آ جا میدان میں

urdu mystery story aja maidan mainموسم اچھا خاصہ خوشگوار تھا ۔ فضا میں ٹھیک ٹھاک ٹھنڈک تھی مگر بڑے سے ہال میں بڑا گرم ماحول تھا ۔ نوجوانوں کا

crowd

میز کے گر د جمع تھا ۔ جہاں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے،بائیں ہاتھ کو پیچھے موڑے ،دائیں ہاتھ کی کہنی میز پر ٹکاکر اسد اور فیروز پنجہ لڑا رہے تھے ۔

بڑا ہی کانٹے کا مقابلہ چل رہا تھا ۔ اسد کا چہرہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا ۔ پورے جسم کی طاقت لگانے کی وجہ سے اچھا خاصا صاف رنگ سیاہ لگ رہا تھا ۔ میز پر ایک طرف انعام کے دس ہزار رکھے ہوئے تھے ۔ پانچ ہزار اسد کی ٹیم کی طرف سے اور پانچ ہزار فیروز کی ٹیم کی طرف سے ۔

جیتنے والا ساری رقم کا حق دار بن جاتا ۔ اسد جیتنے کے لئے پوری جان لڑا رہا تھا ۔ پانچ ہزار جیتنے کے لئے نہیں بلکہ فیروز سے جیتنے کے لئے ۔ ۔ ۔

نوجوانوں کا ہجوم آدھا اسد کی طرف تھا تو آدھا ہی فیروز کی طرف ۔ لیکن اس وقت اگر پورا شہر بھی اسد کی طرف ہوتا تو بھی ’’فیروز کو ہرانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا” ۔ ۔ ۔ 

اسد کی بری حالت کے برعکس فیروز اتنا پرسکون تھاجیسے اس کے ہاتھ میں کسی بچے کا ہاتھ ہو ۔ صرف اسد اپنی طاقت آزما رہا تھا،فیروز نے تو ابھی صرف اسد کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ۔ اس کے لبوں پر عجیب مسکراہٹ کھیل رہی تھی جیسے ۔ ۔ ۔ جیسے یہ کھیل نہ ہو بلکہ کوئی بادشاہ اپنی فوج کے بہت بڑی جنگ جیت لینے کا منظر دیکھ رہا ہو ۔

مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ضرور کھیل رہی تھی مگر اس کی آنکھیں بلکل خاموش تھیں ۔ بے حد سرد ۔ ۔ ۔ کافی دیر اس کھیل اور اسد کی حالت سے لطف اندوز ہونے کے بعدفیروز نے ہاتھ کو ایک جھٹکا دیا اور اسد کا ہاتھ میزسے جا لگا ۔ فیروز کے حامی نعرے لگانے لگے ۔ اور حسبِ معمول کافی

over

ہو تے ہوئے انہوں نے فیروز کو کندھوں پراٹھا لیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

“جیت”

کتنا پیارا لفظ ہے ۔ کانوں میں شہد ٹپکاتا ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا کے چند حسین ترین الفاظ طاقت،حسن،دولت میں سے ایک جیت بھی ہے ۔ بلکہ شاید ’’جیت‘‘ کا لفظ ان تمام الفاظ سے جیت گیا ہے ۔

فیروز کی پچیس سالہ زندگی اس لفظ کے بغیر نا مکمل تھی ۔ نہ جانے اس نے ایسے کتنے ہی مقابلوں میں حصہ لیا کتنے طاقتوروں کے مقابل ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کران کے آہنی ہاتھوں کی طاقت کو محسوس کیاتھا،ہاں لیکن تمام مقابلوں کا انجام ہمیشہ ایک سا ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ فیروز کی جیت ۔ ۔ ۔ اس نے کبھی کوئی مقابلہ نہیں ہارا تھا ۔ بچپن میں کھیل ہی کھیل میں پہلے اپنے دوستوں اور پھر دوسرے محلے کے لڑکوں ہرا ہرا کر اس کی شہرت پورے شہر میں پھیل گئی تھی ۔ دور دور سے جانباز،فیروز پہلوان سے پنجہ لڑوانے آتے اور منہ کی کھاتے ۔ فیروز سے عمر اور طاقت سے کہیں زیادہ ہونے کے باوجود کوئی ’’ما ں کا لعل‘‘اس کے ہاتھ کو نہ گرا سکا تھا ۔ لوگ کہنے لگے تھے ’’فیروز کا ہاتھ نہیں ہے پگھلا ہوا لوہا ہے ۔ ‘‘

لوہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فیروز نے اپنا دائیاں ہاتھا اپنی آنکھوں کے سامنے کیا ۔ ۔ چوڑا چکلا ہاتھ ۔ ۔ جس کے اوپر اتنا گہرا جلنے کا نشان تھا کہ چربی باہر نکل آئی تھی ۔ ۔ اس کی آنکھیں آنسوءوں سے بھر گئیں ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔

سات سالہ چھوٹا سا فیروز ۔ ۔ ۔ ناکافی خوراک اور بہت محنت کرنے کی وجہ سے اپنی عمر سے بھی چھوٹا لگتا تھا ۔ جب پانچ سال کا تھا تو اس کا مزدور باپ کام کے دوران اونچی بلڈنگ پر سے گر کر مر گیا تھا ۔ وہ جو دو وقت کی روٹی ملتی تھی وہ بھی بند ہو گئی ۔ ماں بے چاری لوگوں کے گھروں میں کام کرنے لگی ۔ مگر پھر بھی گذارہ نہیں ہوتا ہے ۔ کرائے کا گھر ،فیروز اور اس کے دو چھوٹے بہن بھائی ۔ ۔ ۔ بہن تو ابھی دودھ پیتی تھی ۔ ۔ وہ بیمار رہنے لگی ۔ ۔ ۔ فیروز کی بےچاری قسمت کی ماری ماں نے نہ چاہتے ہوئے بھی فیروز کو کام پر لگا دیا ۔ ۔ ۔

ایک لوہار کی بھٹی تھی جہاں وہ دن رات لوہا کوٹتا تھا ۔ قسمت کی بھٹی ہر لوہار کی بھٹی سے زیادہ گرم ہوتی ہے ۔ فیروز دونوں بھٹیوں میں مشقت کر رہا تھا اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے وہ سارا دن ہتھوڑا چلاتا ۔ قسمت کا مارا(اُس وقت)فیروز ایک دن صبح سے بھوکا تھا ۔ ۔ ۔

اس سے ہتھوڑا اٹھ ہی نہیں پا رہا تھا ۔ ۔ وہ شاید کمزوری کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا ۔ اس کا ہاتھ آگ میں جا پڑا ۔ ۔ وہ اس قدر بری طرح بے ہوش ہوا تھا کہ اس کو ہاتھ جلنے کا احساس تک نہیں ہوا ۔ ۔ کئی دنوں تک اس کا سیدھا ہاتھ کام کرنے کے قابل نہ ہوا ۔ ۔ وہ الٹے ہاتھ سے ہتھوڑا چلاتا ۔ ۔ ۔

کسی فلم کے منظر کی طرح فیروز کے ہاتھ ہتھوڑا چلاتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ بھٹی دہکتی رہی ۔ ۔ ۔ ۔ اور وقت گذرتا رہا ۔ ۔ ۔ سال پر سال بیت گئے ۔ ۔ اور فیروز جوان ہو گیا ۔ ۔ ۔ اور کسی فلم کی ہی طرح جوان ہوتے ہی فیروز کے حالات بدلنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔

کہتے ہیں نہ زندگی کا ہر حادثہ انسان کو کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے ۔ اس حادثے سے فیروز نے کچھ سیکھا ہو یا نہ ہولیکن ۔ ۔ ۔ اس کا سیدھا ہاتھ جیسے پتھر کا بن گیا ۔ ۔ ۔ اس کو کوئی نہیں گرا پایا ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دس ہزار کی ’’کثیر‘‘ رقم فیروز نے ماں کے ہاتھ پررکھ دی ۔ ۔ عجیب ماں تھی ۔ ۔ ۔ کبھی بیٹے کی کمائی پر خوش دکھائی نہیں دیتی تھی ۔ ۔ ۔ الٹا اس کی آنکھیں آنسوءوں سے بھر جاتی تھیں ۔ جب وہ لوہار کی بھٹی میں کام کرتا تھا تو اس کی تنخواہ لے کر وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ۔ ۔ ۔ اور اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو پاگلوں کی طرح چومتی تھی ۔ ۔ ۔ اور اب جب فیروز ہر دوسرے دن کوئی مقابلہ جیتتا ۔ ۔ تو وہ انعام کے پیسے لے کر مسکرانے کے بجائے آنسو بہانے لگتی ۔

