Shaitaan Movie Explained in Urdu Hindi – Full Horror Story & Ending (2024)
Ajay Devgn ki 2024 main release honi wali super hit movie Shaitaan complete horror story yahan explain ki gayi hai. Shaitaan hindi movie black magic kay concept par banai gayi thi aur south ki movie “vash” ka remake thi. Shaitaan ek psychological horror aur suspense thriller ka dangerous mix hai. Is ki lead star cast main ye actors hain.
Ajay Devgn as Kabir Rishi
R. Madhavan as Vanraj Kashyap
Jyothika as Jyoti Rishi
Janki Bodiwala as Jahnvi Rishi
Anngad Raaj as Dhruv Rishi
Shaitan Movie Story Explained
شَیطان 2024 میں ریلیز ہونے والی ایک سسپنس تھرلر فلم ہے، جس میں ہارر کے عناصر بھی شامل ہیں۔ یہ گجراتی فلم وش کا ریمیک ہے۔ فلم کے مرکزی کردار اجے دیوگن، آر مادھون اور جانکی بودھی والا نے ادا کیے ہیں۔
فلم کے پہلے ہی سین سے سسپنس کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جو ناظر کو آخر تک فلم سے جوڑے رکھتا ہے۔ شروعات ایک مردہ چوہے سے ہوتی ہے، جسے ایک نامعلوم شخص پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ یہی سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔
کبیر رشی (اجے دیوگن) ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے۔ اس کی ایک خوشحال فیملی ہے: بیوی جیوتی، بیٹی جانوی اور بیٹا دھرو۔ کبیر کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنی فیملی سے بے حد محبت کرتا ہے اور ان کی اتنی حفاظت کرتا ہے کہ کسی بھی قیمت پر انہیں آنچ نہیں آنے دیتا۔
کبیر کی آبزرویشن غیر معمولی ہے۔ وہ کوئی بھی چیز ایک بار دیکھ لے تو کبھی نہیں بھولتا، جیسے فون نمبر، فون پاس ورڈ وغیرہ۔
Also Read: The Exorcist Real Horror Story Explained
یہ فیملی ویکیشن پر فارم ہاؤس جا رہی ہوتی ہے۔ راستے میں یہ لوگ ایک ہوٹل پر تھوڑی دیر کے لیے رکتے ہیں، جہاں مادھون یعنی فلم کے ولن ونراج کی انٹری ہوتی ہے۔ ونراج کبیر کی ایک چھوٹی سی مدد کرتا ہے، جس کے بعد کبیر اسے آفر کرتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ چائے پی لے۔
چائے پیتے ہوئے ونراج ان کی فیملی سے مختلف سوالات کرتا ہے اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ کبیر کھانا آرڈر کرتا ہے، مگر جانوی جو ڈائٹ کانشس ہے، پراٹھا کھانے سے انکار کر دیتی ہے کہ وہ بہت زیادہ آئلی ہے۔
Vanraj Ka Black Magic Aur Control
ونراج جانوی کو ایک لڈو آفر کرتا ہے۔ جانوی اپنے بھائی کو چڑانے کے لیے فوراً وہ لڈو کھا لیتی ہے، اور یہی سے وہ ونراج کے ٹرانس میں آ جاتی ہے۔ دراصل ونراج ایک بہت بڑا جادوگر ہوتا ہے اور اس نے لڈو پر کالا جادو کیا ہوتا ہے۔
اس کے بعد جانوی ونراج کے حکم کی غلام بن جاتی ہے۔ ونراج موقع پا کر جانوی کو بسکٹ کا پورا پیکٹ کھلا دیتا ہے، جس کے بعد وہ مکمل ہوش کھو بیٹھتی ہے اور ونراج کے قابو میں آ جاتی ہے، اس کے ہر حکم کو پورا کرنے لگتی ہے۔
جب کبیر اور اس کی فیملی فارم ہاؤس پہنچتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ ان کا ملازم شیام بیمار ہو گیا ہے اور فارم ہاؤس پر موجود نہیں۔ بہرحال، یہ لوگ خوب انجوائے کرتے ہیں، سوئمنگ کرتے ہیں۔ جیوتی کا موبائل فون گیلا ہو جاتا ہے تو وہ اسے چاول کے ڈبے میں رکھ دیتی ہے۔
ونراج ان کا پیچھا کرتے ہوئے فارم ہاؤس پہنچ جاتا ہے اور فون چارج کرنے کا بہانہ بنا کر اندر آ جاتا ہے۔ پھر وہ بار بار جانوی کو مختلف کاموں کا حکم دیتا ہے اور وہ سب کرتی جاتی ہے۔ کبیر اور اس کی بیوی کو یہ سب بہت برا لگتا ہے، تو وہ ونراج سے وہاں سے جانے کو کہتے ہیں۔
تب ونراج آخرکار ریویل کرتا ہے کہ وہ کالا جادوگر ہے اور اس نے جانوی کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، اور وہ جانوی کو اپنے ساتھ لیے بغیر نہیں جائے گا۔
Also Read: Psychological Horror Movie Gumnaam
کبیر اور جیوتی بھرپور مزاحمت کرتے ہیں، مگر ونراج جانوی سے انتہائی خطرناک کام کرواتا ہے۔ وہ جانوی کو حکم دیتا ہے کہ گھر کے تمام لوگوں کے موبائل فون توڑ دے، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ کنیکشن کاٹ دے، اور وہ ایسا ہی کرتی ہے۔
جیوتی اپنے فون سے—جو چاول کے ڈبے میں رکھا ہوتا ہے—پولیس کو میسج کر دیتی ہے کہ وہ ان کی مدد کریں۔ پولیس جب وہاں پہنچتی ہے تو ونراج نے جانوی کو کھلے ہوئے گیس سلنڈر پر بٹھا رکھا ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ میں ماچس تھما دی ہوتی ہے، کہ اگر پولیس کو ونراج پر شک ہو تو وہ خود کو آگ لگا لے۔
کبیر اور جیوتی کے اطمینان دلانے پر پولیس واپس چلی جاتی ہے، مگر ونراج جانوی کو لے جانے پر اصرار کرتا ہے۔ کبیر کے انکار پر وہ جانوی سے مزید ہولناک کام کرواتا ہے، جیسے اپنے پاپا کے منہ پر تھپڑ مارنا اور اپنے بھائی دھرو کا سر پھوڑ دینا۔
اس طرح ونراج ٹارچر کا نہ ختم ہونے والا کھیل شروع کر دیتا ہے۔ وہ جانوی کو حکم دیتا ہے کہ اپنے منہ پر بار بار تھپڑ مارے، یہاں تک کہ اس کے منہ سے خون نکل آتا ہے۔ پھر وہ اسے گانے لگانے اور ڈانس کرنے کو کہتا ہے۔ جانوی تھک کر گرنے والی ہوتی ہے، مگر پھر بھی نان اسٹاپ ڈانس کرتی رہتی ہے۔
کبیر ہار مان کر ونراج کو آفر کرتا ہے کہ وہ ان کے پیسے اور ساری جیولری لے لے اور ان کی جان چھوڑ دے۔ ونراج بیگ اٹھا کر باہر تو جاتا ہے، مگر ان چیزوں کو جلا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے صرف جانوی چاہیے۔
یہاں تک کہ ونراج جانوی کو حکم دیتا ہے کہ اپنے بھائی کو چھت سے نیچے پھینک دو۔ جب جانوی زخمی دھرو کو نیچے پھینکتی ہے تو وہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ کبیر اور جیوتی سمجھتے ہیں کہ شاید وہ مر گیا ہے اور شدید صدمے میں چلے جاتے ہیں۔
ونراج کہتا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے، وہ اپنی بیٹی کو بچا سکتے ہیں۔ ادھر دھرو سانس لیتا ہے، تو آخرکار وہ ونراج سے کہتے ہیں کہ جانوی کو لے جاؤ۔ ونراج ان سے کہتا ہے کہ اونچی آواز میں کہو کہ تم اپنی بیٹی کو اپنی مرضی سے میرے ساتھ بھیج رہے ہو، اور وہ ایسا ہی کہتے ہیں۔
ونراج جانوی کو لے کر نکل جاتا ہے۔ جیوتی بے ہوش دھرو کو گاڑی میں ڈال کر اسپتال کی طرف جاتی ہے، اور کبیر سائیکل پر ونراج کا پیچھا کرتا ہے۔
یہاں انکشاف ہوتا ہے کہ جب فلم میں ونراج کی انٹری ہوئی تھی تو کبیر نے ونراج کے فون کا پاس ورڈ دیکھ لیا تھا اور اسے یاد رکھا تھا۔ اور جب ونراج نے فارم ہاؤس میں اپنا فون چارجنگ پر لگایا تھا تو کبیر نے اس کی لوکیشن اپنے نوکر شیام کو بھیج دی تھی۔
