قدرت

تپتی دوپہر میں بڑے سے میدان میں بڑی ہی چہل پہل تھی۔ شدید گرمی سے قطعاً بے نیاز بچے اور جوان بڑا ہی انجوائے کر رہے تھے۔

درختوں تلے جا بجا چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں جن پر درمیانی عمر کے مرد براجمان تھے۔جن میں سے چند حقہ سے بھی دل بہلا رہے تھے۔

مہمانوں کو بڑے بڑے تھالوں میں نمکین چاول سرو کئے جا رہے تھے۔ جن پر بڑی

بڑی بوٹیاں تھیں ساتھ میں گہرے زرد رنگ کے میٹھے چاولبھی تھے۔ دونوں تیل میں لت پت تھے 

چاولوں سے تھوڑا ہی کم تیل چارپائیوں کے سامنے بچھے پلنگ پر بیٹھے دونوں دولہاؤں کے سر میں تھونپا ہوا تھا۔ ۔گہرے گہرے رنگ کے کُرتےشلواروں میں ملبوس قاسم اور نعیم دونوں بھائیوں کی آج رسمِ ولیمہ تھی۔

دونوں کے گہرے سانولے رنگ خوشی سے دمک رہے تھے۔ دونوں کی عمروں میں بمشکل سال بھر کا فرق ہوگا۔ شکلوں میں اس قدر مشابہت تھیکہ پہلی نظر میں پہچاننا مشکل ہوسکتا تھا۔گہرے سانولے، درمیانی قد و قامت والے سیدھے سادھے کم عمر۔۔۔

گھر کے اندر صحن میں تقریباً اسی طرح کا منظر تھا۔ اندر عورتوں اور لڑکیوں کی چہل پہل تھی۔ سخت گرمی سے بے نیاز ریشمی کپڑے زیب تنکئے دالان میں دونوں دلہنیں براجمان تھیں۔ مگر دولہاؤں کی بہ نسبت دلہنوں کے رنگ و روپ میں شدید فرق تھا۔شاید دن اور رات کا۔۔۔

شاید اسی لئے دلہنوں کی منہ دکھائی دینے والیوں کا ہجوم ریشماں کی چارپائی کے گردذیادہ تھا۔

اس فرق کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ بڑی دلہن رخسانہ نے محسوس کرلیا۔ اس نے سن تو رکھا تھا کہ اس کی ہونے والی دیورانی ریشماںبڑی خوبصورت ہے مگر اتنی۔۔۔

ان دنوں نے اپنے سسرال کے ایک جیسے تیز گلابی گوٹے والے جوڑے پہنے ہوئے تھے۔ ریشماں کے گال جوڑے کے ہم رنگ ہو رہے تھے۔

تھوڑی دیر ریشماں کے چہرے کا جائزہ لینے کے بعد اس نے عورتوں کے تاثرات جانچنا شروع کردئیے۔جو عورت ریشماں کو دیکھتی تھوڑی دیر بات کرنا بھول جاتی۔

رخسانہ کو لگنے لگا اس کی رگوں میں خون کے بجائے زہر گردش کر رہا ہے۔

وہ اپنے شوہر قاسم کی سگی چچا زاد بہن تھی۔ ان کی بچپن کی منگنی ہوئیتھی۔جبکہ ریشماں غیروں میں سے تھی۔ جب ہی رخسانہ نے آج اس کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ اس کی ساس ریشماں کو کسی اور گاؤں سے بیاہ کرلائی تھی۔

”تہاڑی نکی نوہ رج کے سوہنی اے“

کسی عورت نے بے ساختہ تعریف کی تو ان کی ساس نے سادگی سے سر ہلادیا مگررخسانہ کے تو پورے منہ میں جیسے کڑواہٹ گھل گئی۔

ریشماں بھی اپنی تعریف سُن کر شرما کر مسکرا دی۔ اس کے گالوں میں پڑے گہرے گڑھے دیکھ کر رخسانہ بھی چند لمحے کو نظر نہ ہٹا سکی۔

ریشماں کے شدید حسن کی آگ میں رخسانہ اس طرح جلنے لگی کہ اس کی شادی کی خوشی بھی جل کر راکھ ہوگئی۔گاؤں کے رسم و رواج کے مطابقچند دنوں بعد ہی دونوں نے گھر کے کام کاج میں حصہ لینا شروع کردیا۔ان کی دونوں نندیں اپنے اپنے گھروں کو واپس چلی گئیں اپنے بہتسارے بچوں کے ہمراہ۔ باقی گھر میں رہ گئے سا س، قاسم، نعیم،ریشماں اور دل جلی رخسانہ۔

شاید یہ جلن اس قدر شدید نہ ہوتی کہ اگر رخسانہ پر حسن کے دیوتا نے ذرا بھی مہربانی کی ہوتی۔ وہ رات تھی تو ریشماں دن۔ شو مئی قسمت کہ انکی بری کے جوڑے بھی دونوں نندوں نے انتہائی لاڈ سے بالکل ایک جیسے بنوائے تھے اور ساس کا اصرار تھاکہ روزانہ ایک جیسے تیار ہوا جائے۔

رخسانہ غریب اپنی طرف سے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتی۔ مگر جب ریشماں اس جیسا جوڑے پہنے مسکرا تی کمرے سے برامد ہوتی تو۔۔۔

رخسانہ کا بس نہیں چلتا کہ وہ اس کا چاند جیسا چہرہ جلا دیتی

۔”مگر اس کا منہ تو جل کر بھی مجھ سے زیادہ خوبصورت ہوگا“۔

یک دن اس کے دل نے اعتراف کیا۔ حالانکہ قاسم کو اس کے رنگ و روپ سے قطعاً کوئی اختلاف نہیں تھا۔ وہ پہلے دن سے رخسانہ سے اسطرح محبت کرتا تھا جس طرح نعیم ریشماں سے۔اس طرح ساس کو بھی ان کی پکائی روٹی یا ہانڈی سے غرض تھی اور ان کے دھوئے برتن کپڑوںکی فکر تھی۔

صرف شروع کے چند دن ریشماں کو سراہنے کے بعد وہ قطعاً اس کی خوبصورتی سے بے نیاز ہوچکی تھی اور اس کا سلوک دونوں بہووں سے بالکلایک جیسا تھا۔مگر رخسانہ کے اندر جو آتش فشاں پہلے دن پیدا ہوگیا تھا وہ مستقل بھڑک رہا تھا

وہ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ گاؤں کے ٹھیک ٹھاک کھاتے پیتے گھر کی بیٹی تھی۔ جب اس نے سُنا تھا کہ اس کے دیور نعیم کا رشتہ دوسرےگاؤں میں ایک معمولی ہاری کی بیٹی سے طے ہوا ہے تو اس کو بڑا ہی فخر محسوس ہوا..مگر جب اس کا احساسِ برتری ریشماں کے آگے احساسِ کمتری میں تبدیل ہوا تو  رخسانہ کے غرور کی عمارت بُری طرح ہل گئی۔اس کے اندر زہر بھرنے لگا اور اس نے زہر کو کبھی ختم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔

نعیم اپنے بڑے بھائی قاسم کی نسبت غصے کا تیز تھا۔ جب کبھی وہ ریشماں سے جھگڑتا یا چیختا چلاتا۔ رخسانہ کو بڑی خوشی ہوتی۔وہ سارا دن گنگناتی پھرتی۔ جان کر قاسم کے ساتھ لگ کر بیٹھتی۔ معلوم نہیں ریشماں کو یہ سب محسوس ہوتا تھا کہ نہیں۔ایک تو وہ فطراتاًمعصوم تھی۔ کم عمر تھی دوسرے اس کا میکہ بہت غریب تھا۔اس کے لئے شوہر اور سسرال ہی اس کی دنیا تھی۔ چاہے جیسی بھی تھی۔

دنیا کے دستور کے عین مطابق جس طرح شادی ایک ساتھ ہوئی تھی اسی طرح دونوں تقریباً ایک ساتھ امید سے ہوگئیں۔ وقت گزرنے لگارخسانہ کا سانولا چہرہ چھائیوں سے بھر گیا۔ریشماں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ کسی پری کو جنم دے گی۔ان دونوں میں شادی کے دن سے بھی کئی گنا زیادہ فرق آچکا تھا۔ساتویں مہینے میں ان کی گود بھرائی کی رسم منعقد کی گئی۔

