دی روم میٹ

پہلی مرتبہ اپنے شہر، ماں، باپ، بہن بھائی اور اپنی پیاری دادی جان سے دور جانے کا  

خیال ستا تو رہا تھا مگر ایک طرح آزادی بھی تھی۔

ہاسٹل میں رہنا تو میرا بہت پرانا شوق تھا جو اب میرے اس کالج میں داخلے سے پورا ہونے جارہا تھا۔ ہمارے چھوٹے سے شہر “بخت خان” میں لڑکیوں کے لیے کوئی اچھا کالج نہیں تھا۔ اس کالج سے میں نے جیسے تیسے انٹر تو کر لیا مگر میں اب اس میں مزید نہیں پڑھنا چاہتی تھی۔ میں نے اس بڑے کالج میں داخلہ فارم جمع تو کروادیئے تھے مگر ایک سوال سامنے کھڑا تھا اگر داخلہ ہوبھی گیا تو رہوں گی کہاں؟میرے امی اور ابو لڑکیوں کی تعلیم کے بہت حامی تھے۔ اس لیے جب میرا ایڈمیشن ہوگیا تو انہوں نے مجھے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دے گی۔
ابو نے اپنے جاننے والوں کے مشورے کے بعد اس ہاسٹل میں جو کہ اس شہر کا بہت معزز اور اچھی reputationوالا ہاسٹال تھا میرا رہنے کا بندوبست کردیا۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ میرا کالج صرف چند منٹ کی walkپر تھا۔ ابو مجھے خود چھوڑنے آئے اور مجھے کمرے تک چھوڑ کر بہت ساری ہدایتوں کے ساتھ رخصت ہوگئے۔
ابو کے جاتے ہی جیسے میرا سارا اعتماد رخصت ہوگیا۔ میں دھم سے بستر پر بیٹھ گئی اور بے اختیار روہنے لگی۔
ارے ارے۔۔۔۔کیا ہوا بھئی؟ اس وقت کمرے میں میڈم نفیسہ داخل ہوئیں ۔ میڈم نفیسہ اس ہاسٹل کی سپروائزر تھیں۔ گھبراؤ نہیں صرف چند دن سب کو home sickness ہوتی ہے پھر عادی ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے مجھے پیار سے تسلی دی۔
“یہ دیکھو انہوں نے اپنے ساتھ کھڑی تقریباً میری عمر کی لڑکی سے میرا تعارف کرایا۔
“یہ لیلیٰ ہے”تمہاری روم میٹ۔
میں نے انتہائی دلچسپی سے لیلیٰ کا جائزہ لیا ۔ آخر دن رات اس کے ساتھ رہنا تھا۔
لیلیٰ میری ہم عمر ایک عام دبلی پتلی لڑکی نظر آئی، میرے سخت جوش کے جواب میں تو وہ مسکرائی تک نہیں۔ صرف اپنا برف جیسا سرد ہاتھ میرے ہاتھ سے بادلِ ناخواستہ ٹکراکر چھوڑ دیا۔
“لیلیٰ بھی آج ہی اس ہاسٹل میں آئی ہے”۔ میڈم نفیسہ نے مجھے بتایا۔
“تم دونوں جلدی سے دوستی کرلو تاکہ کبھی بور نہ ہو نہ ہی گھروالے زیادہ یاد آئیں”۔
لیلیٰ نے میڈم نفیسہ کے مشورے پر زیادہ عمل نہیں کیا۔ وہ اپنا سامان اپنی الماری میں سیٹ کرنے لگی۔
اس کی دیکھا دیکھی میں بھی اپنے کپڑے بیگ سے نکال کر الماری میں لگانے لگی۔ دوسرے روز ہمارا کالج شروع ہوگیا۔ لیلیٰ بھی میرے کالج میں بھی مگر اس کے subjectsالگ تھے اس لیے ہماری کلاسیں الگ ہوتی تھیں۔
چند روز پڑھائی میں لگ کر واقعی میرا دل ہاسٹل میں لگ گیا۔ مگر لیلیٰ سے میری کوئی خاص بات چیت تک نہیں ہوتی تھی۔ وہ خود تو مجھے سے کوئی بات تک نہ کرتی تھی بلکہ میری کسی بات کا بھی ہوں ہاں میں جواب دیتی۔
ہر ویک اینڈ پر ہاسٹل کی زیادہ تر لڑکیاں اپنے گھروں پر چلی جاتی تھیں۔ مگر کچھ لڑکیاں جن کی تعداد برائے نام تھی وہ ہاسٹل میں ہی رہتی تھیں۔ یہ وہ لڑکیاں وہ تھیں جن کے گھر ہاسٹل سے کئی گھنٹوں کی مسافت پر تھے۔ میں اور لیلیٰ انہی لڑکیوں میں شامل تھے۔
لیلیٰ تم کس جگہ سے آتی ہو؟ میرا مطلب ہے تمہارا گھر کس شہر میں ہے؟
