کوارٹر نمبر313

“انجنا”
کیا ؟میں نے چونک کر حسن کو دیکھا۔
انجنا”۔۔۔۔۔اس نے دوبارہ دہرایا۔
کون انجنا؟ کدھر ہے؟میرے پوچھنے پر اس نے کوئی جواب دیئے بغیر اپنی چھوٹی انگلی سے ایک طرف اشارہ کردیا۔
میں نے مڑ کر دیکھا۔ حسب توقع وہاں کوئی نہیں تھا۔

مختصر سے غسل خانے میں جہاں میں اپنے چھ سالہ بیٹے حسن کو نہلا رہی تھی۔
ہمارے علاوہ کس نے ہونا تھا۔

میں نے ایک دو مرتبہ اس سے پھر پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے مگر اس کے کوئی جواب نہ دینے پر میں کاموں میں لگ کر بھول بھال گئی۔حسن ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔ یعنی میرا اور تنویر کا۔ تنویر میرے شوہر ریلوے میں ملازم ہیں۔

چند دنوں پہلے تک ہم ملتان میں رہتے تھے۔ جہاں میری سسرال ہے۔ ابھی تھوڑے دن پہلے تنویر کی پوسٹنگ یہاں اس چھوٹے سے شہر”بہرام پور”میں ہوگئی تو ہم یہاں آگئے ۔ تنویر کو ریلوے کالونی میں ایک کوارٹر الاٹ ہوا تھا۔

کوارٹر نمبر313ایک مختصر دو کمروں ، صحن اور کچن اور چھوٹے سے غسل خانے پر مشتمل یہ گھر ہماری مختصر فیملی کے لیے بہت تھا۔ تنویر کوئی بڑی پوسٹ پر نہیں تھے ان کی تنخواہ بس اتنی تھی کہ ہمارا بمشکل گذارا ہوتا تھا۔ کیونکہ وہ اپنے والدین کو بھی خرچہ بھیجتے تھے جو کہ ملتان میں رہائش پذیر تھے۔

حسن کو میں نے قریب ہی ایک اسکول میں داخل کروادیا تھا۔ آہستہ آہستہ آس پاس کے چند گھروں سے میری جان پہچان بڑھنے لگی۔ جہاں تقریباً میری ہی عمر کی خواتین تھیں۔ جن میں سب سے زیادہ اور جلدی میری دوستی ریحان سے ہوگئی تھی۔ ریحانہ کے شوہر بھی ریلوے میں ملازم تھے، ان کو یہ نوکری اپنے والد کے توسط سے ملی تھی ۔ وہ بھی ریلوے ملازم تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ن کی سیٹ ان کے بیٹے کو مل گئی۔ ریحانہ کے دو بچے تھے وہ حسن کے اسکول میں ہی پڑھتے تھے۔

ہم دونوں اکثر مل بیٹھتے ، دنیا جہاں کی باتیں کرتے، اپنے بچوں کی پرابلمز ڈسکس کرتے اور آخر کار ریلوے ملازمین کی کم تنخواہ، مہنگائی بے تحاشہ ہوجانے اور گذارے مشکل سے ہونے پر ہماری باتوں کی تان ٹوٹ جاتی۔
ریحان ایک درمیان شکل صورت کی، بہت زیادہ اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والی دل چسپ عورت تھی۔ مجھے اس کی کمپنی میں بہت مزا آتا تھا۔ تنویر بھی مطمئن تھے کہ اس نئی جگہ آکر ہم بہت جلد ہر طرح سے سیٹ ہوگئے تھے۔ ہمارے گھر کے آس پاس کے تمام پڑوسی اچھے اور شریف تھے۔

چھن۔۔۔۔ چھن۔۔۔۔چھن

ایک رات جب ہم سب سورہے تھے کہ ایک آواز سے میری آنکھ کھل گئی ۔ گھنگروؤں کی مدہم آواز، ہلکی طبلے کی جھنکار کے ساتھ ۔

اس وقت؟ پہلا خیال میرے ذہن میں آیا کہ شاید تنویر نے ٹی وی چلایا ہوا ہے۔ اپنے دوکمروں میں سے ایک کمرے کو میں نے اپنے حساب سے ڈرائنگ روم بنایا ہوا تھا وہاں ایک پرانا صوفہ اور ٹی وی رکھا ہوا تھا۔

مگر تنویر تو بے خبر میرے برابر میں سورہے تھے۔ ان کی تو اس آواز سے آنکھ تک نہ کھلی تھی۔ کمرے میں موجود تیسرے چھوٹے سے پلنگ پر حسن بے خبر سورہا تھا ۔ میں تھوڑی دیر اٹھ کر بیٹھی رہی جب آواز آہستہ آہستہ بند ہوگئی تو میں پھر لیٹ گئی مگر دیر تک مجھے نیند نہ آسکی۔ صبح میں یہ رات والا واقعہ میرے ذہن سے نکل گیا۔

چند دنوں بعد جب تنویر ڈیوٹی پر تھے اور حسن اسکول گیا ہوا تھا اچانک مجھ کو اکیلے گھر میں گھبراہٹ ہونے لگی ایک عجیب سا وہم ستانے لگا۔ اس رات والا واقعہ بھی یاد آگیا۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی ابھی حسن کے گھر آنے میں اچھا خاصہ وقت تھا۔ میں نے دوپٹہ اوڑھا ، گھر میں تالا لگایا اور ریحانہ کے گھر آگئی۔ ریحانہ کا گھر میرے گھر سے چند منٹوں کے فاصلے پر ہی تھا۔

ریحانہ کچن میں تھی۔ اس کے سسر برآمدے میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میرے سلام کے جواب میں انہوں نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا”تبسم تم ابا میاں کے پاس بیٹھو میں چائے لارہی ہوں”اس نے کچن سے ہانک لگائی۔ میں اس کے سسر کے پاس بیٹھ گئی۔ وہ مجھ سے احوال پوچھنے لگے کہاں سے آئی ہو؟ کتنے بچے ہیں؟ کہاں رہتی ہو؟ وغیرہ۔

میرے بتانے پر کہ ہم لوگوں کوکوارٹر نمبر313الاٹ ہوا ہے وہ ایک دم چپ سے رہ گئے۔ “مگر وہ گھر تو برسوں سے بند پڑا تھا”وہ گویا ہوئے۔
جی ہاں” میں نے کسی قدر تلخی سے کہا۔”

نہایت ہی خستہ حال گھر ہے، صفائی کرکے تھک گئی ہوں صاف ہوکر نہیں دیتا، سنا ہے برسہا برس سے خالی تھا —

اس وقت ریحانہ چائے لے کر آگئی اور ہم دونوں اس کے کمرے میں آگئے، اس دن ریحانہ کے ساتھِ ادھرُ ادھر کی باتوں کے بعد میرا ذہن ہلکا ہوگیا اور سب کچھ دماغ سے نکل گیا۔
مگر اگلے ہی دن شام کو ریحانہ میرے گھر موجود تھی۔ تنویر ڈیوٹی سے آکر کمرے میں آرام کر رہے تھے میں ریحانہ کو ڈرائنگ روم میں لے آئی۔
تم بیٹھو میں چائے لاتی ہوں پھر آرام سے باتیں کریں گے میں نے اس سے کہا۔

“ارے دفع کرو باتوں کو میں ایک انتہائی اہم بات بتانے آئی ہوں”
ریحانہ نے کہا جوش سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
“خیریت تو ہے؟ کیاہوا” میں تھوڑا گھبرا گئی۔

اصل میں جب تم کل آئیں اور ابا میاں کو معلوم ہوا کہ تم لوگ 313میں شفٹ ہوئے تو تو وہ پریشان ہوگئے۔ کہنے لگے یہ گھر آسیب زدہ ہے
کیا کہہ رہی ہو ریحانہ میرے دل کو کچھ ہوا۔
“میں نہیں کہہ رہی ابا میاں نے کہا ہے”اس نے ڈری ہوئی نگاہ چاروں طرف ڈالی۔
“یاتو اس گھر میں کوئی رہتا نہیں ہے اگر کوئی رہنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو بہت ہی برے حالات سے گذرنا پڑتا ہے۔ایسا کئی بار ہوچکا ہے۔ اس لیے اس گھر کو کسی کو الاٹ نہیں کرتے آخر تنویر بھائی کو یہ ہی گھر کیوں دیا؟”
اس لیے کہ کوئی اور گھر خالی نہیں تھا اور کالونی سے باہر کرائے پر گھر لینا ہم لوگ افورڈ بالکل نہیں کرسکتے، کھوے کھوے انداز میں میں نے جواب دیا۔
ابا میاں بتارہے تھے بہت پہلے جب وہ خود بہت چھوٹے تھے اس گھر میں ایک بہت خوبصورت ناچنے والی رہتی تھی
“کیا نام تھا ہاں شاید….انجنا دیوی۔۔۔۔۔۔”
کیا ، “انجنا”میں چونک گئی۔

“ہاں یہ بہت پرانی بات ہے قیامِ پاکستان سے بھی پہلے۔ تو ایک دن اس انجنا میڈم کے کسی عاشق نے جلن میں آکر چھری سے اس کا کام تما کردیا ۔ بس وہ دن اور آج کا دن اس کی روح ، بلکہ بد روح اس گھر میں منڈلاتی ہے۔ شروع میں تو وہ لوگوں کو نظر تک آتھی تھی مگر اب بس اس گھر میں کسی کو نہیں ٹکنے دیتی”
“تم نے تو مجھے ڈرا دیا ریحانہ”
“ڈرایا نہیں”وہ سنجیدہ ہوئی۔ مجھے ابا میاں نے بھیجا ہے کہ تم سے کہوں کہ پہلی فرست میں گھر بدل لو”۔
“دماغ خراب ہوگیا ہے، تمہارا بھی اور تمہاری سہیلی کا بھی”۔۔۔۔۔۔
ابھی ریحانہ رخصت ہی ہوئی تھی تنویر بھنائے ہوئے کمرے سے نکل آئے۔ مجھے ان کو کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ وہ کمرے میں لیٹے اپنے کانوں سے سب سن رہے تھے۔
“ایک عورت کی برسوں پرانی روح لوگوں کو اس گھر میں ٹکنے نہیں دیتی”
“ہونہہ سب بکواس بھلا ایسا ممکن ہے”۔
“ایسا صرف ڈراؤنی کہانیوں میں ہوتا ہے۔ حقیقت میں ایسا possibleنہیں ہے۔
مرنے کے بعد روح جسم سے نکل جاتی ہے اور کبھی واپس نہیں آسکتی”۔