رخسانہ کے میکے سے لوہے کا ٹرنک بھر کے اس کے،نندوں،سا س ریشماں نعیم کے جوڑے آئے بچے کا سامان اور بڑا سا جھولا۔ ریشماں کے بے حد غریب ماں باپ بمشکل گاڑی کا کرایہ دے کرآئے اور صرف دعائیں دے کر رخصت ہوگئے۔

نعیم کے ماتھے پر پڑے بل صاف محسوس ہورہے تھے۔وہ بے بات ریشماں پر برس رہا تھا۔ رخسانہ کے دل پر جیسے ٹھنڈی پھوار پڑنے لگی۔ ان کی ساس ہر بات سے بے نیاز خوشی خوشی اپنی بنائی بچوں کی چیزیں عورتوں کو دکھا رہی تھیں۔…رخسانہ کی گرد ن اکڑ سی گئی تھی

نعیم بھائی تم کو کمرے میں لائٹ کی کیا ضرورت ہے۔تمہاری بیوی اتنی گوری ہے اور بچہ بھی ماں پر ہی جائے گا“ ان کی چھوٹی نند نے کمرے میں بلب لگاتے نعیم سے مذاق کیا۔

”ایسا کرو یہ بلب بھی بڑی بھابھی کے کمرے میں لگا دو“۔ دوسری نند نے بے دھیانی میں بڑا بھونڈا مذاق کر دیاتھا ۔ رخسانہ کے اندر انگارے دہک گئے۔ اس نے گود میں پڑے پھل ایک طرف دھکیلے اور کمرے میں گھس گئی۔

خدا خدا کر کے وہ گھڑی آگئی اور ریشماں نے ایک انتہائی حسین بیٹے کو جنم دیا۔ حالانکہ نومولود بچوں کو دیکھ کر ان کے نین و نقش کا اندازہ نہیں ہوتامگر ریشماں کے بیٹے کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ جیسے فرشتہ سو رہا ہے۔ رخسانہ سے جھوٹے منہ بھی مبارک نہ دی گئی۔مبارک تو خوشی کی نشانی ہوتیہے اور رخسانہ تو نفرت میں پاگل ہو رہی تھی۔ اس کو اندازہ تھا کہ وہ اگر دوسرا جنم بھی لے تو اس کی اولاد ریشماں کے بیٹے جیسی خوبصورت نہیںہوگی۔

تو پھر کیا اب اس گھر میں دو نہیں چار انتہائی مختلف لوگ پھریں گے۔ دن اور رات، سیاہ اور سفید،امریکہ اور افریقہ۔

نہیں… وہ آدھی رات کو اٹھ کر بیٹھ گئی نفرت کا شیطان اس پر پوری طرح سوار تھا۔اور اس کو اپنے اشارے پر دوڑا رہا تھا۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ قاسم اور نعیم کھیتوں کو پانی لگانے گئے تھے۔ساس چھت پر چارپائی لے گئی تھی گرمی کی وجہ سے۔اس نے ریشماں کے کمرے میں چپکے سے نظر ڈالی۔ ریشماں بے خبر سو رہی تھی۔ مگر اس بے خبری میں بھی اس نے اپنا بازو اپنے بچے کے گرد حمائل کیا ہوا تھا۔ رخسانہ چند لمحےکھڑی چاند جیسے ماں بیٹے کو دیکھتی رہی۔

چوہے مار دوائی کی چھوٹی سی گولی۔چند دنوں کے ننھے سے بچے کے منہ میں ڈالتے اس کو چند سیکنڈ لگے ہوں گے۔ریشماں غریب کو پتہ تک نہ چلا کہ اس کی خوشی اس سے چھین گئی۔

رخسانہ اپنے بستر پر آکر گر گئی۔اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ مگر اس میں ایک دھڑکن بھی ندامت کی نہیں تھی۔ نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔صبح گھر والوں کے شور سے اس کی آنکھ کھلی۔ا س کی ساس اور ریشماں زور زور سے رو رہے تھے۔ نیلے پڑے ہوئے مردہ بچے کی موت کو سانپ کے کاٹنے کا فتوی دے دیا گیا۔ (جو کہ ان کے گاؤں میں کبھی کبھار نکل آتے تھے)۔ نعیم اس وقت بھی حسبِ عادت ریشماں کوجھاڑ رہا تھااور بچے کے مرنے کا ذمہ دار اس کی غفلت کو ٹہرا رہا تھا۔

رخسانہ اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑی یہ ”دل افروز“منظر دیکھ رہیتھی۔ اس کے دل پر وہی پھوار گر رہی تھی جو ریشماں کی تکلیف پر گرا کرتی تھی۔ آج تو اس کی ٹھنڈک ہی کچھ اور تھی کیونکہ آج ریشماں کا دکھ بہت ہی بڑا تھا۔

گاؤں والے جمع ہوئے۔بچے کی لاش کو اٹھایا گیااور قبرستان لے جانے لگے۔ اچانک رخسانہ کے کمر میں شدید لہر اٹھی۔

”اماں“ اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

گاؤں کی دائی چونکہ تعزیت کرنے آنے والوں میں موجود تھی اس لئے وقت ضائع نہیں ہوااور رخسانہ نے تھوڑی دیر میں ایک بچے کو جنم دے دیا۔

اس کا بچہ حسبِ توقع گہراسانولا ٹھیک ٹھاک بد صورت تھا۔ مگر اب رخسانہ کو کوئی فکر نہیں تھی۔اس کا حریف تو بے چارہ منوں مٹی تلے دفن ہوچکا تھا۔

قاسم بھتیجے کا غم بھول کر خوشی سے بے حال ہورہا تھا۔

رخسانہ کی نظر ریشماں پر پڑی اس کی آنکھیں رو رو کر سوج گئیں تھیں۔وہ غم سے نڈھال لگ رہی تھی۔جس طرح  وہ اس کو بیٹے کی مبارک باد نہ سکی تھی اسی طرح اس کے بیٹے کی موت پر افسوس کا ایک لفظ بھی اس کے منہ سے نہ نکل سکا۔

وقت کا پہیہ چلنے لگا۔رخسانہ کا بچہ شیر داد بڑا ہونے لگا۔ریشماں کو خدا نے اور اولاد دے دی۔ وہ اپنے پہلے بچے کا غم بالکل بھول گئی۔رخسانہ کے شیر داد کے بعد کئی بیٹیاں ہوگئیں۔ ان کی ساس ایک دن چپکے سے دنیا سے رخصت ہوگئی۔دونوں بھائیوں نے کئی برس ایک گھر میں اور ایک زمین پر کھیتی باڑی کرتے گزارے لیکن جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے گئے گھر اور دل تنگ ہوتے گئے۔تو دونوں نے اپنے گھر اور زمین الگ کرلی۔ریشماں اپنے گھر،زندگی میں مگن ہوگئی اور رخسانہ اپنے گھر میں چاہتے ہوئے بھی مگن نہ ہوسکی کیونکہ ”شیر داد بڑا ہورہا تھا۔“

شیرداد،شیرو اس کا پہلا اکلوتا بیٹا۔ ولی عہد۔ اپنی صورت سے کئی گنا زیادہ بدصورت عادتوں کا مالک تھا۔وہ جیسے جیسے بڑا ہورہا تھا۔جیسے شیطان بن رہا تھا۔ وہ دن رات ماں باپ سے بدتمیزی کرتا۔زبان چلاتا،پیسوں کے تقاضے کرتااور چھوٹی بہنوں کا تو جیسے دشمن تھا۔ ان کو بات بےبات بُری طرح مارتا۔

جب تک چھوٹا تھا تب تک تو تھوڑا بہت باپ کا خوف تھامگر اب تو جیسے وہ قاسم کا باپ بن گیا تھا۔اس کو انتہائی بدتمیزی سے مخاطب کرتا۔

گاؤں کی اکثر لڑکیوں کے ماں باپ شیرو کی شکایتیں لے کر قاسم کے پاس آنے لگے تھے۔ اپنی شدید بدصورتی کے احساس نے اس کے اندرخوفناک احساسِ کمتری پیدا کردیا تھا۔جو وہ اس طرح نکال رہا تھا۔

”یا اللہ یہ میرے کس گناہ کی سزا ہے؟“ایک مرتبہ شیرو کی کسی شکایت پر رخسانہ کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا۔کچھ یاد آنے پر گھبرا کر اس نے پہلو بدل لیا تھا۔

گاؤں کی لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی شکایتیں تو وہ کئی بار سُن چکی تھی۔ شیرو سے کچھ کہنے کا مطلب تو شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے کے برابر تھا۔وہ لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیتی کہ اس لڑکے کے ہاتھوں تو اس کا باپ تک مجبور ہے۔

مگر پھر ایک دن بلکہ ایک رات۔۔۔

اس کی بھائی کی بیٹی یاسمین اس سے ملنے آئی۔ وہ اس کی بیٹیوں کی ہم عمر تھی ان کی سہیلی تھی انہوں نے اس کو اصرار کر کے رات روک لیا۔قاسم گاؤں سے باہر شہر گیا ہوا تھا۔ساری لڑکیا ں نہ جانے کس وقت تک باتیں کرتی رہی تھیں۔رخسانہ تو اپنے کمرے میں جا کر سوگئی کہ اچانک۔۔۔ہلکے شور سے اس کی آنکھ کھل گئی وہ اپنے بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔

آوازیں شیرو کے کمرے سے آرہی تھیں۔دوسری ڈری ہوئی آواز کو پہچاننے میں اس کو ذیادہ دیر نہ لگی۔ وہ شیرو کے کمرے کے دروازے کو دھکادے کر اندر داخل ہوگئی۔ یاسمین روتی ہوئی اس کے پیچھے آکر چھپ گئی۔

پھوپھو یہ شیرو مجھے زبردستی۔۔۔

”یاسمین تو جا اندر بہنوں کے کمرے میں۔“اس نے یاسمین کو کمرے سے باہر نکال دیا۔اس نے شیرو پر نفرت بھری نظر ڈالی۔

شیرو کا کا لا رنگ تپ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں باقاعدہ خون اترا ہوا تھا۔

”ذلیل، بے غیرت۔“کئی سالوں بعد رخسانہ نے شیرو کے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔

شیرو کے منہ سے جھاگ نکلنے لگے۔اس کے ایک ہاتھ نے رخسانہ کا ہاتھ پکڑ ا اور دوسرے سے اس کی گردن۔رخسانہ کی آنکھیں خوف سے کم

اور حیرت سے زیادہ پھیل گئیں۔

کچھ بھی سہی، کیسا بھی سہی۔شیرداد جتنا بد تمیز، بد لحاظ سہی۔اپنی ماں پر ہاتھ اٹھانا۔بلکہ اس کو جان سے مارنا۔

رخسانہ نے شیرداد کے چہرے پر نظر ڈالی۔ مگر یہ شیرو تو نہیں؟

کالا،سیاہ۔۔۔لال سرخ آنکھوں والے شیرو کے چہرے کی جگہ کس نے لے لی؟ یہ گورا چٹا خوب صورت چہرہ۔۔۔

خون برساتی آنکھوں، جھاگ اڑاتے منہ کی جگہ مسکراتا،حسین چہرہ جھکنے لگااور وہ چہرہ ریشماں سے انتہائی مشابہ ہوگیا۔جیسے وہ ریشماں کا بیٹاہو۔

تکلیف کی جگہ خوف نے لے لی۔ کئی منظر جلدی جلدی رخسانہ کی آنکھوں میں بدلنے لگے۔

ایک ننھا ٖحسین بچہ، جس کے منہ میں رخسانہ نے زہر ڈالا۔۔۔

پھر جونہی اس کو دفن کرنے لے جانے لگے،رخسانہ نے اپنے بچے کو جنم دیا۔

تو کیاشیرو اس کا بیٹا نہیں؟ اس میں کسی اور کی روح ہے۔ ریشماں کے ننھے سے بیٹے کی؟

رخسانہ کی حیرت سے پھٹی آنکھوں سے زندگی رخصت ہوگئی۔اس کے سارے سوالوں کے جواب دے کر۔

شیرداد نے اس کی گردن چھوڑ دی۔ رخسانہ ایک جھٹکے سے زمین پر آگری۔

Leave a Reply