فیروز کے دونوں بہن بھائی پڑھ رہے تھے ۔ گورنمنٹ کے اسکول اور پھر کالج سے ہی سہی مگر انہوں نے تعلیم حاصل کی تھی ۔ مگر فیروز بے چارہ اسکول کی شکل تک نہیں دیکھ پایا تھا ۔ اس کی ماں کو اس کے ان پڑھ رہ جانے کا سخت دکھ تھا ۔ ۔

کیا امی!انسان کس لئے پڑھتا لکھتا ہے؟روٹی کمانے کے لئے نہ؟اور تیرا بیٹا بہت سوں سے زیادہ کماتا ہے

۔ وہ ما ں کو بہلاتا ۔ ۔ ۔

’’میرا بیٹا میرے لئے ساری دنیا سے بڑھ کر ہے ۔ ‘‘فیروز کی ماں اس کو نثار ہونے والی نظروں سے دیکھتی ۔ ۔ خدا تیری کمائی میں برکت دے “۔ ۔ ۔” تُو ناقابلِ شکست رہے” ۔ ۔ ۔ ہمیشہ ۔ ۔ ۔ “

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

وہی ہال تھا ۔ ۔ وہی نوجوانوں کا ہجوم ۔ ۔ انعام کی رقم آج زیادہ تھی ۔ ۔ ۔ پچیس ہزار ۔ ۔

یہ ’’ٹورنا منٹ‘‘ایک اچھی خاصی بڑی کمپنی نے منعقد کیا تھا ۔ جیسے جیسے فیروز کی شہرت بڑھ رہی تھی دوسرے شہروں سے بھی لوگ مقابلے کے لئے آرہے تھے ۔ اور انعام کے پیسے بڑھتے جا رہے تھے ۔

آج ایک بڑے شہر سے آئے پہلوان’’ٹایئگر ‘‘کے انداز کافی جارحانہ اور مغرورانہ تھے ۔

ٹھیک ٹھاک مقابلہ چلا ۔ ۔ تقریباً ’’دس منٹ‘‘ ۔ ۔ ۔ مگر آج فیروز پہلوان کا موڈ کچھ اچھا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ اس کے گیم کو طول نہیں دیا ۔ ۔ اور نہ ہی ٹایئگر کے ’’غرانے‘‘ سے لطف اندوز ہوا ۔ ۔ ۔ بلکہ ایک ہی جھٹکا دے کر اس کو چاروں شانے چت کر دیا ۔ اور انعام کی رقم لے کر یہ جا تو وہ جا ہو گیا ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تیاری کیا کروں ۔ ۔ مقابلے کی؟ وہ کیسے کرتے ہیں ؟فیروز جھوٹ بلکل نہیں بول رہا تھا ۔

میں تو بس منہ ہاتھ دھو کر پہنچ جاتا ہوں”__ اور  ماں کی دعا سے جیت کر آتا ہوں ۔ “

انسان کو کبھی بھی

over confident

نہیں ہونا چاہئے ۔ ‘‘اظہر فیروز کا دوست اور اب اس کے ٹورنا منٹس کا آرگنائزر بھی تھا” ۔

جہاں ایک لفظ ’’جیت‘‘ہے تو ایک لفظ ’’ہار‘‘ بھی تو ہے ۔ ۔ اور ہزاروں بار کی جیت صرف ایک مرتبہ کی ہار سے ہار جاتی ہے ۔ ‘‘

اظہر کی بات سو فیصد درست تھی مگر ۔ ۔ فیروز اپنی جگہ سچا تھا ۔ ۔ اس کو خاک تیاری کرنی آتی تھی ۔ ۔ وہ تو بس اپنے حریف کا ہاتھ پکڑتا اور بس جیسے فلیش بیک میں پہنچ جاتا ۔ ۔ جہاں ایک لوہار کی بھٹی دہکنے لگتی ۔ ۔ اور ننھا سا فیروز ہتھوڑے چلانے لگتا ۔ ۔ اس کو تو ہوش جب آتا جب لوگ اس کی فتح کے نعرے لگارہے ہوتے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کیا ۔ ۔ کیا کہا ایک لاکھ ۔ ۔ ۔ ‘‘فیروز کی آنکھیں پوری کھل گئیں “۔ ۔

پورے ایک لاکھ ۔ ۔ جیتنے والے کے لئے ۔ ۔ اور ہارنے پر پچاس ہزار دینے ہوں گے ۔ یعنی بلکل” پاک وصاف” مقابلہ ہر لحاظ سے ۔ 

اظہر نے ہنستے ہوئے کہا ۔

مگر میں پچاس ہزار” ۔ ۔ ۔ کس طرح ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

وہ کمپنی ارینج کرے گی ۔ ۔ وہ تیرا مسئلہ نہیں ۔ ۔”اظہر نے فیروز کی بات کاٹ دی” ۔ ۔ ’’تو بس تیاری کر” ۔ 

تیاری ؟فیروز جیسے بے بسی سے اظہر کو گھورنے لگا ۔ ۔

’’بیٹا!شاہینہ کے سسرال والے شادی کی تاریخ مانگ رہے ہیں ۔ ۔ انتظام کرنا پڑے گا ۔ ۔ ‘‘کچھ دنوں پہلے کہی ہوئی ماں کی بات فیروز کے کانوں میں گونجی ۔

کب ہے مقابلہ؟ فیروز نے اظہر سے پوچھا ۔ اس کی نظریں اپنے ہاتھوں پر جمی ہوئی تھیں ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

یہ کیا مذاق ہے ؟”فیروز کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا “۔ ۔ ۔

حیران تو سبھی ہو رہے تھے “۔ ۔ یہ کیسا پہلوان ہے عورتوں کی طرح نقاب کیوں پہنے ہوئے ہے ۔ ‘‘

پہلوان جس نے اپنا تعارف’’عظیم‘‘ کے نام سے کروایا تھاپرانے زمانے کی طرح کے جنگجوئوں کا سا نقاب تو بے شک پہنے ہوئے تھا مگر عورت ہر گز نہیں تھا ۔ ہٹا کٹا ۔ ۔ کوئی چھ فٹ لمبا ۔ ۔ اس کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے برسوں سے

body building

کرتا آرہا ہو ۔

(اظہر اور فیروز دونوں کو سمجھ آگیا کہ ایسے مقابلوں کے لیئے کس طرح تیاری کرتے ہیں )

اظہر نے چور نظروں نے فیروز کو دیکھا کم عمر،درمیانے قدو قامت کا سیدھا سادھا فیروز ۔ ۔ اس کے دل کو کچھ ہوا

خدا خیر کرے گا” ۔ ۔  اس نے سر جھٹکا ۔”

میز سج چکی تھی ۔ٹیمیں اپنے کھلاڑیوں کے آس پاس کھڑی تھیں ۔ انعام کے ایک لاکھ کا لفافہ پھولوں کے اوپر رکھا ہوا تھا ۔ منچلوں نے اس کے آس پاس لایٹیں بھی لگا دی تھیں جو مسلسل جل بجھ رہی تھی ۔ ۔ ۔ اظہر کی امیدوں کی طرح ۔ ۔

عظیم پہلوان بڑی شان سے میدان میں اتر آیا ۔ اس کی چال میں بڑا شاہانہ پن تھا ۔

دوسری طرف فیروزبھی نعروں کے درمیان چلتا آرہا تھا ۔ ’’un – beat able‘‘فیروز کے دوست چلا رہے تھے ۔

عظیم کے انداز میں عجیب غرور تھا ۔ ۔ جیسے اس کو اپنی فتح کا مکمل یقین ہو ۔ ۔ مقابلے سے پہلے ہی ۔

دونوں پہلوانوں نے پہلے ہاتھ ملائے ۔ ۔ بایاں ہاتھ پیچھے موڑا ۔ ۔ اور پھر ایک دم مقابلے کا آغاز کر دیا ۔

دونوں میز کے آمنے سامنے ۔ ۔ آگے کی طرف جھکے ۔ ۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پنجہ لڑا رہے تھے ۔

فیروز کی آنکھیں اپنے حریف کی آنکھوں سے پہلی مرتبہ ملیں ۔ ۔ زندگی میں پہلی باراس کے جسم میں لہر دوڑ گئی ۔ ۔ ۔ عجیب سا کرنٹ ۔ ۔ عظیم کی آنکھیں عام رنگ کی نہیں تھیں ۔ ۔ ان میں نیلاہٹ تھی ۔ ۔ سمندر کی نیلاہٹ ۔ ۔ نہ صرف نیلاہٹ بلکہ سمندر کی گہرائی بھی ۔ ۔ اس کی گرفت کمزور ہونے لگی ۔ ۔ ۔

اظہر سانس روکے ’’معرکہ ‘‘دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ آج پہلی مرتبہ اس کے دل کو دھڑکا لگا ہوا تھا ۔ ۔ کوئی انہونی ۔ ۔ ۔ ’’شاید آج فیروز نہ جیت پائے” ۔ ۔ اگر ایسا ہو گیا توپھر ؟شکست تو ایسی با وفا محبوبہ ہوتی ہے کہ اگر ایک بار سامنا ہو جائے تو بڑی مشکل سے پیچھا چھوڑتی ہے ۔ 

آج پہلا موقع تھا کہ فیروز کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔ اس کے ماتھے سے پسینہ بہنے لگا ۔

پہلا راءونڈ ختم ہوگیا ۔ ۔ نہ کوئی ہارا نہ کوئی جیتا ۔ ۔

پہلی مرتبہ ۔ ۔ ۔ پہلی مرتبہ کوئی پورا راءونڈ فیروز کے سامنے ٹہر سکا تھا ۔

دوسرا راءونڈ شروع ہوا ۔ فیروز نے کوشش کی کہ وہ عظیم کی آنکھوں میں نہ دیکھے ۔ ۔ مگر ۔ ۔ وہ جیسے بے خود ہو گیا ۔ ۔ جس طرح لاکھ ہدایتوں کے با وجود شہزادے انجانی پکاروں پر پلٹ کر دیکھ لیتے تھے اور پتھر کے بن جاتے تھے ۔

عظیم کی آدھی طاقت جیسے اس کی آنکھوں میں تھی ۔

آ ج اظہر کے علاوہ جس دوسرے شخص کو شک ہونے لگا تھا کہ فیروز ہار جائے گا ۔ ۔ ۔ وہ خود فیروز تھا ۔ ۔ ۔

دوسرا راءونڈ ختم ہوا ۔ ۔ ۔ مقابلہ پھر برابر رہا ۔ ۔

تیسرا اور آخری راءونڈ شروع ہونے لگا تھا ۔ فیروز نے اظہر پر نظر ڈالی ۔ ۔ اس کا رنگ سفید ہو رہا تھا ۔ وہ گھبرایا ہوا لگ رہا تھا ۔

فیروز کی آنکھیں ویران ہو رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ” میں ہار جاوں گا اظہر” ۔ ۔ ۔ میں تھک گیا ہوں ۔ ۔ بے حد ۔ ۔ اس نے اظہر کے کان میں سرگوشی کی ۔

دوسری طرف عظیم ایسے کھڑا تھا جیسے مقابلہ کر نہ رہا ہو مقابلہ دیکھ رہا ہو ۔ بلکل آرام سے سینے پر ہاتھ باندھے ۔ ۔ اس نے تو شاید پانی تک نہیں پیا تھا ۔

راءونڈ شروع ہوا ۔ ۔ دونوں نے ہاتھ ملائے ۔ اور پھر جھٹکے سے پنجہ لڑانا شروع کر دیا ۔ ۔ عظیم کی نیلی آنکھوں میں چیلنج ابھر آیا ۔ ۔ اس کی گرفت بڑھنے لگی ۔ ۔ ۔ فیروز کی گرفت کمزور پڑنے لگی ۔ اپنی بے بسی محسوس کر کہ اسکی آنکھیں آنسوءوں سے بھر گیئں ۔ بند ہونے لگیں ۔ ۔ مگر آنکھیں بند ہوتے ہی جیسے ایک جھماکہ ہوا ۔ ۔ وہ جیسے کسی گہرائی میں گرنے لگا ۔ ۔ جہاں آگ تھی جہنم کی ۔ ۔ ۔ نہیں کسی بھٹی کی آگ ۔ ۔ اس کے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز گونجنے لگی ۔ ۔ لوہا کوٹنے کی آواز ۔ ۔ ہتھوڑا چلنے کی آواز ۔ ۔ اس کا ہاتھ سخت درد کرنے لگا ۔ ۔ جلنے لگا ۔ ۔ جیسے ایک مرتبہ پھر آگ میں گر گیا ہو ۔ ۔ ۔ اچانک ایک آواز تمام آوازو ں پر حاوی آگئی ۔ ۔ ۔ ایک مہربان آواز ۔ ۔ فیروز کی ماں کی آواز ۔ ۔ تُو ناقابلِ شکست رہے گا ہمیشہ ۔ ۔ ہمیشہ ۔ ۔ اس نے اپنے پورے جسم کی طاقت کو اکٹھا کیا ۔ یا خدا ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔

نعروں سے ہال گونج رہا تھا ۔ فیروز نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں ۔ اظہر اس کو پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔ ۔

کیا ہوا ۔ ۔ کون جیتا؟ بڑی ہمت کر کے فیروز نے پوچھا ۔

اظہر کی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے ۔ اس نے فیروز کو گلے سے لگا لیا ۔

تُو ۔ ۔ ۔ میرے یار ۔ ۔ تُو ہی جیتا ہے ایک بار پھر ۔ ۔ ۔ 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

رات بڑی حسین تھی،نہایت مہکی ہوئی،جیسے نشے میں ڈوبی ہوئی ہو،سب سے بڑا نشہ ۔ ۔ ۔ جیت کا نشہ ۔ ۔ ۔

فیروز نے حسبِ معمول انعام کی رقم ماں کے قدموں میں رکھ دی ۔ اور ماں نے اسے گلے لگا کر جیسے پورے زمانے کی دولت دے دی ۔

سارے دن کی شدید ترین جسمانی اور ذہنی تھکن کے با وجود نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔

آنکھیں بند کرتے ہی نہ جانے کون سے منظر سامنے آرہے تھے ۔ ۔ ۔ خاص کر دو آنکھیں ۔ ۔ ۔ گہری نیلی ۔ ۔ سرد ۔ ۔

دروازے پر دستک ہوئی تو وہ بری طرح چونک گیا ۔ ۔ اس وقت ساڑھے تین بجے ۔ ۔ اس وقت کون ہو سکتا ہے

فیروز سارے مقابلے کے دوران عظیم پہلوان سے اتنا خوفزدہ نہیں ہواجتنا رات کے اس پہر اس کو اپنے سامنے دیکھ کر ہو گیا ۔

تم ۔ ۔ ،میرا مطلب ہے آپ یہاں میرے گھر ۔ ۔ ۔

ہاں میں” ۔  ۔ عظیم کی آواز گونجی ۔ ۔ با قائدہ گونجی ۔ ۔ جیسے بلکل خالی کمرے میں بول رہا ہو ۔”

آج زندگی میں پہلی مرتبہ کسی نے مجھے شکست دی ہے ۔ ۔ ۔ “مجھے کبھی کوئی نہیں ہرا سکا” ۔ اس نے کہا ۔

میں نے بھی آج سے پہلے اتنا مشکل مقابلہ نہیں کیا،”آپ واقعی عظیم ہیں” ۔فیروز نے اعتراف کیا ۔

نہیں میرے دوست !عظیم تم ہو ۔ ۔ تم واقعی ناقابلِ شکست ہو ۔ ۔ تم کو نہیں پتہ کہ آج تمہارے مقابل کون تھا ۔ ۔ تم نے کس کو ہرایا ہے ۔

فیروز کو ایک شدید غیر معمولی پن کا احساس ہونے لگا ۔ اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا ۔

عظیم نے اپنی بات جاری رکھی- میں نے تمہاری شہرت سن کر تم کو مقابلے کی دعوت دی تھی ۔ ۔ بڑا سخت مقابلہ رہا ۔ ۔ نہ میں تمہارا ہاتھ گرا سکا نہ تمہاری ماں کی دعائوں کی دیوار کو ڈھا سکا ۔ ۔ میرے دوست آج کوئی انسان تمہارا حریف نہیں تھا ۔ ۔ ۔ آج تم نے ایک جن سے مقابلہ کیا تھا ۔ ۔ میں تمہاری دنیا سے نہیں ہوں ۔ 

عظیم نے اپنے چہرے پر باندھا ہوا نقاب ہٹا دیا ۔ ۔ ۔ اس کی نیلی آنکھوں کے نیچے کسی انسان کا چہرہ نہیں تھا ۔۔۔

This Post Has 2 Comments

  1. Afaq khan lodhi

    Nice story

    1. Story Teller

      Thank you so much for liking our stories.
      We have also started our youtube channel, You can visit and subscribe please.
      Here is the link,
      https://bit.ly/32XmpUR

Leave a Reply