واپسی

ڈور بیل کی آواز پر اس نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔returns
اس انداز کو وہ ہزاروں میں پہچان سکتی تھی۔
اس نے بڑھ کر دروازہ کھول دِیا۔
اس کا انداز ہ ٹھیک تھا۔
وہی تھا۔ اسی اندز میں دیوار سے ٹیک لگائے۔
ان کی آنکھیں ٹکرائیں۔

کیسی ہو زاری؟ پھیکی مُسکراہٹ کے ساتھ اس نے پوچھا۔
ٹھیک ہوں‘‘۔ زرینہ نے سپاٹ انداز میں جواب دِیا۔’’

’’اندر آنے کو نہیں کہو گی؟

آجاؤ‘‘کچھ لمحوں بعد زرینہنے آہستہ سے کہا۔اور دروازے کے آگے سے ہٹ گئی۔

 وہ آہستہ قدموں سے اندر آگیا۔ کندھوں سے لٹکا بیگ اُتار کر اس نے سائیڈ میں رکھا اور لاؤنچ میں پڑے صوفے پر دراز ہو گیا۔
جوتوں سمیت۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور چند لمحوں بعد وہ بے خبر سو رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح۔

زرینہ نے ایک نظر اس پر ڈالی ۔ اس کی بڑھی ہوئی شیومیں کئی سفید بال چمک رہے تھے۔ ’’کیوں نہ ہوں؟‘‘ وہ 43کا ہو رہا تھا۔
اس نے دل میں حِساب لگایا۔ اس کے کندھے آگے کو ڈھلک رہے تھے۔
وہ عمر رسیدہ لگنے لگا تھا۔

شاید اب وہ تبدیل ہو گیاہو‘‘ کسی خوش فہمی کے تحت زرینہ نے سوچا آخر ہر چیز ایک وقت ہوتا ہے۔
ہر شوق انسان ایک وقت تک اپناتا ہے۔
وہ کھانا بناتے ہوئے مسلسل سوچ رہی تھی۔

نہ جانے کیوں، کس طرح اس نے تمام چیزیں وِکیّ کی پسند کی بنائیں۔

وِکیّ اس کا شوہر، اس کا محبوب شوہر۔’’ مگر کیا وہ اس کی محبوبہ بیوی ہے؟‘‘ یہ سوال کانٹے کی

طرح اس کے زہن میں کھٹکتا تھا۔ ان کی شادی کو 15 سال ہو گئے تھے۔ ان 15 سالوں میں وِکیّ کی درجنوں بے وفائیوں کا زرینہ سے سامنا کیا تھا۔

عورت جیسے وِکیّ کی کمزوری تھی۔خوبصورت ، طرح دار ، ماڈل نُما لڑکیوں سے اس کی دوستیاں ہمیشہ رہتی تھیں۔ یہ سب زرینہ کو معلوم تھا۔ وِکیّ نے کبھی اس سے کوئی اَفیئر چُھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔

درحقیقت وِکیّ کو زرینہ سے کوئی خوف بھی نہیں تھا۔

تو نہیں کویاور سہی کے مصداق وہ آرام سے زندگی گزار سکتا تھا۔ گزار رہا تھا۔ اس قدر ہینڈسم تھا کہ لڑکیاں خود اس کی طرف کھنچی چلی آتی تھیں ۔ زارینہ بھی تو اس کی وجاہت سے مُتاثر ہوئی تھی۔ اور وِکیّ کے پاس جو کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ تمام عیاشی زرینہ کی دولت کے بل بوتے پر کرتا تھا۔ اور وہ اس کی مُحبت میں اس حد تک گِرفتار تھی کہ اس کی ہر فرمائش پوری کر دیتی تھی۔

مگر اب نہیں ‘‘ زارینہ کے منہ میں جیسے کرواہٹ پھیل گئی۔
اب میں تم کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دوں گی۔

کھانے کی میز پر اسی نے اِعلان کیا ‘‘میری دولت تمہاری عیاّشی کے لئے نہیں ہے‘‘۔ اگر تم کو اس گھر میں رہنا ہے تو شرافت سے رہنا ہو گا۔ ورنہ اب تم ہمیشہ کے لئے چلے جاؤ میں اس دھوپ چھاؤں سے تنگ آگئی ہوں۔

اور ایسا ہی تھا۔ وِکیّ کو جب کوئی لڑکی پسند آتی وہ گھر سے غائب ہو جاتا۔ پھر ہفتوں بعد انتہائی ڈھٹائی سے واپس لوٹ آتا۔

اپنی تمام (زرینہ سے ہتھیائی ہوئی) جمع پونچی  لُٹا کر۔

مگر اب 15 سالوں میں اس بے وفاکے لئے زرینہ کی مُحبت میں کمی آتی جا رہی تھی۔وہ اب اپنے دل میں مزید ہمت نہیں پاتی تھی کہ اس کی حرکات برداشت کرے۔

کافی بناتے ہوئے اس کے ہاتھ تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔

کافی وِکیّ کی دوسری کمزوری تھی ‘‘۔’’اور پہلی کمزوری…ہوں‘‘۔ ایک مرتبہ پھر زرینہ کے منہ میںکڑواہٹ گُھل گئی۔

گو کہ وِکیّ نے اس کے وعدہ کیا تھا کہ یہ آخری بار تھا۔ اب وہ کبھی اس سے بیوفائی نہیں کرے گا۔ اس کو چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ مگر زرینہ جانتی تھی وہ جُھوٹ بول رہا ہے۔ وِکیّ کی آنکھیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔وہ اس کی رگ رگ سے پہچانتی تھی۔ وِکیّ کے اندز میں اس کے لئے بے زاری تھی۔ کیوں نہ ہوتی؟ وہ 42کی ہو رہی تھی۔ ڈھل رہی تھی۔کلی کلی منڈلانے والے بھنورے کے لئے اس مُرجھائے ہوئے بد رنگ پُھول میں کیا دل چسپی ہو سکتی تھی؟

زارینہ کے ہاتھ تیزی سے کافی بنانے لگے۔

’’تم کنگلے، بوڑھے گدھ‘‘روبی کی آواز وِکیّ کے کانوں میں گونجی

تم کوئی کام نہیں کرتے ہو۔ تم تو چوری بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتے۔

یہ 4ٹکے لے کر تم میرے پاس آئے تھے۔

وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی۔

روبی ایک بے پناہ حَسین، کم عمر اور بے حد لالچی لڑکی تھی۔ بچپن سے سرکس میں کرتب

دِکھانے کی وجہ سے اس کا جسم اس کی شکل سے بڑھ کر حَسین ہو گیا تھی۔ پتا نہیں روبی نے وِکیّ سے مُلاقات کب اور کیسے ہوئی۔


مگر اب وہ اس کی کمزوری بن گئی تھی۔ اور زندگی میں پہلی مرتبہ وہ ہمیشہ کے لئے کسی ایک کا ہونے لگا تھا۔ جی ہاں روبی کا۔

مگر روبی ایسانہیں چاہتی تھی کچھ عرصہ وِکیّ کے پاس رہ کر جب وِکیّ کے پیسے ختم ہو گئے تو اس نے وِکیّ کو

Good Bye

کہہ دیا۔

 اگر اب اپنی بے حد امیر بیوی کے زیورات چُراکر لا سکو تو میرے پاس آنا ورنہ نہیں

 
 مگر کیسے؟ ‘‘ وِکیّ نے سوچا… زرینہ کے حتمی انداز نے اس کو بتا دیا تھا کہ اب درحقیقت وہ اس کوکوئی پیسا نہیں دے گی۔

اور وہ زندگی میں پہلی مرتبہ روبی سے مُحبت کرنے لگا تھا۔ وہ اس کے بعیر نہیں رہ سکتاتھا۔

 کیا کروں؟‘‘ وِکیّ نے بارہا سوچا۔ اور پھر ایک نتیجے پر پُہنچ کر اس کے ہاتھ تکیہ پر جم گئے۔

سوتی ہوئی زارینہ کے منہ پر تکیہ رکھ کر دباتے ہوئے اس کو بلکل رحم نہیں آیا۔

 بڈھی.. بدشکل عورت…… اس نے نفرت سے سوچا۔ کے کیا کرے گی اتنی ساری جائداد کا؟

چند منٹوں بعد اس کو اندازہ ہو گیا کہ زرینہ کی رُوح جسم چھوڑ کر نکل گئی ہے۔ اس نے تکیہ چھوڑ دیا۔

نہ جانے کیوں زندگی کا پہلاقتل کر کے اس کو بلکل افسوس نہیں ہورہا تھا۔ اس نے سگریٹ ہونٹوں میں دبائی اور ماچس کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ مگر۔۔۔یہ کیا۔۔۔۔اچانک ہر چیز جیسے گردش کرنے لگی۔ دیواریں گھومنے لگیں۔ اس نے سہارا لینے کی کوشش کی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘‘بریکنگ نیوز‘‘

دومیاں بیوی جن کی شناخت زرینہ اور وِکیّ کے نام سے کر لی گئی ہے۔ اپنے  فلیٹ میں مُردہ پائے گئے ہیں … بیوی کی موت دم گھٹنے اور شوہر کی موت کی وجہ کافی کے پیالے میں زہر بتائی جاتی جا رہی ہے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments