رتنا منزل

 میں آج پھر جان بوجھ کر اس کے سامنے سے گذرا۔
اس نے آنکھیں اٹھا کر مجھے دیکھا اور جیسے لمحے بھر کو ٹھٹھک گئی۔
پھر فوراً نظر چرا کر گذر گئی۔
میرے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔
ایسا تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ مجھ پر کسی کی نظر پڑے اور وہ ٹھہرے نہیں”۔
“جی ہاں”ایسا ہی ہے”
میں بے حد ہینڈ سم واقع ہوا ہوں اور شاید یہ واحد بہت بڑی خوبی ہے جو میرے اندر ہے۔ یہ خوبی ، یہ خوش شکلی ، وجاہت تو اوپر والے کی دین ہے۔ باقی جو اوصاف انسان کے ذاتی ہوتے ہیں ان سے میں کوسوں دور ہوں۔
اور سچی بات تو یہ ہے کہ اس پر مجھے کوئی شرمندگی بھی نہیں ۔
کیا کرتا سچائی سے ایمانداری سے اور ۔۔۔۔اور۔۔۔۔پاکبازی سے ؟
ان خصلتوں کے مالکوں کو میں نے انتہائی روکھی پھیکی زندگی گزارتے اور پھر
خاموشی سے مرجاتے ہی دیکھا ہے۔ لیجیے کہانی ختم۔
بھلا کسی ایڈونچر کے بغیر بھی کوئی کہانی اچھی لگتی ہے؟
پھیکا سیٹھا کھانا کتنوں کو بھا سکتا ہے؟
صبح سے شام تک ایڑیاں رگڑ کر چند روپے مہینے بعد کمانا اور چند دنوں میں ختم
کردینا۔۔۔۔۔نہ بابا۔۔۔یہ اپن کا اسٹائل نہیں ہے۔
تو پھر میں کون ہوں؟کیا کرتا ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟
تو جناب میں ایک چور ہوں۔ عادی چور ایک گینگسٹر
جی ہاں ہمارا ایک باقاعدہ ، منظم گروہ ہے، ہمارا کام چوری چکاری ہے۔
لوٹ مار اور غنڈہ گردی کرنا ہے۔
انٹر کے بعد جب مزید پڑھائی میں دماغ کھپانا میرے بس سے باہر ہوگیا۔
تو ابو جی نے ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور کھول کردے دیا۔
مگر صبح سے شام تک گاہکوں کو انڈے، ڈبل روٹی ، بسکٹ پکڑانا بھی میرے اوپر گراں گزرنے لگا۔ میں جان چھڑانے لگا۔
اپنے انواع و اقسام کے “شوق”مجھے اسٹور کی چیزوں کو بیچ کر پورے کرنے پڑتے تھے۔ یہاں تک کہ اسٹور تقریباً خالی ہوگیا۔
نہ جانے کب اور کیسے میں ان غنڈہ لڑکوں کے گروہ میں شامل ہوگیا جو راہ چلتی خواتین کے پرس چھین کر بھاگ جاتے تھے اور سنسان سڑکوں پر لوٹ مار کیا کرتے تھے۔
اور چند ہی برسوں میں ہم نہایت بڑے پاڑے کے گینگسٹر بن چکے تھے۔
“اس پر”جی ہاں اس چیز پر جس کا ذکر میں نے شروع میں کیا ہے میری نظر چند روز قبل ندی کنارے پڑی تھی۔
بڑا ہی فلمی سین تھا۔ میں گھر میں بور ہورہا تھا ۔ چہل قدمی کرتے ہوئے نہر کنارے جانکلا وہ بھی شاید میری طرح گھر میں بور ہورہی ہوگی اسی لیے نہر کے کنارے بیٹھی ہوئی تھی۔
اس کی پشت میری طرف تھی۔ جس پر گھنے بالوں کی لمبی چٹی پڑی ہوئی تھی۔
میں آہستہ آہستہ چلتا ہوں اس کے قریب سے گذرا ۔ وہ سرجھکائے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی۔ اس جگہ کئی اور لوگ بھی موجود اپنے کاموں میں مگن تھے۔ مگر وہ کسی طرف متوجہ نہ ہوئی۔
قریب سے دیکھنے پر مجھے اندازہ ہوا کہ وہ خوبصورت ہے ، بے حد
وہ مجھ پر نظر ڈالے بغیر میرے پاس سے گذر کر چلی گئی ۔
میں دل تھام کر رہ گیا۔
“چلو اس اجاڑ جگہ کوئی تو دل بہلانے کی صورت نظر آئی”مجھے تسلی ہوئی۔
در اصل اس قصبے میں مجھے آئے چند روز ہی ہوئے تھے۔
“ڈیرہ پور “نامی یہ گاؤں نما قصبہ اس قدر قدیم تھا اور دور دراز واقع تھا کہ یہاں ٹی وی بھی بہت کم گھروں میں تھا۔ لوگ شاید اخبار بھی کم ہی پڑھتے تھے ۔ آبادی بہت کم تھی۔ شام سے ہی گلیوں میں اندھیرا ہوجاتا اور لوگ گھروں میں بند ہوجاتے۔
اور میرے لیے یہ ایک آئیڈئیل سچویشن تھی۔
کیونکہ اپنے شہر میں ایک بہت بڑی واردات کرنے کے بعد ہم چاروں دوست رقم آپس میں باٹنے کے بعد(جوکہ لاکھوں میں تھی)الگ الگ مقامات پر فرار ہوگئے تھے۔
ہم سب نے پنی جگہوں کا انتخاب کیا ہو ا تھا جو ہمارے شہر سے بہت دور ہوں۔ جہاں ٹی وی وغیرہ کی سہولت کم سے کم ہو ں تاکہ چیزیں اتنی جلد outنہ ہو سکیں ۔میرے حصّے میں” ڈیرہ پور “آیا تھا ،(جوکہ “ڈیرہ پور “ثابت ہو رہا تھا)۔
جب شہر میں اس “واردات”کی خبریں ٹھنڈی پڑجاتیں تو ہم سب نے ایک ایک کرکے اپنے گھروں کو لوٹ جانا تھا۔
اپنے گھروں میں ہم سب نے مختلف بہانے بناکر گھروالوں کو مطمئن کیا ہوا تھا۔
ہاں تو میں ذکر کر رہا تھا “اس”کا جس کو میں نے پہلی مرتبہ ندی کنارے دیکھا تھا۔ پھر وہ مجھے اکثر نظر آنے لگی۔
“شاید قسمت مجھ پر یہاں بھی مہربان ہونے والی ہے”میں نے خود سے کہا۔
مجھے تو بس انتظار تھا اس کی ایک نظر کا۔
بس ایک نظر، جو وہ مجھ پر ڈالے گی اور پتھر کی ہوجائے گی۔
جی ہاں، میں ایسا ہی ہوں۔
قدرت نے مجھ کو وجاہت بڑی ہی فیاضی سے عطا کی ہے۔
میں روپیہ پیسہ بے شک لوٹ مار کرکے بڑی ہی محنت سے ، جان ہتھیلی پر رکھ کر حاصل کرتا ہوں مگر لڑکیوں کے معاملے میں مجھ کو کبھی کوئی محنت نہیں کرنی پڑی۔
وہ خود مکھیوں کی طرح میرے پیچھے چلی آتی ہیں۔
“ڈیرہ پور”آکر تو پہلے میں شدید بور ہوا تھا۔ نہ فلم، نہ ہوٹل، نہ ٹی وی “کسی اور مشغلے “کا تو سوال ہی نہیں تھا۔
اس بوسیدہ، قدیم جگہ پر عمارتیں بھی نہایت پرانی اور قدیم تھیں۔
جس بلڈنگ میں ، میں نے کرائی پر مختصر ترین کمرہ لیا تھا وہ بھی انتہائی پرانی تھی، صدر دروازے پر عمارت کی تعمیر کا سال درج تھا1912۔ “اوہ خدایا”
لکڑی کی سیڑھیاں، رنگ برنگے شیشے، رات کو تو باقاعدہ خوف آنے لگتا تھا۔ خیر مجھے کون سا تما م عمر یہاں رہنا تھا، صرف چند دن۔۔
اور اب تو دیک دلچسپی ہاتھ آگئی تھی۔ میں روز شام کو بن ٹھن کر نکلتا اس آس پر کہ وہ نظر آجائے اور وہ اکثر نظر بھی آتی۔
جب سے اس نے مجھ پر نظر ڈالی تھی اس کے بعد وہ مجھے باقاعدہ دیکھنے لگی تھی۔ بلکہ اس کے ہونٹوں پر مبہم سے مسکراہٹ بھی نمودار ہوجاتی تھی۔ صورتحال میرے لیے بہت خوش کون ہوتی جارہی تھی۔
لیکن اب میں جلد از جلد “اپنا مقصد”حاصل کرنا چاہ رہا تھا ۔ اس طرح اس جگہ کی گلیوں میں بے وجہ پھرنا لوگوں کو شک میں مبتلا کرسکتا تھا۔
چند لوگوں جن میں میرا مالک مکان بھی شامل تھا نے میرے یہاں آکر رہنے کی وجہ پوچھی تھی جو میں نے پہلی ہی سوچ رکھی تھی۔ اس قصبہ میں ایک قدیم ترین بزرگ کی قبر کے آثار موجود تھے۔

جن پر ضعیف العقیدہ لوگ منتیں مانگا کرتے تھے۔ میں نے سب سے کہا کہ میں کچھ بیمار ہوں اور منت مانگنے آیا ہوں جب تک مکمل تندرست نہیں ہوجاؤں گا گھر واپس نہیں جاؤں گا۔
سیدھے سادھے لوگوں نے سادگی سے سرہلادیا تھا۔
بلکہ چند ایک نے مجھے صحت یابی کی دعائیں بھی دی تھیں۔
یہ داؤ تو کامیاب گیا تھا اب انتظار “بازی”کھیلنے کا تھا۔
“ایک بہت بڑی بازی”اور میں نے کوئی بازی پہلے نہیں ہاری تھی۔
اب مجھے موقع کی تلاش تھی”اس “سے بات کرنا تھی۔

یہ آسان نہیں تھا۔ چھوٹی جگہ ہونے کی وجہ سے وہ کبھی اکیلی نہیں ملتی تھی۔
ہمیشہ آس پاس لوگ آجارہے ہوتے تھے اور شام میں تو یہاں مرد تک باہر نہیں نکلتے تھے کسی لڑکی کے باہر نکلنے کا وہ بھی اکیلے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ “تو پھر”کیا کروں”؟”کیسے”کہاں”۔
ان سب سوالوں میں سے ایک “کہاں “کا جواب مجھے جلد ہی مل گیا۔
جس جگہ میں قیام پذیر تھا اس جگہ میرا مقصد ہر گز پورا نہیں ہوسکتا تھا۔ تنگ بلڈنگ میں میرے کمرے کے علاوہ لاتعداد چھوٹے کمرے تھے جن میں خاندان کے خاندان آباد تھے۔ بلڈنگ کا رکھوالا تو باقاعدہ کسی ظالم ساس کی طرح میرے دروازے کے عین سامنے اپنی چار پائی ڈال کر سوتا تھا۔
“تو پھر اگر وہ جان جائے”۔۔۔۔۔؟
جو کہ وہ یقیناًمان جاتی کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ سامنے میں ہوں اور کوئی لڑکی انکار کردیتی۔نہ تو اس  جگہ کوئی ہوٹل ہے ، نہ سیمنا۔۔۔۔تو پھر؟۔۔۔۔۔۔آخر مجھے اپنی مطلوبہ جگہ نظر آگئی۔

“رتنا منزل 1908”

جی ہاں یہ اس گھر کی ٹوٹھی پھوٹی پیشانی پر درج تھا جس کو میں کئی دن سے بند دیکھ رہا تھا۔ قصبے کی رہائشی گلیوں سے ذرا ہٹ کر، اس ندی کے کنارے جس پر میں نے اس حسین لڑکی کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔
اس گھر کی کھڑکیاں اور روشندان بند رکھتے تھے اور لکڑی کے بڑے سے داخلی دروازے پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔
اگر داخلی دروازہ بند کردیا جاتا تو اندر جانے کا کوئی اور راستہ ن ہیں تھا، یعنی۔۔۔۔میری خواہش کے عین مطابق۔
“شاید۔ بلکہ اس گھر میں یقیناًکوئی نہیں رہتا تھا “میں نے اندازہ لگایا۔
یہ جگہ “میرے کام کے لیے انتہائی مناسب ثابت ہوسکتی تھی”
نہ صرف ایک مرتبہ بلکہ کئی مرتبہ، میرے ہونٹوں پر ناپاک مسکراہٹ دوڑ گئی۔
اور پھر ایک شام مجھے موقع مل ہی گیا۔
وہ راستے میں مجھے ٹکرا گئی اور قسمت سے اس جگہ آس پاس کوئی نہیں تھا۔
سنو۔سنو، پلیز میری بات سنو۔ دوڑ کر آنے سے میری سانس پھول گئی۔
“میں کئی روز سے تم سے ملنا چاہ رہا تھا “۔
وہ رک گئی تاہم اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔
“دیکھو پلیز، میں نے کہا”میں تم سے ۔۔۔۔محبت کرنے لگا ہوں، جب سے تم کو پہلی بار دیکھا ہے۔ میں اپنے شہر واپس جانے والا ہوں۔ میں تم سے تفصیلی بات کرنا چاہتا ہوں، میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
دیکھو یہ جگہ ان باتوں کے لیے مناسب نہیں، تم مجھے آج۔۔۔بلکہ کل رات کو “رتنا منزل”میں مل سکتی ہو”؟؟؟
“پلیز”میں نے جیسے التجاء کی۔
وہ میری طرف مڑی۔ شرم سے اس کے گال سرخ ہورہے تھے۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اوہ “میں خوشی سے جیسے ناچنے لگا۔
“ٹھیک ہے تو پھر رات بارہ بجے کل”۔ ٹھیک ہے نہ؟”بھولو گی تو نہیں؟
اس کے چہرے پر مبہم مسکراہٹ دوڑ گئی۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
اس کے جاتے ہی میری مسکراہٹ کے معنی بدل گئے
“تو بیٹا سرتاج”میں نے اپنے آپ داد دی ۔
“تیرا نشانہ اور خطا ہوجائے”ناممکن
دوسرے دن صبح سے ہی میں رات کی تیاری کرنے لگا۔ اپنا بہترین جوڑا نکالا، شیمپو کیا، نہادھوکر تیار ہوگیا۔
آنے والے حسین وقت کے خیال سے میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔
سامنے لگے قدیم گھڑیال نے گیارہ بجائے۔
میں نے جوتے پہن لیے۔ جیسے ہی چوکیدار نے دوسری طرف رخ کیا میں باہر نکل آیا۔
گلیاں حسبِ معمول سنسان پڑی تھیں، نیم تاریک، مگر مجھ جیسے انسانوں کو تاریکی سے کیا خوف؟ ہمارے لیے تو اندھیرے انتہائی سازگار ثابت ہوتے ہیں۔ میں تیزی سے مگر بے آواز قدم اٹھاتاراستے پر جارہا تھا، کہیں کہیں سے کتوں کے بھونکنے کی آواز آتی تو خاموشی چند لمحوں کو ٹوٹ جاتی۔
تھوڑی دیر میں ندی او ر”رتنا منزل”کے آثار دکھنے لگے۔
“رتنا منزل”کی بند بالکونی اس طرح ڈیزائن کی گئی تھی کہ اگر اس میں جھانکا جاتا تو ندی کا خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہوگا۔ مگر اس وقت کوئی اور خوبصورتی مجھے اپنی طرف متوجہ نہیں کر رہی تھی۔
“اگر وہ نہ آئی؟”ایک خیال میرے ذہن میں آیا اور میرا دل ڈوب گیا۔
“نہیں نہیں وہ ضرورآئے گی”میں نے خود کو تسلی دی۔ اس کی آنکھوں میں چھپے “ہاں”کو میں نے پہچان لیا تھا۔
بند تالا “ماسٹر کی “سے کھولنے میں مجھے چند منٹ لگے۔
جیب سے ٹارچ نکال کر میں نے جلائی اور اندر داخل ہوگیا۔
“مگر اس کو کیسے معلوم ہوگا کہ میں اندر پہنچ گیا ہوں”؟ میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا۔
میں نے گھڑی میں ٹائم دیکھا”ساڑھے گیارہ بج رہے تھے”
چلو اندر پہنچ کر کوئی”مناسب جگہ”تو تلاش کروں”۔
میرے اندر جیسے گدگی ہونے لگی۔
“اف رتنا منزل کتنی بھیانک ہے” میں نے سوچا۔
قدیم انداز کے تنگ کمرے، برآمدے، لکڑی کی کھڑکیاں، زینے۔۔۔مگر بالکل خالی اور مٹی میں اٹا ہوا۔
“شاید برسوں سے یہ جگہ خالی پڑی ہے”
“یہاں تو کوئی دری تک نہیں ہے”میں نے سوچا۔
“وہ ابھی تک نہیں آئی تھی”
میں عمارت کے اور اندر داخل ہوا۔
اف یہ کہا۔ عمارت کے عقبی حصے میں ایک بڑا تالاب موجود تھا۔ انتہائی سال حزردہ بہت پرانی وضع کا ایسا تالاب تو میں نے صرف پرانی اور ڈراؤنی فلموں میں دیکھا تھا۔
اس میں پانی کا تو نام و نشان نہ تھا۔
بلکہ وہ اوپر تک کائی سے بھرا ہوا تھا۔
جو کہ اس وقت چاند کی بھرپور روشنی میں سیاہ دکھائی دے رہی تھی۔
ڈرسے دور کا واسطہ بھی نہ ہونے کے باوجود ایک عجیب خوف کی لہر میری ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔
“بس صرف آج”۔۔۔۔میں نے اپنے پروگرام میں تبدیلی کی۔
“صرف”آج رات”۔۔۔۔کے بعد میں کل واپس چلاؤں گا۔
تالاب کے آس پاس لمبے لمبے قدیم درخت موجود تھے۔
تالاب سے کہیں بڑھ کر ڈراؤنے۔
“آخر وہ کم بخت آئی کیوں نہیں”۔۔۔۔میں نے جھنجھلا کر سوچا۔
مگر وہ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔تو موجو دتھی۔۔۔۔
مجھ سے پہلے، بہت پہلے سے۔۔۔۔
بند تالے کے اندر ہی۔۔۔۔
اس قدیم گھر میں بنے تالاب کے کنارے۔۔۔۔
ایک قدیم۔۔۔۔قدیم درخت کی سب سے اونچی باریک ڈال پر آرام سے اکڑوں بیٹھی۔۔۔۔
آسمان کی طرف منہ کئے مکروہ آواز میں۔۔۔۔
رورہی تھی۔۔۔۔۔
بین کر رہی تھی۔۔۔۔
اس نے مجھ پر نظر ڈالی۔۔۔
اس کا بین، اس کا رونا یکلخت بند ہوگیا۔
وہ مسکرانے لگی، شیطانی مسکراہٹ۔۔۔
چیخ میرے منہ سے نہیں،میرے جسم سے نکلی تھی۔۔۔۔
“ارے یہ کیا”چند لوگ رتنا منزل کے آس پاس جمع تھے”۔
“یہ اس بلڈنگ کا تالا پھر کھلا ہواہے”۔
“اس کا مطلب ہے پھر کوئی اس بد روح کے پھیرے میں آگیا”
“مگر کون”؟ یہاں رہنے والے تو سب اس کے بارے میں جانتے ہیں”
“ہوگا کوئی بد نصیب اجنبی”
چلو تالا دوبار لگادو۔ جلدی کرو۔
کسی نے تالا اٹھا کر “رتنا منزل” کے دروازے پر دوبارہ لگا دیا۔