کبیر شیام کے گھر جا کر اس کے فون سے ونراج کی لوکیشن دیکھتا ہے اور شیام کی موٹر سائیکل لے کر ونراج کا پیچھا کرتا ہے۔
ونراج جانوی کو اپنے ٹھکانے پر لے جاتا ہے، اور یہاں سے فلم کا اصل ہارر اور ڈراؤنا حصہ شروع ہوتا ہے۔ ونراج نے گھنے جنگل میں ایک خوفناک ٹھکانہ بنا رکھا ہوتا ہے، جہاں بہت سی لڑکیاں موجود ہوتی ہیں، جن پر اس نے جانوی کی طرح کالا جادو کر کے انہیں اپنے ٹرانس میں لیا ہوا ہوتا ہے۔
Jungle Ritual Aur Bali Scene
وہاں ونراج کے گارڈز بھی ہوتے ہیں، جنہوں نے عورتوں کی طرح ساڑیاں پہن رکھی ہوتی ہیں۔ ایک بہت بڑے ہون میں آگ جل رہی ہوتی ہے۔ ونراج اعلان کرتا ہے کہ آج اماؤس کی رات ہے، جو ہزاروں سال میں ایک بار آتی ہے، اور آج وہ ان تمام لڑکیوں کی بلی شَیطان کو چڑھائے گا تاکہ اسے زبردست طاقت حاصل ہو جائے۔
وہ جس پر نظر ڈالے گا، وہ اس کے کنٹرول میں آ جائے گا۔
ایک خوفناک میوزک اور گانے کے ساتھ ونراج کو رسم ادا کرنے کے لیے تیار ہوتے دکھایا جاتا ہے، جو بہت کریپی ہوتا ہے۔
آخرکار کبیر وہاں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک چاقو گھسا ہوا ہوتا ہے، جو جانوی نے دھرو کو بچاتے ہوئے کبیر کو مارا تھا۔ ونراج اپنے منتر پڑھنا شروع کر دیتا ہے اور لڑکیوں کو حکم دیتا ہے کہ ایک ایک کر کے کالی گڑیاں آگ میں ڈالتے جائیں، اور جیسے ہی کالی گڑیاں ختم ہوں گی، آخری لال گڑیا آگ میں ڈال دی جائے گی اور ساری لڑکیاں بھی آگ میں کود جائیں گی۔
کبیر وہاں پہنچتا ہے، مگر ونراج کے گارڈز اسے پکڑ کر ونراج کے پاس لے آتے ہیں۔ ونراج لڑکیوں کو کہتا ہے کہ اگر کبیر نے اسے چھوا بھی تو وہ کبیر کے ٹکڑے کر دیں۔
لال گڑیا کو آگ میں ڈالنے کا وقت آ جاتا ہے، مگر کبیر ایک جلتی ہوئی لکڑی سے ونراج پر حملہ کرتا ہے، جس سے وہ ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ پھر کبیر اپنے ہاتھ میں پھنسا چاقو نکال کر ونراج کی زبان کاٹ دیتا ہے، جس سے اس کا ریچوئل رک جاتا ہے۔
ادھر لڑکیاں کبیر پر حملہ کرنے لگتی ہیں، تو کبیر ایک سسٹم آن کرتا ہے (جو دھرو کا تھا)، جس میں اس نے ونراج کی وہ لائنز ایڈٹ کر کے ریکارڈ کر رکھی تھیں، جن میں وہ کہہ رہا ہوتا ہے:
“تم میری قید سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو چکی ہو، اور پہلے کی طرح بالکل نارمل ہو گئی ہو۔”
جیسے جیسے یہ لائنز ریپیٹ ہوتی ہیں، لڑکیاں آہستہ آہستہ کالے جادو کے اثر سے نکل آتی ہیں اور بالکل نارمل ہو جاتی ہیں۔ چونکہ ونراج کی زبان کٹ چکی ہوتی ہے، اس لیے وہ اب کسی کو حکم نہیں دے سکتا۔
اب اگلا سین اسپتال کا دکھایا جاتا ہے۔ فیملی اسپتال میں ہوتی ہے اور ان کا علاج ہو چکا ہوتا ہے۔ ایک پولیس افسر کبیر کو بتاتی ہے کہ ہم نے 108 گمشدہ لڑکیوں کو قید سے آزاد کروایا ہے، جن میں سے 54 اپنے گھروں کو واپس جا چکی ہیں۔
کلائمکس میں انکشاف ہوتا ہے کہ فلم کے پہلے سین میں چوہا اٹھانے والا آدمی دراصل کبیر ہی تھا۔ اس نے ونراج کو ایک سال سے بیسمنٹ میں قید کر رکھا تھا، اور اسے کھانے کے لیے صرف مردہ چوہے اور چائے کی پتی دیتا تھا، تاکہ وہ بھی قید میں تڑپے اور اپنے گناہوں کی سزا پائے۔
ونراج کو آخر میں زندہ رکھنے کا مقصد ٹارچر دینا بھی ہو سکتا ہے۔