دی ریڈ روز

مجھے تو یہ کوئی چڑیل معلو م ہوتی ہے…..نینسی نے میرے کان میںred.rose 
سرگوشی کی اَس کی نظریں لان میں پودوں کو پانی دیتی مسز بیکر پر جمی ہوئی تھیں۔
بھلا یہ بھی کوئی وقت ہے گارڈننگ کا۔
مگر مسز بیکر کا تو ہر وقت گارڈننگ کا ہی ہوتا تھا۔ صبح جب میں کام کے لئے نکلتا یا جب شام یا رات کو واپس آتا وہ وہیں پایے جاتی۔
ہمیشہ سیاہ گاؤن میں ملبوس…..یا تو پودوں کی گُوڈی کر رہی ہوتی تھی ۔یا گھاس کو پانی لگاتی یا اور کچھ نہیں تو پھولوں کو اسپرے کرتی پائی جاتی۔
رَنگ بِرنگے پھول جن سے یہ لان بَھرا پڑا تھا۔
نہ معلوم اِس بے رنگ عورت کو پھولوں ،پودں سے اس قدر دلچسپی کیوں ہے۔ میں نے
چِڑکر سوچا۔
ٹہرئے میں ذرا آپ سے اپنا تعارُف کرادوں۔ میرانام جون
ہے(Jhon)
جیسا کہ ہر تیسرے شخص کا ہوتاہے۔ میری عمر 24سال ہے۔
اور میں اپنے نام کی طرح بالکل ایسا ہوں جیسا ہر تیسرا شخص ہوتا ہے۔ بالکل عام سا۔
مگرنینسی کہتی ہے کہ میں بہت ہینڈسم ہوں۔
اب آپ ہوچھیں گے ہے نینسی کون ہے؟ نینسی میری دوست ہے۔ اس ٹاؤن میں میری واحد دوست، ایک راز کی بات بتاؤں میں اِس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ مگر ہم تو ذِکر کر رہے تھے مِسزبیکر کا۔
مِسزبیکر میری مالک مکان ہے۔ مجھے اس قصبے میں آئے چند ماہ ہوئے ہیں۔ یہاں مجھے کام بھی مِل گیااور رہنے کو کمرہ بھی مگر کمرے تک پہنچنے اور باہر نکلنے کے لئے ایک وسیع لان کے سامنے سے گزرنا پڑتاہے۔ یہاں وہ منحوس مِسزبیکر پائی جاتی ہے۔
مِسزبیکر کے آگے پیچھے شاید کوئی نہیں۔ کم ازکم میں نے تو نہیں دیکھا۔
جب میں اِس گھر میں نیا شفٹ ہوا تومیں نے اِس سے ہیلو ہائے کی کوشش کی مگر اِس کا سرد رویہ محسوس کرکے پیچھے ہٹ گیا۔ مگر اب دِن بہ دِن اس کی شخصیت مزید پُراسرار ہوتی جارہی تھی۔
وہ لان میں زیادہ تر رہنے لگی تھی خاص طور پر میرے آنے کے اوقات میں مجھے تو ایسا ہی لگتا تھا۔
وہ کبھی مجھے مخاطب نہیں کرتی تھی مگر جب کبھی میرا
Eye Contact اس سے
ہوجاتا.. میری ریڑھ کی ہڈی میں جیسے لہردوڑ جاتی تھی۔
اس کی آنکھیں، اُف ایسی آنکھیں میں نے زندگی میں نہیں دیکھیں۔
…سرد، بے جان، پتا نہیں کیا تھا ان میں …..غصہ، وارننگ
خیر تومیں آپ کوبتا رہا تھا کہ میں نینسی کو شادی کے لئے پسند کرنے لگا تھا۔
میری نینسی سے مُلاقات ابھی کچھ عرصے پہلے ہی ہوئی تھی اور ہم بہت قریب آگئے تھے ۔میں اس شادی کی درخواست کرنے والا تھاکہ ہماری ٹاؤن میں سیریل کلنگ کی انتہائی خوفناک وارداتیں ہونے لگیں۔
مقتول تقریباََمیرا ہم عمر لڑکا تھا جس کو نہایت بے دردی سے چیر پھاڑ کر قتل کیا گیا تھا۔ اور ہاں ہر واردات کے بعد لاش کے اوپر ایک سُرخ گُلاب ملتا تھا۔ سُرخ گُلاب جو کہ مِسز بیکر کے گارڈن میں لاتعدادتھے ۔
اوہ….. یہ میں کیا سوچنے لگا۔ مگر واقعی نہ جانے کیوں میرا دِل کہہ رہا ہیکہ ان وارداتوں اور مِسز بیکر میں کوئی لِنک ضرور ہے۔
اس ک حُلیہ ، اس کے انداز بہت پُراسرار ہیں۔
 
نینسی مجھے
دروازے پر اتار کر
Good Bye
کہہ کر چلی گئی۔ میں تیزی سے گارڈن عبور کر کے اپنے کمرے میں داخل ہو گیا اور کُنڈی چڑھا لی چند مِنٹ کے اس عمل نے میری سنس تیز کردی۔
مسز بیکر کی آنکھیں مجھے اپنی کمر میں چُبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔
میں اس قدر تھکا ہوا تھا کہ لیٹتے ہی سُو گیا۔ رات کے کسی پہر میری آنکھ کُھل گئی۔ ماحول میں ایک غیر معمولی پن کا احساس تھامیری نظر گھڑی پر پڑ یوہ ڈیڑھ بجارہی تھی۔ میں بستر چھوڑ کر اُٹھا۔ کھڑکی کا پردہ سرکایا۔ اوہ خُدایا۔ 
وہ اس وقت بھی گارڈن میں موجود تھی۔ انتہائی انہماک سے ایک پودے کو سہلا رہی تھی۔
 پودا۔ نہیں ۔ میری دھڑکن تیز ہوگئی… سُرخ گُلاب۔ 
اسی وقت مِسز بیکر نے مُڑ کر دیکھا میں تیزی سے کھڑکی کے آگے سے ہٹ گیا۔
نہیں اب شَک کی گُنجائش نہیں۔ مِسز بیکر ہی وہ قاتل چُڑیل ہے۔
ابھی اس نے جس طرح مجھے دیکھا میری رُوح تک لرز گئی ۔ اس کی آنکھیں سرد، سفاک،.. کہیں
یہ آج میرا شِکار تو نہیں کرنے والی۔
نہیں، نہیں میں اب یہا ں نہیں رہوں گا۔
میں کل ہی یہ گھر چھوڑ دوں گا۔ بے شک مجھے ڈِپازٹ میں دِی گئی رقم سے ہاتھ دھونے پڑیں
گے مگر اب میں یہاں نہیں رہوں گا۔
مگر کل آئے تو نہ۔ یہ تو مجھے شاید آج ہی مارنے کی پلاننگ کر رہی ھے۔ 
ایک خیال میرے زہن میں لپکا۔ میں آج رات ہی یہاں سے نکل جاتا ہوں میں نے فون اُٹھایا اور نینسی کا نمبر ملایا ۔ کئی بیلوں کے بعد آخراس نے فون اُٹھالیا۔
۔ تمJhon
اس وقت خیر یت تو ہے؟ اس کی آواز نیند میں ڈوبی ہوئی تھی
 نہیں نینسی خیریت نہیں
…ہے
کیا تم مجھے
اس وقت
Pick
 کر سکتی ہو؟
ورنہ شاید کل تم مجھے نہیں دیکھ پاؤ ۔ میں رونے والا ہو رہا تھا۔
’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو… وہ حیرانی سے بولی ’’خیر میں آتی ہوں‘‘۔
جلدی آو… پلیز۔
جتنی دیر میں نینسی نے ہارن دیا اتنی دیر میں میں نے اپنا سامان ایک سوٹ کیسمیں بھر لِیا۔ نکلنے سے پہلے میں نے گارڈن میں جھانکا وہ خالی پڑا تھا۔ ’’شُکر ہے ‘‘ میں بڑ بڑایا۔
میں تیزی سے کمرے سے نکلا۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ جیسے میرے کانوں میں۔
گارڈن عبور کرتے ہوئے اچانک میرے عقب سے مِسز بیکر کی آواز میرے کانوں میں ٹکرائی۔
’’رُک جاؤ لڑکے‘‘۔ میں کہتی ہوں رُک جاؤ ۔ ورنہ پچھتاؤ گے‘‘۔
میں بھاگتے ہوئے گھر سے نکلااور پہلے سے اسٹارٹ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ نینسی نے کار بڑھا دی۔
’’جلدی نینسی جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جاؤ‘‘۔ میری سانسیں ابھی قابو میں نہیں تھیں۔
نینسی اب میں ہر گز اس گھر میں نہیں رہوں گا۔’’میں نے اس سے کہا۔وہ عورت ہی وہ چُڑیل ہے ‘‘
وہ مجھے آج مار ڈالتی۔‘‘ ’’شُکر ہے تم مجھے لینے آگئی ۔ ورنہ نہ جانے کیا ہوتا
نینسی تیزی سے گاڑی چلا رہی تھی۔اس نے میری طرف دیکھا ۔
مگر یہ کیا۔۔۔۔۔۔نینسی کی خوبصورت شکل پر شیطان ناچ رہا تھا۔
اس نے گاڑی رُوک دی نہ جانے کون سا ویرانہ تھا۔
وہ مُسکرائی ۔
نہیں ….. اس کے خوبصورت ہونٹوں کے پیچھے سے نمودار ہونے والے دانت
اس کے تو نہیں تھے لمبے، ڈریکولا جیسے خطرناک وہ میری طرف بڑھنے لگی ۔
تو کیا وہ قاتل چُڑیل مِسز بیکر نہیں نینسی ہے۔
او ہاں یاد آیا… نینسیبھی تو ہمیشہ اپنے بالوں میں گُلاب کا پھول لگاتی تھی ۔ سُرخ گُلاب ۔
مگر اب کیا فائدہ۔۔۔۔۔۔
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments