دی لیٹر پیڈ

آپ نے اپنے مدّاحوں کو پیغام دیا ہے کہ اب آپ مزید ناول نہیں لکھیں گے۔the.letter.pad
مگر آپ کو لکھنا ہے میرے لئے، اگر آپ نے ایسا نہیں کے تو میں خودکَشی کر لوں گی۔ نیند کی گولِیاں کھا کر مر جاؤں گی۔
پتا ہے کتنی گولِیاں؟ پوری 20………”ڈورتھی”۔

اُف میں نے اپنا سر تھام لِیا۔

یہ مدّاح ، یہ چاہنے والے ، یہ حوصلہ دینے والے، مگر یہ ہماری مجبوریاں کیوں نہیں سمجھتے؟

ناول‘‘ کسں طرح ؟۔ ’’میں تو شاید اب قلم بھی نہ اُٹھا سکوں۔‘‘

کی بے وقت ، اچانک موت نے تو جیسے مجھے توڑ دیا ہے‘‘ Kathy‘‘ 

کیتھی میری پیاری ، عزیز از جان بیوی، میری زندگی ۔

دو مہینے پہلے اچانک مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ 

ایک رات اچانک اس کاہارٹ فیل ہوگیا۔
ابھی ہماری شادی کو محض چند برس ہوئے تھے۔
ہماری کوئی اُولاد بھی نہیں ہوئی تھی۔
اور وہ چلی گئی، مجھے اکیلا کر کے۔

ابھی تو مجھے اس کے چلے جانے کا یقین تک نہیں آیا تھا۔
میں کیسے قلم اُٹھاؤں ؟ اپنے خیالات جمع کروں کس طرح؟
اس پر یہ دھمکی آمیز خط۔

میں ایک ناول نگار ہوں، ایک نوجوان ناول نگار۔
میرے ناول بے حد مقبول ہوئے ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں میں۔۔۔۔
مجھے اکثر لڑکے اور لڑکِیاں 

Contact

کرتے ہیں۔

کبھی فون پر، کبھی خطوط میں۔
مجھے لا تعداد خط آتے ہیں۔

مگر یہ خط ۔۔۔۔۔یہ اپنی نوعیت کا عجیب خط ہوتا ہے۔
صرف چند جملوں پر مشتمل۔

اور۔۔۔۔ ایک عجیب سے لیٹر ہیڈ پر۔

اس لیٹرہیڈ کی وجہ سے میں اس خط کو پڑھنے سے پہلے ہی پہچان لیتا ہوں۔
ایک عجیب لیٹر ہیڈ، کچھ براؤن سا کچھ گِرے سا کَلر
اس پر عجیب سا پرنٹ ہوتا ہے جیسے کسی قدیم زبان کے حروف ہوں۔ مِٹے مِٹے سے۔ اور ان خطوط پر صرف مدّعا لِکھا ہوتا ہے۔
جیسے کہ پہلا خط تھا۔

11-05-1988
مجھے آپ کے ناول بہت پسندہیں۔ بے حد۔
اتنا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔
ڈورتھی۔۔

اور پھر ایک دو سرا خط۔
میں نے اپنے سامنے پڑی ڈاک سے ایک پُرانا خط دستیاب کیا۔

02-07-1988
یہ کیا کر دیا آپ نے؟
آپ نے اپنے ناول ’’گُم شُدہ مُحبت‘‘ کا انام اتنا دردناک کیوں کیا ہے؟
مجھے ہر گز پسند نہیں آیا۔ آپ نے اچھا نہیں کیا‘‘۔
ڈورتھی۔

’’اُف اتنی شِدت پسندی‘‘۔ میں نے سر جھٹکا۔

بعض قارعین تو کہانیوں کو باقاعدہ اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں۔
میں نے اپنے میز کے اُوپرپڑے چند بند لِفافے اُٹھالئے۔
کیتھی کی موت کے بعد کچھ دن میں بلکل ڈاک نہیں پڑھ پایا تھا۔
میں نے پچھلے مہینے اپنے مدّاحوں کو پیغام دے دیا تھا کہ میں اب مزید نہیں لکھ سکوں گا۔ کبھی بھی نہیں۔

ان بند لِفافوں میں سے میں نے ڈورتھی کا خط پہچان لیا۔
اوہو۔ میں نے سب سے پہلے وہی لِفافہ چاک کیا۔
یہ خط اس نے میری بیوی کی تعزیت کے لئے لکھا تھا۔

