یہ وعدہ رہا

Urdu Hindi Horror Story: Yeh Wada Raha

خواب دیکھنا کتنا آسان ہوتا ہے ۔ بلکل مفت میں ۔ ۔ آپ جسے چاہو ،جس روپ میں چاہو ،اپنا مہمان بنا لو ۔urdu-hindi-horror-story-yeh-wada-raha
۔ کیا خوب کہا ہے کسی نے

“اسے جب بھی سوچا بلا لیا”

ہر انسان نے کبھی نہ کبھی ،کوئی نہ کوئی خواب تو ضرور دیکھا ہو گا ۔ کسی سلطنت کا نہ سہی مگر اپنے خوابوں کی دنیا
میں ہر کوئی بادشاہ یا ملکہ ہوتا ہے ۔ طالبعلمی کا زمانہ ہو تو پہلی پوزیشن لانے کے خواب کون نہیں دیکھتا؟پڑھائی مکمل
ہو جائے تو خوابوں ،خیالوں میں خود کوبہترین آفس میں باس کی کرسی پر بیٹھا ہوا اور سب پر حکم چلاتا ہوا دیکھتے ہیں ۔ اور کچھ نہیں تو لڑکے اور لڑکیاں اپنے پسندیدہ چہروں کو اپنے دولہا اور دلہن کے روپ میں ہر روز ہی خواب میں دیکھتے ہیں ۔ (اکثر یہ چہرے کچھ عرصے بعد دل بھر جانے یا پھر مختلف وجوہات کی بنا پر بدل بھی جایا کرتے ہیں )خیر ۔ ۔ خواب دیکھنا آسان سہی مگر ان کو حقیقت کا روپ دینے کے محنت کرنی پڑتی ہے ۔ ۔ کڑی محنت ۔


’’ مسٹر ناصر جمال!آپ کے ناولوں کے ترجمے کئی زبانوں میں کئے جاتے ہیں اوردنیا بھر میں بہت زیادہ پسند کیے جاتے ہیں ۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق آپ کا شمار چند بہترین

horror and mystery writers

میں ہوتا ہے ۔ آپ کو اردو زبان کا

Stephen King

کہا جانے لگا ہے ۔ آپ کے ناول لاکھوں کی تعداد میں شاءع ہوتے ہیں اور لوگ

first copy

کے لئے پاگل ہو رہے ہوتے ہیں ۔ جن میں سے ایک میں بھی ہوں ۔ ۔ اتنی مقبولیت ،کامیابی ،شہرت ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی ۔ کیسا محسوس کرتے ہیں آپ؟

میرے سامنے بیٹھی کم عمر ،خوبصورت سی لڑکی کسی میگزین کے لئے میرا انٹرویو کر رہی تھی ۔ بقول اس کے وہ خود بھی میری بہت بڑی فین تھی اور میرے ناول بڑے شوق سے پڑھتی آئی تھا ۔ اس لئے وہ سوال کم اور میری تعریف زیادہ کر رہی تھی ۔

تعریف ۔ ۔ الفاظ نہیں وہ شہد تھا ۔ ۔ نشہ تھا جو خون بن کر میری رگوں میں اتر رہا تھا ۔ ۔ میں خود کو اپنے آفس میں نہیں آسمان پر اڑتا محسوس کر رہا تھا ۔ ۔ یہ سب تو چاہا تھا میں نے ۔ ۔ اس کی تو تمنا کی تھی ۔ ۔ تعریف میری کمزوری تھی ۔ ۔ دولت ،شہرت ،مقبولیت میں ان الفاظ کا غلام تھا ۔ آج یہ سب مجھے حاصل تھا ۔ مگر ۔ ۔ کچھ حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ ۔ بلکل بھی نہیں ہوتا ۔

دیکھیں مس ۔ ۔  ’’میں نے اس لڑکی پر نظر ڈالی‘‘ ۔

نتاشا ۔ ۔  “اس نے جلدی سے کہا” ۔

ہاں تو مس نتاشا! مجھے اچھا لگتا ہے یہ سب ۔ ظاہر ہے میں لکھتا ہوں وہ پڑھا جاتا ہے اور پسند کیا جاتا ہے ۔ دراصل لکھنا میری رگوں میں ہے ۔ مجھے لکھ کر سکون ملتا ہے ۔ اگر میرے لکھے ہوئے الفاظ کو لوگ سراہتے ہیں تو یہ میری خوش قسمتی ہے ۔ اس سے زیادہ میں کیا کہ سکتا ہوں ۔

سر آپ بہت ڈاءون ٹو ارتھ ہیں ۔ اب ایک آخری سوال ۔ ۔ آپ نے ہمیشہ صرف پراسرار کہانیاں ہی لکھی ہیں ۔ “کبھی رومانس لکھنے کے بارے میں نہیں سوچا”؟نتاشا نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔

اب یہ تو محسوس کرنے کی بات ہے “۔ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔”

 مجھے تو پراسرار چیزیں بڑی ہی حسین اور رومانٹک لگتی ہیں ۔ ۔ جیسے ۔ گہرے تاریک سمندر ۔ اندھے کنویں ،غیر”

دریافت ستارے اور جیسے اہرام مصر ۔ ۔ ‘‘ میں جیسے کہیں کھوسا گیا” ۔

اف سر ! آپ تو باتیں بھی بڑی خوفناک کرتے ہیں ،مجھے تو ڈر لگنے لگا ہے” ۔  نتاشا نے جھر جھری لی ۔”

نتاشامجھ سے اجازت لے کر چلی گئی ۔ ۔ میں کچھ دیر شادمانی کے عالم میں اپنی کرسی پر گھومتے ہوئے لطف لیتا رہا پھر شیشے کی دیوار سے نیچے جھانکنے لگا ۔ ۔ بارہویں فلور سے نیچے ۔ ۔ دنیا کے لوگ کتنے چھوٹے لگ رہے تھے ۔ کمزور ۔ ۔ بونے ۔ میرا بس چلتا تو میں سوویں فلور پر رہا کرتا ۔ خیر کبھی نہ کبھی ضرور ۔ ۔

تھوڑی دیر نیچے کی دنیا کا جائزہ لینے کے بعد میں دیوار پر لگے قدِآدم آئینے کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ۔

ہاں تو مسٹر ناصر جمال !کیسا لگتا ہے یہ سب کچھ؟یہ شاندار آفس،لمبی چمکتی کار،بڑا سا گھر ۔ ۔  میں اپنے”

عکس سے مخاطب تھا” ۔

گرے ٹو پیس سوٹ میں ملبوس اپنا سراپا مجھے حسبِ معمول بڑا شاندار معلوم ہو رہا تھا ۔ میری آنکھیں میرے سوٹ کے ہم رنگ لگ رہی تھیں ۔

اف ۔ ۔ کتنا کامیاب ہوں میں آج “۔ ۔  میں مسکرانے لگا ۔”

اچانک ۔ ۔ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ہونے والی وجہ ۔ ۔ میرے پیچھے نمودار ہو گئی ۔

اف “۔ ۔ میری مسکراہٹ غائب ہو گئی ۔ ۔ اب وہ مسکرا رہی تھی ۔”

ڈر گئے”؟اس نے کہا ۔”

ظاہر ہے ۔ ۔ “میرے منہ میں کڑواہٹ گھل گئی” ۔

آئینہ سامنے ہی ہے،نظر ڈال لو ۔ تم خود بھی ڈر جاءو گی” ۔”

مگر وہ آئینہ دیکھنے کے بجائے میری ریوالونگ چیئر پر جا کر بیٹھ چکی تھی ۔

دنیا کا اتنا بڑا ہارر اسٹوری راءٹر ،جس کی کہانیاں لوگ رات میں نہیں پڑھتے اتنا ڈرپوک ہے ۔ کمال ہے ۔” ۔”

وہ مذاق اڑا رہی تھی” ۔

کمال تو جناب کے حسن کا ہے” ۔ میں چڑ گیا ۔”

یہ بھی آپ کی ذرہ نوازی ہے” ۔ وہ آج تک بڑی ہی ڈھیٹ تھی ۔”