تنویر مجھے سمجھا رہے تھے۔
“مگر تنویر میں نے خود ایک رات گھنگروؤں کی آواز سنی تھی اور پھر ہاں”مجھے اچانک یاد آیا۔ حسن بھی ایک دن انجنا نام پکار رہا تھا۔
“ہوسکتا ہے حسن نے اسکول میں کچھ سنا ہو”تنویر نے سوچتے ہوئے کہا۔
“آخر یہ تو حقیقت ہے کہ کبھی پہلے اس گھر میں انجنا نامی عورت رہتی تھی کوئی کہہ رہا ہوگا کہ یہ بچہ اس گھر میں آیا ہے اور یہ نام اس کے ذہن میں رہ گیا ہو”
“مگر وہ گھنگرؤں کی آواز؟”
افوہ، وہ چڑ گئے، آخر تم کیوں بضد ہو کہ وہ آواز انجنا کے گھنگروؤں کی تھی ۔ وہ تم کو کیوں انٹرٹین کرے گی؟ہوسکتا ہے کہ وہ آواز باہر سے آرہی ہو”۔ تنویر نے ایک طرح سے قصہ ختم کردیا میں بھی چپ ہوگئی۔
چھن۔۔۔چھن۔۔۔۔چھن۔۔۔
مگر پھر ایک رات۔۔۔۔۔کئی دنوں کے بعد جب میں یہ سب بھولنے لگی تھی ایک بار پھر گھنگرو چھنکنے لگے، نہ صرف گھنگرو بلکہ ساتھ طبلے کی سنگت۔ میری آنکھ کھل گئی۔ حسن اپنے پلنگ پر اور تنویر میرے برابر میں بے خبر سورہے تھے۔
گھنگروؤں کی آواز آہستہ آہستہ تیز ہورہی تھی اور اس آواز کے ساتھ طبلے کی سنگت بھی بڑھ رہی تھی۔ جس طرح دو اپنے فن میں انتہائی ماہر لوگ مظاہرہ کر رہے ہوں۔
مگر اس آواز میں قطعاً کوئی خوبصورتی یا کشش نہیں تھی، بلکہ ۔۔۔بلکہ یہ آواز یہ جھنکار انتہائی پراسرار تھی، بہت ڈراؤنی ، بہت منحوس۔۔۔ میں نے تنویر کو آوازیں دینے کی کوشش کی۔ تن۔۔۔ویر۔۔۔
مگر میرے منہ سے نہایت آہستہ آواز برآمد ہوئی۔
میرا دل خوف کے مارے بند ہونے لگا تھا۔ آواز اس قدر تیز ہوگئی کہ میز پر رکھے برتن بجنے لگے۔ ایسا لگنے لگا گھنگروؤں کا فن دکھانے والی کمرے کے اندر داخل ہونے لگی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس تیز شور کے باوجود تنویر اور حسن بے خبر سورہے تھے۔ آواز کمرے کے دروازے کے انتہائی قریب آگئی۔ لگا کہ باس اب یا تب کوئی اندر آجائے گا۔ شاید ناچتے ہوئے۔ اس مکروہ تال پر۔۔۔۔
میں نے چیخ ماردی۔ مگر اسی وقت عین اسی وقت اچانک مسجد سے اللہ اکبر کی صدا گونجی۔ مجھے باقاعدہ ایسا لگا کہ کوئی ٹھٹھک کر رکا ہے۔ تال اچانک ہلکی ہوئی ۔پھر ختم ہوگئی۔
میں بستر پر بیٹھی تھر تھر کانپ رہی تھی۔ نہ جانے کب اذان کی مبارک آواز رکی اور نہ جانے کب میں بستر پر گر کر جیسے بے ہوش ہوگئی۔ “اف تبسم تم کو کیا ہوگیا ہے۔ میرے توقع کے خلاف تنویر کو آج بھی میرے بات پر یقین نہیں آیا۔
“مجھ کو نہیں آپ کے دماغ کو کچھ ہوگیا ہے تنویر”۔ میں نے انتہائی تلخی سے کہا۔
“میں آپ کو کیسے یقین دلاؤں کہ میں نے جو کچھ بتایا وہ ایک ایک لفظ سچ ہے۔ اگر اس وقت اذان نہ ہوئی ہوتی تو وہ شیطان کمرے میں داخل ہونے ہی لگا تھا۔ پھر نہ جانے۔۔۔۔سوچ کر اس وقت بھی میں لرز گئی۔
“اصل بات یہ ہے تبسم”تنویر میری حالت دیکھ کر نرم پڑ گئے۔
“تم نے اپنی سہیلی ریحانہ اور اس کے سسر کی باتوں کو سر پر سوار کرلیا ہے۔تم نیند میں دیکھے واقعات کو سچ سمجھنے لگی ہو۔ ورنہ ان باتوں میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔ مرنے کے بعد کوئی بھی کبھی بھی واپس نہیں آتا اور پھر اتنے سالوں کے بعد”
“آپ نہ مانیں۔ میں نے حتمی انداز میں کہا۔
“نہ اب میں اس گھر میں چند منٹ اور رہوں گی ، نہ میرا یہ معصوم بچہ”
“مگر تبسم میری جان، تنویر گڑبڑا گئے”
“میں اچانک دوسرے گھر کا بندوبست کیسے کروں؟ اور اگر گھر مل جاتا ہے تو اس کا کرایہ، ایڈوانس۔۔۔۔”ان کی اصل پریشانی ان کی زبان پر آگئی۔
“کچھ بھی ہو تنویر کرایہ، ایڈوانس، پیسے زندگی سے زیادہ نہیں ہوتے”۔
“آپ اگر یہاں سے نہیں جاسکتے تو مجھے اور حسن کو کچھ دنوں کے لیے واپس ملتان بھیج دیں”۔میں نے التجاء کی۔
“ٹھیک ہے”۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ گویا ہوئے۔
“میں تم لوگوں کو کل کی ٹکٹ کروادیتا ہوں۔ تم کچھ دن ملتان واپس جاؤ، جب تک میں کوشش کرتا ہوں کہ کوئی اور گھر مل جائے۔ بے شک مزید چھوٹا کیوں نہ ہو”۔
“کل نہیں، آج ہی ، آج رات۔۔۔۔”میں نے کہا۔
تنویر مجھ پر ایک نظر ڈال کر رہ گئے۔
میں جلدی جلدی اپنا اور حسن کا سامان پیک کرنے لگی۔ ایسا نہیں تھا کہ میں تنویر سے جان چھڑا رہی تھی بلکہ اب اس گھر میں مزید ایک رات گذارنے کا مطلب میرے لیے کسی مصیبت کو دعوت دینے کے برابر تھا۔
“شاید وہ بد روح صرف میری دشمن تھی” میں نے سوچا۔
کیونکہ تنویر کو تو نہ وہ کبھی محسوس ہوئی، نہ وہ کبھی خوف زدہ ہوئے۔
جب تنویر ہم دونوں کو ٹرین میں بٹھانے لگے تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے میں نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے۔
“پلیز تنویر، آپ میری بات پر یقین کریں، میں سچ بول رہی ہوں۔آپ جلد ہی کسی گھر کا بندوبست کرلیں، میرا آپ کے بغیر بالکل دل نہیں لگے گا”
تنویر نے اثبات میں سر ہلاکر پیار سے میرا گال چھوا۔
جب ٹرین چل پڑی تو تنویر اسٹیشن سے نکل گئے۔
“میرا دل اداس ہوگیا”میں جانتی تھی کہ تنویر کو میری باتوں پر بالکل یقین نہیں ہے۔ اور وہ اپنی ضد کے پکے ہیں۔ ہر گز بھی مکان تلاش کرنے میں جلدی نہیں کریں گے”۔ نہ جانے کتنے مہینے اب ان سے دو ر رہنا پڑے گا”میں نے اداسی سے سوچا۔
تنویر نے بستر پر کروٹ بدلی، نیند اس کے آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ شادی کے برسوں بعد پہلا اتفاق تھا کہ تبسم اس کے ساتھ نہیں تھی۔ اور حسن ۔ اس نے حسن کے خالی پلنگ کو دیکھا۔
“یہ سارا فساد اس عورت کا پھیلایا ہوا ہے”
غصے کی ایک لہر اس کے دماغ سے ٹکرائی۔ نہ وہ الٹی سیدھی باتیں تبسم کے سامنے دہراتی اور نہ تبسم راتوں کو یوں ڈراکرتی”۔
خیر دیکھتے ہیں ۔ کوشش کرونگا کہ ایک ڈیڑھ مہینے میں تبسم کے دماغ سے یہ خناس نکل جائے اور وہ گھر واپس آجائے۔ اسی گھر میں”
اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی سگریٹ اٹھائی اور ہونٹوں میں دبالی۔
سگریٹ جلانے کے لیے لائٹر جلایا ۔۔۔۔مگر۔۔۔۔
لائٹر کی روشنی میں دروازے کے سامنے باہر صحن پر ایک سایہ لہرا رہا تھا۔ لمبا لباس پہنے، پشواز کی طرح، جیسے پہلے ناچنے والیاں پہنا کرتی تھیں۔ وہ بالکل آسانی سے یہ سایہ دیکھ سکتا تھا۔
سایہ قدم بہ قدم کمرے کی طرف بڑھ رہا رتھا ۔ اچانک پیچھے سے کسی نے طبلے پر تال دی ۔ سائے کے گفتگو والے قدم بڑھے ، پھر طبلے کی رال ، پھر گھنگھرو کے قدم تیز جھنکار ساتھ اور پھر سایہ کمرے میں داخل ہوگیا۔۔۔۔۔
تنویر کیے منہ سے سگریٹ گر گئی ۔ سایہ عین اس کے سامنے رک چکا تھا ۔
مگر گنگھرو اور طبلے کی آواز بدستور آرہی تھی۔
اس قدر تیز کہ میز پر رکھے برتن اور رزد سے بج رہے تھے۔
سایہ جوکہ ایک نوجوان ، حسین مگر مکروہ عورت کی جھلک مار رہا رتھا ۔
عین اس کے مقابل آکر کھڑا ہوگیا ۔
اس نے ناچنے والو ں کا سا لباس پہنا ہوا تھا۔ بال چٹیا کی صورت گھٹنوں تک آرہے تھے۔ مگر بری طرح الجھے ہوئے تھے۔
ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک بری طرح تھوپی گئی تھی۔
اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
تنویر بری طرح کانپنے لگا۔
کک، کون ہو توم۔۔۔۔
“رنجنا”۔ عورت کے منہ سے منمناتی آواز نکلی۔
“چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔”
“کہاں”بمشکل اس نے پوچھا۔
“غسل خانے میں”، میں وہی رہتی ہوں۔
اس نے آگے بڑھ کر تنویر کی کلائی پکڑی۔
اس کا لمس قطعاً غیر انسانی اور بے حد سخت تھا۔
تنویر نے آیت الکرسی پڑھنے کی کوشش کی مگر اس کا منہ جیسے بند ہوگیا۔
وہ اسے گھسیٹتی ہوئی صحن میں لے جانے لگی۔
آخری منظر جو تنویر نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس عورت کی گردن بری طرح کٹی ہوئی تھی جس میں سے اس کے اندر کا گوشت تک صاف نظر آرہا تھا۔
“Hello”، کون تبسم؟
“ہاں ریحانہ تم اتنی صبح اچانک”
“ہاں تبسم ، سمجھ نہیں آرہا کیسے تم کو اطلاع کروں، ایک بری، بہت بری خبر ہے”
“خدا کے لیے ریحانہ کیوں کیا ہوا”
تنویر بھائی، ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ تمہارے گھر کے غسل خانے کے سامنے گرے ہوئے تھے ، شایدھارٹ اٹیک ہوا تھا۔
فون کا ریسیور تبسم کے ہاتھ سے گر گیا۔