دی فون کال

اس کے چہرے پر دیوانگی برس رہی تھی۔

ہلکی بڑھی ہوئی شیو اور بکھرے بالوں کے ساتھ وہ سخت پریشان نظر آرہا تھا۔

…..ے 17 بار…..‘

’ پورے 17 بار میرے دماغ میں فون کی گھنٹی بجتی ہے‘

Chamberوہ میرے
 میں میرے سامنے کرسی پر بیٹھا ایک ہی بات دُہرا رہا تھا۔

ٹہریے میں پہلے اپنا تعارُف کروا دوں۔

میں ایک سائکاٹرسٹ ہوں۔ پریکٹس شروع کیے صرف سال ہوا ہے۔ مگر اس طرح کے کئی نیم زہنی مریضوں سے واسطہ پڑ چکا ہے۔

ہاں تو ہم کیا بات کر رہے تھے۔ میرے سامنے بیٹھا ہوا 30-32 سالہ شخص جس کا نام جانسن ہے بضدہے کہ اس کے دماغ کے اندر فون کی

گھنٹی بجتی ہے اور بار بار بجتی ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ آواز آپ کی سماعت کا دھوکہ ہو جیسے آپ اپنے دماغ میں محسوس کرتے ہوں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کان

خراب۔۔۔۔

ہرگز نہیںجانسن  نے میری بات کاٹ دی۔ فون کی گھنٹی میرے دماغ میں ہی بجتی ہے۔ اس کی آواز انتہائی مکروہ اور تیز ہے۔ جب وہ بجتی ہے تو مجھے لگتا ہے میراسر پھٹ جائے گا۔

جانسن کا میرے پاس دوسرا  وزٹ تھا

۔ جب پہلی بار وہ میرے پاس آیا تھا اور بضد تھا کہ اس کے دماغ میں فون کی گھنٹیاں بجتی ہیں ۔
تو ابتدائی معائنہ کے بعد میں نے اس کو کہا کہ اب گن کر بتائے کہ فون کی گھنٹی دِن میں کتنی بار بجتی ہے۔
تو آج وہ گھنٹیوں کی تعداد 17بتا رہا تھا۔ 
اس کی چہرے کی وحشت اور دیوانگی بتا رہی تھی کہ وہ پوری رات سو نہیں سکا ہے بلکہ شائد کئی راتوں سے اس کی نیند پوری نہیں ہوئی ہے۔
میں نے اس کی دوائیوں میں سکون آور ادویات شامل کیں ’’مسٹرجانسن اب آپ ایسا کریں کہ جب آپ کے دماغ میں کوئی فون کال آئے تو آپ ریسیو کریں‘‘۔
کیا مطلب؟جانسن نے حیرت سے مجھے گُھورا‘‘
میرا مطلب ہے آپ اپنے دماغ کی مدد سے فون کال اُٹھانے کی کوشش کریں معلوم کریں کہ دوسری طرف کون ہے۔
جانسن کی آنکھیں کسی گہری سوچ میں ڈوب گئیں۔

visit میں نے اس کو اگلے ہفتے

پر بُلایا تھا مگر وہ دوسرے ہی دن آن دھمکا۔

اس کا چہرہ معمو ل سے زیادہ وحشت زدہ ہو رہا تھا۔

وہ۔ وہ ۔

ہےSmantha ۔

کُرسی پربیٹھتے ہی وہ شروع ہوگیا۔

’’کون Smantha‘‘میں نے پوچھا ۔

’’وہ فون کال والیSmantha۔

‘‘آپ کے کہنے پرمیں نے دماغ میں فون اُٹھا لِیا۔

وہ …وہ ‘‘جانسن کی آنکھوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ 
’’وہ ایک بدرُوح ہے‘‘۔

میں نے بہت مشکل سے اپنی مسکُراہٹ پر ضبط کیا۔

اس طرح کے
شیزوفرینیا کے مریضوں سے نیپٹنا ہمارا دن رات کا کام تھا۔

’’اچھا‘‘۔ تو وہ کیا چاہتی ہے۔ آپ کو کیوں کال کرتی ہے‘‘۔

’’وہ ، وہ ایک بدرُوح ہے 17ویں صدی کی۔ 17سال کی عمر میں اس کا قتل کر دیا گیا تھا جب سے وہ ایک بدرُوح بن گئی ہے۔

’’وہ تو ٹھیک ہے مگر وہ آپ کے دماغ میں گھنٹیاں کیوں بجاتی ہے؟‘‘
میں نےجانسن کی دوا میں نیند کی دوا بڑھا دی۔ نیند اس کے لےئے بہت ضروری تھی۔ وہ پاگل پن کی طرف بڑھ رہا تھا۔

’’اب جب Smantha

آپ کو کال کرے آپ پوچھیں کہ وہ آپ سے کیا چاہتی ہے؟‘‘

Chamberوہ پھر اگلے روز

میں موجود تھا۔ پہلے سے زیادہ سرد آنکھیں اور دیوانہ پن لئیے۔
’’

 ہے Smantha وہ ۔

   وہ مجھے سونے نہیں دیتی وہ مجھ سے ایک بہت غلط کام کرانا چاہتی

………..ہے

وہ کُرسی پر بیٹھا جیسے خود کلامی کر رہا تھا۔ 
’’اچھا‘‘ مجھے اس گفتگو میں مزہ آنے لگاتھا۔

17
’’ویں ٖصدی کی بدروح نے  نامتو راک اسٹارز والا پسند کیا ہے‘‘
مگرجانسن نے میری بات سُنی ہی نہیں ۔ وہ مسلسل خودکلامی کر رہا تھا۔

Smantha
…..مجھ سے غلط کام کروانا چاہتی ہے۔‘‘
ایک بہت غلط کام

…مگر کون سا کام ؟ میں نے اس کی سُرخ آنکھوں میں دیکھا

پہلی بار میرے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئ
اور۔۔۔اور۔۔اور۔۔۔۔۔

“Breaking News”

Chamber اپنے S.Haneryمعروف سائکاٹرسٹ

میں مُردہ پائے گئے اِن کے سَر پر شِدت سے زخم لگا ئے گئے ہیں۔ یہ وار اِن کے کمرے میں رکھے فون سیٹ سے کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق زخموں کی تعداد 17ہے۔

Leave a Reply