 آپ کی بے وقت آمد کی وجہ جان سکتا ہوں “؟ میں تو آج تمہیں نہیں بلایا تھا ۔ “

ارے میں تو بہت دیر سے ادھر موجود تھی ۔ ۔ جب آپ کی فین آپ کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر رہی تھی ۔ اور آپ اپنے انوکھے آئیڈیاز کا پورا کریڈٹ خود لے رہے تھے ۔ ہونہہ ۔ ۔ “لکھنا میری رگوں میں ہے” ۔ ۔ “جھوٹے” ۔ ۔ ‘‘وہ بڑی تلخی سے چبا چبا کر بول رہی تھی ۔

تو اور کیا کہتا”؟ کیا سچ سچ بتا دیتا کہ یہ انوکھے واقعات ،یہ آئیڈیاز میرے نہیں ہوتے ۔ ۔ یہ کوئی اور مجھے لکھواتا”

ہے ۔ ۔ “ایک بدروح” ۔ ۔ 

وہ جواب دینے کے بجائے مجھے گھورتی رہی ۔

کم بخت ۔ ۔ وقت گذرنے کے ساتھ مزید بد شکل ہوتی جا رہی تھی ۔

تمہاری اس ساری کامیابی کے پیچھے میں ہوں ۔ تم خود تو جانتے ہو نہ “۔ ۔ ؟ وہ پھنکار کر بولی ۔”

اف ۔ ۔ ‘‘ مجھ سے تو اس کی طرف دیکھا بھی نہیں جاتاتھا” ۔ ۔”

اس نے میری کراہت محسوس کر لی ۔ وہ چند لمحے مجھے گھورتی رہی ۔ ۔ اور پھر ۔ ۔ اچانک ۔ ۔ غائب ہو گئی ۔


 سر آپ صرف پراسرار کہانیاں لکھتے ہیں ۔ کبھی رومانس نہیں لکھا”؟”

اس لڑکی کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔ ۔

۔ ۔ ہونہہ ۔ ۔ رومانس ۔ پیار ،محبت،عاشقی ۔ ۔ مائے فٹ ۔ فرصت کے مشغلے ۔ بھرے پیٹ کی باتیں ہیں سب ۔ ۔ چند دنوں کا کھیل پھر سب ختم ۔ کیا ہوتا ہے عشق؟ ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں ۔ صرف یہ بات ہوتی ہے ۔

کتنے شدید عشق شادی کے چند سالوں بعد با قائدہ نفرت میں بدلتے دیکھے ہیں ۔ کیا ہوتی ہے محبت؟وقتی جذبہ ۔ ۔

سب سے بڑی حقیقت صرف دو وقت کی روٹی ہے ۔ سخت بھوک،کڑی دھوپ،خالی جیب ۔ ۔ ان شعاعوں کے آگے ہر حسین چہرہ موم کی طرح پگھلا ہوالگنے لگتا ہے ۔ پیار دیوانہ صرف بھری ہوئی جیب،پر سکون گھر اور آرام دہ بستر والوں کا ہوتا ہے ۔ اینٹیں ڈھونے،پتھر کوٹنے اور بوریاں اٹھانے والے تو اس لفظ سے بھی نا آشنا ہوتے ہیں ۔ کیوں ؟ دل تو ہر انسانی جسم میں موجود ہوتا ہے نا ۔ ۔ ۔


میرے ابو میرے بچپن میں گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ کچھ دھندلی دھندلی،مٹی مٹی سی یادیں میرے ذہن میں موجود ہیں ۔

امی اور ابو میں کبھی بھی نہیں بنی تھی ۔ اور ان دنوں تو ان کی تقریباًہر روز لڑائی ہوا کرتی تھی ۔

یہ نرمل ہمارے گھر کیوں آتا ہے؟آخر اس سے تمہارا کیا تعلق ہے؟‘‘ابو کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا ۔”

وہ میرا چاچا بنا ہوا ہے “۔ امی نے انتہائی کمزور جواز دیا تھا ۔”

ہونہہ ۔ ۔ چاچا ۔ ۔ ایسی کیا آفت آئی ہے کہ تم نے ایک دوسرے مذہب کے غیر انسان کو اپنا چاچا بنا لیا ہے”

۔ ابو چڑ گئے “۔

 میں خوب سمجھتا ہوں ،اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم کن چکروں میں پڑی ہوئی ہو ۔ گناہ ہے یہ سب بلکہ گناہِ”

کبیرہہے” ۔ “جادہ سیکھنا ،کرنا اور کروانا انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے” ۔ ابو ان کو روز سمجھاتے تھے ۔

اگر گھر میں چار پیسے آ رہے ہیں تو تم کو کیا اعتراض ہے”؟ امی بحث کرنے لگتی تھیں ۔”

ابو ان کو سمجھا سمجھا کر شاید اتنا زیادہ تھک گئے تھے کہ اپنا دامن اور عاقبت بچا کر امی کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ ہاں انہوں نے بہت کوشش کی کہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں ۔ مگر امی ڈٹ کر کھڑی ہو گئیں ۔

ناصر ابھی بہت چھوٹا ہے ۔ دنیا کا کوئی قانون اس کو مجھ سے نہیں چھین سکتا ۔ (مذہب کی نہ سہی امی کو دنیاوی معاملات کی پوری آگاہی تھی)

ابو نے وارننگ دی تھی کہ وہ مجھے قانونی طور پر حاصل کر کہ رہیں گے مگر ان کی زندگی نے وفا نہیں کی اور ایک حادثے میں ان کی وفات ہو گئی ۔

نرمل چاچا”پھر کھلے عام ہمارے گھر میں دندنانے لگے ۔ اور امی ان سے کالے علم سیکھنے لگیں ۔ نہ جانے”

کہاں کہاں سے کمزور عقیدے رکھنے والی عورتیں سرِشام ہمارے گھر کے برامدے میں جمع ہو جاتیں ( جس کو امی نے اپنا آستانہ بنا لیا تھا) ۔

ان عورتوں کے بے شمار گمبھیر مسائل جیسا کہ ساس کی موت کروانی،بھابھی کو بھیانک بیماری میں مبتلا کروانا،نند کی منگنی تڑوانے اور دیورانی یا پڑوسن کی طلاق کروانے سے متعلق ہوا کرتے تھے ۔ امی کے عمل سے شاید پورے ہو ہی جاتے تھے جبھی عورتوں کی تعداد میں دن دونی اور رات چو گنی ترقی ہونے لگی ۔ اور ہمارا گھر چلنے لگا بلکہ دوڑنے لگا ۔

امی رات کو دیر تک اپنے ’’عملیات ‘‘ میں مصروف رہتی تھیں ۔ ظاہر ہے صبح دیر سے اٹھتی تھیں ۔ پھر شام سے عورتوں کا تانتا بندھ جاتا تھا ۔ ایسے میں ان کے پاس گھر کے کام کاج کرنے یا مجھ پر دھیان دینے کا بلکل بھی وقت نہیں تھا ۔

میں ان دنوں بڑا ہو رہا تھا ۔ میرے اطوار ہمیشہ سے ہی نرالے تھے ۔ ۔ نہ جانے کیوں ۔ مجھ میں ایک عجیب سی بے رحمی تھی ۔ ۔ بچپن سے مجھے لوگوں کو ،جانوروں کو ستا کر ،اذیت دے کر عجیب سا لطف آتا تھا ۔ ۔ میں غلیل سے معصوم پرندوں کو نشانہ بناتا اور جب وہ تڑپ کر زمین پر گرتے تو بس ۔ ۔ اف ۔ ۔ میں سرشار ہو جاتا ۔ میں اسکول تو جاتا تھا مگر مجال ہے جو پڑھائی لکھائی میں مجھے ذرہ بھر بھی دلچسپی ہو ۔ ۔

اسکول سے واپس آتے ہی میں گھر سے نکل جاتا ۔ ۔ اور ساری دوپہر جانے کہاں کہاں آوارہ گردی کرتا ۔ ۔ لمبی لمبی گرم دوپہریں مجھے بہت پسند تھیں ۔ ویران راستے ،درختوں کے دور تک خالی جھنڈ مجھے اپنی طرف باقائدہ کھینچا کرتے تھے ۔ نہ جانے میری روح کیا مانگتی تھی ۔ ۔ مجھے کس چیز کی طلب تھی ۔ ۔

ایسے ہی ایک دن وہ ہمیشہ کے لئے آ ٹپکی ۔ ۔ کون ۔ ۔ شعاع ۔ ۔ میری خالہ کی اکلوتی بیٹی ۔ ۔ فلموں کی طرح اس کے والدین ایک حادثے میں چل بسے اور وہ میرے سر پر آ کر سوار ہو گئی ۔

شعاع نے آکر پورے گھر کی ذمہ داری سنبھال لی ۔ اور گھر کا کام کرتے کرتے جانے کب مجھ سے محبت بھی کرنے لگی ۔ میرے کپڑے دھونا ،استری کرنا ،ناشتے کھانے کا دھیان کرنا سب اس نے بہ خوشی کرنا شروع کر دیا تھا ۔ مگر وہ مجھے پہلے دن سے زہر لگتی تھی ۔ ۔ میں اس سے جان چھڑاتا تھا ۔

ایسے ہی چند برس اور بیت گئے ۔ اور پھر ایک دن ۔ ۔ امی اچانک دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔ ۔ وہ آدھی رات کو چھت پر اپنے عمل کرنے میں مصروف تھیں ۔ شاید اندھیرے کی وجہ سے ان کا پاءوں پھسل گیا اور وہ چھت سے نیچے گر گئیں ۔ ۔ چھت اتنی اونچی بلکل بھی نہیں تھی شاید وہ بچ جاتیں مگر وہ بجلی کے تاروں میں پھنس گئیں اور کرنٹ لگنے سے ان کی موت واقع ہو گئی ۔ ان کی موت کا منظر بہت دل دہلا دینے والا تھا ۔ عین ایسا جیسا کسی کالے جادو کرنے والے کا ہو سکتا ہے مگر کون عبرت حاصل کر کے گناہ کرنا چھوڑ دیتا ہے؟

ہوں ۔ ۔ شاید ہزاروں میں سے کوئی ایک ۔ ۔


قدرت نے ۔ ۔

مذہب نے زندگی گذارنے کا طریقہ

define

کر دیا ہے ۔ بلکل سادہ ۔ ۔ دو راستے ہیں ۔ ایک سیدھا تو ایک الٹا ۔ ۔ دو رنگ ہیں ایک سیاہ ایک سفید ۔ ہر چیز کے دو پہلو ہیں ۔ غلط اور صحیح ۔ ۔

اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کس راستے پر چلتا ہے ۔ ۔ ہاں ایک بات تو ہے الٹا راستہ آسان ہے اور سیدھا مشکل یا شاید مشکل لگتا ہے ۔

زندگی میں آرام ،آسائش کون نہیں چاہتا؟تقریباًسب ۔ ۔ مگر کچھ حاصل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔ جو محنت سے جان چراتے ہیں وہ الٹے راستے کی طرف چل پڑتے ہیں ۔ ۔ شارٹ کٹ اختیا ر کرتے ہیں ۔ ۔ مگر الٹا راستہ بھی اتنا آسان نہیں ہے ۔ ۔ اس پر شیطان کے قدم ہوتے ہیں اس راستے پر آگے بڑھنے کے لئے شیطان کا تعاقب کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے پیچھے پیچھے دوڑنا پڑتا ہے ۔ ۔ جیسا کہ امی نے کیا ۔ ۔ اور پھرجیسا میں نے کیا ۔ ۔


مجھے امی کے دنیا سے چلے جانے کا بہت صدمہ ہوا تھا ۔ بے حد ۔ ابو کے جانے کے وقت تو میں بہت چھوٹا تھا اور پھر امی میرے ساتھ تھیں مگر امی تو درحقیقت مجھے اکیلا کر کے چلی گئی تھیں ۔ ۔ وہ جیسی بھی تھیں ظاہر ہے میری ماں تھیں ۔

دکھ تو شعاع کو بھی ہوا ہو گا مگر وہ اپنا غم چھپا کر میرا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھنے لگی تھی ۔ مگر سچی بات ہے مجھے پہلے سے زیادہ بری لگنے لگی تھی ۔ اگر اس نے پورے گھر کا بوجھ نہ اٹھا رکھا ہوتا تو شاید میں اسے دھکے دے کر گھر سے نکال دیتا ۔ ۔

ابھی امی کے انتقال کو چند ہفتے ہی گذرے تھے کہ ایک شام کو نرمل چاچا مجھ سے ملنے چلا آیا ۔

وہ بڑا ہی مکروہ صورت ،ادھیڑ عمر کا انسان تھا ۔ بہت گندہ اور غلیظ ۔ ۔

اف چاچا ۔ ۔ کیا نہاتے نہیں ہو”؟ میں نے ناگواری سے پوچھا ۔”

اس کے کمرے میں داخل ہو نے سے پہلے ہی تیز بو کا جھونکا اندر محسوس ہواتھا ۔

ارے واہ شہزادے!تو تو بڑا ہی نک چڑھا ہے “۔ ۔ چاچا نے برا مان کر کہا ۔”

 میں تو تیری ماں کا افسوس کرنے آیا تھا” ۔”

کر لیا افسوس؟ اب جاءو “۔ ۔ وہ مجھ سے بلکل برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔”

ارے ارے “۔ ۔وہ مجھ سے اتنی بدتمیزی شاید”

expectنہیں کر رہا تھا ۔

 میں تو تجھے ایک امانت دینا چاہتا تھا” ۔ ۔”

اچھا “۔ ۔ مجھے پہلی مرتبہ دلچسپی محسوس ہوئی ۔”

کیا ہے”؟”

شاید امی نے کچھ رقم یا زیور اس کے پاس رکھوایا ہو” ۔ میں نے سوچا”

یہ بتا اپنی ماں کی گدّی سنبھالے گا”؟”

کیا سنبھالے گا”؟ میں حیران ہوا”

بیٹا جی !اتنا ننھا تو اب تو نہیں ہے ۔ تجھے کچھ تو معلوم ہو گا نہ تیری ماں کیا کا م کرتی تھی ۔ تو کچھ کرتا کراتا تو”

ہے نہیں روٹی کہاں سے کھائے گا”؟

یہ بھیانک سوال تو میرے ذہن میں بھی کئی مرتبہ سر اٹھا چکا تھا ۔

مگر مجھے تو کوئی عمل نہیں آتا ۔ ۔ میں کیسے۔ ۔ ؟”

ہوں ۔ ۔ ایسے نہ بول ۔ ۔ میں کس لئے ہوں ؟ میں سکھاءوں گا تجھے “۔ ۔”


میں بیس سال کا تھا جب میں نے نرمل سے کالے علم سیکھنا شروع کئے تھے ۔

کتنی عمر ہو گی میرے شیر کی”؟نرمل نے مجھ پر آنکھیں جما کر پوچھا تھا ۔”

اگلے مہینے میں پورے بیس سال کا ہو جاءوں گا” ۔ ۔”

ٹھیک ہے “۔ ۔ نرمل کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں ۔ ۔”

بیس سال کی عمر ہی چاہئے مجھے ایک بلکل جوان خون ہی ان کٹھنائیوں کو جھیل سکتا ہے “۔”

کیا مطلب “؟ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔”

مگر مطلب مجھ کو جلد ہی سمجھ آ گیا ۔

نرمل مجھے جادو سکھانے لگا تھا ۔ باقائدہ جادو ۔ ۔ کالا بلکہ کالا سیاہ جادو ۔ ۔

تیری ماں تو عورت تھی ۔ کمزور اور پھر اس کی عمر زیادہ ہو گئی تھی ۔ اس نے تو بڑی مشکل سے صرف چند منتر”

ہی سیکھے تھے ۔ اس لئے صرف کنارے پر بھیگتی رہی ۔ تجھے تو بیٹا اس دریا کے پار اترنا ہے” ۔ نرمل کو مجھ سے بڑی امیدیں تھیں ۔

