ ۔ ۔ 

سمیعہ کے ساتھ مل کر جس روح کو وہ قدرے بے خوفی سے آوازیں دے رہی تھی تنہائی میں اس کی موجودگی کے احساس سے اس کا دل ڈوب رہا تھا ۔ 

’’بھاڑ میں جائے ہر از ۔ ہر بھید ۔ ۔ میں اوپر جا رہی ہوں سمیعہ کے پاس ۔ ۔ ۔ ‘‘اس نے گھبرا کر سوچا ۔ 

مگر ۔ ۔ ۔ پھر ایک خیال نے اس کے قدم روک لیئے ۔ 

’’عرفان ۔ ۔ وہ کھنڈروں میں بھٹکتا ۔ ۔ شدید اذیت میں مبتلا ۔ ۔ ’’عرفان ۔ ۔ ۔ 

’’نہیں ۔ ۔ ۔ نہیں ‘‘صبا نے بمشکل خود پر قابو پایا ۔ 

’’صرف تھوڑی سی ہمت ۔ ۔ ۔ اور پھر ان واقعات کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا‘‘ 

وہ آہستہ سے چلتی صوفے پر بیٹھ گئی ۔ 

’’دیکھیں ۔ ۔ ‘‘صبا نے ہمت کر کے آواز دی ۔ 

مجھے معلوم ہے آپ کمرے میں موجود ہیں ۔ ۔ ۔ پلیز اب اس راز سے پردہ ہٹائیں ۔ ۔ آپ کون ہیں ؟۔ ۔ ۔

یہ سب کیا ہے 

صبا کی نظریں مستقل میز پر رکھے پیپر اور پین پر جمی ہوئی تھیں ۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا کہ اب وہ ہستی اس کے سوالوں کے جواب لکھنا شروع کرے گی ۔ ۔ ۔ مگر کوئی حرکت نہ ہوئی کوئی جواب نہ آیا ۔ 

تھک کر صبا نے صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں ۔ ۔ ۔ اچانک ۔ ۔ ۔ کمرے میں ایک کراہ گونجی ۔ ۔ ۔ ۔ 

’’آہ ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ‘‘ 

کک ۔ ۔ کون ہے‘‘ ۔ صبا گھبرا کر سیدھی ہو گئی ۔ اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں ۔

چند لمحوں بعد ۔ ۔ اس کے سامنے دیوار پر ۔ ۔ ۔ آہستہ آہستہ ۔ ۔ ۔ ایک سایہ نمودار ہونے لگا ۔ لیمپ کی زرد مدہم روشنی میں کوئی آہستہ اہستہ کھڑا ہو رہا تھا ۔ ۔ ۔ ایک عورت کا سایہ ۔ ۔ عام قدو قامت سے کہیں بڑا ۔ ۔ ۔ سایہ مکمل کھڑا ہو گیا اس کا سر چھت کو چھو رہا تھا ۔ 

صبا دل پر ہاتھ رکھے پھٹی ہوئی آنکھوں سے یہ ہولناک منظر دیکھ رہی تھی ۔ ۔ 

آہ ۔ ۔ ۔ سائے نے پھر کراہ لی ۔ ۔ ’’کیوں ستا رہی ہو مجھے ۔ ۔ اجازت نہیں بار بار آنے کی ۔ ‘‘ 

خوف سے بے ہوش ہوتی صبا کے اندر کی عورت بیدار ہو گئی ۔ وہ اچانک ڈر سے بے گانہ ہو گئی ۔ 

’ میں؟ میں ستا رہی ہوں تمہیں؟ اس کہانی کا انجام کرنا ہے مجھ کو جس کا آغاز تم نے کیا تھا ۔ سات اگست کو” ۔ “

اتنے دنوں کا شدید خوف،الجھن،ڈپریشن اچانک شدید غصے میں تبدیل ہو گیا ۔ 

کیا تعلق تھا تمہارا عرفان سے بولو؟;کیوں ڈراتی ہو مجھ کوراتوں میں ۔ ۔ ۔ جواب دو ۔ ۔

!کون ہوتم 

 میں نے بتایا تھا میں ایک ساز ہوں ۔ سائے کی آواز کسی سسکی سے مشابہ تھی ۔ 

ساز”
 تم ۔ ۔ ۔ رباب ہو؟ ۔”

’’ہاں ‘‘ 

عرفان سے تمہارا کیا تعلق تھا؟

’’وہ ۔ ۔ وہ شیطان میرا شوہر تھا ۔ ۔ ‘‘ 

شیطان؟ کیوں اس نے تمھارا کیا بگاڑا تھا ۔ تم نے اس سے اپنی مرضی سے شادی کی تھی ۔ مجھے علم ہے ۔ صبا نے بگڑ کر پوچھا ۔ 

’’ہاں وہ میری غلطی تھی ،بھیانک غلطی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ 

__________________________________________ 

عرفان! میں اب اس بات کو مزید نہیں چھپا سکتی ۔ میری امی،میرے پڑوسی مجھ کو غلط نظروں سے دیکھ رہے ہیں  ۔ رباب اور عرفان ہوٹل کے کمرے میں آمنے سامنے بیٹھے تھے  

میں نے تم کو شادی سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ مجھے جلدی بچہ نہیں چاہئے””  

جلدی؟ رباب نے بھڑک کر کہا دو سال ہونے کو آئے ہیں اس خفیہ نکاح کو ۔ ۔ ۔ اور مجھ کو خود نہیں پتہ ایسا کیسے ہو گیا ۔ مگر اب میں اس بچے کو جنم ضرور دوں گی چاہے تم کچھ بھی کہو ۔ ۔ ۔  

رباب تم جتنی خوبصورت ہہو اس سے زیادہ ضدی ہو ۔ ۔ ‘‘عرفان نے اچانک لہجہ بدل لیا ۔ 

-پلیز تھوڑا ٹائم اور ۔ ۔ ۔ پھر میں اپنے گھر والوں کو اعتماد میں لے لوں گا 

کتنا ٹائم اورچاہیے تم کو؟رباب چڑ گئی ,اور کون سے گھر والے؟

تمہارا تو دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔ صرف ایک بیوی تو ہے تو اگر اس سے اتنا ڈرتے ہو تو مجھ

-سے شادی کیوں کی تھی 

 میں کوئی نہیں ڈرتا اس سے ۔ ۔ ‘‘عرفان نے پھر لہجہ بدل لیا ۔ تم کو پتہ تو ہے آج کل میرا بزنس ڈاون ہے بری طرح ۔ ۔ میرا گھر میری بیوی کا ہے ۔ اسی کے پیسوں سے میں تمہارے اخراجات بھی اٹھاتا ہوں ۔ اگر اس نے غصے میں آکرمجھے چھوڑدیاتو میں تو در بدر ہو جاوں گا ۔  

ہونہہ ۔ ۔ تمہارا بزنس تو ہمیشہ ہی ڈاءون رہتا ہے ۔ لیکن اب میری چند باتیں دھیان سے سن لو ۔ تمہیں اب میرے شوہر کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آنا پڑے گا ۔ نہ جانے نکاح نامہ بھی تم نے کہاں چھپا دیا ہے ۔ لیکن اگر تم نے خاموشی سے مجھ کو چھوڑنے کی کوشش کی تو میں تمھاری بیوی کے پاس چلی جاءوں گی

اور اس کو تمہاری ساری اصلیت بتاءوں گی ۔ اور ۔ ۔ ۔ میں ہر قیمت پر اپنے بچے کو جنم دوں گی چاہے تم کچھ بھی کہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

______________________________________ 

عرفان بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا ۔ 

گھٹیا عورت ۔ ۔ ۔ “اس نے دانت پیسے” ۔ ۔ ۔ ۔ 

دکھا دی اپنی اوقات ۔ ۔ ۔ ہونہہ ۔ ۔ شوہر کی حیثیت ۔ ۔ ۔ تیری جیسی عورتیں اس قابل ہوتی ہیں جن کو بیوی کی حیثیت سے دنیا کے سامنے لایا جا سکے ۔ ۔ ‘‘عرفان غصے میں پاگل ہو رہا تھا ۔ 

 میں تو تجھ سے بیزار ہو چکا ہوں جان چھڑانا چاہ رہا تھا کہ تو اب بچے کا ڈھول میرے گلے ڈال رہی ہے

بیوی موجود ہے میری– شریف –اورصاحب جائیداد ۔ ۔ ۔ اس نے برابر میں بے خبر سوتی صبا پر نظر ڈالی ۔ 

اگر رباب کی وجہ سے صبا نے مجھے چھوڑدیا ۔ ‘‘وہ گھبرا کر اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ برسوں سے کما کر نہ کھانے والی عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ محنت کے تصور سے بھی اس کی جان
جاتی تھی ۔  


نہیں ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا کسی قیمت پر نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘عرفان کا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا ۔ 

_____________________________ 

لکڑی کے بنے اس خوبصورت کاٹج میں عرفان اور رباب آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔ رباب اپنے برابر سوئے چند دن کے بچے کو تھپک رہی تھی ۔ 

’’اب ۔ ۔ اب کیا کرنا ہے رباب نے سوال دہرایا ۔ 

تمہارے کہنے کے مطابق ایک دور دراز ،غیر آباد جگہ پر ڈلیوری بھی ہو گئی ۔ بغیر کسی کو اطلاع دئے،مگر اب یہاں کب تک رہیں گے؟ میرے تو تمام پیسے بھی ختم ہو گئے ہیں ۔ سارا زیور بیچ دیا تھا ۔ ۔رباب کے لہجے میں تلخی تھی ۔ 

ہاں ۔ ۔ تو کوئی میری ڈلیوری کے لئے تو تم نے زیور نہیں بیچا ۔ تم ہی مری جا رہیں تھی بچہ ۔ ۔ بچہ ۔ ۔ ۔ عرفان کا لہجہ اس سے دگنا کڑوا تھا ۔ 

لیکن اب ۔ ۔ اب کیا کرنا ہے؟ میری امی کتنی پریشان ہوں گی میں نے ان کو بھی کچھ نہیں بتایا تمہاری ضد کی وجہ سے ۔ ۔ رباب غمگین ہو گئی ۔ 

اب تم اپنا وعدہ پورا کرو عرفان ۔ ۔ میرے شوہر کی ،اس بچے کے باپ کی حیثیت سے میرے گھر چلو ،دنیا کا سامنا کرو ۔ 

ماں بننے کے بعد رباب مزید حسین ہو گئی تھی ۔ اس کے گال دمک رہے تھے ۔ چہرے پر بے حد نور تھا ۔ مگر ۔ ۔ ۔ 

کتنی منحوس عورت ہے یہ ۔ ۔ ‘‘عرفان سوچ رہا تھا ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا مجھے

اس کی ضد مان کر اس سے نکاح کر بیٹھا،اور اب یہ بچہ میرے گلے ڈال رہی ہے ۔ صبا کو اگر منا بھی لیا تو ان دونوں کا بوجھ تو مجھے ہی اٹھانا پڑے گا ۔ ۔ ۔ اف

وہ لرز گیا ۔ 

عرفان !تم کو اس بچے سے محبت محسوس نہیں ہوتی ؟ رباب نے پھول جیسے بچے کو پیار سے دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔ 

ہوں ۔ ۔ ۔ عرفان کو پتہ تک نہ چلا رباب نے کیا پوچھا تھا ۔ وہ تو کچھ اور ہی سوچ رہاتھا ،پلان کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ 

