بھیڑیا

وہ بلکل میرے قریب سے گزر گئی۔
میرے تمام جسم میں سنسنی پھیل گئی۔
ویسے تو اس کا بے حد حَسین چہرہ ، اس کی بے حد خوبصورت (مگرسرد) نیلی آنکھیں اس کا پورا سراپا کسی کو بھی ٹھٹھکا سکتا تھا۔
مگر میرے رونگٹھے کھڑے ہونے کی وجہ صرف اسکا سراپا ہی نہیں بلکہ اس کے گلے میں پہنا ہوا بے حدوبیش قیمت ڈائمنڈ کا لاکٹ تھا۔زیور کو پہچاننے میں مجھے کبھی دِقت نہیں ہوتی میں ایک نظر میں ہی اس کی مالیت کو جانچ لیتا ہوں کوئی بڑے سے بڑا جوہری بھی اس معاملے میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
اور وہ تو لگتا تھا پورے زیورات کی دکان کی مالک ہے۔
جب بھی رُکتی تھی کوئی نہ کوئی شاہکار پہنے ہوتی تھی۔
مگر وہ کون؟ ٹہرےئے میں آپ کو شروع سے بتاتا ہوں۔
میرا نام رونی ہے۔ اب آپ کہیں گے یہ کیا نام ہوا؟
اصل میں میرا پورا نام رونالڈو ہے۔ جس کو میرے دوستوں اور میرے پیشے نے رونی کردیا ہے۔
اس ٹاؤن میں مجھے آئے ہوئے چند ماہ ہوئے ہیں۔
یہاں آنے کی وجہ؟ جی ہاں میرا پیشہ۔ میرا روزگار ۔ وہ کیا ہے؟ چلیں آگے چلیں۔
ہاں میں زکر کر رہا تھا اس خاموش مزاج حسینہ کاجس کو لوگ مسز پارکر کہتے ہیں۔ وہ ایک انتہائی خوبصورت مگر بے حد اولڈ فیشن عورت ہے۔اس کے شوہر کو مرے ہوئے عرصہ ہو گیا ہے ۔ شاید اس لئے وہ بلکل خاموش ہوگئی ہے۔
وہ مجھے اکشر ٹاؤن میں گروسری شاپ سے نکلتے ہوئے دِکھتی کبھی کبھی اس کے ساتھ اس کی کم عمر بیٹی بھی ہوتی تھی۔
دونوں ماں بیٹیاں بلا کی حَسین اور بلا کی بد لباس تھیں۔
انتہائی بے رنگ لمبے پُرانے فیشن کے گاؤن میں اپنے آپ کو ڈھانپے…. کبھی کبھی شاید موڈبدلنے کو ایک ھیٹ بھی پہنے ہوئے ہوتے تھیں۔ہاں مگر زیورات ۔اُف۔
…Antiqueیہ دیکھئے پھر میرے تمام جسم میں لہر دوڑ گئی۔ انتہائی بیش قیمت اور
یہ واحد شوق تھا جو بے چاری اپنے شوہر کی موت کے بعد بھی اپنائے ہوے تھی ورنہ تو میں نے کبھی اس کے چہرے پر ہلکا سا میک اَپ بھی نہیں دیکھاتھا۔
وہ زیادہ کہیں آتی جاتی تھی۔ نہ ہی اس کے گھر میں نے کسی کو آتے جاتے دیکھا تھا۔ یعنی میرے لئے ایک ’’آئیڈیل سچویشن ‘‘ ’’آپ نہیں سمجھے؟ ‘‘ خیر آگے چلتے ہیں۔
ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ اس ٹاؤن میں مجھےآئے ہوئے چند ماہ ہوئے ہیں ۔میں تلاش روزگار میں آیا ہوں۔ ایک امیدبندھی ہے مسز پارکر کی صورت میں۔ اور بس موقع کا  انتظار ہے۔
میں کیا کرتا ہوں۔ چلیں بتا ہی دیتا ہوں آپ مجھے چور، ڈاکو ، لُٹیرا اور ہاں اگر ضرورت پڑ جائے تو قاتل بھی کہہ سکتے ہیں ویسے خون خرابہ مجھے پسند نہں لیکن اگر ضرورت پڑ جائے تو میں ایک ’’بھیڑیا‘‘ثابت ہو جاتا ہوں۔
آج کئی ماہ کے انتظار کے بعد ایک آئیڈیل سچویشن میرے حساب سے پیدا ہوگئی تھی۔
سخت سردی اور پھر صبح سے ہونے والی بارش تمام ٹاؤن کے لوگ شام سے اپنے اپنے گھروں میں بند تھے گلیوں میں تاریکی اور خاموشی تھی۔
میں نے اپنی
Rain Jacket
کے اندر ریوالور کو محسوس کیا۔
اپنے چہرے کو مفلر سے لپیٹا اور آہستہ سے گھر سے باہر نکل آیا۔
میرے توقع کے عین مطابق راستہ بالکل سنسان تھا۔
مسز پارکر کے بیش قیمت زیورات ’’اُف میرے منہ میں پانی بھر آیا۔ کم از کم ایک سال تو ٹھاٹھ سے گزر جاتا۔
پھر کوئی نئی جگہ، نیا شکار اسی طرح سے ہوتاآ رہا تھا۔
میں نے مسز پارکر کے عالیشان مگر بے حد پُرانے طرز کے بنگلے کے دروازے پر دستک دی۔ تیز بارش سے شاید ڈور بیل خراب ہوگئی تھی۔
میری توقع کے خلاف اس نے فوراََ دروازہ کھول دیا۔
وہ دراصل‘‘ میں نے کھنکھارکر کہا۔ میرا فون بارش میں ڈیڈ ہوگیا ہے۔ مجھے ایک ارجنٹ فون کال کرنی ہے کیا میں آپ کا فون استعمال کر سکتا ہوں؟
وہ چند لمحے مجھے اپنی سرد آنکھوں سے گھورتی رہی پھر جیسے کسی فیصلے پر پہنچ گئی ۔’’ٹھیک ہے اندر آ جاؤ‘‘۔
میں نے ایک بار پھر اپنی جیکٹ میں رکھے ریوالور کو کو محسوس کیا۔ 
سیدھے چلے جاؤ
۔
کوریڈور کے
End
میں فون موجود ہے
۔
میں نے اپنے عقب میں دروازہ بند ہونے کی آواز سُنی۔
مسز پارکر دروازہ بند کر کے مُڑی اور ۔اور۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اس کی سرد آنکھیں خاموش نہیں تھیں۔
ان میں کسی بدروح کی وحشت تھی۔ اُس کے باریک لبوں پر ایک شیطانی ،مکروہ مسکراہٹ ناچ رہی تھی۔
”Morning News”
ٹاؤن سے چند میلوں کے فاصلے پر کھیتوں میں ایک نوجوان کی کٹی پھٹی لاش ملی ہے لاش کے تمام جسم پر بھیڑیے کے ناخن کے نِشان ہیں۔ یہ چند مہینوں میں رونُما ہونے والا تیسرا واقعہ ہے۔ نوجوان کو رونالڈو نامی چور کے حیثیت سے شناخت کر لیا گیا ہے۔ تا ہم موت کی وجہ سامنے نہیں آئی ہے کیوں کہ اس علاقے میں بھیڑیے نہیں پائے جاتے ہیں۔

Leave a Reply