اور درحقیقت مجھے دانتوں پسینہ آ گیا تھا ۔

کیا کیا نہیں کرنا پڑتا تھا ۔ ۔ سنسان جنگلوں میں ،اندھیری راتوں میں ،طوفانی بارشوں میں کھلے آسمان تلے کتنے چِلّے کاٹے تھے میں نے ۔ ۔

گندگی ،نجاست ،نہ جانے کیا کیا اور کس کس طرح استعمال کیا تھا ۔ ۔ سیاہ لباس پہن کر،بھڑکتی آگ کے آگے منتر پڑھ پڑھ کر شیطانوں کو آوازیں لگائیں تھیں ۔ ۔ اف ۔ ۔

اگر میرے اندر شیطانی جراثیم بچپن سے پرورش نہ پا رہے ہوتے تو شاید میں چند دنوں میں ہی بھاگ نکلتا ۔

مگر میں تو خود ان ہی راستوں کا مسافر تھا ۔ ۔ مجھے صرف تھوڑا بہت خوف محسوس ہوا تھا ۔ ۔ پھر میری روح شانت ہونے لگی تھی ۔ ۔ دنیا میں موجود بے شمار بھٹکتی بد روحوں نے مجھ میں موجود خراب روح کو پہچان لیا ۔ اور میں آگے بڑھنے لگا ۔ ۔

نرمل ایک بڑا اچھا استاد تھا ۔ ۔ اوراس کے پاس بے شمار ایسی کتابیں موجود تھیں جن میں کالی شکتیاں حاصل کرنے کے بے شمار طریقے سکھائے گئے تھے ۔ ہاں ۔ ۔ وہ طریقے بہت مشکل تھے ۔ ۔ تقریباً نا ممکن ۔ ۔

میں نے کافی سارا جادو سیکھ لیا تھا ۔ اور اپنی امی کی سیٹ سنبھال لی تھی ۔ اب عورتیں بلا جھجھک مجھ سے اپنے جادو ٹونے کروانے لگی تھیں ۔

اور ’’بیٹا باپ سے بھی گورا‘‘ کے مصداق میرے عمل سے زیادہ اثر ہوتا تھا ۔ مگر مجھے مزہ نہیں آ رہا تھا ۔

یہ کیا ۔ ۔ ؟بھلا اتنی محنت کرنا ۔ ۔ رات بھر جاگ کر جادو ٹونا کرنا اور بس چند روپے ۔ ۔

میرا گھر جس جگہ تھا وہاں کی عورتیں بس چند سو روپے دے کر اپنے مشکل کام کروانا چاہتی تھیں ۔ اور آدھی رقم مجھے حسبِ وعدہ نرمل کو دینی ہوتی تھی ۔

نہیں چاچا “۔ ۔  میں نے ایک دن نرمل سے کہا ۔”

یہ میری منزل نہیں ہے ۔ ۔ اتنے مہینوں اتنا کشٹ اٹھا کہ بس یہ چند ہزار “۔ ۔ “

تو تو کیا چاہتا ہے” ۔ ؟نرمل نے پوچھا ۔”

 میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں چاچا ۔ ۔ میں ہواءوں میں اڑنا چاہتا ہوں ۔ میں لاکھوں بلکہ کروڑوں کمانا چاہتا ہوں”

۔ ایسا کرتے ہیں کسی بڑے شہر چلتے ہیں ۔ ۔ وہاں ہمارا بزنس زیادہ اچھا چلے گا” ۔ مجھے خیال آیا ۔

 بیٹا جی !بڑے دریاءوں میں بڑے بڑے مگر مچھ ہوتے ہیں ۔ بڑے شہر میں ایک چھوڑ دس نرمل اور بیس ناصر”

جمال موجود ہوں گے ۔ تو کیا سمجھتا ہے ۔ ۔ ۔ جادو ٹونا کرنے والے ہر گلی اور محلے میں موجود ہیں ۔نرمل کی بات سو فیصدسچ تھی” ۔

میں مایوس ہو گیا” ۔ ۔ ۔”


میں اپنے عملیات اور جادو ٹونے میں دن رات مشغول رہتا تھا ۔ شعاع کیا کرتی تھی ،کیا سوچتی تھی مجھے نہ تو علم تھا ہی کوئی دلچسپی ۔ کس جادو سے میرے کپڑے دھل کر استری ہو جاتے تھے ۔ ۔ کھانا ،ناشتہ ،تین وقت چائے عین ٹائم پر میرے سامنے حاضر ہو جاتی میں مجھے پتا نہیں چلتا تھا ۔ (جادوگر ہونے کے باوجود)

ظاہر ہے یہ گھر میں موجود واحد عورت کا کام تھا ۔ مگر اس واحد عورت کی اس گھر میں موجودگی محلے والوں کو کھٹکنے لگی تھی ۔

ہم دونوں صرف کزن تھے اور ہمارے علاوہ گھر میں کوئی تیسرا فرد موجود نہیں تھا ۔ اس نکتے پر لوگ اعتراض اٹھانے لگے تھے ۔ مجھے تو خیر ہر گز مسئلہ نہیں تھا ۔ لوگ جو بکواس کرتے تھے کریں ۔ مگر شعاع ایک دن گھبرا کر میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی ۔

اف “۔ ۔  میں نے سخت کوفت محسوس کی ۔”

کیا بات ہے”؟ “

ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ہم بہت کم بات کرتے تھے ۔ صرف ضرورت کی حد تک ۔

وہ ۔ ۔ ایک بہت ضروری بات ہے” ۔وہ کچھ گھبرائی اور شرمائی لگ رہی تھی ۔”

آج محلے کی کچھ عورتیں میرے پاس آئیں تھیں” ۔ ۔ “

تو پھر”؟”

وہ کہ رہی تھیں کہ ہم دونوں کا اس طرح ایک گھر میں ٹھیک نہیں ہے” ۔ ۔ “

تو تم نے ان کو بتایا نہیں کہ تمہارے والد صاحب کوئی جائداد تمہارے نام نہیں کر کے گئے ہیں ۔ جب”

ہمارے پاس ایک ہی گھر ہے تو اس میں ہی رہیں گے ۔ ہونہہ ۔ ۔ فضول کے اعتراضات” ۔ ۔ میں سخت چڑ گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ اگر میری اور آپ کی شادی” ۔ ۔ اس کو مجبوراً پوری بات بتانا پڑی ۔”

کیا” ۔ ۔ ؟”میرے دما غ کا فیوز اڑ گیا “۔ ۔”

“شادی اور تم سے “۔ ۔ “میں سوچ کر رہ گیا”

دیکھو نہ تو میرا ابھی شادی کا ارادہ ہے نہ ہی عمر” ۔ ۔  میں نے بڑی مشکل سے خود پر کنٹرول کیا تھا ۔”

 

لیکن میں جلد از جلد کوشش کروں گا کہ تمہاری کہیں شادی کروا دوں ۔ اب کوئی اعتراض کرے تو اس کو بتا”

 

دینا” ۔ 

شعاع کے منہ پر سایہ سا لہرا گیا ۔ وہ اداس نظروں سے مجھے تھوڑی دیر دیکھتی رہی پھر باہر چلی گئی ۔


اور پھر ایک دن ۔ ۔ نرمل میرے سامنے موجود تھا ۔

تو آگے بڑھنا چاہتا ہے نہ” ۔ ؟اس کے ہونٹوں پر مکروہ مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی ۔”

ہاں ہاں ۔ ۔ چاچا ۔ ۔ میں تو اڑنا چاہتا ہوں “۔ ۔  میں نے بے تابی سے کہا ۔”

اڑان بھرنے کے لئے پر درکار ہوتے ہیں ۔ ۔ بلندی پر بغیر کسی سیڑھی کے نہیں پہنچا جا سکتا ۔ ۔ تجھے بھی”

سیڑھی چاہئے ۔ ۔ ایسی سیڑھی جو کسی قبر کے اوپر بنائی جائے گی” ۔ ۔ ۔ 

اف چاچا!یہ کیا کہ رہے ہو تم”؟ میں تھوڑی دیر کو تھوڑا سا گھبرا گیا ۔”