ایسے ہی ایک ویک اینڈ پر جب ہاسٹل آدھا خالی ہوگیا تھا اور میں سخت بور ہورہی تھی میں نے لیلیٰ سے سوال کیا۔ وہ نہ جانے کس بوسیدہ کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی۔ میرے سوال پر اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا ۔کیوں؟ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟
مجھے اس جواب کی ہر گز توقع نہیں تھی میں سخت گڑبڑاگئی”وہ ۔۔۔ایسے ہی بھئی”۔
“تم نہیں بتانا چاہتی تو نہ بتاؤ”
وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی پھر منہ ہی منہ میں بڑبڑاکر نہ جانے کیا جواب دیا کہ میں خاک نہ سمجھ سکی۔
دن تیزی سے گذر رہے تھے۔ میں سخت محنت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ جی ہاں کوشش کیونکہ انٹر میں اچھے مارکس لے آنا تو آسان تھا مگر اب پڑھائی بہت مشکل ہوتی جارہی تھی۔ مجھے سخت محنت کرنی پڑ رہی تھی۔ ہمارے اکثر ٹیسٹ ہوتے تھے جن میں میرے نمبر بالکل اچھے نہیں آرہے تھے۔
کیا کروں؟ کتاب پر نظر جماکر میں نے سوچا۔
“اس طرح تو میں فیل ہوجاؤں گی”۔ لگتا ہے ٹیوشن لینی پڑے گی۔
جب امی کا فون آیا تو میں نے امی سے اپنی مشکل کا ذکر کیا۔
“دیکھو بیٹا “، امی نے میرے بات کے جواب میں کہا۔
اپنے گھر کے حالات تم جانتی ہو، تمہارے ابو کی تنخواہ اب مزید اخراجات کی اجازت نہیں دیتی۔ تمہارے کالج کی فیس، تمہارے ہاسٹل کا کرایہ، تمہارے میس کا بل یہ سب مل کر اچھا خاصہ فگر بن جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ بالکل گنجائش نہیں ہے ۔ تمہارے دو چھوٹے بہن بھائی اور بھی ہیں۔ وہ بھی اسکول جاتے ہیں۔ تم خود محنت کرو یا کسی لڑکی سے مدد لے لیا کرو۔
امی کے طویل لیکچر کے بعد تو کسی بحث کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔ محنت تو میں پہلے سے ہی کر رہی تھی مگر نہ جانے کیوں جیسے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ کالج میں ٹیچرز کا سمجھایا ایک لفظ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔
اور لڑکی؟ کس لڑکی سے مدد لوں؟
“میرے روم میٹ تو بات کرنے کی روادار نہیں نہ جانے کیوں؟
یہ خود پتا نہیں کیا پڑھتی ہے؟ کیسے پاس ہوگی؟ اس کو تو میں نے کبھی ٹیکسٹ بک کھولے نہیں دیکھا۔
ہمیشہ کوئی بوسیدہ ناول اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ میں نے چڑ کر سوچا۔
لیلیٰ نے جیسے میری سوچ پڑھ لی۔ اس نے آنکھیں ناول سے ہٹا کر میرے طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟ کیا سوچ رہی ہو؟ اس نے پوچھا۔
“وہ کچھ نہیں”میں نے جیسے گھبرا کر کہا۔ امتحانوں کی تاریخ آنے والی ہے اور کوئی خاص تیاری نہیں۔
تمہاری تیار ہے؟ میں نے اس سے کہا۔ جس پر جواب میں اس نے ہاتھ میں پکڑاناول اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔
“ہونہہ”سخت تپ کر میں نے سوچا۔ بد تمیز، بد لحاظ، شاید اس ناپسندیدہ روم میٹ کی وجہ سے میرا دل پڑھائی میں نہیں لگتا۔ میں نے خود اپنا تجزیہ کیا ۔ دوسرے دن میں میڈم نفیسہ کے سامنے کھڑی تھی۔
“میڈم پلیز”، آپ میری روم میٹ تبدیل کردیں، یا تو میرا روم changeکردیں۔ مجھے کسی اور لڑکے کے ساتھ شفٹ کردیں۔
“مگر کیوں؟”میڈم نفیسہ حیران رہ گئیں۔
“اتنے ہفتے ہوگئے تم کو اس کے ساتھ روم shareکرتے تو اب اچانک۔۔۔۔۔۔۔
بس میڈم اب میں اس کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی، اس کا رویہ ٹھیک نہیں وہ سخت مغرور ہے ۔ میں نے اصرار کیا۔
مغرور ہے؟ مجھے تو ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا؟میڈم حیران ہوئیں۔
اس نے تمہارے ساتھ بد تمیزی کی ہے؟
یہ بات نہیں میڈم، تمیز یا بد تمیزی کیا؟ وہ تو بات تک کرنا پشند نہیں کرتی،
حد یہ کہ وہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دیتی ہے۔
“اوہ”۔ میڈم نے گہرا سانس لیا۔ “تو یہ بات ہے””دیکھو ثانیہ”، تم یہاں پڑھنے آئی ہو، گپیں لگانے نہیں یا دوستیاں بڑھانے نہیں ۔ اگر تمہاری روم میٹ خاموش مزاج ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ تم اپنا دل پڑھائیں میں لگاؤ ۔ جہاں تک لیلیٰ کی بات ہے اس کا تعلق بہتconservativeفیملی سے ہے ان کے گھروں میں لڑکیوں کو گھر سے باہر تک نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس کے والد کی سختی سے ہدایت ہے کہ لیلیٰ کو کبھی کالج کے علاوہ باہر نہ نکلنے دیا جائے۔ یقیناًوہ لڑکیوں کی آپس کی دوستی کے بھی خلاف ہونگے ۔ اسی لیے وہ ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتی ہے۔
“مگر میڈم پلیز ! ” آپ مجھے کسی روم میں شفٹ کردیں۔”میں بضد رہی۔
“اوکے ثانیہ ابھی تو تمام رومز میں لڑکیاں ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی جگہ خالی ہوئی تو میں تمہیں شفٹ کرنے کی کوشش کروں گی”۔وہ مجھے ٹال کر چلی گئیں۔
میں ٹھندی سانس بھر کر رہ گئی۔
اگلے کئی دن اسی طرح گزر گئے۔کالج میں پرھائی مشکل تر ثابت ہو رہی تھی۔لیلیٰ کا سرد رویہّ اس طرح برقرار تھا۔
“کیا کروں دادی اماّں ؟”۔اس دن فون پر دادی سے بات کرتے ہوئے میں جیسے رو پڑی۔
“لگتا ہے نہیں میں وہ ثانیہ ہوں ، ایک دفعہ کا پڑھا ہوا مجھے یاد ہوجاتا تھا ۔اب ساری رات گزر جاتی ہے رٹے لگاتے مگر صبح ذہن خالی سلیٹ بنا ہوتا ہے۔”میں دادی سے اپنی مشکل بیان کی۔

“تو فکر نہ کر ثانی “۔ دادی نی مجھے تسلّی دی۔
“جب کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو اللہ سے مدد مانگتے ہیں”۔
“نماز پڑھتی ہوں دادی اماں “۔میں ٹھنکی۔
“اچھی بات ہے بیٹا نماز پڑھا کرو مگر ساتھ ساتھ ذہن کو کھولنے کے لیے اللہ کاکلام بھی پڑھا کرو”۔ دادی اماں نے پیار سے سمجھایا۔
“لمبے وظیفے نہیں پڑھ سکتی دادی اماں “۔میں نے کہا اتنا ٹائم نہیں ہوتا۔”
“لمبے وظیفے نہیں بیٹا بس تو ایسا کر کہ عشاء کی نماز کے بعد تسبیح لے اور آیت الکرسی پڑھ اپنے اوپر دم کر اپنی کتابوں پر دم کر اور پھر سبق یاد کر۔ دیکھ کیسا اچھا یاد ہوگا کہ عمر بھر نہیں بھولے گا”۔
دادی نے اپنے انداز میں مجھے سمجھایا۔
اس دن رات کو میں نے عشاء کی نماز ادا کی۔ نماز کے لیے تمام لڑکیاں جو پابندی سے نماز ادا کرتی تھیں ہاسٹل میںPray Area میں جمع ہوتی تھیں اور نماز پڑھتی تھیں۔ میں بھی وہیں نماز ادا کرتی تھی۔
نماز پڑھ کر میں اپنے کمرے میں آگئی۔
اپنی کتابوں کا بیگ کھولا اور پڑھنے لگی بلکہ پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔
مگر مجال ہے ایک لفظ بھی سمجھ میں آیا ہو۔
“لائٹ آف کرو”۔ اپنے بستر پر چہرے پر بازو رکھ کر سوتی لیلیٰ نے لائٹ کی طرف اشارہ کیا۔
میں نے ٹھنڈی سانس بھر کر لائٹ آف کردی اور سائیڈ لیمپ جلالیا۔
ہاسٹل کے rulesکے مطابق رات 11بجے لائٹ آف کردیتے تھے۔
جن اسٹوڈنٹس کو پڑھنا ہوتا وہ لیمپ جلالیتے تھے۔
“یہ ایک اور مصیبت “میں نے جل کر سوچا۔
“خود تو کمبخٹ کبھی پڑھتی نظر نہیں آتی”
“اب لیمپ کی مدھم روشنی میں پڑھو”۔
مگر کیسے؟ایک لفظ یاد نہیں ہورہا تھا۔
اچانک مجھے دادی کے الفاظ یاد آگئے۔
میں نے اپنے پرس سے امی کی دی ہوئی مکہ شریف سے لی ہوئی تسبیح نکالی ۔ سر پر دوپٹہ جمایا اور آیت الکرسی پڑھنے لگی۔
آیت الکرسی تو روز دن میں بھی کئی بار پڑھتی تھی مگر نہ جانے کیوں رات کو اس پہر، لیمپ کی روشنی میں آیت الکرسی پڑھنے میں ایک عجیب سرور آنے لگا۔
چند منٹوں کے بعد لگا میری زبان نہیں ، میرا دل، میرا رواں رواں ورد کر رہا ہے۔
میری آنکھیں بند ہونے لگی، میرے ذہن سے جیسے بادل چھٹنے لگے۔
میں مکمل انہماک سے آیت الکرسی پڑھ رہی تھی۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ اتنی کہ پتہ گرے تو آواز آئے۔
کہ ۔۔۔۔۔۔اچانک۔۔۔۔۔۔ایک آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔
ّآہ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔جیسے کوئی کراہ رہا ہو۔
میں نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں۔
وہ۔۔۔۔اس خاموش کمرے میں ، لیمپ کی مدہم روشنی میں میری روم میٹ لیلیٰ اپنے بیڈ پر دو زانو بیٹھی تھی۔
جیسے نماز پڑھنے کے درمیان بیٹھتے ہیں۔
اس کے ہاتھ پیچھے کی جانب مڑے ہوئے تھے اور وہ جیسے کراہ رہی تھی۔ کراہ کیا رہی تھی۔ جسے غیر انسانی آوازیں لگارہی تھیں۔
میرا دل بند ہونے لگا۔ لیلیٰ کیا کر رہی تھی؟ کیوں کر رہی تھی؟
میں پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے باہر بھاگی۔
“ہر گز نہیں”میڈم میں اب لیلیٰ کے ساتھ نہیں رہوں گی۔
“میری شدید التجا کے جواب میں میڈم نے کوئی خاص ردِ عامل نہیں شو کیا۔
“دیکھو ثانیہ جب میں نے تمہاری بات نہیں مالی تو تم نے یہ ڈرامہ رچایا ہے”۔
مجھے سخت افسوس ہوا “ڈرامہ”، نہیں میڈم پلیز آپ میرا یقین کریں میں ایک لفظ جھوٹ نہیں بول رہی ہوں۔ میری آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔
میڈم نفیسہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہیں۔ ٹھیک ہے میں جلد کوشش کروں گی کہ تم کو کوئی اور روم دے دیا جائے۔ جب تک تم اس کمرے میں رہو۔
“ہر گز” میں نے گھبرا کر کہا۔ میں ایک لمحے بھی وہاں نہیں رہوں گی۔ اس رات جو کچھ ہوا ۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔
وہ تمہاری آنکھوں کا دھوکہ تھا۔ لیلیٰ اس وقت میڈم نفیسہ کے آفس میں داخل ہوئی۔
لیلیٰ کو دیکھ کر چند لمحے کے لیے میری جان نکل گئی۔
مگر اس وقت وہ بالکل نارمل ہمیشہ والی لیلیٰ لگ رہی تھی۔
اصل میں میں بیمار ہوں ، اس نے شرمندگی سے سرجھکایا۔
“مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ اس نے اتنے عرصے میں پہلی مرتبہ اپنے بارے میں زبان کھولی۔
“اصل میں ہمارے گھر کا ماحول بہت سخت ہے۔ اتنا کہ آپ لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہمارے یہاں محض معمولی شک پر قتل کردینا عام بات ہے۔
ہمارے ہاں عورتوں کو اتنا گھوٹ کر، دبا کر رکھا جاتا ہے کہ یہاں کی لڑکیاں ایک دن بھی وہاں نہ رہ سکیں۔ میں اپنے بابا کی واحد بیٹی ہوں وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اس لیے میں اس ہاسٹل میں آسکی ہوں۔ ورنہ تو ہمارے خاندان کی لڑکیوں نے تو اسکول تک کی شکل نہیں دیکھی ہے۔
لیلیٰ کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ میں اور میڈم نفیسہ جیسے منہ کھولے اس کی روداد سن رہے تھے۔
میں گاؤں میں جوائنٹ فیملی میں رہتی ہوں ، میں نے اپنے گھر میں عورتوں پر وہ مظالم ہوتے دیکھے ہیں کہ میں مرگی کی مریض بن گئی ہوں۔ کوئی شور کوئی حادثہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا مجھ پر دورہ پڑ جاتا ہے۔ میرے ہاتھ پیر مڑجاتے ہیں۔
“اوہ”میں نے ٹھنڈی سانس بھری، تو یہ بات بھی جس کو میں کہیں اور جوڑ رہی تھی”۔
“اگر تم کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی تو آئی ایم سوری”، لیلیٰ نے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔
میں نے میڈم نفیسہ کو الگ روم کے لیے منع کردیا اور لیلیٰ کے ساتھ ہی رہنے لگیل
مگر اس روز والے واقع کے بعد اتنا ضرو ر ہوا کہ لیلیٰ مجھ سے تھوڑی تھوڑی باتیں کرنے لگی، کبھی وہ مجھے اپنے خاندان کے مردوں کی بھ رحمی کے واقعات سناتی تو اس کے چہرے پر نفرت جھلکنے لگتی۔
میرے خاندان کے مردوں کے لیے قتل کرنا، خون بہانا معمولی بات ہے۔
یہ سب سن کر تو میرے جسم سے جان ہی نکل جاتی۔ میں ویسے ہی بہت ڈرپوک واقع ہوئی ہوں۔
“بس جلدی سے یہ وقت گزرے ۔ میں امتحان پاس کروں اپنے گھر جاؤں”۔
“بہت دن ہوگئے گھر گئے”
مگر امتحان پاس ہوں تو کیسے؟
پڑھائی تھی کہ مشکل تر ہوتی جارہی تھی۔
دوسرے دن بھی میرا ایک اہم ٹیسٹ تھا۔
میں کتابیں لے کر بیٹھ گئی۔
“لائٹ آف کردو”لیلیٰ کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔
“افوہ”میں نے کوفت محسوس کی۔
“یہ کیا”میرا ٹیبل لیمپ نہیں جلا شاید اس کا بلب فیوز ہوگیا ۔
“لیلیٰ پلیز تم آنکھوں پر تکیہ رکھ لو”میں نے التجاء کی۔
“میرا لیمپ آن نہیں ہورہا ہے”
“تمہیں پتا ہے میں جلتی لائٹ میں نہیں سوسکتی۔ لیلیٰ نے غرّا کر کہا”
“go to hell”میں نیکتاب میں سے نظر ہٹائے بغیر سوچا۔
“کوشش کرو لیلیٰ پلیز”
“اوہ۔۔۔۔۔۔اس کے حلق سے جیسے کسی جانور کی آواز برآمد ہوئی”
اور یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا دل حلق میں آگیا۔
لیلیٰ اپنے بیڈ پر بیٹھی مجھے خونی نگاہوں سے گھور رہی تھی۔
اس کی آنکھیں۔۔۔۔اس کی نہیں تھیں۔
ان میں کوئی اور تھا۔
چند لمحے مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے کے بعد اس نے ہاتھ بڑھایا۔
اس کے ہاتھ بڑھتے بڑھتے ۔ وہیں بیٹھے بیٹھے اس کا ہاتھ لمبا ہوتا گیا۔
یہاں تک کہ سوئچ بورڈ تک پہنچ گیا۔ اور اس نے لائٹ آف کردی۔