اس نے کھڑے ہو کر کھڑکی سے نیچے جھانکا ۔ اس بلند بالا تفریحی مقام پرجس کاٹج میں وہ ٹہرے ہوئے تھے،اس کے بلکل ساتھ ایک گہری کھائی تھی جس میں دریا ٹھاٹھیں مار رہا تھا ۔ 

کئی دنوں سے ذہن میں پکتے پلان پر اس نے اچانک عمل کر دیا ۔ 

عرفان کو صرف چند منٹ لگے رباب کا گلا دبا کر اس کو کھائی سے نیچے پھینکنے میں ۔ ۔ ۔ 

ہاہ ۔ ۔ ‘‘اس نے اطمنان کی سانس لی ۔ ۔ ’’اب ۔ ۔ ‘‘ اس کے ہاتھ بچے کی طرف بڑھے ۔ ۔ ۔ اس نے بچے کو اٹھا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ 

________________________________ 

سائے کی سسکیوں میں تیزی آگئی ۔ ۔ ۔ 

صبا جےسے دم سادھے سب کچھ سن رہی تھی ۔ 

’’تو کسی کو شک نہیں ہوا تمہاری لاش ۔ ۔ ۔ ‘‘ 

میرا کون تھا؟جو مجھے ڈھونڈتا ،ایک کمزور ماں جو میرے انتظار میں جان سے چلی گئی ۔ ۔ ۔ جنگلی جانورکھا گئے تھے میری بے کفن لاش کو ۔ ۔ ۔ ۔  

صبا کو جھرجھری آگئی ۔ ۔ 

اور وہ وہ بچہ؟ کیا اس کو بھی ؟

نہیں وہ شیطان کوشش کے باوجود اپنی اولاد کو قتل نہ کر سکا ۔ ۔ وہ بچہ دنیا میں ہے ۔

تم کو عرفان سے اتنی نفرت ہے ۔ لیکن تم نے اس کو کبھی نہیں ستایا ،اس نے انتقام لینے کی کوشش کیوں نہیں کی؟

ایک خیال صبا کے ذہن میں پیدا ہوا ۔ 

تم کو تو دنیا سے گئے تقریباً چار سال ہو گئے،تم نے عرفان کے مرنے کے بعد رابطہ کیوں

کیا ؟

 میں ۔ ۔ میں تو اپنا حساب کتاب دے رہی تھی ،اپنے کرم بھگت رہی تھی ۔ مجھے دنیا میں آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ ‘‘ سائے کی آواز میں سرگوشی تھی ۔ 

جب میری پاکباز ماں کی نیک روح اس عالم میں آئی تو اس نے میری سفارش کی ۔ مجھ پر سے بوجھ کم کر دئے گئے،مجھے تم تک آنے کی اجازت مل گئی ۔  

“اوہ”

صبا پھر لرز گئی

 اور عرفان؟ وہ اب تک کیوں عذاب میں ہے؟ کیوں بھٹک رہا ہے؟ 

وہ” ۔ ۔ سایہ کرب میں ڈوبی آواز میں ہنسنے لگا ۔ ۔” 


وہ تو بھٹکے گا ۔ ۔ قیامت تک، اپنے گناہوں کی سزا بھگتے گا ۔ میں اور تم تو کیا کوئی اس کے لیئے اب کچھ نہیں کر سکتا ۔ ۔ اس کا عذاب کبھی کم نہیں ہو گا ۔ ۔ ۔  

تو پھر تم مجھ سے کیا چاہتی تھیں؟ مجھ سے کیوں رابطہ کرتی تھیں؟ صبا نے پھر پوچھا ۔ ۔ 

وہ بچہ تمہارے شوہر کا ہے، تمہارا ہے ،اسے تم لے آو ۔ ۔ ۔ ۔ پال لو ۔ ۔ اس کو تمہاری ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ 

اب مجھ کو مت پکارنا میری مہلت ختم ہو گئی ہے، میں اب نہیں آسکتی ، میں اب کبھی نہیں آوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘سایہ آہستہ آہستہ غائب ہو گیا ۔ 

صبا جیسے سکتے سے واپس آ گئی ۔ 

لیکن ۔ ۔ لیکن وہ بچہ ہے کہاں ؟ ۔ ۔ میں کیسے پالوں اسے؟ صبا چلانے لگی ۔ 

رباب صرف اس آخری سوال کا جوا ب دیتی جاو ۔ ۔ ۔ میں کہاں ڈھونڈوں اسے کیسے؟ 

کمرے میں مکمل خاموشی تھی ۔ 

______________________________________ 

چیخ چیخ کر صبا کا گلا بیٹھ گیا ۔ اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔ اس کو یقین تھا کہ رباب ٹھیک کہ رہی تھی،اب وہ کبھی نہیں آئے گی ۔ لیکن پھر اس نے ان آخری لمحوں میں اس کو ایک عجیب نئی بے چینی کیوں دے دی ،ایک دکھ میں مبتلا کیوں کر دیا

!اس کی سوئی مامتا کو کیوں جگا دیا—وہ بچہ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفان کا بچہ ۔ ۔ وہ کہاں ہے

اتنی بڑی دنیا میں بغیر کسی نام و نشان کے وہ اکیلی عورت اس کو کہاں ڈھونٖڈے؟  

صبا نڈھال ہو کرصوفے پر گر گئی ۔ اس کے اعصاب بری طرح جواب دے گئے تھے ۔ اس کی جلتی ہوئی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔ 

_________________________ 

کمرے میں عجیب سی سرسراہٹ ہو رہی تھی ۔ صبا کہ نیند میں بھی محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی اندر داخل ہوا ہے ۔ اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر ۔ ۔ لگ رہا تھا جیسے جنموں کی نیند پوری کر رہی ہو ۔ ۔ کمرے میں ایک تیز مہک پھیل گئی ۔ ۔ پرسرار ۔ ۔ اگربتی جیسی ۔ ۔ باسی پھولو ں جیسی ۔ ۔ ۔ ناگوار سی ۔ ۔ ۔ ایسی مہک جو مرگ سے منسلک ہو تی ہے ۔ جو قبرستان میں بسی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ نیند میں بھی صبا کو پھریری آگئی ۔ اس نے بمشکل بند آنکھیں کھولیں ایک ہیولہ سا میز پر جھکا ہوا تھا ۔ ۔ کمرے کی گہری خاموشی میں ایک آواز گونجی ۔ ۔ ۔ کچھ لکھے جانے کی آواز ۔ ۔ ۔ ہیولے نے سر اٹھایا ۔ ۔ نیم اندھیرے میں اس کی کرب میں ڈوبی آنکھیں صبا سے ٹکرائیں ۔ ۔ ۔ عرفان ۔ ۔ صبا کے منہ سے سرگوشی نکلی ۔ ۔ ۔ کاغذ کا ایک پرزہ صبا کے پاس آ کر گر گیا ۔ 

صبا کی آنکھیں دوبارہ بند ہو گئیں ۔ 

-______________________________________ 

سمیعہ گم صم ایک کاغذہاتھوں میں پکڑے بیٹھی تھی ۔ کاغذ ہوا سے لہرا رہا تھا ۔ 

صبا بلکل خاموش اس کے پاس بیٹھی تھی ۔ 

“یہ تو کہیں کا ایڈریس لگ رہا ہے ۔ “کافی دیر بعد سمیعہ جیسے ہوش میں آئی  

آسرا۔32″ لگ تو ایسا ہی رہا ہے ۔ صبا نے جواب دیا ۔” 

_____________________________________ 

ٓآسرانامی عمارت کو ڈھونڈنے میں ان کو زیادہ مشکل در پیش نہ ہوئی ۔ یقیناًخدا کی مدد شاملِ حال تھی ۔ ان کے شہر سے چند گھنٹوں کی دوری پر یہ ایک بے سہارا بچوں کاٹھکانا تھا ۔ اس عمارت کے علاوہ اس نام کی دوسری عمارت کہیں بھی نہیں تھی ۔

لیکن یہ

“32”

—کیاہے — یہ بھید بھی آسرا نامی ادارے میں پہنچ کر کھل گیا

 جس ترتیب سے بچے ادارے میں داخل ہوتے گئے تھے اس حساب سے ان کا ایک شناختی نمبر بھی تھا ۔ اب ادارے میں بچوں کی تعداد 100سے اوپر تھی ۔ 32نمبر والے بچے کو دیکھنے کے کے بعد کسی شک و شبہے کی گنجائش باقی نہ رہی ۔ چار سالہ،گورا چٹا،سبز آنکھوں والا بچہ رباب سے غیر معمولی حد تک مشابہ تھا ۔ مسکرانے پر اس کے دونوں گالوں میں اپنی مرحومہ ماں جیسے ڈمپل پڑ رہے تھے ۔ بچے پر نظر ڈالتے ہی صبا کو اپنے سینے میں ایک عجیب درد کا احساس ہوا،شاید مامتا کا درد ۔ ۔ ۔ اس نے تڑپ کر بچے کو خود سے لپٹا لیا ۔ 

ہم اس بچے کو گود لےنا چاہتے ہیں ۔ آپ کی شرائط کیا ہیں ؟  سمیعہ کی آواز گونجی ۔ 

_____________________________

 مارچ1 

پیاری عذرا 

بعد سلام کے عرض ہے کہ میں بلکل ٹھیک ہوں اور بہت بہت خوش ۔ کچھ دنوں سے جن عجیب و غریب الجھنوں اور دل دہلا دینے حالات کا شکار تھی ان کا اتنا خوبصورت صلہ ملا ہے کہ زندگی بدل گئی ہے ۔ حسین ہو گئی ہے ۔ تمام تفصیلات سے تو تم و اقف ہی ہو مگر دل چاہتا ہے کہ بار بار تم کو بتاوں کہ میں بہت خوش ہوں ۔ مجھ کو ایک بہت پیارا چاندجیسا بیٹا مل گیا ہے ۔ میں نے اس کا نام’’احسان‘‘رکھا ہے ۔ ادارے والوں نے تو اس نام کچھ اور رکھا تھا مگر میں نے بدل دیا ہے ۔ میرے بیٹے کا نام بھلا کوئی اور کیوں رکھے؟

 میں سارا دن اپنے بچے کے ساتھ مصروف رہتی ہوں ۔ اس کے ننھے منے کاموں میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔ اور اب میں اس کو اسکول میں ایڈمیشن دلا دوں گی تو مصروفیت اور بڑھ جائے گی ۔ میں نے سوچا ہے خود اس کو اسکول چھوڑنے اور لینے جایا کروں گی

خود اس کو ہوم ورک کروایا کروں گی ۔ اف میں یہ کیا باتیں لے بیٹھی ۔ خیر تم اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا تم سے ملنے کو بہت دل کرتا ہے میں چھٹیوں میں تمہارے پاس رہنے آوں گی اپنے’’سنی‘‘ کے ساتھ ۔ 

تمہاری بہن صبا 

___________________________ 

 

This Post Has 4 Comments

  1. Khalid

    بے حد دلچسپ اور تسلسل پہ مبنی کہانی۔ کافی عرصے کے بعد اردو ادب میں پراسرار کہانیوں کا اضافہ ہوا ھے- کہانی کی مصنفہ (شازیہ ) کو میری طرف سے دلی مبارکباد

    1. Story Teller

      کہانی کو سراہنے کا بہت شکریہ! نئی آنے والی کہانیوں پر بھی رائے اور مفید مشورے کا اظہار کیجئے گا

  2. Bushra sajjad

    Very interesting story. Enjoyed reading it a lot. Amazing content

    1. Story Teller

      Thank you so much.

Leave a Reply