وہی کہ رہا ہوں جو تو سن رہا ہے “۔ چاچا برا مان گیا ۔”

اور میں کون سا اپنے دل سے گھڑ رہا ہوں ۔ ۔ یہ دیکھ اس کتاب میں کیا لکھا ہے ۔ ۔ چاچا نے ایک قدیم ،بوسیدہ کتاب مجھے پکڑا دی ۔


قدرت کا نظام ہے ۔ ہزاروں لوگ روزآنہ جنم لیتے ہیں ۔ ۔ اور ہزاروں ہی مرجاتے ہیں ۔ ۔ ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا ۔ ۔ روحیں آسمان سے زمین اور زمین سے آسمان تک کا سفر طے کرتی رہیں گی ۔

مگر ان لاکھوں لوگوں میں سے کتنے لوگ کامیابی اور عروج دیکھ پاتے ہیں ؟بہت کم ۔ ۔ بہت کم لوگ من چاہی بلندی پر پہنچ پاتے ہیں ۔

تو پھر کیا ہوا ۔ ۔ کیا ہوا جو اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے کسی بے وقعت،بے مایہ ہستی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ ۔

ہونہہ ۔ ۔ اور کریں گے بھی کیا یہ لاوارث ،غریب لوگ دنیا میں زندہ رہ کر ؟ ۔ ۔ کیا کرنا ہوتا ہے انہوں نے جی کر ؟ کیا اچھا نہیں کہ ان کو اس سسکتی زندگی سے نجات دلا دی جائے؟ان کو مکتی اور شانتی مل جائے گی ۔ ۔ اور مجھے دولت ۔ ۔ بے حساب دولت ۔ ۔


میں اپنے لکھنے پڑھنے کا سارا کام رات میں کیا کرتا تھا ۔ رات کی میری زندگی میں بڑی اہمیت تھی ۔ ہمیشہ سے ہی ۔ ۔ میں نے کاغذ اور قلم اٹھا لیا ۔ میراکام صرف کاغذ اور قلم اٹھا نا ہی ہوتا تھا ۔ ۔ باقی سارا کام تو وہ کرتی تھی ۔ ۔ اور میرے قلم اٹھاتے ہی وہ آ گئی ۔ ۔ حسبِ معمول ۔ ۔ عین میرے سامنے آ کر بیٹھ گئی ۔

 اف توبہ “۔ ۔مرنے کے بعد تو اور ناقابلِ برداشت لگنے لگی تھی ۔”

کیا ہوا “۔ ؟‘‘ وہ مسکرائی ۔”

وہ میرے خیالوں سے اچھی طرح واقف تھی ۔ ۔ برسوں سے واقف تھی ۔

سوچ رہا تھاتم تو دن بدن نکھرتی جا رہی ہو” ۔ میں نے طنزکیا ۔”

تمہارے فن کی طرح” ۔ ۔ اس نے جوابی حملہ کیا”

میرے فن کو دنیا تسلیم کر چکی ہے” ۔  میں نے دراز سے ایک چیک نکال کر اس کے آگے لہرایا ۔”

پڑھو اس پر کتنی بڑی رقم لکھی ہوئی ہے ۔ ۔ یہ ایڈوانس ہے میرے نئے ناول کا” ۔ “

“ہونہہ ۔ ۔ تمہارے نئے ناول کا ۔ ۔ اگر میں تمہیں نہ لکھواءوں تو تم تو ایک لفظ لکھنے کے قابل بھی نہیں ہو “

تمہارا تو باپ بھی لکھوائے گا ۔ ۔ تم میرے تابع ہو” ۔ ۔  میں اس کا طنز برداشت نہیں کر پایا”

باپ تو ہر گز نہیں لکھوائے گا” ۔ ۔اس نے سرد آواز میں کہا ۔ وہ بری طرح غصے میں آ گئی تھی ۔”

مجھے اس کے غصے کی کوئی پرواہ نہیں تھی،کوئی خوف نہیں تھا ۔ وہ مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتی تھی ۔ وہ تھوڑی دیر مجھے گھورتی رہی ۔ ۔

پھر بولنے لگی اور میں لکھنے لگا ۔ ۔ تیزی سے ۔ ۔ بجلی کی اسپیڈ سے ۔ ۔ اس کی زبان چلنے لگی اور میرا ہاتھ ۔ ۔ تیزی سے صفحے پر صفحے بھرنے لگے اور چند گھنٹوں میں ہی ایک بے حد ڈراءونی،انوکھی کہانی میں نے مکمل لکھ لی ۔

مسٹر ناصر جمال ۔ ۔ کچھ یاد ہے ۔ ۔ انیس سال گذر چکے ہیں ۔ صرف چند مہینے باقی ہیں بیس سال پورے”

ہونے” میں اور میں آزاد ہو جاءوں گی ۔ ۔ اس نے جاتے ہوئے یاد دلایا “۔

اوہ” ۔ ۔  میں گھبرا سا گیا”

“یاد تو ہے ۔ ۔ مگر کیا تم سچ میں مجھے چھوڑ کر چلی جاءو گی؟”

تمہاری فلرٹ کی عادت نہیں گئی ۔ ۔ مگر میں اب ایک کم عمر لڑکی نہیں ایک برسوں پرانی بدروح ہوں ۔ ۔ مجھے”

تمہاری کسی بات پر یقین نہیں ہے “۔ ۔ 

چلو نہ کرو یقین ۔ ۔  میں نے لہجہ بدل لیا” ۔ ۔”

مگر تم کو اپنا وعدہ تو یاد ہے نہ” ۔ ۔ ؟”

تم کو یاد ہے نہ تم نے وعدہ کیا تھا کہ جاتے ہوئے مجھے ایک بے حد انوکھا ،خیال دے کر جاءو گی ۔ ایسا آئیڈیا جس 

پر میں نے پہلے کوئی کہانی نہیں لکھی ۔ 

ہاں مجھے یاد ہے ۔ میں تمہیں ایسا انوکھا آئیڈیادے کر جاءوں گی جس پر پہلے تم نے کوئی کہانی نہیں لکھی ۔ ۔

“یہ وعدہ رہا”


رات آدھی سے زیادہ گذر چکی تھی ۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں ۔ باہر گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔ سردی کے موسم کی وجہ سے ماحول میں عجیب ویرانی اور اداسی محسوس ہو رہی تھی ۔ ہر طرف گمبھیر خاموشی کا راج تھا ۔ کبھی کبھی کسی کتے کے بھونکنے کی آواز مزیدڈراءونا تاثر پیدا کر دیتی تھی ۔

میں نے نرمل کی دی ہوئی کتا ب کو کھولا ۔ ۔ ۔ پچھلے کئی دنوں سے میں اس کتاب کو پڑھ اور سمجھ رہا تھا ۔

گیارہ دن کا ایک بہت مشکل ۔ ۔ مشکل ترین عمل ۔

دس دن ایک بہت مشکل چلّہ جنگل میں بیٹھ کر کاٹنا تھا ۔ ۔ اور پھر گیارہویں دن ۔ 


میری بات سن کر شعاع کے منہ پر ڈھیروں رنگ بکھر گئے ۔ ۔

“آپ سچ کہ رہے ہیں نہ؟”

آج سے پہلے میں نے تم سے کبھی مذاق کیا ہے؟” میں اس وقت بھی تلخ ہو گیا ۔”

نہیں نہیں” ۔ ۔وہ گھبرا گئی”

میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی ۔ ۔ آپ نے پہلے کبھی کوئی اشارہ بھی نہیں دیا ۔ ۔ اور آج ایک دم سے ہی شادی

کی بات۔ ۔

اشارے بازی تو مجھے بلکل پسند نہیں ہے ۔ ۔ میں سیدھی اور صاف بات کرتا ہوں ۔ مجھے خواب میں امی نظر آئی تھیں ۔ انہوں نے مجھے سختی سے ہدایت کی ہے کہ میں تم سے فوراً شادی کر لوں ۔ ان کی شادی کا جوڑا اسٹور کے ٹرنک میں رکھا ہے تم وہ پہن لینا ۔ تھوڑا بہت زیور بھی ہے وہ بھی نکال لینا ۔

