مہمان

بس سے اتر کر میں نے سامان کا تھیلا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا۔اور اپنے

راستے پر چل پڑا پیدل۔

گوکہ راستہ مختصر ہرگز نہیں تھا مگر میں کوئی رکشہ یا کوئی اور سواری افورڈ نہیں کرسکتا تھا۔تقریباً 15منٹ پیدل واک کرکے جب اپنے گھر کی سڑک پر مڑا تو میں نے سکون کا سانس لیا۔
مگر اگلے ہی لمحے میرا سارا سکون بلکہ چین اطمینان ہوا ہوگہا۔گلیوں میں شام اتر آئی تھی ۔ سردیوں کی آمد آمد کی وجہ سے جلد ہی اندھیرا چھا جاتاتھا۔اس ملگجے اندھیرے میں وہ چھت پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔عین اسی جگہ۔۔۔۔۔پانی کی ٹنکی کے اوپر ۔۔۔گھٹنوں پر ٹھوڑی جمائے۔۔۔۔۔۔ اس کے کھلے بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔۔ اچانک اس کی نظر مجھ سے ٹکرائی۔۔اس کے لبوں پر مسکراہٹ نمودارہوگئی۔۔
وہی مسکراہٹ ۔۔خوفزدہ کرتی ہوئی۔۔وارننگ دیتی ہوئی۔۔۔اتنی دور سے بھی اس کی آنکھوں کا لرز ادینے والا پیغام صاف پڑھاجاسکتا تھا۔
میں گرتا پڑتا اس سے نظر چرا کر اندر داخل ہوگیا۔مگر۔۔۔۔۔۔۔ایک اور تکلیف دہ منظرمیرامنتظر تھا۔

ایا ن میرا 7 سالہ کا بیٹافرش پر پڑا کراہ رہا تھا۔اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔واعظہ میری بیوی اس کو دوائی پلارہی تھی۔
“کیا ہواہے اس کو “۔۔۔۔میں اس کی طرف لپکا۔
“چوٹ لگ گئی تھی۔۔سر پھٹ کیا،ٹانکے لگے ہیں”۔ واعظہ نے سپاٹ انداز میں جواب دیا۔
“اوہ”۔۔۔میں جیسے چونک گیا۔
جب بھی “وہ”کسی کو نظر آتی تھی کوئی نہ کوئی حادثہ ضرور پیش آتا ۔یا تو کسی کا ایکسیڈینٹ ہوجاتا یا پھر کوئی بیمار پڑجاتا ، یا کوئی اس طرح کی چیز۔
میں جیسے کرسی پر گرگیا۔
“اب آپ کو کیا ہواہے “۔۔۔۔واعظہ نے مجھ پر نظر ڈالی۔
“اس گھر میں تو اس طرح کے واقعات معمول کی بات ہیں”۔
“تو کیا اس کا ذمہّ دار میں ہوں؟”۔۔۔۔میں نے تلخی سے کہا ۔
واعظہ جواب دئیے بغیر کمرے سے نکل گئی۔
“آخر کون ہے ان تمام واقعات کا ذمہّ دار؟”
میں اپنے بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔

“یہ دن بدن خراب ہوتے حالات ، بڑھتی ہوئی غربت، کم ہوتا کاروبار ،لڑائیاں جھگڑے۔۔۔۔”
یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں تھا۔
اس گھر میں ہم تین بھائی اپنی اپنی فیملی کے ساتھ آباد تھے۔
“آباد”۔۔۔۔اوہ یہ کون سے لفظ میں استعما ل کر بیٹھا ہوں ۔
ہم بس اپنی اپنی زندگی کی گاڑیا ں گھسیٹ رہے تھے۔
میں یعنی “احسان اشرف”۔اور مجھ سے چھوٹے 2بھائی ،سلمان اور عمران۔ہم تینوں ورثے میں ملی ہوئی کپڑے کی دکان پر بیٹھتے تھے۔مگر ہم تینوں کی محنت کے باوجود دکان دن بدن زوال پذیر تھی۔آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ہماری بیویوں اور بچوں کی آپس میں لڑائی اور تکرار معمول کی بات تھی۔چینی کے چمچوں اور دودھ کے کپ تک پرلڑائی ، ہاتھا پائی تک میں بدلنا عام تھا ۔
مگر ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا ۔ میں بستر پر لیٹا نہ جانے کہاں پہنچ گیا ۔برسوں پہلے اس گھر میں میرے امّی ابّو اور تایا،تائی رہا کرتے تھے۔ابّو اور تایا جان میں بڑی محبت اور اتفاق تھا۔
وہ دونوں کپڑے کی دکان چلا تے تھے۔اور منافع برابر تقسیم کرلیا کرتے تھے۔یہ گھر جس میں ہم آج تک مقیم ہیں ۔ابّو اور تایا جان کی ملکیت ہے۔تائی اور تایا جان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
مگر میری امی کے تلے اوپرتین بیٹے ہوئے۔جن پر ان کو اتنا غرور تھا کہ کسی ریاست کی ملکہ کو بھی کیا ہونا تھا۔
وہ ہر ایک کے سامنے قدرت کی دی ہوئی اس نعمت (یعنی ہم تین بھائی) کا ذکر اس انداز میں کرتی جیسے اس میں انکا کوئی ذاتی کارنامہ چھپا ہو۔خاص طور پر جب تائی جان وہاں موجود ہوتی تھیں۔

تو بے اولاد عورتوں کے اوپر وہ با آواز بلندترس کھایا کرتی تھیں۔
“ارے بھّیا شکر ہے مولا کا اس نے بے نام و نشان نہیں رکھا”۔ یا پھر”بھئی ہمارے منہ میں پانی ڈالنے والے ایک نہیں تین تین موجود ہیں ہمیں کیا فکر”۔
وہ تائی جان پر نظر ڈالتی “فکر تو وہ کریں جن کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو۔”
تائی جان ہمیشہ خاموش رہ جاتی ۔ظاہر ہے جواب میں ان کے پاس بولنے کے لیے تھا بھی کیا؟
مجھے یاد پڑتا ہے جب ہم چھوٹے ہوتے تو تائی جان ہم سب کو یعنی ہم بھائیوں کو بہت پیار کرتی تھیں۔اپنے ہاتھوں سے کھاتا کھلاتی، تیار کرتی ، مگر امّی بہانے سے ہمیں ا ن کے پاس سے لے کر جایا کرتیں۔
اور بار بار ہماری نظر اتارتیں ۔
“ائے خدا میرے بچّوں کو بری نظر سے بچائے” ۔
وہ با آواز بلند کہا کرتیں۔لال ثابت مرچوں کے اس زمانے میں تھیلے بھر کر ہمارے گھر آنے لگے تھے۔

ان باتوں کی وجہ سے رفتہ رفتہ تائی جان نے ہمیں پیار کرناچھوڑ دیا۔مگر امّی ان کی کمزوری پر وار کرنا کبھی نہیں بھولتی تھیں۔آنے والے سالوں میں تایااور ابّو ایک ایک کرکے ہمارا ساتھ چھوڑ گئے۔تائی در حقیقت بالکل تنہا ہوگئیں۔امی کا دکھ بانٹنے کے لیئے تو ہم بھائی موجود تھے۔

ابّو کی اچانک موت نے بھی امیّ کو مزید چڑچڑا کردیا تھا۔
تائی بھی ااکثر جھنجلاجاتی اور کوئی سخت جواب دے دیا کرتی تھیں۔اب کچھ دنوں سے گھر میں نئی رام کہانی چھڑ گئی تھی۔
وہ یہ کہ ب ابّو اور تایا زندہ تھے دکان کا منافع دونوں میں برابر تقسیم ہوتا تھا۔ان کی موت کے بعد دکان ہم بھائیوں نے سنبھال لی۔اب امّی کا کہنا یہ تھا کہ منافع پر زبیدہ یعنی تائی جان کا کوئی حق نہیں۔

“بھئی گھر میں رہتی ہے کھاتی ہے پیتی ہے اور کیا چاہیئے؟ہم کونسا اس سے کرایا مانگتے ہیں؟” ایسے ہی ایک دن امیّ نے کہا۔
“یہ گھر جتنا تمہارا ہے فرحت اتنا ہی میرا بھی ہے، تم ہوتی کون ہو مجھ سے کرایہ مانگنے والی؟”تائی اپنے کمرے سے نکل آئیں۔
“اور جہاں تک بات ہے کھانے پینے کی تو ایک وقت کاکھانا میں بناتی ہوں برتن دھوتی ہوں تو کیا کھاؤں بھی نہیں؟” انہوں نے حساب برابر کیا۔”دکان میرے لڑکے سنبھالتے ہیں، اس کے منافع پر صرف میرا حق ہے”۔امیّ اپنی بات پر اڑی ہوئی تھیں۔
“دکان آدھی میرے مرحوم شوہر کی ملکیت ہے”تائی بھی بضد رہیں۔ اگر تم نہیں ما نو گی تہ میں ساتھ خاندا ن کو اکھٹا کروں گی، کہ گھر اور دکا ن بیچ کر میرا حصہ مجھے دے دو۔”
وہ بات ختم کرکے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

امیّ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ۔ اس پہلو پر تو انہوں نے غور ہی نہیں کیا تھا۔کہ اگر گھر اور دکان بیچنی پڑی تو تائی تواکیلی جان جیسے لیتے گذارہ کر لیتی ہم تو خسارے میں چلے گئے۔چند دن امیّ دن رات سوچوں میں گم رہیں۔پھر ایک رات انہوں نے ہم تینوں بھائیوں کو اپنے کمرے میں جمع کیا ۔اور۔۔۔۔دروازہ اندر سے بند کرلیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر اس روز کے چند دنوں کے بعد سوچی سمجھی اسکیم کے مطابق آدھی رات کے وقت۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم چاروں نے تائی جان کو اپنے قابو میں کرلیا۔
بے چاری کمزور،بوڑھی تائی جان۔ میں آج بھی لرز گیا۔ہم تینوں بھائیوں نے ان کے ہاتھ پیر پکڑے۔
اور امی نے تکیہ ان کے منہ پر رکھ کر اس طرح دبایا کہ وہ ایک آواز تک نہ نکال سکیں ۔اور تھوڑی ہی دیر میں ان کا دم نکل گیا۔۔۔۔۔۔

پھر ہم سب مل کر ان کو اٹھا کر چھت پر لے گئے۔چھت پر کپڑوں کے تار بندھی ہوئی تھی۔امی اور تائی کپڑے دھو کر چھت پر ڈالا کرتے تھے۔
چھت پر دیوار ایک جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ہم نے تائی کی لاش کو وہاں سے گلی میں پھینک دیا ۔اور واپس نیچے آگئے۔
دوسرے دن امی نے مشہور کردیا کہ تائی کپڑے اتارنے اوپر گئی تھیں ۔ شاید گلی میں جھانکنے لگیں اور پیر پھسلا اور گر گیّیں اور ان کا انتقال ہوگیا۔
حسبِ توقع تین کم عمر لڑیوں اور ان کی گھریلو سیدھی سادھے ماں پر کس نے کوئی شک نہیں کیا اور تائی جان کو دفنا دیا گیا اور بس کہانی ختم۔
کیا واقعی کہانی ختم؟ میں نے کروٹ بدلی۔
کہانی تو جیسے شروع ہوئی تھی۔

تائی جی اس گھر سے کیا رخصت ہوئیں جیسے گھر کی خوش حالی، عافیت ، صحت سب رخصت ہوگئی۔ گھر کے درودیوار جیسے نحوست برسانے لگے۔ دکان جیسے مٹی بن گئی۔ ہم تینوں کی دن رات محنت کے باوجود بمشکل دال روٹی کا بندوبست ہوجاتا اور سب سے بڑھ کر ہر تیسرے دن کسی کا بیمار پڑجانا، یا کوئی ایکسیڈنٹ ہوجانا، یا کوئی ایسا ہی تکلیف دہ واقعہ، مگر جس دن اس طرح کی کوئی واردات ہوتی اس دن وہ ضرور کسی کو نظر آتیں۔۔۔۔۔
“کون”وہی”۔۔۔۔۔تائی جان یا تائی جان کی روح۔۔۔۔۔

چھت پر ٹنکی کے اوپر سفید لباس پہنے وہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی ہوتیں۔ میں نے زندگی میں کبھی ان کے بال کھلے نہیں دیکھے مگر مرنے کے بعد وہ ہمیشہ کھلے بالوں سے نظر آئیں۔
آدھے سفید ، آدھے کالے بال، جب کبھی کسی سے ان کی نظر ٹکرا جاتی ، ان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی، جان نکال لینے والی مسکراہٹ، اور اس دن ضرورہمارے گھر میں کوئی حادثہ رونما ہوگا۔

اپنی موت( یا اپنے قتل) کے چند دن بعد ہی وہ نظر آنے لگی تھیں صرف امی یا ہم تین بھائیوں کو، اس کے علاوہ وہ کسی کو نظر نہیں آتی تھیں۔ یہاں تک کہ کبھی ہماری بیویوں یا بچوں کو بھی وہ نظر نہیں آئیں۔

ہم نے کئی مرتبہ کوشش کی یہ مکان بک جائے ہم اس نحوست کے سائے سے نکل جائیں مگر کبھی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

اور اس کا تو سوال ہی نہیں تھا کہ گھر بیچے بغیر کہیں اور شفٹ کرجائیں گھر میں کھانے پینے تک کی تکلیف تھی۔ نہ جانے کیسے ہم بھائیوں کی شادیاں اور پھر بچے بھی ہوگئے۔

تین بیٹوں کے اوپر امی کا زعم تین بہوؤں کے آنے کے بعد ایسا ختم ہوا کہ بس۔۔۔۔۔بہو بھی ایک سے بڑھ کر ایک زبان دراز ، بدلحاظ، امی کو یقیناًاپنی جوانی یاد آجاتی ہوگی۔

میں اکثر سوچتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ امی ایک دن چھت سے گر اپنی ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگوا بیٹھیں۔اور ہمیشہ کے لئیے معذور ہوگئی۔
عین اس جگہ سے جہاں سے ہم نے تائی کی لاش کو نیچے پھینکا تھا ۔
نہ جانے کس طرح امی کا پیر پھسلا اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ صرف بستر پر پڑی چھت کو گھورا کرتی تھیں۔۔۔
وہ اپنے ہر کام کھانے پینے مہ حتیٰ کہ غسلخانے کے کاموں تک کے لیئے پیروں کی محتاج ہوگئی تھی ۔

تینوں بہوؤ ں کی ڈیوتیاں لگتی تھیں۔ان کے مختلف کاموں کے لیئے۔
جن پر ان کی گھمسان کی جنگ ہوتی۔
تین بیٹوں ،تین جوان بیٹوں میں کسی کے پاس ان کے پاس بیٹھنے کا بھی وقت نہ تھا۔
امی جسمانی طور پر بالکل معذور ہوچکی تھیں۔ مگر ان کا ذہن بالکل تندرست تھا۔ وہ ہر بات سنتی اور سمجھتی تھیں۔

جس کی گواہی ان کی دکھ اور خوف میں ڈوبی آنکھیں ہر وقت دیا کرتی تھیں۔
میری عمر اب محض 35سال کی ہوئی تھی مگر میں بوڑھا دکھنے لگا تھا۔ مالی پریشانیوں ، تکلیفوں نے مجھے اندر سے توڑ دیا تھا۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ہمارا یہ حال کیوں ہے۔ کس وجہ سے ہے۔ مگر اب کیا فائدہ؟۔۔۔بے سود۔۔۔۔۔
جب ہم سب نے مل کر ۔۔۔۔تائی جان کا قتل کیا میری عمر بیس سال تھی۔ سلمان اٹھارہ کا اور عمران سترہ سال کا تھا۔

ہم تینوں کے نزدیک وہ قتل اس وقت محض ایڈونچر تھا۔
“بس اگر ہماری ماں کو کوئی تنگ کرتا ہے تو اس کو جینے کا کوئی حق نہیں “یہ فلمی سوچ اس وقت ہم تینوں کی مشرکہ تھی لیکن وقت کے ساتھ ہم سب کو خوب اندازہ ہوچکا تھا کہ ہم نے کون سی آگ مول لے لی ہے نہ صرف اس جہان کی بلکہ اگلے جہان کی بھی۔۔۔۔
نہ جانے امی کو اپنے کئے کا پچھتاوا ہے یا نہیں ۔ میں سوچتا ۔

ہم اس وقت کم عمر ، ناسمجھ سہی امی تو سمجھدار تھیں۔
دین و دنیا دونوں کا علم رکھتی تھیں، قتل گناہِ کبیرہ ہے۔
میں لرز جاتا۔ مگر اب کیا ہوسکتا ہے؟

تائی کی روح اب اکثر راتوں کو نظر آنے لگی تھی اور ہم بھائیوں کی نیندیں رخصت ہونے لگی تھیں۔ اس رات کے بعد ہم تینوں نے کبھی اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا تھا مگر جب تائی کسی کو دکھتیں تو وہ کانپتی آواز میں دوسروں کو ضرور بتاتا۔ مگر ہم میں سے کسی کی بیوی یا خاندان کے کسی فرد کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

میں آپ سے کہہ رہی ہوں احسان میں اس جمعہ کو گھر میں قرآن خوانی کروارہی ہوں اور خاندان کے لوگوں کو انوئٹ کر رہی ہوں۔ واعظہ نے حتمی لہجے میں کہا۔

“پھوٹی کوڑی نہیں ہے میرے پاس”میں نے جھلا کر کہا ، کیا ہوا کھلاؤ گی مہمانوں کو؟
“آپ یہ بیچ دیں”اس نے اپنی واحد انگوٹھی میرے ہاتھ پر رکھ تی۔

دس سال ہوگئے ہماری شادی کو کبھی اس گھر میں درود شریف کی محفل نہیں ہوئی، کوئی

قرآن شریف نہیں کھولتا، کوئی نماز تک نہیں پڑھتا۔۔۔۔وہ بالکل سچ کہہ رہی تھی۔
نہ جانے کون سی نحوست بسی ہے ان درودیوار میں جیسے کسی نیک عمل کی طرف دل بڑھتا ہی نہیں۔

لیکن میں اب ساری شام قرآن شریف پڑھواؤں گی، درود شریف پڑھواؤں گی گھر کی ہر دیوار پر دم کرونگی ، یہ گھر نہیں لگتا ، بدروحوں کا مسکن ہے۔ اس کی باتیں میرے دل کو چھور رہی تھیں۔ میں نے اس کی انگوٹھی تھام لی۔

واعظہ نے اپنے کہے کے مطابق کافی خاندان والوں کو مدعو کرلیا۔
اس دن صبح سے تینوں خواتین گھر کو دھونے اور چمکانے میں لگی ہوئی تھیں برسوں کے بعد ہمارے گھر میں کوئی تقریب ہورہی تھی ۔ ورنہ تو عید بقر عید پر بھی کوئی اہتمام ہونا ختم ہوچکا تھا۔

امی کو بھی نہلا دھلا کر صاف جوڑا پہنا دیا گیا، قرآن خوانی ہوئی، درود شریف پڑھا گیا، نعتیں پڑھی گئیں اس کے بعد تمام لوگ صحن میں بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ امی بھی وہیں بھی چارپائی پر لیٹی تھیں ان کے چہرے پر بھی طمانیت کے آثار تھے کہ اچانک ۔۔۔۔۔۔

چھت سے اترنے والی سیڑھیوں سے۔۔۔۔صحن میں کوئی اتر آیا۔۔۔۔۔

تائی کی روح چھت سے صحن میں اترنے والی سیڑھیوں پر کھڑی تھی۔

…اسی طرح بال بکھرائے، سفید لباس میں ، مسکراتے ہوئے

 عورتوں کی نظر ان پر پڑنے لگی وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگیں ۔ ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔

تائی آج سے پہلے صرف ہم چاروں کو نظر آتی تھیں مگر آج وہ سب کو نظر آرہی تھیں ۔ مگر ان کی نظریں ان کی لرزا دینے والی نظریں امی پر جمی ہوئی تھیں ان کی مسکراہٹ گہری ہوتی جارہی تھی ۔

امی بھی ایک ٹک ان کو ہی دیکھ رہی تھیں ۔ امی کے ہاتھ آگے کی طرف جڑ گئے مگر گردن ایک طرف ڈھلک گئی ۔

تائی کی روح غائب ہوگئی ۔

امی کی جان نکل گئی تھی۔

عورتوں کے چند گھنٹوں کے بعد اوسان تھوڑے بحال ہوئے تو انہوں

نے بے لاگ تبصرے شروع کردیئے ۔

ہم بھائی کفن دن کا انتظام کرنے لگے ۔
ارے دیکھو کیسی سچی محبت تھی دیورانی ، جٹھانی میں

کسی خاندان کی بوڑھی عورت کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔

جٹھانی کی روح خود آئے دیورانی کو لینے ۔ کبھی سنا ہے ایسا؟

ساری عورتیں ہاں میں ہاں ملانے لگیں لیکن واقعی اس روز کے بعد نانی کبھی کسی کو نظر نہیں آئیں۔

Leave a Reply