آپ کی بیوی کی اچانک موت کا بہت افسوس ہے۔
بہت تکلیف ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ آپ بالکل تنہا رہ گئے ہیں۔
ڈورتھی۔

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
تنہا تومیں واقعی ہو گیا تھا۔
میں بے خیالی میں تمام خط پڑھنے لگا۔
دوبارہ، سہہ بارہ۔

وہ ڈورتھی کس ناول کے انجام پر اتنی خفا ہو رہی تھی؟میں سوچنے لگا۔
او، ہاں مجھے یاد آیا۔
میرے ناول جو ایک رِسالے میں قسط وار شائع ہو رہا تھا۔ جس میں ہیروئن اچانک مر جاتی ہے۔ ہارٹ اٹیک سے۔

نہ جانے کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے اپنی کمر پر چیونٹیاں سی رینگتی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔۔۔۔

میں نے ڈورتھی کے تمام خط اپنے سامنے کرلئے۔

“Oh My God” ! مجھے کسی شدید غیر معمولی بات کا احساس ہوا۔

میرے اس کردار کا نام تو ڈورتھی ہی تو تھا۔

جو ناول میں اچانک مر جاتی ہے۔

اور جس کا مرنا خطوں والی  ڈورتھی کو سخت بُرا لگا تھا۔

اور ۔۔۔اور۔۔۔ یہ کیا؟

کیتھی کی موت کو دو مہینے گزرے تھے۔ وہ منحوس تاریخ۔۔۔۔۔
15-10-1988تھی۔

میری نظر ڈورتھی کے خط پر پڑی جس میں اس نے کیتھی کی موت کا افسوس کیاتھا۔ اس کی تاریخ۔۔۔۔۔اوہ خُدایا‘‘۔

’’15-09-1988‘‘ میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔

آخر ڈورتھی نے ایک مہینہ پہلے کیتھی بے وقت موت کا خط کیسے لکھ دیا؟

آخر یہ ڈورتھی کون ہے؟

کوئی بدروح؟ یا کوئی شیطان؟

اور یہ آج کا خط ’’میں خود کشی کر لوں گی خواب آور خولیاں کھا کر پوری 20‘‘
میری نظر سائیڈ ٹیبل کے اوپر پڑی تھیں۔

مجھے کبھی نیند کے لئے گولی کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

ہاں کیتھی کبھی کبھار استعمال کر لیتی تھی۔

یہ گولِیاں کیتھی کی ہی تھیں۔

Oh Kathyمیری جان‘‘۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

غم سے میرا دل جیسے پھٹنے والا ہو گیا۔

مجھے کچھ بھی یاد نہیں رہا۔

نہ وہ عجیب خط

نہ وہ پُراسرار ڈورتھی۔

اور نہ ہی وہ منحوس لیٹر ہیڈ

بس اپنی پیاری بیوی۔۔۔۔۔

میں اب کیا کروں گا؟

’’میں کس طرح اکیلا جیوںگا؟ کیسے؟

کیتھی اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘‘

تو کیوں نہ میں اس کے پاس چلاجاؤں‘‘۔۔۔۔ ایک شدید خواہش میرے اندر جاگنے لگی۔

مگر کیسے؟

اچانک میری نظر نیند کی گولیوں پر جم گئی۔

میں نے آہستہ سے شیشی اُٹھا لی۔ اور تمام گولِیاں اپنے ہاتھ پر اُلٹ دیں۔

’’ایک، دو، تین، چار۔۔۔۔یہ کیا؟‘‘

’’پوری 20 گولِیاں ‘‘

چند لمحے گولیوں کو گھورنے کے بعد میں کسی نتیجے پر پُہنچ گیا۔

پانی کا گلاس اُٹھایا اور تمام گولیاں ایک ساتھ نگل لیں۔خالی بوتل ایک چھپاکے سے نیچے گِر

گئی۔

ایک بوسیدہ لیٹر ہیڈ پر لکھا خط پھڑ پھڑا رہا تھا۔

اگر آپ نے ناول لکھنا بند کر دیاتو میں خودکشی کر لوں گی ۔

نیند کی گُولِیاں کھا لوں گی، پتا ہے کتنی ؟ پوری 20۔

ڈورتھی۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
4 Comments
Newest
Oldest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Nasir
Nasir
5 months ago

Nice stories

Anusha adnan
Anusha adnan
1 year ago

Very good stories!!! Waiting for more ❤❤❤❤