وہ غور سے میری تقریر سن رہی تھی ۔ اس کے چہرے پر اتنی خوشی تھی کہ اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ ۔ جیسے جیسے کسی پھانسی کی سزا سنائے گئے قیدی کو آخری لمحوں میں معاف کر دیا جائے ۔

 امی نے مجھے بتایا ہے کہ تمہارے اوپر کسی چڑیل کا سایہ ہے ” ۔ میں نے اپنے بات جاری رکھی”

اسی وجہ سے تمہارے ماں باپ اور پھر میری امی جان سے چلے گئے ۔ وہ چڑیل اتنی آسانی سے تمہاری شادی نہیں ہونے دے گی ۔ اس کے لئے ایک خاص عمل کرنا ہو گا ۔ وہ عمل میں کروں گا ۔ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ۔ ۔ جنگل میں بیٹھ کر پورے دس روز تک ۔ ۔ اور پھر گیارہویں روز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آپ ۔ ۔ آپ میرے لئے اتنی تکلیف اٹھائیں گے “۔ ۔ اس کی آواز بھرا گئی”

 ہاں تمہاری خاطر ۔ ۔ میں یہ سب کروں گا ۔ ۔ پھر میں ہی تم سے شادی کروں گا” ۔ ۔”

“یہ وعدہ رہا۔ ۔ “


دس انتہائی مشکل دس دن گذر چکے تھے ۔

اف ۔ ۔ کون کہتا ہے ۔ ۔ الٹا راستہ آسان ہوتا ہے ۔ ۔ نہ بابا ۔ بہت مشکل ہوتا ہے الٹا راستہ ۔ ۔ ناکوں چنے چبوا دیتا ہے ۔

دراصل شیطان گناہگار آنکھوں پرہوس کی ایسی پٹی باندھ دیتا ہے ۔ جو اس سیاہ کانٹوں بھرے راستے کو رنگوں بھرا دکھانے لگتی ہے ۔ ۔ پھروہ انسان خود ساری زندگی اپنی غلط خواہشوں اور شیطان کا غلام بن کر اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا رہتاہے ۔ ۔

جو چلّہ میں کاٹ رہا تھا وہ بچوں کا کھیل نہیں تھا ۔ اس کالی دیوی کی پوجا کے درمیان کئی رکاوٹیں حائل ہونے لگتی تھیں ۔ کئی بدروحیں انتہائی بھیانک روپ بدل بدل کر مجھے بہکانے آتی تھیں تاکہ میری پوجا رک جائے میرے عمل میں خلل آجائے ۔ اور ان کے بہکاوے میں آ جانے کا مطلب سیدھی سادی موت تھا ۔ اذیت ناک موت ۔ ۔

مگر میں اب جس دوراہے پر کھڑا تھا وہاں سے واپس پلٹنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ۔ اور میں واپس جانا بھی نہیں چاہتا تھا ۔ میں نے ہمت نہیں ہاری تھی ۔ اور میرا عمل آخری سرحدوں میں داخل ہو چکا تھا ۔

اور بس یہ آخری کشٹ ۔ ۔ یہ تابوت کی آخری کیل ۔ ۔ اور بس پوری سلطنت میری ۔ ۔

مگر یہ آخری عمل آسان نہیں تھا ۔ ۔ مشکل تھا بہت مشکل ۔ ۔ ۔


گیارہویں اور آخری دن کی رات آ دھی گذر چکی تھی ۔ ۔ بارہ بجنے میں بس تھوڑی ہی دیر رہ گئی تھی ۔ میں نے جس سنسان اور ویران جگہ پر اپنا ڈیرہ جمایا ہوا تھا وہ بہت خوفناک تھی ۔ ۔ گھنے جنگلوں کے بیچ یہ نیم اندھیری جگہ اتنی خطرناک تھی کہ دن کے وقت لوگ گذرتے ہوئے ڈرتے تھے ۔ ۔ ۔ مگر میری تو ڈر اور خوف سے ہمیشہ سے دشمنی رہی ہے ۔ میں تو ہمیشہ سے ہی اندھیری راہوں کا مسافر تھا ۔

اس وقت ہر طرف ہو کا عالم تھا ۔ اتنی خاموشی تھی جیسے وقت ٹہر گیا ہو ۔ کبھی کبھار ہوا کی ہلکی سی سرسراہٹ ایسے لگتی تھی جیسے سانپ نے پھنکارا ہو ۔ ہر طرف گہری تاریکی تھی ۔ میں نے ایک لالٹین درخت سے لٹکائی ہوئی تھی ۔ جس کی زرد روشنی نے ماحول کو مزید ڈراءونا اور اداس بنا دیا تھا ۔

میرے سامنے بڑے سے پتھر پر ایک بھیانک مورتی سجی ہوئی تھی ۔ جس کی لمبی زبان اس کی گردن تک آرہی تھی ۔ مورتی کی بری طر ح پھٹی ہوئی آنکھوں میں سخت غصے کی تحریر تھی ۔ جیسے وارن کر رہی ہو ’’خبردار ! جو عمل ادھورا چھوڑا تو ۔ ۔ ‘‘

مورتی کے سیاہ چہرے پر بڑا سا سرخ تلک بھی بنایا گیا تھا ۔

میں نے گہرا پیلا لباس پہنا ہوا تھا ۔ جو میرے پیروں تک آ رہا تھا ۔ دس دنوں سے منہ نہ دھونے اور نہ نہانے کی کڑی شرائط پر سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے میں اس مورتی سے تھوڑا ہی کم خوفناک لگ رہا ہوں گا ۔

ہر طرف خاموشی کاراج تھا ۔ ۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی ۔ اس کی سوئیاں بس بارہ بجانے ہی لگی تھیں ۔ ۔

میں بڑے بڑے منکوں والی مالا پر جنتر منتر پڑھنے میں مصروف تھا ۔ ۔ کہ اچانک ۔ ۔

چھن ۔ ۔ چھن ۔ ۔ چھن ۔ ۔ گہری خاموشی کو گھنگھرءوں کی مدہم آ واز نے توڑ دیا ۔

میں نے آنکھیں کھول دیں ۔ ۔

ایک بار پھر ۔ چھن ۔ ۔ چھن ۔ ۔ چھن ۔ گھنگرو بجے ۔ ۔ چوڑیاں چھنکیں ۔ ۔ اور پھر ۔ ۔

وہ میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی ۔

 میں آ گئی “۔ ۔ ۔”

 اف” ۔ ۔ “میرا دل چاہا آنکھیں دوبارہ بند کر لوں “۔ ۔”

لال شادی کا جوڑا پہنے ۔ ۔ ٹیکہ لگائے ۔ ۔ چوڑیاں پائل پہنے وہ دلہن بنی کھڑی تھی ۔ ۔ ۔


 بس یہ آج میرا تم کو لکھوایا ہوا ٓخری ناول تھا” ۔ ۔ اس نے مجھے پھر یاد دلایا ۔”

ٹھیک ہے بابا ۔ ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے بار بار جتانے کی ضرورت نہیں ہے” ۔ ۔  میں نے بدمزگی سے کہا”

۔ ۔

یاد تو مجھے بھی بہت کچھ ہے “۔ ۔  اس کی آواز بہت سرد تھی ۔ ۔”

میں نے چونک کر اسے دیکھا” ۔ ۔  تم کیا مجھے دھمکی دے رہی ہو ۔ ؟”

اگر میں کہوں ہاں ۔ ۔ تو پھر ۔ ۔ وہ مسکرائی

تم اچھی طرح جانتی ہوں تم مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتیں ۔ ۔ بے شک تم آزاد ہو جاءو گی تب بھی تم کو مجھے انگلی بھی لگانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ ۔ یہ بات میرے عمل کا حصہ تھی ۔ ۔  میں نے اس کو جتا دیا ۔

“کیوں کیا تھا تم نے میرے ساتھ ایسا؟آخر کیوں ؟ ؟”

اس نے بیس سالوں میں نہ جانے کتنی مرتبہ پوچھا ہوا سوال پھر دہرایا ۔


بے چاری ۔ ۔ سچ مچ مجھ سے سچی محبت کرتی تھی ۔ ۔

میرے ڈرامے پر حرف بہ حرف یقین کر لیا ۔ ۔ اور دلہن بن کر سنڈریلا کی طرح ٹھیک بارہ بجے میرے پاس پہنچ گئی ۔ ۔

میں نے اس پر گہری نظر ڈالی ۔ ۔

آج تک میں نے اتنی بری لگتی دلہن نہیں دیکھی تھی ۔ ۔

وہ میری نگاہ کا غلط مطلب سمجھ بیٹھی اور شرما کر سر جھکا لیا ۔ ۔

اسی وقت گھڑی نے بارہ بجا دیئے ۔ ۔ اور ۔ ۔ میں نے ۔ ۔ شعاع کی گردن پکڑ لی ۔ ۔

اتنا شدید شاک شاید ہی کبھی کسی کو لگا ہو گا ۔ ۔ اس نے بری طرح حیران ہو کر مجھے دیکھا ۔ ۔

مکروہ مسکراہٹ میرے ہونٹوں پر دوڑ گئی ۔

اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے؟مجھ سے شادی کرنے کے لئے اس ویرانے میں چلی آئیں ۔ ۔ بنا سوچے سمجھے “۔”

۔

اس کی حیرت اور تکلیف سے پھٹی آنکھوں میں دکھ اور آنسو اتر آئے ۔

اس سے بھی زیادہ “۔ ۔ اس نے بمشکل جواب دیا ۔”

 محبت تو امتحان لیتی ہے شعاع ۔ ۔ ثبوت مانگتی ہے ۔ ۔ دو ثبوت” ۔ ۔”

میں نے اس کی گردن دبانا شروع کر دی ۔

“دو مجھے ۔ ۔ کوئی بہت بڑی شکتی ۔ ۔ بے حد دولت ۔ ۔ شہرت ۔ ۔ “

اچانک تیز تیز بادل گرجنے لگے ۔ ۔

میں مستقل اس کی گردن دبا رہا تھا اور منتر کے الفاظ دہرا رہا تھا ۔ ۔

“مجھے دو ایسا ہنر ۔ ۔ کوئی ایسا فن جو مجھے آسمان تک لے جائے ۔ ۔ میں کہتا ہوں مجھے دو ۔ ۔ “

زور زور سے بجلی چمک رہی تھی ۔ ۔ شعاع کی آنکھیں ابل کر باہر آ گئیں ۔ ۔ اس کی زبان منہ سے باہر لٹکنے لگی ۔ ۔ وہ پتھر پر رکھی مورتی سے مشابہ لگنے لگی ۔ ۔ اچانک تیز طوفانی بارش شروع ہو گئی ۔ ۔

میں نے شعاع کی گردن چھوڑ دی ۔ ۔ اس کی لاش ایک جھٹکے سے زمین پر آ گری


اف انیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا تھا ۔

میرا وہ شیطانی عمل کامیاب ہو گیا تھا اور میں شعاع کی روح پر قابض ہو گیا تھا ۔

مجھے ایک فن حاصل ہو گیاتھا ۔ ۔ ڈراءونی ،پراسرار غیر معمولی بہترین کہانیاں لکھنے کا فن ۔

میرے قلم اٹھاتے ہی’’ وہ ‘‘آجاتی ۔

اسی طرح لال لباس میں ۔ ۔ کمبخت نے بیس سال سے وہی عروسی لباس پہنا ہوا تھا ۔ ۔ اس کے بال کھل کر بری طرح الجھ چکے تھے ۔ ۔ اس کی آنکھیں بری طرح ابلی اور پھٹی ہوئی ہوتی تھیں اور زبان اسی طرح گردن تک لٹکی ہوئی ہوتی جیسے میرے قتل کرنے کے وقت لٹک گئی تھی ۔ ۔ بلکہ اس سے بھی بہت نیچے تک ۔ ۔

وہ اتنی خوفناک اور ڈراءونی لگتی تھی کہ اگر میری جگہ کوئی اور اسے دیکھ لیتا تو بے ہوش ہو جاتا ۔

وہ بولتی رہتی اور میں لکھتا رہتا بجلی کی تیزی سے میں ناول پر ناول لکھ ڈالتا ۔ ۔ اور وہ ناول غیر معمولی مقبولیت حاصل کرتے ۔

نہ جانے میں نے کتنے ناول لکھ لئے تھے اور کتنی ہزاروں کہانیاں صفحوں پر بکھیر ڈالی تھیں ۔ ۔ نہ تو مجھے ان کی تعداد یاد تھی اور ہی اپنے بنکوں میں بھرے بے شمار پیسوں کا حساب یاد تھا ۔ ۔ مجھے ہر چیز مل چکی تھی جس کی میں نے تمنا کی تھی ۔ ۔ اب بیس سال گذرنے ہی والے تھے اور شعاع کی روح آزاد ہو جاتی ۔ مگر اب مجھے کوئی فکر نہیں تھی میرے پاس اتنا پیسہ تھا کہ میری نسلیں بیٹھ کر کھا سکتیں تھیں ۔ ۔ مگر نسلیں آتیں کیسے ۔ ۔ میں نے تو ابھی تک شادی نہیں کی تھی ۔ ۔ خیر کوئی بات نہیں ۔ ۔ اب آرام ہی آرام ہے ۔ ۔ اب میں شادی بھی کروں گا ۔ ۔ کیا ہوا جو میری عمر چالیس کو پہنچ گئی ہے؟

عظیم لوگ اکثر دیر سے ہی شادی کیا کرتے ہیں ۔


پورے بیس سال گذر چکے تھے ۔

اور آج آخر کار وہ وقت آ ہی گیا تھا ۔

میں بڑی دیر سے بڑے سے آئینے میں اپنا عکس دیکھے جا رہا تھا ۔ ۔

آج شعاع آخری بار مجھے دیکھے گی ۔ ۔ مجھے ناصر جمال کو ۔ ۔ اپنے محبوب ناصر جمال کو ۔ ۔

میں آج بھی اس پر اپنی دھاک بٹھا نا چاہتا تھا ۔ ۔

عورتیں تو بلاوجہ بدنام ہیں کہ انہیں کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ بھلا مردوں کی نفسیات کو کون سمجھ سکتا ہے؟

شاید مرد خود بھی نہیں ۔ ۔ جو لڑکی مجھے سخت ناپسند رہی ۔ ۔ یہاں تک کہ میں نے اس کو اطمینان سے اپنا شکار بنا کر قتل بھی کر ڈالا ۔ ۔ ایک بھیانک خوفناک بدروح جو آج ہمیشہ کے لئے جانے والی تھی ۔ ۔ مگر میں چاہتا تھا وہ جا کر بھی مجھے نہ بھول سکے ۔ ۔ میری قید سے آزاد تو ہو رہی ہے مگر میرے عشق سے کبھی آزاد نہ ہو سکے کبھی بھی نہیں ۔ ۔ اور ظاہر ہے وہ تو پہلے ہی مر چکی ہے اس نے کونسا دوبارہ مرنا ہے ؟اس لئے قیامت تک مجھ سے محبت کرتی رہے ۔ ۔

آج میں نے خاص طور پر کالا ڈنر سوٹ زیب تن کیا تھا ۔ کالا رنگ میرے گورے چہرے پر بڑا جچتا تھا ۔ ۔

مگر یہ کیا ہے ۔ ۔ میں نے اپنے چہرے کو چھوا ۔ ۔ یہ میرا رنگ اتنا مدہم کیوں ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ جیسے سیاہ پڑتا جا رہا ہو ۔ ۔ اور میری سبز حسین آنکھوں کے گرد اتنے گہرے،سیاہ حلقے ۔ ۔ میں کتنا ۔ ۔ کتنا برا لگ رہا تھا ۔ ۔ میں نے جیسے ڈرتے ڈرتے اعتراف کیا ۔ ۔

کیوں کہ اعمال چہرے پر نمودار ہو ہی جاتے ہیں “۔ ۔وہ حسبِ معمول میرے پیچھے نمودارہو چکی تھی ۔”

اوہ “۔ ۔ میں چونک گیا ۔ ۔”

اپنے بے مثال حسن کے بارے میں کیا خیال ہے؟” میں چڑ گیا ۔ ۔”

 کہیں سزا ہوتی ہے تو کہیں آزمائش ۔ ۔ اور میری آزمائش آج ختم ہو رہی ہے ۔ وہ آج بہت سنجیدہ تھی ۔

آج تم آزادضرور ہو جاءو گی تمہارا چہرہ نہیں بدلے گا ۔ ۔ تم ایک بھٹکتی ہوئی آتما ہی رہو گی ۔ ۔ قیامت تک ۔ ۔ ‘‘ میں نے سنگدلی کی انتہا کر دی ۔

 تم نے ہمیشہ برا کیا ہے میرے ساتھ ۔ ۔ ناصر!بہت ہی برا ۔ ۔ آج تک ۔ ۔  وہ بڑبڑا رہی تھی ۔

لیکن دیکھو ایک بات ہے ہم ساتھ ساتھ بھی تو رہے ہیں آج تک ۔ ۔  میں نے بات سنبھالنے کی کوشش کی ۔

 میں تو تم سے محبت کرتی تھی” ۔ ۔ اپنے دل کی گہرائیوں سے ۔ ۔ ۔”

 تم مجھے ویسے ہی جنگل میں بلا لیتے ۔ ۔ تم نے مجھ سے شادی کا جھوٹ کیوں بولا تھا؟کیوں مجھے دلہن کے روپ میں وہاں آنے کو کہا تھا ۔ ۔ کیا کیا خواب سجا لئے تھے میں نے اپنی آنکھوں میں ۔ ۔ 

اس لئے کہ مجھے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے کسی کو قتل کرنے کے بعد اس کی روح پر قابض ہونا تھا ۔ اور”

تم سے اچھی آپشن اور کون ہو سکتی تھی میرے لئے اور اس وقت جو بہانہ مجھے سمجھ آیا میں نے بنا لیا ۔ ۔ تم بھی تو بنا سوچے سمجھے دلہن بن کر جنگل میں پہنچ گئی تھیں ۔ ۔ ۔ ” میں نے سفاکی سے کہا ۔

وہ ایک ٹک مجھے گھور رہی تھی ۔ ۔

مجھے لگا اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی ہے ۔

دیکھو شعاع! سیاہ رنگ سیاہ ہی رہتا ہے ۔ ۔ کوئی بھی رنگ اس کی سیاہی کوختم نہیں کر سکتا ہے ۔ ہمارے”

دھندے میں دھوکا ہی دھوکا ہے ۔ ہمیشہ سے ۔ ۔ آج تم رخصت ہو رہی ہو ،اچھے موڈ میں رخصت ہو ۔ ” میں نے صفائی پیش کی ۔

اس نے گہری سانس لی ۔

’’ اچھا موڈ ۔ ۔ ہونہہ ۔ ۔ مذاق کر رہے ہو؟‘‘

میں اس سے نظریں چرا کر شیشے کے دیوار سے نیچے جھانکنے لگا ۔

نیچے حسبِ معمول بڑی چہل پہل تھی ۔ ۔ بارہویں فلور سے نیچے لوگ کتنے چھوٹے چھوٹے لگ رہے تھے ۔ ۔ بلکل بونے ۔ ۔

’’ ہاں شعاع! ‘‘مجھے خیال آیا

یار آج آخری کہانی تو لکھوا دو ۔ ۔ کسی بہت ہی زبردست انوکھے آئیڈیے والی ۔ ۔ دیکھو تم نے مجھ سے وعدہ”

کیا تھا ۔ ۔ “مجھے اچانک خیال آ گیا ۔

کم بخت کہیں بغیر کہانی لکھوائے نہ دفع ہو جائے” ۔ مجھے فکر پڑ گئی ۔”

 تمہیں آج بھی صرف اپنی فکر ہے “۔ ۔وہ جیسے پھنکار کر بولی ۔”

ایک لفظ ۔ ۔ کبھی صرف ایک لفظ بھی افسوس کا تمہارے منہ سے نہیں نکل سکا ۔ ۔ تم نے میری زندگی تباہ”

کر” دی ۔ ۔ مجھے اتنے سخت عذاب میں مبتلا کر دیا کہ ایک بھٹکتی ہوئی آتما بنا دیا ۔ ۔ میرا خیال تھا تم کم از کم آج کے دن ،جاتے جاتے مجھ سے معافی مانگ لو گے ۔ ۔ مگر نہیں ۔ ۔ میرا خیال غلط تھا ۔ ۔ معافی تو انسان مانگا کرتے ہیں ۔ ۔ تم تو جانور ہو ۔ ۔ جانور سے بھی بدتر ہو ۔ ۔ تم شیطان ہو “۔ ۔ 

بند کرو اپنی بکواس” ۔ ۔  میں زور سے دھاڑا ۔ ۔”

مگر اچانک ۔ ۔ میری دھاڑ سے بھی تیز بہت ایک تیز ایک آواز کمرے میں گونجی ۔ ۔ ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا ۔ ۔

میں نے گھبرا کر شعاع کو دیکھا ۔ ۔ وہ مسکرا رہی تھی ۔ ۔ خوفناک مسکراہٹ

مگر اس کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں ۔ ۔

تم مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتیں “۔ ۔  میں بری طرح ڈر گیا تھا ۔ ۔”

ہونہہ ۔ ۔ میں لگانا بھی نہیں چاہتی” ۔ ۔ اس نے نفرت سے کہا ۔”

اچانک ایسا لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو ۔ ۔ کمرے کا فرنیچربری طرح ہلنے لگا ۔ ۔ میں نے شیشے کی دیوا ر پر ہاتھ ٹکائے ہوئے تھے ۔ ۔ میرے ہاتھ اس پر بری طرح چپک گئے ۔ ۔

بہترین شیشے سے بنی ہوئی دیوار جو کہ کئی ٹن وزن برداشت کر سکتی تھی ۔ ۔ چٹخنے لگی ۔ ۔ تیزی سے ۔ ۔ اس کا شیشہ ایسے چٹخ گیا جیسے کسی نے ایک منظر کھود ڈالا ہو ۔ ۔ ۔ ایک برسوں پرانا منظر ۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔ میں نے کسی کا گلا دبوچ رکھا ہے اور ۔ ۔ اور میرے آگے رکھی ایک خوفناک مورتی ۔ ۔

میرے کانوں سے شعاع کی آواز ٹکرائی

 میں جا رہی ہوں ناصر ۔ ۔ اور جاتے جاتے تم کو ایک انتہائی انوکھا ذائقہ چکھا کر جا رہی ہوں ایک ایسا ذائقہ جو تم آج پہلی مرتبہ چکھو گے ۔ ۔ جس کی تفصیل کوئی نہیں سنا سکتا ۔ ۔ موت کا ذائقہ ۔ ۔ ہاں مگر افسوس کہ تم اس کی تفصیل نہیں لکھ پاءو گے ۔ ۔

دیوار عین اتنی ٹوٹ گئی جتنا میرا عکس اس پر نمودار ہوا تھا ۔ ۔ اور شیشے کا اتنا ٹکڑا مجھے اپنے ساتھ لے کر نیچے گر گیا ۔ ۔

میں جیسے ہوا میں اڑتا ہوا نیچے گرنے لگا ۔ ۔

پرواز کتنی بھی اونچی کیوں نہ ہو ۔ ۔ واپس زمین پر تو اترنا ہی ہوتا ہے ۔

مگر میں زمین پر بھی نہ اتر سکا ۔ ۔

نیچے بکھرے بجلی کے بے شمار تاروں میں میری گردن بری طرح الجھ گئی ۔ ۔ اور میں برسوں پرانے قتل کے جرم میں سزا سنے بغیر ہی جیسے پھانسی پر لٹک گیا ۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments